پاکستان کی مایہ ء ناز گلوکارہ مہناز کی یاد میں !

(Fareed Ashraf Ghazi, Karachi)
11 نگار ایوارڈ یافتہ گلوکارہ مہناز کی چوتھی برسی پر بطور خاص ) گلوکارہ مہ ناز نے عمدہ گائیگی پر مسلسل7 سال تک ’’ نگار ایوارڈ ‘‘حاصل کیئے۔ گلوکارہ مہ ناز نے فلموں کے ساتھ ٹی وی کے پروگراموں کے لیئے بھی بہت سے گیت اور نغمے گاکر گھر گھر شہرت حاصل کی ۔ گلوکارہ کی حیثیت سے ان کی پہلی ریلیزہونے والی فلم مقبول فلمی ہیرو اداکاروحیدمراد کی فلم’’حقیقت‘‘تھی جو1974 میں ریلیز ہوئی۔ ان کے گانے ہوئے فلمی گیتوں نے انہیں نہ صرف پاکستان بلکہ پورے برصغیر کی پسندیدہ گلوکارہ بنا دیا تھا، ان کی آوازمیں بڑی ورائیٹی تھی اور وہ ایک ماہر فن گلوکارہ تھیں۔
پاکستان کی مایہ ناز گلوکارہ مہناز کے نام سے کون واقف نہیں ان کی سریلی آواز میں گائے ہوئے گیت ونغمے دنیا بھر میں ان کی شناخت کا ذریعہ ہیں۔وہ ایک طویل عرصہ سے پھیپڑوں کی بیماری میں مبتلا تھیں جس کے علاج کے لیئے وہ اکثر بیرون ملک جایا کرتی تھیں،دوسال قبل وہ اپنے علاج کے لیئے ایک بار پھرکراچی سے امریکہ جا رہی تھیں کہ جہاز میں دوران سفر ان کی طبعیت خراب ہوگئی اور انہیں ہنگامی طور پر بحرین کے ایک ہسپتال میں لے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکیں اورآج سے 4سال پہلے 19 جنوری 2013 کو54 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوگیا، ان کے انتقال سے فن موسیقی کا ایک روشن باب ہمیشہ کے لیئے بند ہوگیا اور ان کی سریلی آواز کا شعلہ کیا بجھا کہ موسیقی کی دنیا ہی ویران ہوگئی۔آج جبکہ ان کی وفات کو 4 سال بیت چکے ہیں اور ان کے اہل خانہ اور مداح ان کی چوتھی برسی بنا رہے ہیں ،قارئین کی دلچسپی اور معلومات میں اضافے کے پیش نظر یہ خصوصی مضمون تحریر کیا گیا ہے تاکہ مہ ناز جیسی عظیم گلوکارہ کے بارے میں لوگ زیادہ سے زیاد ہ جان سکیں۔

گلوکارہ مہ ناز بیگم1958 میں کراچی میں پیدا ہوئیں،ان کا اصلی نام ’’شاہین اختر‘‘ تھا،انہوں نے مہ ناز کے نام سے 1972 میں موسیقی کی دنیا میں قدم رکھا۔وہ برصغیر کی مشہور گلوکارہ کجن بیگم کی صاحبزادی تھیں جبکہ ان کے والداختروصی علی بھی ماضی میں ریڈیوپاکستان کراچی کے مقبول گلوکا ر تھے ،ان کی والدہ کجن بیگم مر ثیے اور نوحے پڑھنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی تھیں اور کلاسیکل گائیگی پر بھی انہیں عبور حاصل تھااس لیئے فن گلوکاری مہ ناز کو وراثت میں ملا تھا یہی وجہ تھی کہ وہ اپنی ہم عصر گلوکاراؤں میں ایک نمایاں مقام رکھتی تھیں۔