پاکستان سے دہشت گردی کا خاتمہ

(Raja Tahir Mehmood, Rawat)

پاکستان نائن الیون کے بعد ایک ایسی جنگ کا شکار ہو گیا یا کر دیا گیا جو بہت ہولناک تھی اس جنگ کو امریکی اپنی جنگ یورپی اپنی جنگ اور بعد ازاں ہمارے حکمران اپنی جنگ کہتے رہے یہ جنگ کس کی تھی اور دنیا میں کہاں، کہاں لڑی جا رہی تھی اس بات سے قطعہ نظر اس جنگ میں اگر کسی نے سب سے زیادہ قربانیاں دی تو وہ پاکستانی قوم تھی ایشیاء میں یہ جنگ دیکھنے کو تو افغانستان میں لڑی گئی مگر اس کا محاذ پاکستان بنا رہا یوں چلتے چلتے یہ جنگ ہم پر ہی آ کر رکی اس جنگ میں پاکستان نے بہت کچھ کھونے کے بعد آخر کار اس میں کامیابی حاصل کی اور اس کامیابی سہرا سابق آرمی چیف جنرل رحیل شریف کے سر جاتا ہے جنھوں نے مشکل وقت میں فوج کی قیادت کرتے ہوئے معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے میں اپنا بھر پور کردار ادا کیا ایک موقع ایسا بھی تھا جب پاکستان کو ایک ناکام ریاست کے طور پر پیش کرنے میں ہمارے دشمن پیش، پیش تھے وہ کسی نہ کسی طرح پاکستان کو ایک ناکام ریاست ڈکلئیر کرنا چاہتے تھے اس جنگ میں پاکستان نے ناصرف جانی نقصان اٹھایا بلکہ معاشی طور پر بھی ہم باقی دنیا سے بہت پیچھے رہ گئے وجہ یہ تھی کہ دنیا اپنے وسائل ترقی کے لئے خرچ کر رہی تھی اور ہم اپنے ہاں سے اس دہشت گردی کو ختم کرنے کی کوشش میں تھے اتنے مشکل حالات میں جب پاکستان نے اپنی پوری توجہ سے اس جنگ پر لگائی تو ہم یہ جنگ آخری مراحل میں لے ہی آئے بلاشبہ اس جنگ میں ہماری قوم کے ساتھ ساتھ ہماری مسلح افواج نے وہ گرانقدر قربانیاں دی جس کی نظیر ملنا مشکل ہے اگر ہم ان کی قربانیوں کو دیکھیں تو وطن کی خاطر مرنے مٹنے کی وہ عظیم داستانیں دیکھنے اور سننے کو ملتی ہیں جو ہماری تاریخ کا سنہری باب ہیں برطانوی جریدے اسپیکٹرنے دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی کامیابیوں پر اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان دہشتگردی کیخلاف جنگ جیت چکا ہے اور بلاشبہ اس جیت کے لئے ہر پاکستانی کا کردار ہے چند سال قبل پاکستان کا شمار دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں ہوتا تھا لیکن اب اسے ناکام ریاست قرار دینے کے دعوے دم توڑ چکے ہیں دنیا میں چھٹا خطرناک ترین قرار دیا جانے والا شہر کراچی اب 31 ویں نمبر پر آگیا ہے پاکستانی مسلح افواج نے تشدد کیخلاف سیاسی رواداری ختم کر کے امن قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے آج کا پاکستان 15 برس قبل کے مقابلے میں محفوظ تر ہے گزشتہ دوسال میں تشدد کے واقعات تین چوتھائی کم ہوگئے دہشتگردوں کا قلع قمع کیا جارہا ہے اس سلسلے میں آپریشن ضرب عضب ایک سنگ میل ثابت ہوا ہے تین سال قبل طالبان وفاقی دارالحکومت سے ایک سو میل کے فاصلے پر تھے جس کے سبب انٹیلی جنس ایجنسیوں کو خوف تھا کہ کہیں وہ جوہری ہتھیاروں پر قابض نہ ہو جائیں