خلیفہ دوم حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ(حیات مبارکہ کی مختصرجھلک)

(غلام مصطفی رفیق, karachi)
آپ کااسم گرامی عمر،لقب فاروق،اورکنیت ابوحفص تھی،آپ کانسب نویں پشت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جاملتاہے۔ آپ کی ولادت واقعہ فیل کے تیرہ برس بعدہوئی ۔آپ کاقدمبارک درازاوررنگ سفیدمائل بہ سرخی تھا،بڑے بہادراورطاقتورتھے۔آپ خاندان قریش کے باوجاہت لوگوں میں سے تھے،زمانہ جاہلیت میں سفارت کاکام انھیں کے متعلق تھا۔نبوت کے چھٹے سال مشرف بہ اسلام ہوئے۔

خلیفہ دوم حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ(حیات مبارکہ کی مختصرجھلک)

آپ کااسم گرامی عمر،لقب فاروق،اورکنیت ابوحفص تھی،آپ کانسب نویں پشت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جاملتاہے۔ آپ کی ولادت واقعہ فیل کے تیرہ برس بعدہوئی ۔آپ کاقدمبارک درازاوررنگ سفیدمائل بہ سرخی تھا،بڑے بہادراورطاقتورتھے۔آپ خاندان قریش کے باوجاہت لوگوں میں سے تھے،زمانہ جاہلیت میں سفارت کاکام انھیں کے متعلق تھا۔نبوت کے چھٹے سال مشرف بہ اسلام ہوئے۔

ان کااسلام بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاایک معجزہ تھا،آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں مقبول ہوئیں اورمشیت الٰہی نے ان کوکشاں کشاں دربارنبوت میں پہنچادیا،ان کے مسلمان ہوجانے سے دن اسلام کوبہت زیادہ قوت حاصل ہوئی،اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کے ساتھ کعبہ میں نمازادافرمائی اورروزبروزاسلام کی قوت وشوکت بڑھتی گئی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ہجرت فرماکرمدینہ تشریف لے گئے اوربڑی شان سے ہجرت کی کسی کافرکوروک ٹوک کی ہمت نہ ہوئی۔ہجرت کے بعدسب سے بڑی خدمت مغازی کی تھی اس میں فاروق اعظم ؓسے کون سبقت لے جاسکتاتھاتمام غزوات میں نبی علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ شریک رہے اورہرغزوہ میں پسندیدہ خدمات انجام دیں اورتمام غزوات میں آپ کانمایاں کرداررہا۔

نفاق اورمنافقین سے آپ کواس قدرنفرت تھی کہ جہاں کسی سے اس قسم کی کوئی بات صادرہوتی توفورًارسول اللہ صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب فرماتے تھے کہ اس کی گردن ماردی جائے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں منصب وزارت پررہے اورصدیق اکبرؓنے وزارت کے ساتھ ساتھ ان کومدینہ کاقاضی بھی مقررفرمایا۔ صدیق اکبرؓکے انتقال کے بعدبالاتفاق خلیفہ منتخب کئے گئے۔آپ کی خلافت اللہ کی قدرت کاملہ اورحمت واسعہ کاعجیب نمونہ تھی،اپنی خلافت میں جس قدرخدمت واشاعت دین اسلام کی کی اورجوعظیم الشان فتوحات حاصل کیں ان کی مثال تاریخ عالم میں نہیں ملتی۔

ملکی انتظامت کے لئے کئی شہروں کی بنیادڈالی،ان کوآبادکیا،اسلامی تاریخ کی بنیادڈالی،اورہجرت سے سن کاآغازقائم کیا،مفتوحہ ممالک میں ہرشہرکے لئے علیحدہ حاکم مقررفرمایا،ممالک مفتوحہ کی زمین کی پیمائش کروائی اوراسی حساب سے خراج مقررکیا۔

ایک ہزارچھبیس شہرمع ان کے مضافات کے فتح کئے،چارہزارمسجدیں پنج وقتی نمازکے لئے اورنوسوجامع مسجدیں آپ کے زمانے میں بنیں۔