وہ ایک غیر شادی شدہ خاتون تھیں مہ ناز بیگم نے ڈھائی ہزار سے زائد گانے گائے جن میں سے بیشتر نے بہت مقبولیت حاصل کی بلکہ کئی فلمیں ایسی ہیں جن کی کامیابی مہ ناز بیگم کی سریلی آواز میں گائے ہوئے گانوں کی مرہون منت رہی، ان کے گانے ہوئے فلمی گیتوں نے انہیں نہ صرف پاکستان بلکہ پورے برصغیر کی پسندیدہ گلوکارہ بنا دیا تھا، ان کی آوازمیں بڑی ورائیٹی تھی اور وہ ایک ماہر فن گلوکارہ تھیں جن کے انتقال سے فن گائیگی کی دنیا سوگوار ہوگئی۔انہوں نے فلمی گیتوں کے ساتھ غزلیں اور گیت بھی گائے جو دنیا بھر میں ان کی شناخت کا ذریعہ بنے۔ان کے گائے ہوئے سپر ہٹ فلمی گانوں سے سجی ہوئی فلموں میں فلم’’ ناگ منی ،پہچان،زندگی،رشتہ ،سچائی،پلے بوائے،بہن بھائی ،خوشبو،بندش،سلاخیں،کندن،بازار حسن،کبھی الوداع نہ کہنا،بیوی ہو تو ایسی ،بلندی اور اسی طرح کی بہت سی نغمہ بار فلموں میں گائے ہوئے مہ ناز کے سریلے گانوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔مہ ناز بیگم کے جن فلمی گانوں نے بے پناہ شہر ت حاصل کی ان میں،من جھومے من گائے دن پیا ملن کے آئے ،مجھے دل سے نہ بھلاناچاہے روکے یہ زمانہ،میراپیار تیرے جیون کے سنگ رہے گا،یتیرے میرے لڑ گئے نین پیار کا چرچہ ہوگا،تیرا میرا کوئی نہ کوئی ناطہ ہے ورنہ کون کسی کے پیچھے آتا ہے،،دوساتھی جیون کے جیون بھر ساتھ نبھائیں گے،وعدہ کرو ساجنا،دو پیاسے دل ایک ہوئے ہیں ایسے ،میں جس دن بھلادوں تیرا پیار دل سے ،میرا پیار بھی تو زندگی بھی ہے تو،تیرے میرے پیار کا ایسا ناطہ ہے ،میں ہوتی ایک مورنی اور تو ہوتا ایک مور،او میرے سانوریا بانسری بجائے جاتیرے سنگ دوستی ہم نہ توڑیں کبھی سنگ اپنا رہے نہ رہے ،تیرے بنا اومیرے جیون ساتھی ،تیری آنکھوں کی قسم تیری آنکھوں کے سوا،پیار کا وعدہ ایسے نبھائیں کوئی جد ا کرنے نہ پائے ،اس مطلبی دنیا کو کوئی پیار سکھا دے ،، اس دنیا میں کم ہی ملیں گے ہم جیسے دیوانے لوگ ،ا ور،جنگل میں منگل تیرے ہی دم سے سب نے یہ شور مچایا ہے، وہ گیت ہیں جو آج بھی زبان زد عام ہیں اور بہت شوق سے سنے جاتے ہیں۔مہ ناز کی آواز میں سنجیدگی اور شوخی کا بہت حسین امتزاج پایا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے گائے ہوئے المیہ اور طربیہ گانوں نے یکساں مقبولیت حاصل کی۔انہوں نے اپنے کیرئیر کی ابتداء سے لے کر اپنی وفات تک تقریباً3500 نغمات گائے اور موسیقی کی دنیا میں نمایاں پہچان قائم کی۔

