عظیم گلوکارشہنشاہ غزل مہدی حسن (مرحوم) کی یاد میں !

(Fareed Ashraf Ghazi, Karachi)
پرائیڈ آف پرفارمنس ،تمغہ امتیاز اور متعدد نگار ایوارڈ یافتہ
دنیائے موسیقی کے بے تاج بادشاہ
مہدی حسن کی گائی ہوئی غزلیں،قومی نغمے اور فلمی گانے ان کے نام کو ہمیشہ زندہ رکھیں گے!
مہدی حسن کی آواز اتنی سریلی اوردل موہ لینے والی تھی کہ سننے والوں پر ایک سحر طاری کردیتی تھی، وہ طویل عرصے تک دنیائے موسیقی کے بادشاہ بن کر فلموں کی ضرورت بنے رہے !
مہدی حسن نے اپنی زندگی کا پہلا گانا1942 میں مہاراجہ بڑودہ کے دربار میں صرف 8 سال کی عمر میں گایا !
وہ ایک ماہر فن گلوکار اور غزل گو تھے جنہوں نے باقاعدہ یہ فن سیکھ کر دنیائے موسیقی میں قدم رکھا جبکہ ان کو ہارمونیم بجانے پر بھی عبور حاصل تھا !
1970مہدی حسن کے لیئے بہت سی کامیابیاں لے کر آیا اس دورکی فلموں میں ان کے گائے ہوئے گانے نامور فنکاروں پر پکچرائز ہوکر مقبولیت کی اعلیٰ معراج پر فائز ہوئے !

تحریر: فریداشرف غازی
دنیائے موسیقی کے بے تاج بادشاہ ،عظیم گلوکار ،شہنشاہ غزل مہدی حسن جن کو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے بیشتر ممالک میں بہت ذوق وشوق سے سنا جاتا تھا اور خاص طور پربھارت میں تو ان کو بے انتہاپسند کیا جاتا تھا وہ جتنے اچھے گلوکار تھے اتنے ہی اچھے انسان بھی تھے یہی وجہ تھی کہ ان کے چاہنے والوں نے ان کے نام سے منسوب ایک ثقافتی تنظیم بنائی جس نے مہدی حسن کے حوالے سے بہت سی یادگار تقاریب کا انعقاد کرکے اپنے پسندیدہ گلوکار کو شایان شان خراج تحسین پیش کیا ،بے پناہ چاہے جانے والے عظیم گلوکار مہدی حسن پر 1999 میں فالج کا حملہ ہوا جس کے بعد وہ دن بدن کمزور ہوتے چلے گئے حتی ٰ کہ وہ وہیل چئیرکے بغیر چل پھرنہیں سکتے تھے وہ 12 سال مسلسل علیل رہے جبکہ 2006 میں ان کی قوت گویائی بھی ختم ہوگئی تھی،وہ فالج سمیت متعدد بیماریوں میں مبتلا تھے اور آخر کار 13 جون 2012 کی دوپہر کوآغاخان ہسپتال کراچی میں مہدی حسن85 سال کی عمر میں اپنے لاکھوں چاہنے والوں کو سوگوار چھوڑ کر اس دار فانی سے کوچ کرگئے، ان کی پانچویں برسی منائی جارہی ہے، راقم نے مہدی حسن مرحوم کے بے مثال فن کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیئے یہ خصوصی مضمون تحریر کیا ہے، امید ہے کہ میری یہ کاوش مہدی حسن مرحوم کے مداحوں کو پسند آئے گی۔
عظیم گلوکار مہدی حسن کے انتقال سے دنیائے موسیقی اور گلوکاری میں جو خلا پیدا ہوا وہ تاحال کوئی بھی دوسرا گلوکار پر نہیں کر سکا، ان کے سریلے گیت اور غزلیں ہمیں ہمیشہ ان کی یاد دلاتی رہیں گیکیونکہ ایک گلوکار اور غزل گو کی حیثیت سے ان کا کام اتنا زیادہ اور معیاری ہے کہ اسے کبھی بھی فراموش نہیں کیا جاسکتایہی وجہ ہے کہ ان کے انتقال پر پاک اور بھارت کے فنکاروں نے شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے فن کی دنیا کا ناقابل تلافی نقصان قراردیا تھا،پاکستان کے نامور فنکار ہوں یا بھارت کے سپر اسٹار سب ہی ان کے انتقال پر افسردہ تھے ،بولی ووڈ کے لیجنڈ فنکار دلیپ کمار،امیتابھ بچن،گلوکارہ لتا منگیشکراور