آپ نے ایران،عراق،روم،شام،مصر،اسکندریہ،حلب،اہواز،آذربائیجان وغیرہ بڑے معرکے کے ساتھ فتح کروائے اورقسطنطنیہ اورخراسان کی فتوحات کابھی آغازآپ کے عہدمبارک میں ہوا۔

فاروق اعظمؓ کے علمی ودینی کارناموں کی بھی ایک طویل فہرست ہے،جن میں مسجدنبوی کی توسیع قرآن وحدیث اورمسائل دینیہ کاعام کرناشامل ہے۔

آپ کے مزاج مبارک میں قدرے سختی تھی،جلالی شان کے مالک تھے،لیکن اپنی ذات کے لئے کبھی غصہ نہیں آتاتھا۔ تواضع کی صفت آپ میں اس قدرتھی کہ اس کااندازہ کرنے سے عقل انسانی عاجزہے کہ عرب وعجم کابادشاہ بلکہ بادشاہوں کافرمانروااوراس قدرمتواضع، زہداورترک دنیاکی یہ حالت تھی کہ بیت المال سے اپناوظیفہ سب سے کم مقررکیاجوآپ کی ضرورت کے لئے کسی طرح کافی نہ ہوتاتھا،کھانے کایہ حال تھاکہ کوئی ادنی شخص بھی اس کھانے کوبہ رغبت نہ کھاسکتاتھا۔

لباس کایہ حال تھاکہ سال بھرمیں دوہی جوڑے بیت المال سے لیتے تھے اوروہ بھی جب پھٹ جاتے توان میں پیوندلگاتے تھے۔حضرت زیدبن ثابتؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سترہ پیوندان کے لباس میں شمارکئے۔
دنیامیں کون بادشاہ ایساہواہے جوخودچوکیداری کاکام بھی انجام دے،فاروق اعظمؓ تن تنہامدینہ کی گلیوں میں دن رات گشت فرماتے اورصرف ایک درہ ہاتھ میں ہوتاتھا۔

آپ نے کئی نکاح فرمائے لیکن بوقت خلافت صرف ایک زوجہ تھیں اورانھیں بھی اس خیال سے طلاق دیدی کہ مباداکسی معاملہ یاکسی مقدمہ میں سفارش نہ کریں۔

پھر١٧ھ میں ام کلثوم ؓبنت علیؓ سے جوحضرت فاطمہؓ کے بطن مبارک سے تھیں نکاح فرمایا،خاندان نبوت سے تعلق اورعظمت کے پیش نظرخلاف عادت چالیس ہزاردرہم مہرمقررفرمایا۔

آپ کی اولادمیں عبداللہ،عبیداللہ اورعاصم اپنے علم وفضل اورمخصوص صفات کے لحاظ سے نمایاں مشہورتھے۔

خصوصیت کے ساتھ حضرت فاروق اعظمؓ کی موافقت میں متعددآیات قرآنیہ نازل ہوئیں اورسرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی لسان مبارک سے بے شماربشارتیں واردہوئی ہیں اورکثیراحادیث میں آپ کے منقبت اورفضائل بیان ہوئے ہیں۔

فاروق اعظمؓ کی شہادت اسلام کے ان مصائب میں سے ہے جن کی تلافی نہ ہوئی اورنہ ہوسکتی ہے جس دن دنیاسے رخصت ہوئے مسلمانوں کااقبال بھی رخصت ہوگیا۔

دس برس چھ مہینے پانچ دن تخت خلافت کوزینت دی فجرکی نمازمیں ابولولؤمجوسی غلام کے ہاتھ سے شہیدہوئے اوریکم محرم الحرام ٢٤ھ کواس دارفانی سے رحلت فرمائی۔

حضرت صہیبؓ نے نمازجنازہ پڑھائی اورخاص روضۂ نبوی میں صدیق اکبرؓکے پہلومیں مدفن پایا۔رضی اللہ عنہ
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: غلام مصطفی رفیق

Read More Articles by غلام مصطفی رفیق: 14 Articles with 9568 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Jan, 2017 Views: 771

Comments

آپ کی رائے