شاہین اختر المعروف’’ مہناز ‘‘نے اپنے ابتدائی کیرئیر کا آغاز اسکول میں نعت خوانی سے کیا اور اس میدان میں خود کو منوایا اور ایک خوش گلو لڑکی کے طور پر شہرت حاصل کی اور پھر باقاعدہ ایک گلوکارہ کے طور پر ’’مہ ناز ‘‘کے نام سے فن گلوکاری کی ابتداء ریڈیو پاکستان کراچی سے کی ،ریڈیو پر انہیں ان کے خالومشہور پروگرام پروڈیوسرتراب نقوی نے گیت گانے کے مواقع فراہم کیئے اورمختف پروڈیوسرز کے پروگراموں میں ان کو چانس دلوایا اور ریڈیو پر مسلسل گلوکاری کرنے کی وجہ سے بہت جلد مہ ناز کو جانا پہچانا جانے لگااور جب انہیں فن گلوکاری پر مکمل عبور حاصل ہوگیا تو انہوں نے ٹی وی کا رخ کیااورٹی وی کے مشہور پروگرام ’’نغمہ زار‘‘ میں اپنی گلوکاری کا بھرپور مظاہرہ کرکے بہت داد حاصل کی ،موسیقی کے اس مقبول پروگرام کے پروڈیوسرامیر امام تھے جنہوں نے مہ ناز کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے کئی مواقع فراہم کیئے جس کی وجہ سے مہ ناز کی شہرت فلمی حلقوں تک بھی جاپہنچی۔فلموں میں مہ ناز کو سب سے پہلے سندھی فلموں کے موسیقارغلام علی نے گلوکاری کا چانس دیا جبکہ اردوفلموں میں ان کومشہور موسیقار اے حمید نے متعارف کروایالیکن انہوں نے فلمی دنیا کے تقریباً تمام ہی موسیقاروں کے ساتھ کام کیااور خاص طور پر مہ ناز نے جو گانے روبن گھوش،نثاربزمی،کمال احمد اور ایم اشرف کی موسیقی میں گائے وہ بہت ہٹ ہوئے۔مہ نازبیگم کو ایک منفر د اعزاز یہ بھی حاصل ہے کہ ایک فلم’’انسان ‘‘ میں انہوں نے9 موسیقاروں کے ساتھ گلوکاری کا مظاہرہ کیا۔ان کاتعلق اثنائے عشری فرقہ سے تھا وہ نوحے اور مرثیے پڑھنے میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتی تھیں ۔کلاسیکل اور نیم کلاسیکل گائیگی میں ان کو ملکہ حاصل تھا اور پاکستان میں ملکہ ترنم نورجہاں اور شہنشاہ غزل مہدی حسن کے بعد جس گلوکارہ نے لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنائی اور جس کے گائے ہوئے گانوں نے بے پناہ شہرت حاصل کی وہ مہ ناز تھیں جن کے گائے ہوئے فلمی نغموں نے دھوم مچادی تھی۔

گلوکارہ کی حیثیت سے ان کی پہلی ریلیزہونے والی فلم مقبول فلمی ہیرو اداکاروحیدمراد کی فلم’’حقیقت‘‘تھی جو1974 میں ریلیز ہوئی اس فلم میں مہ ناز نے گلوکار احمدرشدی کے ہمراہ دو گیت موسیقار اے حمید کی موسیقی میں گائے جو بہت پسند کیئے گئے اور اس کے بعد مہ ناز کے پاس نئی فلموں کے گانوں کی لائن لگ گئی اور ایک زمانہ ایسا بھی آیا کہ ہر دوسری پاکستانی فلم میں مہ ناز کا گایا ہوا گانا شامل ہوتا تھایہی وجہ ہے کہ اپنی ہم عصر گلوکاراؤں میں مہ ناز وہ واحد گلوکارہ ہیں جنہوں نے عمدہ فلمی گیت گانے پر 1977 سے لے کر 1983 تکمسلسل 7 سال لگاتا ر ’’نگار ایوارڈ‘‘ جیسا مستند ایوارڈحاصل کیا جبکہ مجموعی طور پر مہ ناز نے کل11 گیارہ نگار ایوارڈ حاصل کیئے اور یوں وہ سب سے زیادہ نگار ایوارڈ پانے والی گلوکارہ قرار پائیں۔