خواجہ سرا ۔ ناچنا چھوڑ دیں گے۔ ؟

(Ajmal Malik, faisalabad)
سالوں پہلے محلوں کے قریب ایسی بستی ہواکرتی تھی۔ جہاں عام آدمی کا جانا ممنوع اور نکلنا مشکوک ہوتا تھا۔غدر کے بعد محل سے نکلے والوں نے یہ محلے آباد کئے تھے۔پکی کالونیوں کے قریب ہی کچے گھر وں والی بستی۔ کھُسر محلہ کے نام سےبدنام تھی۔ ڈھولکی والا۔ چمٹے والا ۔اور ناچنے والا ۔پاس پاس ہی رہتے تھے۔ اپنی’’ باجی ‘‘کے پاس پاس۔ پکے گھروں کے آس پاس ۔ چوبدار۔کے بلاوے کے انتظار میں کہ ’’خواجہ سرا حاضر ہو۔ بدائیاں لینے کے لئے ۔منڈا ۔پیدا ہوا ہے‘‘۔اب تو گھر ویلوں سے چلتے تھے۔قاصدی تو اب موتی چور لڈو بنانے والے حلوائی کرتے تھے جو کبھی کبھار کھسر پھسر کر دیتے کہ فلاں گھر سے لڈووں کا آرڈر ملا ہے۔حلوائیوں اور کھسروں کے لڈو اکٹھے پھوٹتے تھے۔
مغل بادشاہ ۔شاہ جہان نے اپنے بڑے بیٹےدارہ شکوہ کو سلطنت کا ولی عہد نامزد کیا تودوسرا بیٹا اورنگزیب ناراض ہو گیا۔ اس نے غصے میں آکر شاہ جہان کو گرفتار کرکے آگرہ قلعہ میں قید کر لیا ۔ تخت مغلیہ کا حاکم اچانک تخت کا قیدی بن گیا۔اورنگزیب نے خزانے کی نگرانی پر معتمد نامی ۔خاص الخاص خواجہ سرا کو مقرر کر دیا۔ شاہ جہان کو کسی قسم کی خط و کتابت کی اجازت نہ تھی۔ ایک بار۔ اورنگزیب قیدی باپ سے ملاقات کرنے گیا تو شاہ جہان نے پوچھا :اورنگزیب مجھے بتاؤ ۔وفانامی خواجہ سرا کا کیا ہوا۔ ؟
شہنشاہ :اس کا وہی حشر ہوا جو باغیوں کا ہوتا ہے۔میں تمام خواجہ سراؤں کو تنبیہ کر چکا ہوں۔ اگر کسی نے وفا جیسی کوئی حرکت کی تو انجام بھی وفا جیساہی ہو گا۔ ہاں اگر خط لکھوانا بہت ضروری ہے تو میں ایک خواجہ سرا ۔میں مقرر کروں گا۔ آپ خط کا مضمون بول دیا کریں وہ لکھ دیا کرےگا ۔ منٹوکے ’’ ڈرامے شاہ جہان کی موت ‘‘ سے اقتباس
منٹو نے ہیجڑوں کی تین خصوصیات کا تذکرہ کیا ہے۔ پہلی یہ کہ وہ محافظ تھے۔ دوسری ۔ خط نویس اور تیسری یہ کہ وہ قاصد بھی تھے ۔ ہیجڑے۔کئی صدیوں تک درباروں اور اقتداروں میں۔ رہے ہیں۔ ۔نواب آف اودھ پور نے محل کی پاسبانی کے لئے۔ ہیجڑوں کی بٹالین بھی بنائی تھی ۔ مغلوں سے سلطنت کیا چھینی۔ہیجڑوں سے چھت چھن گئی۔ آج لوہاروں کو مغل کہا جاتا ہے اور خواجہ سراؤں ۔کو۔ کھسرے ۔بیچارے محل سے محلے میں آگئے ہیں۔
