انڈا یا مرغیاں

(hukhan, karachi)
انسان کی بہت سی پہچان ہیں - جن سے وہ پہچانا جا سکتا ہے- جیسے اخلاق، تربیت ، تعلیم ، اس کی نشت و بر خاست، بول چال، ان ہی نشانیوں میں سے ایک آپ کے دوست بھی آپ کی شناخت ہوتے ہیں اب جیسے دوست ہوگے ویسی آپ کی شخصیت کو شناخت ملے گی- مثال کے طور پر اگر آپ کے دوست لکھاری ہوں تو لوگ آپ کو بھی لکھاری سمجھیں گے- اگر دوست شکاری ہوں تو آپ کو لوگ شکاری ہی سمجھیں گے -بھلے سے آپ نے کبھی مکھی بھی نہ ماری ہو۔۔۔۔۔ بات کو مختصر کرتے ہیں- ہمارے دوست ایسے ہں کہ ہم نے ان کی شان میں آرٹیکل لکھا تھا جس کا ٹائیٹل تھا - مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ---- اب آان کو ڈنگی مچھر نہ سمجھ لیجیے گا- کیونکہ ڈنگی ہمارے دوستوں کے سامنے کچھ نہیں --- ایک دفعہ کالو کے ابا جو کے ہمارے دور پار کے دوست ہے -کیونکہ ان کے نزدیک مسٹر کالو کے امی آنا پسند نہیں فرماتی کالو کے ابا کو ڈنگی نے کاٹ لیا--- مچھر کو-------

point blood platelets red cells کے چھڑانے پڑ گئے -- ایک دفعہ ہمارے دوست حکیم جلیبی خان اپنی ایٹم بم نما بیوی سے لڑ کے گھر سے نکلے ہی تھے کہ ان کے سسرالی کتے نے ان کو کاٹ لیا -- بچارے کو چودہ انجیکشن لگائے ---- جی چودہ مگر کتے کو----- ان کا سالا جس کا وہ کتا تھا- مڈیکل بل ہاتھ میں لیے حکیم صاحب کے پیچھے گھومتا رہا--- کہ چونکے آپ نے کتے کے دم پر پاؤں رکھا تھا--- اس لیے ٹیکوں کا بل آپ کو دینا ہوگا-- ہم نے ان کو سمجھایا کہ دیکھوں -- آپ حکیم سے واقف نہیں ہو---- وہ بولے ہماری بہن کی مایوں کےملن ہیں ہم نہیں جانتے ہوگے-- ان کے سالے یہ ڈائیلاگ اس ادا سے کہا -ہاتھ اور نگاہیں پوری کے پوری اس طرح گھمائیں کے امرو جان کی روح بھی شرما گئی ہوگی - ہم نے وثوق سے کہا-- بالک بھی نہیں -- ہم نے ان سے پوچھا آپ کے بہنوئی کے کتنے بچے ہیں وہ بولے چار -- ہم بولے --- سب سے بڑے---- وہ بولے آٹھ سال کے--ہم بولے آج تک اس کی پیدائش کا بل لیے ہاسپٹل والے گھوم رہے ہیں ہر دفعہ یہ بول کے ٹال دیتا ہے اگلی باری پر--- اگلا پچھلا سب چکتا کر دونگا------

ایک دن ہمارے دوست ہیں فاروق نفیس ہم سے بولے خان صاحب مرغی کے ٹانگیں کیوں چھوٹی ہوتی ہیں--- ہم بولے --- قدرت کے کام---- وہ بولے ---- ہونا خان کے خان ----- ہم نے عزت کا فالودہ ہوتے دیکھا تو جٹ سے بولے---- آپ ہی کائنات کے راز سے پردہ اٹھا دی جائے---- وہ بولے --- مرغی کی ٹانگیں اس لیے سائز میں کم ہوتی ہیں کہ کہیں انڈا زیادہ بلندی سے گر کر ٹوٹ نہ جائے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: hukhan

Read More Articles by hukhan: 28 Articles with 26222 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Jan, 2017 Views: 1224

Comments

آپ کی رائے
hehehheh niceeeeeeeeeeeeee :)
By: Zeena, Lahore on Jan, 31 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: HuKhaN, Karachi on Feb, 01 2017
0 Like
khan bahi urdu mai likha kare acha laga urdu main par kar
By: hassan, muhmmad zai on Jan, 17 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: HuKhaN, Karachi on Jan, 18 2017
0 Like
acha hay zyda mza hay
By: aslam memon, Karachi on Jan, 16 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: HuKhaN, Karachi on Jan, 16 2017
0 Like
Urdu mein bhi bhot acha laga,,,,likha kry
By: Mini, mandi bhauddin on Jan, 16 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: HuKhaN, Karachi on Jan, 16 2017
0 Like