انہوں نے تقریباً100 پنجابی اور700 ،اردو فلموں میں اپنی آواز کا جادو جگاکر اپنے مداحوں کا ایک وسیع حلقہ بنایا۔بطور گلوکارہ انہوں نے اپنا آخری گانا اداکارہ و ہدایتکارہ زیبا بختیار کی فلم ’’بابو ‘‘ کے لیئے گایا لیکن ان کی ریلیز ہونے والی آخری فلم’’سنگرام‘‘ تھی جو فلم ’’بابو‘‘ کے ریلیز ہونے کے بعد ریلیزہوئی، ان کا گایا ہوا آخری گانا اداکارہ نور پر فلمایا گیاتھا۔ مہناز بیگم نے پاکستان کے قومی بچت کے ادارے کے لیئے بھی ایک خصوصی گیت ریکارڈکروایا تھا جس کے بول تھے کہـ’’جو یہ ہم بچاتے ہیں وطن کے کام آتا ہے‘‘،اس کے علاوہ مہناز کے گائے ہوئے کئی گانوں کے فلمی ٹریلر بھی بنائے گئے مثلاً ہدایتکار شباب کیرانوی کی فلم’’دامن‘‘ کاٹریلرمہناز کے گائے ہوئے اس فلم کے ایک یادگار گیت’’آنکھیں بڑی پاگل ہیں ہربات بتاتی ہیں‘‘ پر بنایا گیاجبکہ ہدایتکار لئیق اختر کی ایک فلم’’جان من‘‘ کا ٹریلر اس فلم میں مہناز کے گائے ہوئے گانے’’خدانہ کرے اپنا یہ ساتھ کبھی چھوٹے‘‘ پر بنا۔

ان کے انتقال پر فلمی دنیا سے تعلق رکھنے والی نامور شخصیات نے گہر ے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار ان الفاظ میں کیا۔فلموں کے مشہور مصنف اور ہدایتکار پرویز کلیم نے کہا کہ:’’موت برحق ہے ۔مجھے نہیں لگتا کہ مہ ناز کے انتقال سے فی میل گائیگی میں جو خلا پیدا ہوا ہے وہ پر ہوسکے گا،شہنشاہ غزل مہدی حسن کی وفات کے بعد یہ پاکستان کی میوزک انڈسٹری کا ناقابل تلافی نقصان ہے‘‘۔پاکستان فلم انڈسٹری کی ماضی کی مشہور ہیروئن اداکارہ شبنم اور ان کے شوہرموسیقار روبن گھوش نے مہ ناز کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ :’’مہ ناز جیسی سریلی آواز کی گلوکارہ کی وفات فلم انڈسٹری کا ایک ناقابل تلافی نقصان ہے،شبنم نے کہا کہ مہ ناز کے گائے ہوئے بہت سے گیت فلموں میں مجھ پر فلمائے گئے میری ان سے اکثر فون پر بات ہوتی رہتی تھی میں سمجھتی ہوں کہ شہنشاہ غزل مہدی حسن اور اداکار لہری کے بعد یہ ایک اور ناقابل فراموش نقصان ہے۔موسیقار روبن گھوش نے کہا کہ مہناز ایک بہترین گلوکارہ اور بہت اچھی انسان تھیں ان کا شمار پاکستان کی باصلاحیت گلوکاراؤں میں ہوتا تھا،انہوں نے میری بنائی ہوئی بے شمار دھنوں پر اپنی سریلی آواز میں گانے ریکارڈ کروائے جن کو لوگ آج بھی شو ق سے سنتے ہیں ‘‘۔سینئر گلوکار ایم افراہیم نے کہا کہ:’’مہ ناز بیگم کے انتقال کا مجھے بے حد دکھ ہوا،ان کی آواز فنی نزاکتوں کی حامل ایک سریلی آواز تھی جس کا ثبوت ان کے گائے ہوئے بیشتر مقبول گیت ہیں جو ہمیں ان کی یاد دلاتے رہیں گے‘‘۔فلمساز و ہدایتکاراعجاز درانی نے کہا کہ:’’موسیقی ایک سمندر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں،مہ ناز بیگم اس کی اتاہ گہرائیوں سے خوب واقف تھیں۔