دردِ دِل

(Anwar Graywal, Bahawalpur)
 آئیے وزیراعلیٰ پنجاب جناب شہباز شریف کی ایک تقریر پر طائرانہ نگاہ ڈالتے ہیں، یا یوں کہیے کہ اختصار کے ساتھ اسے پڑھتے ہیں۔ یہ خطاب انہوں نے جنوبی پنجاب کے ایک پسماندہ ضلع مظفر گڑھ میں کیا ہے۔(جنوبی پنجاب کے کسی ضلع کو پسماندہ لکھنا ایک تکلف ہی ہے، کہ ملتان اور بہاولپور شہر کے علاوہ پورے جنوبی پنجاب کا ایک ہی حال ہے)۔ وہ ایک ہسپتال کی توسیع کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ رہے تھے ۔ یہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کے نام پر قائم ہوا ہے، ترکی کے فنڈ سے ہی بنا ہے۔ اب یہاں میڈیکل کالج، نرسنگ کالج اور پیرا میڈیکل سکول بھی بنایا جارہا ہے۔ اسے محکمہ صحت پنجاب کی بجائے ایک ٹرسٹ چلا رہا ہے۔ ذرا تقریر دلپذیر کے چیدہ چیدہ جملے ملاحظہ فرمائیے۔’’․․․ اس ہسپتال میں آکر دل خوش ہو گیا ہے ․․․اسے چلانے والا ٹرسٹ مبارکباد کا مستحق ہے، یہاں ڈاکٹر مریضوں سے شفقت سے پیش آتے ہیں، نرسیں سب کو ماں ، بہن اور بھائی سمجھتی ہیں ․․ یہاں کسی سیاستدان یا بیوروکریٹ کی سفارش نہیں چلتی․․․ اگر اس ہسپتال کو بھی محکمہ صحت کے حوالے کر دیا جاتا تو اس کا حال بھی سرکاری ہسپتالوں جیسا ہی ہو جاتا ․․․۔ اپنے ہسپتالوں میں ڈاکٹر بھی ہیں، عملہ بھی ہے، سہولتیں بھی دستیاب ہیں، اگر کمی ہے تو صرف دردِ دل کی۔ غریبوں کے لئے کسی کے دل میں نرم گوشہ نہیں ہے․․․۔ دکھی انسانیت کی خدمت میرا مشن ہے، صحت کے مسائل کو حل کر کے ہی دم لوں گا ․․․۔ قصور کی خاتون کا ہسپتال کے فرش پر جان دینا انتہائی افسوسناک ہے، یہ اگر کسی وزیر یا بیوروکریٹ کی والدہ ہوتی تو اس کا علاج بھی ہوتا اور پروٹوکول بھی ملتا ․․․۔ مملکتِ خداداد میں انہوں نے چار ہسپتالوں میں دھکے کھائے، یہ رلا دینے والی حقیقی داستان ہے ․․․ اگر سیاسی قیادت اور بیوروکریسی نے اﷲ کو جان دینی ہے اور آنے والی نسلوں کو سنوارنا ہے تو غریب کے لئے دل میں درد پیدا کرنا ہوگا․․․‘‘۔

اگر یہ کہا جائے کہ یہ کسی صوبے کے وزیراعلیٰ کی نہیں بلکہ اپوزیشن لیڈر کی ہے تو بے جا نہ ہوگا، کون سی خامی ہے جو ہمارے ہسپتالوں میں نہیں پائی جاتی۔وزیراعلیٰ پنجاب کی یہ تقریر اختصار کے ساتھ بیان کی گئی ہے، ان کا یہ جملہ پنجاب کے ہسپتالوں کی بھر پور عکاسی کرتا ہے کہ ’’اگر اس ہسپتال کو بھی محکمہ صحت کے حوالے کر دیا جاتا تو اس کا حشر بھی سرکاری ہسپتالوں جیسا ہی ہو جاتا‘‘۔ ان کا یہ کہنا درست نہیں کہ ہسپتالوں میں ڈاکٹروں ، عملے اور ادویات سمیت تمام وسائل موجود ہیں، اگر ایسا ہوتا تو لوگوں کو ہسپتالوں کے چکر نہ لگانے پڑیں۔ اگر ایک خاتون کو ہسپتال میں بستر نصیب نہ ہو سکا تو اس میں کس کا قصور ہے؟ ہسپتالوں کے باہر مریضوں کا ہجوم، مہنگی ادویات اور غیر معیاری ٹیسٹ، یہ سب کچھ سرکاری ہسپتالوں میں ہوتا ہے۔ انہیں یہ بھی خوب خبر ہے کہ ڈاکٹروں کی ہسپتالوں سے زیادہ اپنے کلینک میں دلچسپی ہوتی ہے۔ انہیں یہ بھی پتہ ہے کہ وزیروں اور بیوروکریسی کے لواحقین یا سفارشیوں کا علاج بھی ہوتا ہے اور پروٹوکول بھی ملتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ کو ہسپتالوں کی انتظامیہ نے بھی جواب دینا ہے اور حکمرانوں نے بھی۔ مرنے والوں کے لواحقین سے تعزیت،کچھ مالی مدد اور جذباتی تقریر سے مسائل حل ہوتے تو کب کے ہو چکے ہوتے۔

جب وزیراعلیٰ پنجاب نے اسی ہسپتال کا افتتاح کیا تھا تو اس وقت بھی انہوں نے اس سے ملتی جلتی تقریر ہی کی تھی، تب بھی انہوں نے پنجاب کے دیگر ہسپتالوں کی حالتِ زار اور وہاں ڈاکٹروں، عملے،مشینری اور ادویات کے بارے میں اسی قسم کے جذبات کا اظہار کیا تھا۔ لودھراں ہسپتال کے بارے میں انہوں نے کہا تھا کہ ہسپتال کو نئی مشینری دی گئی تھی، ایک عرصہ تک اسے کھولا ہی نہیں گیا، جب کھولا تو وہ استعمال کے قابل نہیں تھی، خراب اور پرانی تھی۔ متحرک وزیراعلیٰ جو کہ خود کواپنے صوبے کے عوام کے خادم قرار دیتے ہیں، خود اپنی ترجیحات پر غور کریں ۔ حکمران تو اپنی تقریروں سے دردِ دل کا اظہار کرسکتے ہیں، مگر کیا کیجئے کہ ہسپتالوں کی انتظامیہ کے پاس دردِ دل ظاہر کرنے کا ایسا کوئی ذریعہ موجود نہیں، سرکاری ملازمین کو ان کے فرائض کی انجام دہی پر کاربند کرنا بھی حکومت کا ہی فرض ہے۔ یہاں حقیقی دردِ دل کا ذکر مناسب نہیں، کیونکہ اگر دل کا اصل درد اٹھ جائے تو اپنے حکمرانوں کو بھی پاکستان میں کوئی ایسا ہسپتال نہیں ملتا، جہاں سے درد کی دوا مل سکے، انہیں برطانیہ جانا پڑتا ہے۔ اگر یہ احساس کا استعارہ ہے تو بھی فی الحقیقت سب کا دامن خالی ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: muhammad anwar graywal

Read More Articles by muhammad anwar graywal: 599 Articles with 256807 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Jan, 2017 Views: 532

Comments

آپ کی رائے