ملک کے زیادہ تر حصے دہشتگردی کی لپیٹ میں تھے تاہم گزشتہ تین برسوں کے دوران دہشتگردی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے اس کی ابتدا2013میں ہوئی جب موجودہ حکومت نے کراچی میں دہشتگردی کے خاتمے اور مسلح ونگز ختم کر نے کا عزم کیا گیا القاعدہ اور طالبان کے دہشتگردوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیااسی سال ستمبر 2013 سے سیاسی جماعتوں کے سیاسی ونگز سے تعلق رکھنے والے 919 ٹارگٹ کلر گرفتار جنہوں نے سات ہزار تین سو افراد کے قتل کا اعتراف کیا شہر میں روزانہ قتل کی شرح اب دو سے بھی کم ہے حکام کے مطابق گزشتہ برسوں کے دوران کراچی میں 7540 دن پر تشدد رہے کراچی کے متعلق فیصلوں کے بعد حکومت نے طالبان کی طرف توجہ دی شمالی وزیرستان جو دہشتگردوں کا مرکز تھا ایسے دہشتگرد وں کا تعلق القاعدہ اور طالبان سے تھا یہ ان کی تربیت گاہ تھا جون 2014 ء میں ان کے خلاف آپریشن ضرب عضب شروع کیا گیا 992 خفیہ ٹھکانے تباہ اور 3500 دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا پاک فوج کے پانچ سو جوان شہید ہوئے تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے حکومت نے جو فیصلے کئے پاک فوج اور رینجرز نے ان پر تندہی سے عمل کیا دہشتگردی کے خلاف جنگ ابھی تک جاری ہے قوم کو اپنے جذبوں کی شدت برقرار رکھنی ہے کامیابیوں کو استحکام دینے کے لئے پوری قوم اور تمام اداروں کو بدستور مستعد اور فعال رہنا ہوگا ضرورت اس امر کی ہے کہ جو جنگ ہم پر مسلط کی گئی تھی اور جسے ہم نے کامیابی سے جیتا ہے اور تقریبا سبھی ٹارگٹ حاصل ہوئے ہیں اسی طرح ہم ان سیکیورٹی لیپس کا جائزہ لیں جن کی وجہ سے ہمیں اس جنگ میں زیادہ وقت لگا ناپڑا ہمیں اپنی پیشہ ورانہ تربیت کو اپنے مقاصد کی تکمیل کا ذریعہ بنانا ہو گا ہمیں وطن کی خاطر ہر اس چیز کی قربانی دینی ہو گی جس سے اس وطن کی آن اور شان میں اضافہ ہو اس کے لئے اسی جذبے کی ضرورت ہے جیسا جذبہ قیام پاکستان کے وقت دیکھا گیا تھا جیسا جذبہ پینسٹھ کی جنگ میں دیکھنے کو ملا تھااور جیسا جذبہ پاکستان کے ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول کے وقت سامنے آیا تھا تب ہی ہم پاکستان کو دہشت گردی سے محفوط ملک بنا سکتے ہیں ہمیں یاد رکھنا ہو گا کہ اگر یہ ملک دہشت گردی سے پاک ہوگا تو ہم محفوظ ہونگے اور ہمارے بچوں کا مستقبل محفوظ ہوگا پاکستان سے دہشت گردی کاخاتمہ ہوچکا ہے اور یہ جیت ہماری جیت ہے پاکستان کی جیت ہے-

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: rajatahir mahmood

Read More Articles by rajatahir mahmood : 304 Articles with 128872 views »
raja tahir mahmood news reporter and artila writer in urdu news papers in pakistan .. View More
20 Jan, 2017 Views: 487

Comments

آپ کی رائے
nice,,,,,,,
By: umama khan, kohat on Jan, 23 2017
Reply Reply
0 Like