میں ذاتی طور پر ان کا بہت بڑا مداح ہوں ان کے گائے ہوئے تما م ہی گیت بہت اچھے ہیں لیکن مجھے ان کا گایا ہوا گانا،مجھے دل سے نہ بھلانا،بہت زیادہ پسند ہے‘‘۔مشہو راداکار ندیم نے کہا کہ:’’ایک خوبصورت و دلکش مدھر آواز کا یوں اچانک چلے جانا کسی المیے سے کم نہیں،ان کے گائے ہوئے گیتوں کی وجہ سے میری کئی فلمیں سپر ہٹ ہوئیں وہ ایک خاموش طبع و ملنسار گلوکارہ تھیں اب ان کا بدل ملنا ممکن نہیں‘‘۔سینئراداکارہ زیبا علی نے کہاکہ:’’اتنی کم عمر میں ان کے دنیا سے چلے جانے کا یقین نہیں آرہا ہے وہ بہت اچھی گلوکارہ اور انسان تھیں،بڑے فنکار چلے جاتے ہیں لیکن ان کی کمی کوئی پوری نہیں کرسکتا‘‘۔فلم اور ٹی وی کی مقبول اداکارہ بابرہ شریف نے کہا کہ :’’مہناز کے انتقال سے پاکستان ایک اور مایہ ناز گلوکارہ سے محروم ہوگیااور اب شاید ہی کوئی گلوکارہ ان کی جگہ پر کرسکے ‘‘۔اداکارہ و ہدایتکاہ زیبا بختیارنے کہاکہ:’’مہ ناز کی رحلت کا بہت افسوس ہوا،ہر محرم میں ان سے ملاقات ہوتی تھی وہ ایک بہترین گلوکارہ اور بہت اچھی انسان تھیں‘‘۔معروف موسیقار اﷲ دتہ نے کہا کہ:’’سر تال مہ نازکے گھر کا اثاثہ تھا ان جیسی آواز اب شاید ہی دوبارہ مل سکے‘‘۔ڈرامہ پروڈیوسر اور اداکار تنویر جمال نے کہا کہ :’’پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا ایک پرسوز اور سریلی آواز سے محروم ہوگئی ان کی گائیگی کا ایک زمانہ معترف تھا‘‘۔نامور گلوکار سلیم جاویدنے کہا کہ :’’مہ ناز ایک صاحب طرزکلاسیکل گائیگی کی ملکہ تھیں ان سے ہم جیسے گلوکاروں نے بہت کچھ سیکھا‘‘۔ٹی وی کے مشور اداکارشبیر جان نے کہا کہ :’’مہناز کا اس دار فانی سے چلے جانا کسی المیے سے کم نہیں‘‘فلم اور ٹی وی کے مقبول اداکار عابد علی نے کہا کہ :’’میوزک کی دنیا آج ایک اور سریلی آواز سے محروم ہوگئی ‘‘۔ٹی وی کے مشہور اداکار شہزاد رضا نے کہا کہ :’’مہناز کلاسیکل موسیقی کا ہی نہیں بلکہ فلمی گیتوں کا بھی اثاثہ تھیں جس کا کوئی بدل نہیں ہوسکتا،مرثیے اور نوحے پڑھنے میں بھی ان کو ملکہ حاصل تھا اور ان کی پرسوز آواز سے سامعین کو راحت ملتی تھی۔‘‘

نامور فنکاروں کے علاوہ مہ ناز کے انتقال پر گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد،صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر صغیر احمد،نادیہ گبول اور سید جلال محمود شاہ نے بھی برصغیر کی نامور گلوکارہ مہ ناز بیگم کے انتقال پر اپنے گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ:’’مہ ناز بیگم اپنی گائیگی کے منفرد انداز کے باعث اپنا ایک ممتاز مقام رکھتی تھیں،ان کے انتقال سے پاکستان کو گائیگی کی دنیا میں ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے ‘‘۔