سالوں پہلے محلوں کے قریب ایسی بستی ہواکرتی تھی۔ جہاں عام آدمی کا جانا ممنوع اور نکلنا مشکوک ہوتا تھا۔غدر کے بعد محل سے نکلنے والوں نے یہ محلے آباد کئے تھے۔پکی کالونیوں کے قریب ہی کچے گھر وں والی بستی۔ کھُسر محلہ کے نام سےبدنام تھی۔ ڈھولکی والا۔ چمٹے والا ۔اور ناچنے والا ۔پاس پاس ہی رہتے تھے۔ اپنی’’ باجی ‘‘کے پاس پاس۔ پکے گھروں کے آس پاس ۔ چوبدار۔کے بلاوے کے انتظار میں کہ ’’خواجہ سرا حاضر ہو۔ بدائیاں لینے کے لئے ۔منڈا ۔پیدا ہوا ہے‘‘۔اب تو گھر ویلوں سے چلتے تھے۔قاصدی تو اب موتی چور لڈو بنانے والے حلوائی کرتے تھے جو کبھی کبھار کھسر پھسر کر دیتے کہ فلاں گھر سے لڈووں کا آرڈر ملا ہے۔حلوائیوں اور کھسروں کے لڈو اکٹھے پھوٹتے تھے۔کھسرے جونہی محلے میں داخل ہوتے تو۔شریر انہیں زچگی والے گھر تک چھوڑ کے آتے۔گلی گلی شور مچ جاتا۔ آ گئے ۔ آگئے۔۔ بچے کی چاچیاں، ماسیاں۔ مامیاں۔تائیاں اور ہمسائیاں ۔کرسیاں۔ پیڑھیاں رکھ کر مجرے دیکھنے بیٹھ جاتیں۔ نگوڑی جمہوری حکومت آئی تو نئی پریشانیاں لائی۔ٹی وی پر اشتہار چلا چلا کر باؤلا کر دیا کہ ۔ ’’بچے دو ہی اچھے‘‘۔ایسی نس بندیاں ہوئیں کہ روزگار بھی بند ہو گیا۔ غربت بڑھتی گئی اور کھسر محلے کے گھرشرفا نے خرید لئے۔یوں خواجہ سر ا ۔ محلے اور پھر سڑکوں پر آگئے۔
بڑے شہروں کےٹریفک سگنلز پر جو واحد چیز تھرکتی نظر آتی ہے ۔وہ ہیجڑے ہوتے ہیں۔پی پی پاں پاں پر تھرکتے، بھاگتے ، دوڑتے ہیجڑے۔ مانگت ہیجڑے ۔جن میں سے کچھ نہر کے کناروں پر شفٹ ہو گئے۔اورجنہیں خود آرائشی کا شوق تھا ۔وہ موت کے کنوئیں پر جا بیٹھے۔ وہاں جا کر وہ ۔ لیڈی بن گئے۔ لوفر ۔ ان سے ٹھٹھے بازی کرتے تو وہ چھبیاں دیتے ۔ غرارہ۔ شرارہ ۔ ساڑھی ۔ کیپری ۔شلوارسوٹ۔ میکسی۔جینز۔سکرٹ ۔ وہاں ۔انہیں ہر لباس پہننے کو ملا ۔لیکن ناچنے کے لئے ۔ گھروں سے دھتکارے ہوئے یہ لوگ ۔۔ ریاست میں بھی دھتکارے گئے ۔ انہیں ریاستی شہری بننے کے لئے طویل قانونی جنگ لڑنا پڑی۔الماس بوبی کے بعد ہیجڑوں کی سب سے بڑی جنگ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے لڑی۔انہوں نےخواجہ سراؤں کے شناختی کارڈ،ووٹ اور سرکاری نوکریوں ۔کے تین اہم فیصلے کئے۔انہیں نرسنگ یا ۔دائی۔۔ نادہندگان سے وصولی ۔ جیسے کام پر لگانے کی ہدایت کی۔ لیکن احکامات پر عمل درآمد نہ ہوسکا۔ میرا دوست مرید کہتا ہے کہ کھسرے ناچنے کے شوقین ہیں ۔حکومت انہیں ڈانسنگ کلب کھول کر دے تاکہ وہ عزت سے کما سکیں ۔اگر اسلامی ریاست میں شراب کی فیکٹریاں کھل سکتی ہیں تو ڈانسنگ کلب کیوں نہیں۔؟۔