نوجوان گلوکارہوں یا لولی ووڈ کے ندیم،مصطفی قریشی ،غلام محی الدین اوردیگر نامور اداکار یا گلوکار ہوں سب ہی مہدی حسن کے مداح ہیں اورآج بھی ان کے گن گاتے ہوئے نظر آتے ہیں اور ان سب کا یہی کہنا ہے کہ دنیائے موسیقی میں کوئی دوسر ا مہدی حسن اب شاید ہی پیدا ہوسکے بلکہ بھارت کی مشہور ترین سینئر گلوکارہ لتا منگیشکر نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ’’ مہدی حسن کی آواز سن کر ایسا لگتا ہے کہ جیسے ان کے گلے میں ایشور یعنی بھگوان بولتا ہے‘‘۔
یوں تو پاکستان میں متعدد نامور گلوکار پیدا ہوئے جنہوں نے دنیائے موسیقی میں اپنی آواز کی وجہ سے نام اور مقام بنایا لیکن مہدی حسن کی انفرادیت یہ تھی کہ ان کو ہر قسم کی غزلیں ،گانے اورقومی نغمے گانے پر مکمل عبور حاصل تھا ،اس کے علاوہ فلمی گانوں کے حوالے سے ان کی ایک خاص خصوصیت یہ تھی کہ ان کا گانا جس اداکار پر فلمایا جانا ہوتا تھا مہدی حسن اس اداکار کا نام معلوم کرتے اور پھر اس گانے کو اس انداز سے گایا کرتے تھے کہ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے وہ اداکار یہ گانا خود گا رہا ہے ،مثال کے طور پر اگرمقبول اداکار وحیدمراد پر ان کا کوئی گانا پکچرائز ہوتا ہوتا تھا تو وہ اپنی آواز کو وحیدمراد کی اصلی آواز سے اس طرح ملالیا کرتے تھے کہ جب وہ گانا وحیدمراد پر پکچرائز ہوتا تو ایسا لگتا تھا کہ جیسے اس گانے کو مہدی حسن نے نہیں بلکہ وحیدمراد نے گایا ہے ۔یہ وہ خوبی ہے جو بہت کم گلوکاروں میں پائی جاتی ہے اور یہ ہی خوبی مہدی حسن کو اپنے عہد کے دیگر گلوکارروں سے ممتاز کرتی ہے ۔وحیدمراد پر فلمائے گئے بہت سے سپر ہٹ گانے مہدی حسن نے اس عمدگی سے گائے ہیں کہ جب بھی یہ گانے دیکھے یا سنے جاتے ہیں بے اختیار ان دونوں عظیم فنکاروں کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔یوں تو وحیدمراد اور مہدی حسن کی تما م ہی مشترکہ فلموں کے گانے بہت مشہور ہوئے اور آج بھی شوق سے سنے جاتے ہیں لیکن خاص طور پر فلم ترانہ ،نذرانہ اورفلم شبانہ کے گانے سننے اور دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں جن کی گائیگی اور پکچرائزیشن میں ان دونوں عظیم فنکاروں کی صلاحیتیں اپنے عروج پر نظر آتی ہیں۔
مہدی حسن نے پاکستان فلم انڈسٹری کے تقریباً تمام ہی مشہور مرد اداکاروں کے لیئے گانے گائے جن میں اداکارسنتوش کمار،محمدعلی ،وحیدمراد،ندیم ،شاہد،اور غلام محی الدین جیسے سپر اسٹار شامل تھے اور ان سب پر ہی مہدی حسن کی آواز بہت اچھی لگتی تھی لیکن خاص طور پر مہدی حسن کی آواز اداکار محمدعلی پر خوب فٹ ہوتی تھی، جس طرح گلوکار احمد رشدی کی آواز اداکار وحیدمراد پر جچتی تھی ۔مہدی حسن کی آواز اتنی سریلی اوردل موہ لینے والی تھی کہ سننے والوں پر ایک سحر طاری کردیتی تھی یہی وجہ تھی کہ وہ ایک طویل عرصے تک دنیائے موسیقی کے بے تاج بادشاہ بن کر فلموں کی ضرورت بنے رہے اور آج جبکہ وہ ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں برصغیر پاک وہند میں کوئی دوسرا گلوکار ایسا نہیں ہے جو یہ دعویٰ کرسکے کہ وہ مہدی حسن جیسا گا سکتا ہے یا ان کی جگہ لے کر ان کی کمی پوری کرسکتا ہے۔