سروں کی ملکہ گلوکارہ مہناز کے انتقال پر پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا نے بھی ان کوشایان شان کوریج دی اور خصوصی ایڈیشن،مضامین اورخصوصی پروگراموں کے ذریعے بطور گلوکارہ ان کی کارکردگی اور خدمات کو بھرپور خراج عقیدت پیش کیا جس کی وہ جائز طور پر حقدار تھیں کیونکہ گلوکارہ مہناز کو فلم انڈسٹری کی کامیابی سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔لولی ووڈ اور مہناز کا چولی دامن کاساتھ تھا لیکن افسوس ہماری فلمیں اب مہ ناز جیسی سریلی آواز سے ہمیشہ کے لیئے محروم ہوگئی ہیں۔مہ ناز نے اپنی بہترین اور رسیلی گائیگی پر11 نگار ایوارڈ حاصل کرنے کے علاوہ متعددگریجویٹ ایوارڈ،مصورایوارڈ،فنکار ایوارڈ اور اسکرین ایوارڈ بھی حاصل کیئے اور ان کی صلاحیتوں کو ہر سطح پر مقبولیت اور کامیابی کی سند ملی۔

گلوکارہ مہ ناز نے فلموں کے ساتھ ٹی وی کے پروگراموں کے لیئے بھی بہت سے گیت اور نغمے گاکر گھر گھر شہرت حاصل کی لیکن آخری دو ر میں مہ ناز بھی اردو فلموں پر آنے والے زوال کا شکار ہوگئیں اور فلموں سے دور ہوتی چلی گئیں اور پھر شوگر اور بلڈپریشر کی بیماریوں نے ان کو گھیرلیالیکن انہوں نے فن گائیگی کو خیرباد نہیں کہا ، وہ اکثرپروگراموں اور پرائیوٹ محفلوں میں گلوکاری کا مظاہر ہ کرتی ہوئی نظر آتی تھیں جبکہ محرم کے مہینے میں نوحے اور مرثیے بھی پڑھا کرتی تھیں یوں ساز و آواز سے ان کا رشتہ آخر وقت تک قائم رہا۔مہ ناز کا انتقال 19 جنوری 2013 کو بحرین میں ہوا جس کے بعد ان کا جسد خاکی کراچی لایا گیا جہاں ان کی نماز جنازہ انچولی میں واقع’’ مسجدخیرالعمل‘‘ میں ادا کی گئی جس کے بعدلاکھوں مداحوں ،اہل خانہ،فنکاروں اور نامور شخصیات کی موجودگی میں ’’وادی ء حسین‘‘ قبرستان میں ان کی تدفین کردی گئی اور اس کے ساتھ ہی دنیائے موسیقی کا ایک اور روشن ستارہ فن کی دنیا کو سوگوار کرکے منوں مٹی تلے اپنی آخری آرام گاہ میں ابدی نیند جاسویا۔(انا لﷲ و اناعلیہ راجعون) آخر میں دعا ہے کہ اﷲ تعالی مرحومہ کی مغفرت فرماتے ہوئے انہیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطافرمائے (آمین)
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Fareed Ashraf Ghazi

Read More Articles by Fareed Ashraf Ghazi : 111 Articles with 71817 views »
Famous Writer,Poet,Host,Journalist of Karachi.
Author of Several Book on Different Topics.
.. View More
04 Jan, 2017 Views: 878

Comments

آپ کی رائے