ڈانسنگ کلب کتنے کھولنے ہیں اورہیجڑے کتنے ہیں۔؟کسی کو نہیں پتہ۔البتہ’ساتھی فاؤنڈیشن‘ کا دعویٰ ہے کہ ملک میں کھسروں کی تعداد6 لاکھ سے زیادہ ہے۔اور پنجاب حکومت کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صوبہ میں تقریبا 1 ہزار716 ہیجڑے ہیں۔جن میں 149افراد اپنی مرضی سے ہیجڑابنے ہیں۔مجھے تو محترمہ بشری رحمن کا جملہ یا د آ گیا۔”ہیجڑے ہوں گے قوم کا خزانہ لوٹنے والے ۔ قرض معاف کرانے والے ۔ ٹیکس چور۔ بجلی چور۔قانون شکن۔ ہیجڑے ہوں گے وہ جو وقت پر صحیح فیصلے نہیں کرتے ۔ جو غبن کر کے بھاگ جاتے ہیں‘‘۔اور حسن عباس رضا کا کیا اعلی شعر ہے۔
ایک دھڑکا سا لگا رہتا ہے لٹ جانے کا
گویا پہرے پہ کوئی خواجہ سرا بیٹھا ہے۔
کھسروں کا انسانی بستیوں سے رابطہ ان تماش بینوں کی وجہ ہے ۔ جو ۔ میلہ میلہ گھومتے ہیں اور پھر پارسا۔کے ۔پارسا۔ پنجاب میں اب بچہ پیدا ہونے پر کھسرے نچانے کی روایت دم توڑ چکی ہے۔ مہندی کی رات طوائفیں بلانے کی سکت نہ رکھنے والے سستے تماش بین ۔کھسرے بلاتے ہیں۔ دادرا۔ اور ٹھمری پر مٹکنے والے کھسرے۔کیونکہ ۔یہ مردوں کا معاشرہ ہے۔ ایسے ’’اوباشوں ‘‘ کاجو شادی کے بعد بھی چوباروں پرتعلق رکھتے ہیں۔اور اسے شانِ مردانگی سمجھتے ہیں۔
بچپن ہم اکثر لڑائیوں کے فیصلے ۔ اکڑ ۔بکڑ ۔ بمبے۔ بو۔۔اسی ۔نوے ۔پورے ۔ سو ۔سے کر لیتے تھے۔اللہ جانے اکڑ ۔بکڑ۔ کامطلب کیا ہے۔لیکن فیصلے اتنے قلعہ بند ہو تے کہ کسی میں مزاحمت کی جرات نہ ہوتی۔آج پوری قوم ۔تعداد کے اعتبار سےاکڑ بکڑ بمبے بو ہے۔ہم تقریبا ایک ہجوم ہیں۔ 20 کروڑ یا اسی ۔نوے پورے سو۔اکڑ بکڑ بمبے بو۔ ان میں خواجہ سرا شامل نہیں ہیں۔لیکن مرید کہتا ہے کہ بحثیت مجموعی ہم ہیجڑا قوم ہیں۔ہماری باجیوں نے ہمارے حقوق سلب کر رکھے۔۔20 کروڑ ہیجڑے اور 2 ہزار باجیاں ۔ ہم صرف۔ کھسر پھسر کرسکتے ہیں ۔
خبر یہ ہے کہ حکومت نےمارچ 2017 میں ہونے والی مردم شماری میں ہیجڑوں کو بھی شامل کرنے کا حکم دیا ہے۔ نادرا کو ہدايات جاری کر دی گئی ہيں۔1998 میں قوم کو آخری بار گنا گیا تھا۔ اس کے بعد سے صرف تولا ہی گیا ہے۔اب تو خواجہ سراؤں کو شمار کرنے کی بھی تجویز ہے۔ اب وہ ریاست کے رجسٹرڈ شہری ہوں گے۔کیا ۔وہ ناچنا چھوڑ دیں گے۔کیا وہ ۔ ان حقوق کا مطالبہ بھی کر سکیں گے جو آج تک پہلے سے رجسٹرڈ شہریوں کوبھی نہیں ملے۔۔مرید تو کہتا ہے کہ حقوق تو بعد میں پہلے تو۔ان بیچاروں کو وہ مولوی چاہیے جو مرنے کے بعد جنازے سمیت آخری رسومات کی ادائیگی کر وا سکے۔ یہ مسئلہ کسی قاضی یا چو بدار کا نہیں بلکہ ظل الہی کا ہے۔ شاہی فرمان نہ آیاتو ۔ ہیجڑے محل سے باہر ہی رہیں گے ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ajmal Malik

Read More Articles by Ajmal Malik: 76 Articles with 50291 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Jan, 2017 Views: 537

Comments

آپ کی رائے