مہدی حسن نے نصف صدی تک دنیائے موسیقی پر راج کیا اور 325 سے زائد فلموں کے لیئے اپنی آواز کا جادو جگایا۔ان کے گائے ہوئے نغمات فلموں کی کامیابی کی ضمانت سمجھے جاتے تھے۔مہدی حسن نے غزل گائیگی کا باقاعدہ آغاز ریڈیو پاکستان سے 1957 میں کیا،ریڈیو پر انہوں نے جو غزلیں گائیں ان میں سے :’’گلوں میں رنگ بھرے بادنوبہار چلے‘‘ ،سب سے مشہور غزل تھی ،انہوں نے 12 ہزار سے زائد نغمے اور گیت گائے جو ایک ریکارڈ ہے۔
مہدی حسن نے گلوکاری کے ساتھ ایک فلم میں اداکاری بھی کی تھی اس فلم کانام’’شریک حیات ‘‘ تھا جس میں اداکار سید کمال اور اداکارہ صابرہ سلطانہ کی شادی کا ایک سین تھا جس کے سیٹ پر مہدی حسن کو ایک گانا’’بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی‘‘ گاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔مہدی حسن کا گایا ہوا سب سے آخری گانا 2010 میں ریلیز ہوا،یہ ایک دوگانا تھا جس میں ان کا ساتھ بھارت کی نامور گلوکارہ لتا منگیشکر نے دیا تھا۔بھارتی میوزک کمپنی ایچ وی ایم نے یہ دوگانا اپنی البم ’’سرحدیں‘‘شامل کیا تھا جس کے بول تھے:’’تیرا ملنا‘‘ یہی مہدی حسن کا گایا ہوا آخری گانا تھا جو 2010 میں ریلیز کیاگیا۔
شہنشاہ غزل مہدی حسن 18 جولائی 1927 کو’’راجھستان‘‘ کی ریاست ’’جے پور‘‘کے ضلع ’’جھنجوں ‘‘سے قریب ایک خوبصورت گاؤں’’لونا‘‘ میں پیدا ہوئے ،ان کا اصلی نام اسماعیل خان تھا جو بعد میں ایک منت ماننے کی رسم کے موقع پر مہندی خان رکھا گیا جو وقت گزرنے کے ساتھ بدل کر مہدی حسن ہوگیااور یوں اسماعیل خان نے مہدی حسن کے نام سے دنیائے موسیقی میں اپنی بے مثال سریلی آواز کی بدولت ایک تہلکہ مچا دیا۔60 اور 70 کی دہائی میں وہ پاکستان کے مشہور اور کامیاب ترین گلوکار تھے اور تقریبا ہر پاکستانی فلم میں ان کا گایا ہوا کوئی نہ کوئی گانا ضرور شامل کیا جاتا تھا،وہ نہ صرف موسیقی کے دلدادہ عام سامعین کے پسندیدہ گلوکار تھے بلکہ ان کو حکومتی اور سفارتی سطح پر بھی پسندیدگی کی سند حاصل تھی یہی وجہ تھی کہ ان کی آواز سے متاثر ہوکر صدرپاکستان ایوب خان نے سب سے پہلے ان کو ’’شہنشاہ غزل ‘‘ کا خطاب دیا اور پھر جب مقبول عوامی رہنما ذوالفقار علی بھٹو اقتدار میں آئے توانہوں نے مہدی حسن کو صوبہ سندھ کا گورنر بنانے کی پیشکش کی۔پاکستان کے سابق صدر جنرل محمد ضیاالحق اور صدر جنرل پرویز مشرف بھی ان کے زبردست مداح تھے جبکہ بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی نے اپنے دور میں مہدی حسن کوپاکستان چھوڑ کر مستقل بھارت آنے کی مراعات سے بھرپور پیش کش کی تھی ،1979 میں بھارتی ضلع جالندھر میں ان کوسہگل ایوارڈ دیا گیاجبکہ بھارتی شہر جے پور میں مہدی حسن کے نام سے ایک سڑک بھی منسوب ہے، انہیں نیپال کی حکومت نے نیپال کا سب سے بڑا سرکاری ایوارڈ ’’گورکھا رکشن باہو‘‘21 توپوں کی سلامی کے ساتھ دیا جبکہ پاکستان میں ایک گلوکار کے طورپر ان کی نمایاں کارکردگی کے اعتراف میں ان کومتعدد بارنگار ایوارڈ اورگریجویٹ ایوارڈ دیئے گئے ،حکومت پاکستان کی جانب سے جنرل ضیاالحق نے ان کو سب سے بڑا سرکاری ایوارڈ ’’پرائیڈ آف پرفارمینس ‘‘ دیا ،جنرل پرویز مشرف نے ان کو تمغہ امتیاز سے نوازا جبکہ مہدی حسن کی بیماری کے دوران بھارت کی حکومت نے کئی بار ان کو بھارت میں قیام اورمفت علاج معالجے کی پیش کش کی ،ان تمام باتوں سے مہدی حسن کی مقبولیت اور اہمیت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
