زبان، ادب اور معاشرہ

(Ghulam Ullah Kiyani, )
زبان وبیان رابطے کا وسیلہ ہے۔ یہی معاشرے کی عکاسی کرتی ہے۔ انسان اپنا ما فی الضمیر بیان کرتا ہے۔ تہذیب وتمدن کو ظاہر کرتا ہے۔ دنیا میں ہر جاندار اور بے جان کی زبان ہے۔ انسان ہی کیا یہ پیڑ پودے، ہوا ، پانی سب کی زبان ہے۔ ان کا اپنا بیان، اپنا انداز ہے۔ ہم آج زبان تبدیل کرنے یا نئی زبان سے متاثر ہو کر یا باامر مجبوری اس کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ اگر یورپ میں بودو باش اختیار کرنی ہے تو انگریزی اور دیگر زبانوں کا علم ضروری ہے۔ چین جانا ہے تو چینی ، عرب میں عربی، ایران میں فارسی، وغیر ہ کا علم ہونا معاشرے اور ثقافت سے قربت کی سند عطا کرتا ہے۔

پاکستان میں لاتعداد زبانیں بولی جاتی ہیں۔ مختلف کلچر ہیں۔ آج کا دیب کیسے معاشرے کی درست عکاسی کرے گا ۔ اسے فکر روزگار ہے۔ آج کا انسان معیشت کی طرف راغب ہے۔ دنیا کے زیادہ تر معاملات اسی معیشت کے گرد گھومتے ہیں۔ جو معیشت مستحکم ہے ۔ اس کی طرف سب کا جھکاؤ ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے مستفید ہونے کے لئے اس کی ثقافت، زبان و ادب بھی اسی رفتار سے غلبہ پاتا ہے۔ جب عرب دنیا پر چھا گئے تو عربی ادب کا ہر سو چرچا تھا۔ عربی ادب ویسے بھی امیر ترین ادب ہے۔ اس کا منبہ اور سر چشمہ قرآن ہے ۔ اس لئے اس کے محاورے، زبان، استعارات وغیرہ بالکل نہیں بدلے۔ اپنی اصل کی طرف راغب ہیں۔ پہلے جاہلیہ کا ادب تھا۔ ابن المقفع، جاحظ، المتنبی، زہیر بن سلمیٰ وغیری کا بول بالا تھا۔ عکاظ کے میلے میں سبع المعلقات کا انتخاب ہوتا تھا۔ انہیں سونے کے پانی سے لکھ کر خانہ کعبہ پر آویزاں کر دیا جاتا تھا۔ پھر اس دور میں حسان بن ثابت ؓ بھی گزرے ہیں جنھیں نبی رحمتﷺ نے خود شاعر ی کی اجازت اور ترغیب دی کہ وہ اسلام کا دفاع اور تشہیر کریں۔ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ لغویات اورفضولیات کی ہمیشہ ممانعت کی گئی ہے۔ عربی کے بعد یہاں فارسی زبان کا طوطی بولتا تھا۔ یہ کبھی سرکاری زبان تھی۔ آج اس کا نام و نشان ہی نہیں۔ کسی یونیورسٹی کا شعبہ میں یا کتابوں میں ہی اسے تلاش کیا جا سکتا ہے۔ یہ درست ہے کہ زبانیں طاقت کی زبان سمجھتی ہیں۔ اس سے مغلوب بھی ہوتی ہیں۔ پاکستان میں بلا شبہ بلوچی، سندھی، سرائیکی، پشتو، ہندکو، پہاڑی ، گوجری زبانیں بولی جاتی ہیں۔ لیکن پنجابی کا اپنا اسلوب ہے۔ اردو رابطے کی زبان ہے۔ اردو کب تک زمانے کی گردش میں رہے گی۔ کوئی نہیں جانتا۔ لیکن طاقت کا غلبہ ہوتا ہے۔ آج سائنس و ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ جو معاشرہ یا قوم اس میں ترقی کرے گی۔ اس کی زبان و ثقافت بھی ترقی کرے گی۔ اس کی ترویج ہو گی۔ یہ پھیلے گی۔ دنیا اسے سیکھنے پر مجبور ہو گی۔ یہ ایک مجبوری ہے کہ معیشت کے فروگ کے لئے وہاں کا ادب فروغ پائے۔

