گرینڈ الائنس بمقابلہ گرینڈالائنس!!

(Shafqat Ullah, )
بابا صوفی برکت لدھیانوی اپنے دور کے بہت بڑے صوفی بزرگ گزرے ہیں ان کامزار فیصل آباد میں سمندری روڈ پر واقع ہے وہ فرمایا کرتے تھے کہ’’ ایک وقت ایسا آئے گا کہ جب دنیا کے مستقبل کا فیصلہ پاکستان کی ہاں یا نا میں ہوگا ‘‘۔واقعی اﷲ تعالیٰ نے اس سرزمین کو بہت سی نعمتوں سے مالا مال کیا ہے جن کا ضیاع کرنے اور ان کی قدر نہ کرنے میں ہم نے پچھلے ستر سالوں میں کوئی کثر اٹھا نہیں رکھی لیکن اس سے پہلے انگریز اسکا بہت فائدہ اٹھا گیا ۔برکت لدھیانوی صاحب کی بات آج سچ ہوتے دکھائی دے رہی ہے کہ جب سی پیک منصوبہ واقعی دنیا کے مستقبل کا فیصلہ کرنے والا ہے اور وہ دن دور نہیں جب پاکستان بھی سپر پاور ہو گا پاکستان کے محل وقوع کے حساب سے بڑی اہمیت پاکستان میں دنیا کے سب سے بڑے سمندری روٹ کی ہے جو گوادر پورٹ کے بغیر نا مکمل ہے جس تک پہنچنے کیلئے پوری دنیا نے نصف صدی سے زائد کا عرصہ لگا دیا لیکن کامیابی صرف چین کے حصے میں آئی ہے ۔گرم پانی تک رسائی کی یہ جد جہد اول دن سے ہی جاری ہے جس میں سر فہرست روس اور چین رہے ہیں لیکن دونوں کے راستے الگ الگ تھے چین نے اس خطے میں گرم پانی تک رسائی کیلئے کسی کو نقصان پہنچائے بغیر بہت سے سماجی اور معاشی کام کئے جس سے بہت حد تک عام آدمی کو فائدہ ہوا جبکہ روس نے اس کے برعکس طاقت کا استعمال کیا اُس وقت چونکہ روس سپر پاور بھی تھا اسی لئے مادیت کے نشے میں چور افغانستان کے راستے اس خطے میں داخل ہونے کی کوشش کی اس کی نظر میں برصغیر آج بھی قابل تسخیر تھا جیسے ایسٹ انڈیا کمپنی نے یہاں قبضہ جمایا اور حکومت کی ۔اسکی سوچ میں آج بھی اس خطے کی عوام ذہنی طور پر مفلوج غلام ڈیل ڈول کی مالک تھی لیکن وہ شاید بھول گیا تھا ایمان کی طاقت سے بڑھ کر کوئی طاقت نہیں اس خطے کے لوگ جہاں مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے پیارو محبت کی پیروکار ہے اور جنگ آزادی کے بعد مادیت کی غلامی ترک چکے ہیں یہی ایک وجہ تھی کہ روس کو افغانستان میں بری طرح شکست ہوئی اور نہ تو اس کے بعد وہ سپر پاور رہا بلکہ بہت زیادہ کمزور پڑ گیا جس کا ازالہ کرتے ہوئے اسے تین دہائیاں بیت گئیں اس کے برعکس چین نے بھائی چارے اور محبت و پیار سے اس خطے کی عوام کا دل جیت لیا کچھ دو اور کچھ لو والی پالیسی سے اس نے اپنا اچھا مقام بنایا اور گرم پانی تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہا ،اگر دیکھا جائے تو اس گرم پانی تک رسائی کیلئے پوری دنیا کوشاں نظر آتی ہے جس میں سوویت یونین کے بعد اب یورپی یونین سرفہرست ہے جیسے ہی روس کے بعد امریکہ سپر پاور بنا تو اس نے بھی ر وس جیسے ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کئے اور طاقت کے زور پر وسطی ایشیائی خطے کو مات دیتے ہوئے گرم پانی تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی جس میں پاکستان کا کردار بھی کافی حد تک رہا لیکن پاکستان کی اسوقت کی عسکری قیادت نے سمجھداری کا ژبوت دیتے ہوئے نہ صرف آستین کے سانپ کو سبق سکھایا بلکہ امریکہ آج تک سوچنے پر مجبور ہے کہ ہمارے ساتھ ہوا کیا !!کہ جو ہماری منزل تھی اس میں رہتے ہوئے بھی آج تک اس سے کوسوں دور ہیں ۔امریکہ کو افغانستان کے ساتھ جنگ میں راستہ دینا ملکی معیشت کیلئے اہم تھا اور افغانستان میں ہی امریکی فوج کو بری طرح سے شکست کا سامنا کرنا نہ صرف اس ملک بلکہ خطے کی سالمیت کیلئے بھی ضروری تھا اسی وجہ سے سپر پاور ہونے کے با وجود امریکی معیشت چین جیسے ملک کی بلین ڈالر کی قرض دار ہے اور بہت قریب ہے کہ امریکہ عالمی طاقت والا یہ تمغہ اب کھو دے کیونکہ حالیہ دور میں امریکہ پر ڈونلڈ ٹرمپ جیسے شدت پسند شخص کی حکومت کرنا اور پھر بھارت کے کہنے میں آکر پاکستان کی مخالفت کرنے کے ساتھ ساتھ روس کا پاکستان کے ساتھ تعلقات استوار کرنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اب یہ تینوں ایٹمی طاقتیں مل کر گرم پانی کی حفاظت کریں گی اس طرح روس اور پاکستان کے ساتھ دینے سے ہو سکتا ہے کہ چین عالمی طاقت بن کر ابھرے چین کی برتری اس لئے کہ اس نے ہمیشہ معیشت کے استحکام پر زور دیا ہے جس میں چینی عوام نے بھی حکومت کا بھرپور ساتھ دیا ہے یہی وجہ تھی کہ اس نے معاشی درآمدات کی شرح میں امریکہ اور جاپان کو شکست دے دی ۔