" سٹپنی وکیل ـ"گاڑی کا ایکسٹراٹائر

(Rao Imran Suleman, )
منگل دس جنوری کے روز تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری کی جانب سے عدالت میں اس بات کا اعتراف کرنا کہ وہ تومحض سٹپنی وکیل ہیں اور یہ کہ حامد خان کے الگ ہونے سے اس کیس کاسارا بوجھ ان کے کندھوں پر آگیاہے ،اس فقرے سے معلوم ہوتاہے کہ اس کیس کے سلسلے میں پی ٹی آئی کو اس وقت کچھ اندرونی پریشانیوں کا سامنا ہے ،نعیم بخاری صاحب عدالت میں شاید معاملات کو زرا نرم انداز میں چلارہے ہیں ممکن ہے اس وجہ سے پی ٹی آئی کے کچھ سرگرم ممبران اور ان کے وکیل نعیم بخاری میں کسی قسم کا اختلاف رائے موجود ہو؟۔!!۔ ہم نے دیکھا کہ اس فقرے کے بعد مورخہ 12جنوری بروز جمعرات کے روز وزیراعظم میاں نواز شریف کی فیملی کے وکلاء نے جب اپنے دلائل کو زیادہ وضاحت کے ساتھ پیش کرنا شروع کیاتو محترم نعیم بخاری صاحب کی عدالت میں غیر موجودگی کو سب نے نوٹ کیا اور لگتاہے یہ ہے کہ کہیں یہ معاملہ نعیم بخاری کے اس مقدمے سے علیحدگی کی صورت میں نہ ظاہر ہو جوکہ پی ٹی آئی والوں کے لیے کوئی اچھا شگن ثابت نہ ہوگا میں سمجھتاہوں کہ کسی بھی کیس کے اہم موڑ پر اس انداز میں وکیلوں کو بدلنا کوئی اچھی صورتحال نہیں سمجھی جاتی امید تو یہ ہے کہ پی ٹی آئی والوں کو شاید اس قسم کی مشکل کا سامنا نہیں ہوگا لیکن اگر ایسا ہوا تویہ پی ٹی آئی کی قانونی کوششوں کے لیے غیر مفید ثابت ہوگا اور اس کافائدہ وزیراعظم کی فیملی کے وکلاء کو ہوگا،نواز شریف کے وکلاء کے دلائل کے بعد تحریک انصاف کے وکیل کوجوابی دلائل دینا ہونگے لہذاان کے لیے بہتر حل یہ ہے کہ یہ دلائل بھی نعیم بخاری ہی دیں جنھوں نے ابتدائی طور پر یہ مقدمہ عدالت میں پیش کیاتھا اگرچہ قانونی طورپر وکیل کو مقدمے کے دوران تبدیل کیا جاسکتاہے لیکن عمومی طورپر ایسا کرنا اچھا نہیں سمجھا جاتاہے ،لہذا اس اسٹیج پراگر پی ٹی آئی اپنا وکیل بدلتی ہے تو شریف فیملی کے وکلااس عمل سے بہت فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔میں دیکھ رہاہوں کہ جیسے جیسے وقت گزررہاہے اس کافائدہ نوازشریف صاحب کو ہورہاہے کیونکہ اب وقت بہت تیزی سے گزرکر انتخابات کی طرف بڑھ رہاہے ،لہذا اس کیس کے لمباہونے سے نوازشریف صاحب کو ایک اہم موقع ملتاہے کہ وہ عوامی فلاح وبہبود کے اقدامات کو زیادہ سے زیادہ اٹھاکراپنے لیے ایک مثبت فضاء کو قائم کریں جس کا فائدہ انہیں آئندہ انتخابات میں مل سکتاہے ،اس سلسلے میں اگر ہم پنجاب اور فیڈرل حکومتوں کی جانب سے اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں بڑے بڑے اور رنگین اشتہارات کو دیکھیں توایسا لگتاہے کہ حکومت نے اپنے لیے انتخابی مہم کا آغازکردیاہے،قائرین کرام میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتاکہ پانامہ لیکس کے اس کیس پر پوری قو م کی نظریں لگی ہوئی ہیں یہ جملہ محض ایک اخباری بیان ہے اس معاملے کو آٹھ ماہ سے زیادہ ہونے کو ہیں اور قوم اس قدر ویلی نہیں ہے کہ وہ ٹکٹی باندھ کر عدا لت پر نظریں جماکر بیٹھی رہے اس ملک میں بے روزگاری ہے ،مہنگائی ہے لوڈشیڈنگ ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہماری قوم اچھی طرح جانتی ہے کہ لوٹ مار کیسے کی جاتی ہے اور ہمارے حکمران کس کس انداز میں ہمیں لوٹتے رہے ہیں مگر اس کے باجود ووٹ بھی انہیں کو دیناہے !!