پاکستان بھی عالمگیریت کا شکار ہو رہا ہے۔ یہاں کی صنعت وحرفت بیرونی امداد کی محتاج ہے۔ پیداوار کم ہو رہی ہے۔ زرعی علاقوں میں رہائشی بستیاں تعمیر ہو رہی ہیں۔ بنجر زمین کو سیراب کرنے کے لئے نہروں اور کنوؤں کی کھدائی کی جانب کوئی توجہ نہیں دیتا۔ جب کہ ترقی یافتہ قوموں کی ثقافتی یلغار ہو رہی ہے۔ ان کے رسومات یہاں فروغ پا رہے ہیں۔ ان کا کلچرہم اپنا رہے ہیں۔ یہ نقالی مجبوری ہے۔ ہم سائنس و ٹیکنالوجی کو فروغ دیں۔ تجربہ گاہیں آباد کریں۔ تحقیق پر توجہ دیں۔ نئے اسلوب متعارف کریں۔ تب دوسرے معاشرے اس طرف راغب ہوں گے۔ آج معاشی فتوحات کی ضرورت ہے۔

اکادمی ادبیات پاکستان کے اہتمام سے زبان ، ادب اور معاشرہ پر بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا۔ ادیبوں، شعراء حضرات سے ملاقات کا موقع ملا۔ اکادمی کی بہترین کاوش تھی۔ چیئر مین ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو اور ان کی ٹیم نے بہت محنت کی۔ اس کے مستقبل میں مثبت نتائج کی بھی توقع کی جا سکتی ہے۔ اکادمی قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن کے تحت کام کرتی ہے۔ جو وزارت اطلاعات و نشریات کی نگرانی میں خدمات انجام دے رہا ہے۔ آج کل ضرب قلم کے کافی چرچے ہیں۔ یہ درست ہے کہ ادب اور ادیب کا بھی ایک بڑا محاذ ہے۔ یہ محاذبھی ضرن عضب کی طرح گرم رکھنے کی ضرورت ہے۔ اس پر توجہ دی جانی چاہیئے۔ پسند و ناپسند کی بنیاد پر بعض کو نوازنا اور بعض کو نظر انداز کرنا ادب کی خدمت نہیں بلکہ اس کی دشمنی کے مترداف ہو گا۔ اگر ایوارڈز اور ھوصلہ افزائی تعلقات اور سفارش پر دیئے جائیں گے تو میرٹ کی یہ سب سے بڑی پامالی ہو گی۔ لوگ درباری ادب کی جانب گامزن ہوں گے۔ ہمیں مزاحمتی ادب کی تلاش ہے۔ جو ظلم، جہالت، نسل پرستی، فرقہ واریت، نظریات کی جنگ، علاقہ اور قوم پرستی کے بجائے حق اور سچ کا ساتھ تھے۔ جو مظلوم کی آواز بنے۔ معاشرے کی عکاسی بھی کرے اور اس کی اصلاح کی بھی فکر کرے۔ تنقید کرے تو متبادل راستے بھی تجویز کرے۔ ادب اور ادیب معاشرے کی ترجمانی اور اصلاح کر سکتے ہیں۔ اگر وہ آزادی سے ادب کو فروغ دیں ۔ ان پر غیر ضروری پابندیاں نہ ہوں۔ یہ ادب کو زریعہ معاش بنائیں گے تو وہ بھی حقائق کے بجائے کاروباری نکتہ نگاہ اور اپروچ کو پروان چڑھائیں گے۔

اکادمی نے اس کانفرنس میں یونیورسٹیوں کے طلباء و طالبات کو شریک کرنے کا احسن کام کیا۔ تا ہم منظم و مربوط انداز میں ایک وقت میں کئی سیشنز کے بجائے ایک وقت مین ایک ہی سیشن اور اس میں سب مندوبین کی شرکت ضروری ہونی چاہیئے۔ ورنہ منتشر اور افراتفری کا عام محسوس ہوتا ہے۔ سب ایک جگہ جمع ہوں گے تو فکری یک جہتی اور مفاہمت کو فروغ ملے گا۔ جس کی آج بہت ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 589 Articles with 230532 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
16 Jan, 2017 Views: 1151

Comments

آپ کی رائے