گوادر پورٹ اور سی پیک منصوبہ سے قبل طویل سمندری سفر کے باوجود چین اپنی مصنوعات تقریباََ دنیا کے ہر کونے میں پہنچانے میں کامیاب رہا ہے اور جہاں دیکھو آپ کو ’’میڈ ان چائینہ ‘‘کی مہر دکھائی دیتی ہے لوگ امریکی اور جاپانی مصنوعات سے اب انکار کر چکے ہیں اور انشا ء اﷲ آئندہ پاکستان کی مصنوعات کو بھی ضرور اپنائیں گے۔ماضی قریب میں جب بھارت ،جاپان ،اسرائیل اور امریکہ الائنس پاکستان میں ملکی معیشت اور استحکام مخالف سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا تو امریکہ نے بھی کھانے والے دانت دکھا دئیے اور پاکستان کی کھل کر مخالفت کر دی سی پیک منصوبہ بھارت اور امریکہ کیلئے بہت بڑا المیہ تھا جس کے مقابلے میں انہوں نے چاہ بہار پورٹ کے منصوبے کو کامیاب بنانے کی جی توڑ کوششیں کیں ہیں لیکن پاکستان کی بھی واضح اورمضبوط پالیسیوں سے اقدام اٹھاتے ہوئے روس کو ساتھ ملا لیا جو کہ اب روس ،چین اور پاکستان کا سہہ ملکی گرینڈ الائنس بن چکا ہے اس الائنس کے ساتھ ساتھ چین اور نیپال کی افواج کے مابین غیر معمولی جنگی مشقوں کا اہتمام کیا جا رہا جس پر بھارت نے چین اور نیپال کے ساتھ تحفظات کا اظہار کیا اور نیپال کے سفیر کو بھی طلب کیا ہے ۔چونکہ نیپال کا محل وقوع کچھ ایسا ہے کہ بھارت اور چین کی سرحدیں اسے چاروں طرف سے گھیرے ہوئیں ہیں اور چین سے زیادہ بھارت سے نیپال کے تعلقات کافی حد تک بہتر ہیں جسکا فائدہ چین کے خلاف بھارت ماضی میں اٹھاتا رہا ہے اور مستقبل میں بھی اٹھائے گا لیکن چین کی یہ پالیسی اب بھارت کے گلے کی ہڈی بن جائے گی اگر دیکھا جائے تو بھارت ،امریکہ سمیت اس یونین کے باقی تمام ممالک سیاسی طور سرگرمیا ں کر رہے ہیں جبکہ پاکستان ،روس اور چین عسکری سطح پر خارجی پالیسیوں کو کامیا ب بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جو مسقبل میں ان ممالک کیلئے سود مند ثابت ہونگی ۔اس گرینڈ الائنس کی مدد سے جہاں سی پیک کی وجہ سے معاشی انقلاب آنے والا ہے وہیں پاکستانی درآمدات میں بھی اضافہ ہونے جارہا ہے یہی وجہ ہے کہ اب دنیا بھر کے معیشت کے مستقبل فیصلہ پاکستان کی ہاں یا نہیں میں ہے سی پیک منصوبہ تاحیات بہت بڑا ہے جسے اب ثبوتاژ کرنا ناممکن لگتا ہے ۔اس گرینڈ الائنس کو توڑنے کیلئے دشمن ممالک مختلف سازشوں اور ہتھکنڈوں کا سہارا لیں گے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ روس مستقبل قریب میں ایٹمی پاور بننے کیلئے سازشوں کا حصہ بن جائے اور یہ منصوبہ پاکستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی ثابت ہو یہ سب آئندہ کی سیاسی قیادتوں اور حکومتوں کے ہاتھ ہے کہ وہ خارجی اور داخلہ پالیسیوں کو کس حد تک مؤثر بنا کر آنے والے وقت میں ان چیلینجز کا سامنا کرتے ہیں کیونکہ اگر معاملات بے قابو ہو ئے تو چوتھی جنگ عظیم ہونے کا اندیشہ ہے جس میں دونوں گرینڈ الائنسز میں ایٹمی طاقتوں کی موجودگی کے باعث ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال بھی ہو سکتا ہے جو کہ نہ صرف اس خطے بلکہ پوری دنیا کیلئے بہت بڑا خطرہ ہے ۔بابا برکت لدھیانوی کی بات تو پوری ہو گئی اب اﷲ کے دئیے ہوئے اس تحفے کو کس حد تک پاکستان سنبھال سکتا ہے وقت بہترین معلم ہے ۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Malik Shafqat ullah

Read More Articles by Malik Shafqat ullah : 210 Articles with 88685 views »
Pharmacist, Columnist, National, International And Political Affairs Analyst, Socialist... View More
09 Jan, 2017 Views: 276

Comments

آپ کی رائے