مہدی حسن کے والدعظیم خان اور چچااسماعیل خان،مہاراجہ بڑودہ کے درباری گوئیے تھے اور شروع سے ہی موسیقی کے فن سے وابستہ تھے اس لیئے مہدی حسن کو ہم ایک خاندانی گلوکار بھی قرار دے سکتے ہیں جنہوں نے آنکھ ہی ایک ایسے ماحول میں کھولی جہاں موسیقی کا چلن عام تھا ،مہدی حسن کو گلوکار بننے کے لیئے مجبور نہیں کیا گیا بلکہ گھریلو ماحول نے ان کو اس طرف راغب کیا اور انہوں نے خود ہی یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنے اس خاندانی شوق اور فن کو آگے لے کر چلیں گیں ،مہدی حسن نے موسیقی کی ابتدائی تعلیم اپنے بڑے بھائی پنڈت غلام قادر اور چچا اسماعیل خان سے حاصل کی اور فن موسیقی سے فطری دلچسپی کی وجہ سے انہوں نے 1941 میں صرف 6 سال کی عمر میں راگ اور راگنیوں کو سمجھ لیا۔مہدی حسن نے اپنی زندگی کا پہلا گانا1942 میں مہاراجہ بڑودہ کے دربار میں صرف 8 سال کی عمر میں گایا۔یہ گانا یا خیال جس کے بول:اپنی چمک دکھلا‘‘تھے مہدی حسن تقریباً40 منٹ تک گاتے رہے جسے سن کر دربار میں موجود سب لوگ حیرت زدہ رہ گئے اور اس گانے کے بعد مہاراجہ بڑودہ نے مہدی حسن کو بھی اپنے درباری گویوں میں شامل کرلیا۔اورخوش ہوکر مہاراجہ نے مہدی حسن کو قیمتی کپڑے ،سونے کے کڑے ،کمخواب کی شیروانی ،ریشم سے بنی ہوئی پگڑی اور دیگر چیزیں انعام میں دیں تو مہدی حسن کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا اور پھر انہوں نے راگ اور موسیقی کو ہی اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیاجس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ بہت جلد ایک ماہر فن گلوکار بن گئے اور ان کی گائیگی کی شہرت مہاراجہ بڑودہ کے دربار سے نکل کر دور دور تک جا پہنچی۔1946 میں مہدی حسن نے اپنے بزرگوں کے کہنے پر اپنے بڑے بھائی غلام قادر کے ساتھ بھارت سے ہجر ت کی اور لاہور چلے آئے۔لیکن یہاں آنے کے بعد سب سے بڑامسئلہ کھانے کمانے کا تھا۔لاہور آنے کے بعدشروع میں پیٹ پوجا کرنے کے لیئے انہیں چیچہ وطنی میں ایک سائیکل ورکشاپ اور پھر موٹر سائیکل ورکشاپ پر بھی مکینک کے طور پر کام کرنا پڑا لیکن قسمت کی دیوی ان پرجلد ہی مہربان ہوگئی اور انہوں نے لاہور میں جب چند لوگوں سے اپنا تعارف ایک گلوکار کی حیثیت سے کروایا تو ایک وکیل صاحب ان کی آواز سن کر ان پر مہربان ہوگئے اور اپنے ساتھ ایک پروگرام میں لے گئے جہاں مہدی حسن نے فن گائیگی کا مظاہر ہ کیا جس پر انہیں 3,700=/ْ روپے کی ادائیگی کی گئی جو اس زمانے کے لحاظ سے بہت بڑی رقم تھی یہ رقم ملی تو ان کو اس بات کا اندازہ ہوا کہ اب وہ اپنی آواز اور فن کی بدولت اپنے پاؤں پر کھڑے ہوسکتے ہیں چنانچہ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ گلوکاری اور موسیقی کو ہی اپنا ذریعہ روزگار بنائیں گے یہ فیصلہ ان کو بہت راس آیا او رانہوں نے ریڈیو کا رخ کیا،ریڈیو پر انہیں پروڈیوسر سلیم گیلانی نے متعارف کروایاجن کے پروگراموں میں مہدی حسن کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا بھرپور موقع ملااوران کی آواز ریڈیو پاکستان کے ذریعے پورے پاکستان میں گونجنے لگی ،ر یڈیو سے ٹی وی اور وہاں سے فلم کا سفر انہوں نے بہت تیزی کے ساتھ طے کیا اور اﷲ کی مہربانی سے ان کو ہر جگہ بہت عزت ،شہرت اور پذیرائی حاصل ہوئی جس کے بعد انہوں نے پھر کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھااور تقریباًً50 سال تک گلوکاری کی دنیا پر حکمرانی کی۔مہدی حسن نے اپنے گیتوں ،غزلوں اور فلمی گانوں میں ہمیشہ کلاسیکل رنگ کو شامل کیئے رکھاانہوں نے نہ صرف پرانے آزمودہ راگوں کو اپنی گائیگی کا حصہ بنایا بلکہ کچھ نئے راگ اورراگنیاں بھی ایجاد کیں جو مہدی حسن سے پہلے موجود ہی نہ تھیں،وہ ایک ماہر فن گلوکار اور غزل گو تھے جنہوں نے باقاعدہ یہ فن سیکھ کر دنیائے موسیقی میں قدم رکھا جبکہ ان کو ہارمونیم بجانے پر بھی عبور حاصل تھاوہ آجکل کے بہت سے نئے برساتی گلوکاروں کی طرح پیسے یا تعلقات کے بل پر گلوکار نہیں بنے بلکہ ان کو ان کے فن نے مہدی حسن بنایا۔ان کی گائی ہوئی مشہور غزلوں میں :’’گلوں میں رنگ بھرے بادنو بہار چلے‘‘،’’یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے ‘‘،’’پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمار ا جانے ہے‘‘ اور’’ زلف مت کھول کہ پھر ٹوٹ کر برسے پانی‘‘ شامل ہیں جبکہ ان کے گائے ہوئے قومی نغموں نے بھی ان کو پاکستانیوں کا پسندیدہ گلوکار بنانے میں بہت اہم کردار ادا کیاوہ جب قومی نغمے گایا کرتے تھے ان کے اندر ایک عجیب سی سرشاری کی کیفیت پیدا ہوجاتی تھی اور وہ وطن کی محبت میں ڈوب جایا کرتے تھے یہی وجہ ہے کہ ان کے گائے ہوئے متعدد قومی گیت آج بھی زبان زد عام ہیں جن میں :اپنی جاں نذر کروں اپنی وفا پیش کروں،سوہنی دھرتی اﷲ رکھے قدم قدم آباداوریہ وطن تمہارا ہے تم ہو پاسبان اس کے،جیسے مقبول نغمے شامل ہیں جن کی وجہ سے آج بھی یوم پاکستان ہو ،یوم دفاع ہویا یوم آزادی ہر جگہ مہدی حسن کے گائے ہوئے قومی نغمے گونجتے ہوئے سنائی دیتے ہیں۔1962 مہدی حسن کے لیئے بہت مبارک ثابت ہوا کیونکہ اسی سال ان کو لاہور میں بننے والی چند فلموں میں گانا گانے کا موقع ملا اور ان کے گائے ہوئے 3 گانے بہت مشہور ہوئے جس کی وجہ سے ان کو پاکستانی فلموں میں ایک پلے بیک سنگر کے طور پر زبردست بریک تھر و ملا۔1962 وہی سال ہے جس میں اداکاروحیدمراد