اس سارے عمل میں پھرقوم کو کیا پڑی ہے کہ وہ اپنی پریشانیو ں کو چھوڑ کر پانامہ کے ہنگاموں میں الجھتی پھرے ۔ویسے دیکھا جائے تو اس بات پر تجزیہ نگاروں کا اتفاق پایا جاتاہے پنجاب اور فیڈرل حکومت انسانی بہتری کے کاموں میں دیگر صوبوں سے بازی لے گئے ہیں اگرچہ اس میں بہت سی ہھیرا پھیریاں ہیں مگر اس سے قبل جب حکومت پیپلزپارٹی کی تھی تب انہیں کراچی خصوصاً سندھ کی ترقی کرنے سے کس نے روکاتھا؟ کیونکہ پیپلزپارٹی کا تعلق صوبہ سندھ سے ہے۔اس وقت بھی وفاقی حکومت کے رنگین اشتہارات کی اگر ہم بات کریں تو اس میں بہت سا نہ سہی مگر کچھ نہ کچھ تو عوامی فائدے کا اہتمام کیا گیاہے جس سے یہ کہنا درست ہوگاکہ حکومت کے ان پروگراموں سے ہرطبقہ ہی فائدہ اٹھارہاہے لیکن میں سمجھتاہوں کہ حکومت کو اس قسم کے پروگراموں کو سامنے لانا ہوگا جس کا فائدہ براہ راست غریب عوام کو پہنچتاہوکرپشن اور کمیشن کے لیے بنائے گئے پروگراموں کا عملی فائدہ صرف ٹھیکیداروں تک ہی محدود ہوتاہے ،قائرین کرام اب میں واپس پانامہ کے کیس کی جانب آتاہوں جیسا کہ میں نے زکر کیا کہ پی ٹی آئی کے وکیل کے نعیم بخاری نے خود سٹپنی وکیل کے طوپرظاہر کیا،میں نعیم بخاری صاحب کے اس فقرے کو اس طرح سوچ رہاہوں کہ سٹپنی وہ ایکسٹراٹائر ہے جسے محدود وقت کے لیے وقتی ضروریات پورا کرنے کے لیے محدود پیمانے پر استعمال کیا جاتاہے اور پھر فارغ کرکے گاڑی کی پچھلی ڈگی میں ڈال دیاجاتاہے ۔اس عمل سے ہوسکتاہے کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان خوش نہ ہو کیونکہ وہ کسی حد تک نعیم بخاری صاحب کو اپنے لیے امیدوں کا مرکز سمجھتے ہیں، اس وقت شریف فیملی کے وکلاء اپنا دفاع پیش کرینگے تو یقیناً پی ٹی آئی کے اس اندرونی اختلافات سے حکومتی پوزیشن بہترہوجائے گی ،محترم شیخ رشید صاحب بھی شاید نعیم بخاری کے اس ریماکس سے خوش دکھائی نہیں دیتے وہ سمجھتے ہیں کہ نعیم بخاری نے شاید اس مقدمے کو الجھا دیاہے۔اس سارے عمل میں وزیراعظم کا اعتماد بڑھ رہاہے یہ ہی وجہ ہے کہ ایک طرف جہاں عدالتوں میں روز اس مقدمے کو سنا جارہاہے تو دوسری طرف وزیراعظم انسانی فلاح وبہبود سے جڑے منصوبوں کے افتتاح میں مختلف نیوز چینلوں میں دکھائی دیتے ہیں اور ہر ایک تقریب میں عوام میں بے روزگاری کے خاتمے کے ساتھ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی نوید سنادیتے ہیں میں سمجھتاہوں کہ یہ عمل بے شک ایک سیاسی عمل ہے اور حکومت کے اسی سیاسی انداز نے جہاں پی ٹی آئی اور اپنی مخالف جماعتوں کو اس مقدمے تک محدود کردیاہے وہاں حکومت کھل کر عوام میں اپنے کارناموں کی داستان سنانے میں مگن ہے ۔ختم شد
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rao Imran Suleman

Read More Articles by Rao Imran Suleman: 75 Articles with 37505 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Jan, 2017 Views: 459

Comments

آپ کی رائے