کنز الایمان ۔ ٩

(Bakhtiar Nasir, Lahore)

واذ کر فی الکتاب ادریس ۔ تر جمہ: اور کتاب میں ادریس ( علیہ السلام ) کو یاد کرو ۔
تفسیر پاک : آپ کا نام اخنوخ ہے آپ حضرت نوح علیہ السلام کے پر دادا ہیں ۔ حضرت آدم علیہ السلام کے بعد آپ ہی پہلے رسول ہیں ‘ آپ کے والد حضرت شیت بن آدم علیہ السلام ہیں سب سے پہلے جس شخص نے قلم سے لکھا وہ آپ ہی ہیں کپڑوں کے سینے اور سلے کپڑے پہننے کی ابتداء بھی آپ ہی سے ہوئ آپ سے پہلے لوگ کھالیں پہنتے تھے سب سے پہلے ہتھیار بنانے والے ترازو اور پیمانے قائم کرنے والے اور علم نجوم و حساب میں نظر فرمانے والے بھی آپ ہی ہیں ۔ یہ سب کام آپ ہی سے شروع ہوئے ۔ اللہ تعالی نے آپ پر تیس صحیفے ناڑل کئے اور کتب الہیہ کی کثرت درس کے باعث آپ کا نام ادریس ہوا۔ ( مریم ٥٦ )
ورفعنہ مکانا علیا ۔ ترجمہ ؛ اور ہم نے اسے بلند مکان پر اٹھا لیا ۔ ( مریم ٥٧ )

تفسیر پاک : دنیا میں انہیں علوم مرتبت عطا کیا یا یہ معنی ہیں کہ آسمان پر اٹھا لیا اوریہی صحیح تر ہے بخاری اور مسلم کی حدیث میں ہے کہ سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم نے شب معراج حضرت ادریس علیہ السلام کو آسمان چہارم پر دیکھا حضرت کعب احبار وغیرہ سے مروی ہے کہ حضرت ادریس علیہ اصلوتہ ؤالسلام نے ملک الموت سے فرمایا کہ میں موت کا مزء چکھنا چاہتا ہوں کیسا ہوتا ہے تم میری روح قبض کر کے دکھاؤ انہوں نے اس حکم کی تعمیل کی اور روح قبض کر کے اسی وقت آپ کی طرف لو ٹا دی آپ زندہ ہو گئے فرمایا کہ اب مجھے جہنم دکھاؤ تاکہ خوف الہی زیادہ ہو چناچہ یہ بھی کیا گیا ‘ جہنم دیکھ کر آپ نے مالک داروغہ جہنم سے فرمایا کہ دروازہ کھولو میں اس پر گزرنا چاہتا ہوں چناچہ ایسا ہی کیا گیا اور آپ اس پر سے گزرے پھر آپ نے ملک الموت سے فرمایا کہ مجھے جنت دکھاؤ وہ آپ کو جنت میں لے گئے آپ دروازے کھلوا کر جنت میں داخل ہوئے تھوڑی دیر انتظار کر کے ملک الموت نے کہا کہ آپ اب اپنے مقام پر تشریف لے چلئے فرمایا اب میں یہاں سے کہیں نہ جاؤنگا ‘ اللہ تعالی فرمایا ہے کل نفس ذائقتہ الموت ۔ وہ میں چکھ ہی چکا ہوں اور یہ فرمایا ہے و ان منکم الا واردھا کہ ہر شخص کو جہنم پر گزرنا ہے تو میں گزر چکا اب میں جنت میں پہنچ گیا اور جنت میں پہچنے والوں کے لئے اللہ تعالی نے فرمایا ہے وما ھم منھا بمخرجین کہ وہ جنت سے نہ نکالے جائیں گے اب مجھے جنت سے چلنے کے لئے کیوں کہتے ہو ‘ اللہ تعالی نے ملک الموت کو وحی فرمائ کہ حضرت ادریس علیہ السلام نے جو کچھ کیا میرے اذن سے کیا اور وہ میرے اذن سے جنت میں داخل ہوئے انہیں چھوڑ دو وہ جنت ہی میں رہیں گے ‘ چناچہ آپ وہاں زندہ ہیں ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Bakhtiar Nasir

Read More Articles by Bakhtiar Nasir: 75 Articles with 62616 views »
A man likes for what he thinks you are; a woman for what you think she is. { Ivan Panin }.. View More
21 Jan, 2017 Views: 550

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