،محمدعلی،زیبا،مصطفی قریشی اور کمال ایرانی جیسے فنکار فلموں میں متعارف ہوئے یہ وہ دور تھا جب فلموں کے ہر شعبے میں نئے فنکاروں کو موقع دیا گیا جن میں سے اکثر نے آگے چل کر بڑانام اور مقام بنایا۔ان کی گائی ہوئی بہت سی مشہور غزلوں کو مختلف پاکستانی فلموں کا حصہ بنایا گیا ،ہدایتکار خلیل قیصر اور رائٹر ریاض شاہد کی لکھی ہوئی فلم’’فرنگی‘‘ میں موسیقار رشید عطرے نے مہدی حسن کی ایک غزل شامل کی جسے بے حد مقبولیت حاصل ہوئی اور یہی وہ فلم تھی جس سے مہد ی حسن کو فلموں میں زبردست بریک تھرو ملا۔ 1970 مہدی حسن کے لیئے بہت سی کامیابیاں لے کر آیا اس زمانے کی فلموں میں ان کے گائے ہوئے گانے نامور فنکاروں پر پکچرائز ہوکر مقبولیت کی اعلیٰ معراج پر فائز ہوئے ۔مہدی حسن کے گائے ہوئے مشہور گانوں کی فہرست اتنی طویل ہے کہ وہ اس مضمون میں سما ہی نہیں سکتی اس لیئے صرف چیدہ چیدہ گانوں کے بول یہاں لکھے جا رہے ہیں یہ وہ گانے ہیں جو آج بھی بے حد مقبول ہیں جن میں ’’گلوں میں رنگ بھرے باد نو بہار چلے‘‘،’مجھے تم نظر سے گرا تو رہے ہو‘‘،’’چھوڑ چلے ہم شہر تمہارا چھوڑ چلے‘‘’’گا میرے دیوانے دل‘‘،’’یہ کاغذی پھول جیسے چہرے ‘‘،’’آج تک یاد ہے مجھ کو‘‘،’’بے وفا کون ہے کون ہرجائی ہے‘‘،’’جو درد ملا اپنوں سے ملا‘‘،’’ٹہرا ہے سماں‘‘،’’ایک حسن کی دیوی سے مجھے پیار ہوا تھا‘‘،’’تیرے سوا دنیا میں کچھ بھی نہیں‘‘،’’تیرا میرا کوئی نہ کوئی ناطہ ہے‘‘،’’ہماری سانسوں میں آج تک وہ‘‘،’’حسن والوں سے دل نہ لگائے کوئی‘‘،اور’’زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں ‘‘ جیسے سدا بہار گیت شامل ہیں۔
سروں کے شہنشاہ گلوکارمہدی حسن نے پچاس سال تک فن کی دنیا میں اپنی آوازکا جادو جگاکرراج کیالیکن جب 1999 میں ان پر فالج کا حملہ ہوا تو وہ بکھر گئے اورتمام تر علاج معالجے کے باوجود تامرگ ان کی طبعیت سنبھل نہ سکی اور آخر کار وہ 13 جون2012 کو اس دارفانی سے کوچ کرکے اس مقام پر منتقل ہوگئے جہاں جانے کے بعدکوئی واپس نہیں آتا کیونکہ وہی ہر انسان کا ابدی اور آخری ٹھکانہ ہے۔مہدی حسن نے پسماندگان میں 2 بیویاں اور 14 بچے سوگوار چھوڑے ہیں، واضح رہے کہ مہدی حسن نے دو شادیا ں کی تھیں جن سے ان کے کل 14 بچے ہیں ،ان کی پہلی شادی سرف 14 سال کی عمر میں ہوئی تھی ،پہلی بیوی سے ان کے 9 بچے ہیں جن میں سے6 لڑکے اور3 لڑکیاں ہیں جبکہ ان کی دوسری بیوی سے 5 بچے ہیں جن میں سے 3 لڑکے اور 2 لڑکیاں شامل ہیں۔جن میں سے ان کے 5 بیٹے امریکہ میں
رہتے ہیں۔ان کی نرینہ اولاد میں سے آصف حسن اور عارف حسن سے اس بات کی توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ اپنے خاندانی ورثے کے فروغ میں اپنا کردارادا کرکے مہدی حسن کے نام اور کام کو رہتی دنیا تک زندہ رکھنے کا فریضہ انجام دیتے ہوئے اپنے والد کے کروڑوں مداحوں کی امیدوں پر پورا اتریں گے۔پاکستانی فلموں کے عظیم پلے بیک سنگرشہنشاہ غزل مہدی حسن کے گائے ہوئے فلمی گانے ،غزلیں ،گیت اور قومی نغمے ان کے نام اور کام کوزندہ رکھنے کے لیئے کافی ہیں ۔ آخر میں ہم دعاگو ہیں کہ اﷲ تعالیٰ مہدی حسن مرحوم کی مغفرت فرماتے ہوئے انہیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے (آمین)
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Fareed Ashraf Ghazi

Read More Articles by Fareed Ashraf Ghazi : 111 Articles with 72051 views »
Famous Writer,Poet,Host,Journalist of Karachi.
Author of Several Book on Different Topics.
.. View More
24 Jan, 2017 Views: 1321

Comments

آپ کی رائے