افغانستان میں دہشت گردی کے اسباب

(Rao Imran Salman, )
اس وقت افغانستان کی حکومت کی عملداری اپنے چندشہروں اور کچھ علاقوں تک محدود ہے،باقی جگہوں پر یاتو طالبان ہیں یامقامی طورپر مستحکم عناصر جو ضروری نہیں ہے کہ ہر دفعہ حکومت کو چیلنج بھی کریں لیکن افغان طالبان کا ایجنڈایقیناً افغانستان کی حکومت کو غیر مستحکم کرناہے چونکہ افغان طالبان کابل کی حکومت پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں اس لیے وہ وقتاًفوقتاًکابل کی حکومت پر مسلحہ کارروائیاں کرتے رہتے ہیں افغانستان کے صوبے ننگر ہار سمیت دیگر مقامات پر حالیہ بم دھماکوں نے ظاہرکیاہے کہ افغانستان سے شرپسندعناصرکو نکالنااس قدرآسان کام نہیں ہے اور یہ ثابت ہوتاہے کہ طالبان اب بھی ایک سے زیاہ شہروں میں دھماکے کروانے کی صلاحتیں رکھتے ہیں جس کی وجہ سے کابل حکومت کی سیاسی حیثیت نہایت کمزور دکھائی دے رہی ہے ۔اس مشکل صورتحال میں کابل حکومت دنیا بھر سے اور اپنے حریفوں کی جانب سے لگنے والے الزامات سے خود کو بچانے کے لیے ساراقصور پاکستان پر ڈال دیتی ہے ،ان کا پروپیگنڈایہ ہوتاہے کہ اس وقت افغانستان کی حکومت کے معاملات تو بلکل ٹھیک ہیں لیکن پاکستان سے افغانستان طالبان آکرتشدد کی کارروائیاں کرتے ہیں،ان الزامات کی حد تو یہ ہے کہ اگر کسی شمالی شہر میں بھی کوئی دھماکہ ہوجائے تو اس کا الزام بھی پاکستان پر لگادیاجاتاہے یہ ایک طریقہ کارہے جس کے زریعے کابل حکومت اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانا چاہتی ہے اس کے علاوہ بھارتی حکومت کے کابل میں اثرورسوخ کی وجہ سے بھی کابل حکومت پاکستان پر مخالفانہ رویئے اختیار کرتی ہے چونکہ ایسا کرنے میں نہ صرف وہ اپنی حکومت کی گرتی ہوئی ساکھ بچالیتے ہیں بلکہ وہ اس عمل سے بھارت کو بھی خوش کردیتی ہے ۔اور پھر کیا ہوتاہے ؟پاکستان کی طرف سے اپنے روایتی انداز میں اس الزام کو مستردکردیاجاتاہے !!۔۔ پاکستان ہمیشہ یہ ہی جواب دیتاہے کہ پاکستان میں افغان طالبان کی پناہ گاہیں موجود نہیں ہیں!۔۔ میں یہ سمجھتاہوں کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان کے الزامات کو مسترد کرنا ہی اصل مسئلے کو حل نہیں ہے کیونکہ اس تردید کے بعد بھی اگرپھر سے افغانستان میں کوئی بم دھماکہ ہوجائے تو پھر سے افغانستان پاکستان پر الزام لگادیتاہے اور پاکستان بھی روایتی انداز میں اپنے جملے دہرادیتاہے پاکستان شاید یہ سمجھتاہے کہ اس طرح سے پاکستان کی عوام بھی خوش ہوجائیگی اور یہ کہ انہوں نے اپنا فرض بھی نبھادیاہے ۔ میں پھر سے کہتاہوں کہ یہ معاملہ افغانستان کے الزامات پر جوابی بیان دینے سے حل نہیں ہوگا بلکہ اس سلسلے میں پاکستان کی وزرات خارجہ کو آگے بڑھ کرسفارتی میدان میں اپنا موثر کرداراداکرناہوگا۔اس کے لیے پوری دنیامیں بھارت اور افغانستان گٹھ جوڑ کا تزکرہ کرنے کے علاوہ یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ دونوں ممالک کے پاکستان کے ساتھ کیا عداوت ہیں اور بھارت کس طرح افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے استعمال کرتاہے ۔ دنیاعالم کے فورمز پر پاکستان کو یہ مطالبہ پورے زور شور سے کرنا چاہیئے پاکستان اس بات کے لیے تیار ہے اور یہ کہ امریکا اور افغانستان ملکر باڈرکنٹرول کر بڑھائیں اس کے علاوہ پاکستان کو یہ بھی دنیا کو بتانا ہوگا کہ افغانستان میں پاکستانی طالبان کی پناہ گاہیں موجود ہیں جہاں سے وہ آکر پاکستان میں پرتشددکاروائیاں کرتے ہیں اور یہ کہ افغانستان میں موجود ان اڈوں کو نہ افغان حکومت اور نہ ہی امریکی ختم کرنے میں کوئی دلچسپی رکھتے ہیں اس کے لیے یقیناًپاکستان اورافغانستان کو ملکر دہشت گردی خاتمے کے لیے کام کرناہوگا۔میں سمجھتا ہوں کہ انہیں باہمی شکایات کو دورکرنے کے لیے ایک دوسرے سے تعاون بڑھانا چاہیے افغانستان کی طرف سے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے سے یہ مسئلہ کبھی حل نہیں ہوگا کیونکہ اگر افغانستان کی جانب سے یہ ہی ردعمل جاری رہااور دونوں ممالک میں عدم اعتمادقائم رہاتوپھر یہ دونوں ممالک کبھی دہشت گردی کاخاتمہ کرنے میں کامیاب نہ ہوسکیں گے ،جس کافائدہ یقینی طورپر افغانستان طالبان اور پاکستانی طالبا ن دونوں کو ہی ہوگا،قائرین کرام یہ بھی ایک کڑواسچ ہے کہ افغانستان کی حکومت اس مسئلے پر پاکستان کے ساتھ تعان نہ کرکے یقینی طورپرافغانستان میں موجود پاکستانی طالبان کی مددکرتی ہوگی۔ہمیں اس وقت ایک مظبوط سفارتکاری کے زریعے افغانستان کی اس پالیسی کے تضاد کو ختم کرنا ہوگا،تاکہ دونوں ممالک کا اعتماداور تعاون بڑھے اور طالبان جیسی انتہا پسندتنظیموں کا خاتمہ ممکن ہوسکے ، امریکاکی حکومت بھی طالبان کو ختم کرنے کے لیے پاکستان سے مکمل تعاون نہیں کرتی اور نہ ہی کابل حکومت ایسا کرتی ہے کہ وہ ان شرپسندعناصر سے گفتگو کرکے کوئی سیاسی حل نکالیں امریکا کی حکومت ماضی میں اس سلسلے میں پاکستان پر وقتاًفوقتاً اپنا سفارتی دباؤ ڈالتی رہی اس کے لیے پاکستان کو ملنے والی اقتصادی امداد اور قرضوں کوامریکا کی حکومت پاکستان پر سفارتی دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کرتی رہی ، اب چونکہ امریکا میں ایک نئی حکومت بننے جارہی ہے ایسا بھی لگتاہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی انتظامیہ اسی پالیسی کو آگے لیکر چلے گی اور اس طرح امریکا کی حکومت پاکستان پر اپنا سفارتی دباؤ جاری رکھے ، لیکن اس کے ساتھ کابل حکومت کو یہ نہیں کہے گی باڈر پر کنٹرول بڑھانے پر پاکستان سے تعاون کیا جائے ۔امریکی حکومت بس اتنا چاہتی ہے کہ پاکستان کے اندر فوجی کارروائی ہو اور وہ بھی امریکا کی مرضی کے مطابق نہ کہ باڈر کنڑول کو موثر بنانے کے لیے اس سے ظاہر ہوتاہے کہ امریکا کہ پالیسی بھی افغانستان کی طرح غیرحقیقت پسندانہ ہے جس کے جاری رہنے سے اس خطے میں کبھی استحکام پیدا نہ ہوسکے گا لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے امریکا جسقدر بھی چاکبدستی اور ہوشیاری کا مظاہرہ کرلے جہاں وہ پاکستان کے امن کو ثبوتاژکرنے کی کوشش کررہاہے وہاں خود اس کی مشکلات میں بھی اضافہ ہوگا اور اس عمل سے اس کی افغانستان میں ناکامیاں مزید عیاں ہونگیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rao Imran Salman

Read More Articles by Rao Imran Salman: 75 Articles with 37465 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Jan, 2017 Views: 383

Comments

آپ کی رائے