محبت ہمسفر اک خواب قسط نمبر ٧

(Abrish anmol, Sargodha)
زندگی ہر لمہ رنگ بدلتی ہے کبھی بہار تو کبھی خزاں
پتہ نہیں کیا سمجھتے ہو آپ خود کو حریم ارسلان سے ناراض تھی .... امی لگتا ہے ہم لوگوں نے جلدی کی ہے انے میں ابھی تک ٹرین نہیں ائی ....نہیں حریم یھاں پتہ نہیں ہوتا ٹر یفک کا حمزہ نے فورا کراچی کا حال بیان کر دیا ....اچھا پچلے ادھے گھنٹۓ سے گزرا وقت اور اسکی حسین یادوں کا ذکر جاری تھا لیکن حریم تو بس اک ہی شخص کے بارے میں سوچ رہی تھی اس کی یادوں کے اسیر تھی حریم کی سوچ ......جینے لگا ہو پھلے سے زیادہ پھلے سے زیادہ تم پہ مرنے لگا ہو یہ سونگ حریم کی بل پر لگا ہوا تھا دوسری طرف سے ارسلان کال کررہا تھا .....حریم نے پہلی بل پر ہی کال راسیو کی جیسے کب سے اسکی کال کا انتظار کر رہی ہو ........ہیلو اسلام وعلیکم ....... دوسری طرف سے سلام کا جواب بہت اداس لہجۓ میں تھا کیسی ہو حریم ..... ٹھیک آپ کیسے ہو .....کیا ابھی تک ٹرین نہیں چلی .....حریم ارسلان کی آواز سن کر یہ سب بھول گی تھی کہ ابھی کچھ دیر پھلے اسے ارسلان سے ناراض تھی ...یہ امی سے بات کرو ......جی امی نے 15 منٹ بات کی اور پھر ٹرین بھی آ گی تھی با ۓ بول دیا حریم کو ارسلان کی آواز سن کر سکون تھا اب ریلکس تھی حمزہ کو بھی با ۓ کیا اور اپنے گھر کے لیے روانہ ہو گے ..........گھر انے کے بعد حریم کا دل اپنے ہی گھر میں نہیں لگتا تھا ہر وقت اسے ارسلان باتیں اسکی شرارتیں اسکی مستیاں یاد آتی تھی .....یہ مجھے کیا ہو گیا میرے ساتھ آخر مسلہ کیا ہے کیوں میں خود کو روکنے کے بعد بھی ارسلان کی یادوں سے خود کو آزاد نہیں کر پارہی ہو میں کیوں ہر وقت بس ارسلان کے بارے میں سوچتی ہو یہ بہت غلط بات ہے حریم سدھر جا ابھی بھی وقت ہے ورنہ کچھ حاصل نہ ہوگا سواۓ بربادی کے حریم اپنی ذات سے گفتگو کر رہی تھی اور اپنے معصوم دل کو سمجھا رہی تھی یہ سب اس کے اور ارسلان دونوں کے لیے اچھا نہیں ہوگیا ........... .......

حریم پوری طرح سے اس اک شخص تک خود کومحدود کر چکی تھی نجانے کب لیکن حریم کو اسے سوچتے سوچتے اس سے محبت ہوگی اسے خود بھی پتہ نہیں چلا ........ ادھر ارسلان کا بھی یہ حال تھا وه مسلسل خود سے ہی لڑرہا تھا اس کا دماغ یہ بات تسلم کرنے کو تیار ہی نہیں تھا کہ وہ کسی کو چاہںنے لگا ہے کوئی ہے جو اسکے دل پر قابض ہو گیا ہے ......... دونوں اک دوسرے کو چاہںنے لگے تھے لیکن یہ بات دونوں ہی تسلم نہیں کر رہے تھے کیونکہ دونوں یہ بات اچھی طرح سے جانتے تھے کہ اس کا انجام اچھا نہیں ہوگا دونوں اپنے آپ سے مسلسل بغاوت کر رہے تھے اک دوسرے سے بات چیت ختم کرچکے تھے

اچانک فون کی گھںٹی بجی اور کال پر ارسلان کا بڑا بھائی ابراہیم تھا خالہ سے بات کرواؤ حریم نے جلدی فون امی کو دیا بیٹا سب خیر تو ہے نہ .....نہیں خالہ جان امی کی طبیعت بہت خراب ہے آپ بس اجا ۓ یہ اللہ خیر بیٹا میرا دل بیٹھا جا رہا ہے صاف صاف بات کرو خالہ جان ان کے پاس وقت بہت کم ہے آپ کو بہت یاد کر رہی ہے .........بیٹا آج ہی میں نکل رہی ہو جی بہتر اللہ حافظ ........
امی آپ روۓ مت اللہ سب بہتر کرے گا آپی با با کو کال کرے ہاں امی میں ابو کو فون کرتی ہو آپ دونوں آج ہی چلے جاۓ
مجھۓ آج ہی جانا ہے ابھی چلو بس چھوڑ دو سب کچھ میری بہن مجھے بولا رہی ہے وہ تکلف میں ہے
اک بار پھر وہی سب تھا ارسلان امی کے سامنے کھڑا تھا لیکن آنکھوں میں آنسو لیے
بیٹا جلدی لے چلو گھر مجھے امی کیسی ہے بتاؤ مجھے وہ زور زور سے رونے لگا تھا کیونکہ یہ درد بہت بڑا تھا وہ پھلے ہی اپنے والد کی شفقت سے محروم تھا امی ٹھیک تو ہو جا ۓ گی نہ یہ ابو کی طرح ہمیں چھوڑ ............ خالہ اور بھانجا گلے مل کر خوب روۓ ارے پاگل ہو گے ہو دونوں چاچا جان سب ٹھیک تو ہو جا ۓ گا نہ
نا بیٹا ایسے مایوس نہیں ہوتے اللہ پاک سب ٹھیک کرے گا وہ بہت رحمان ہے بہت رحیم ہے

گھر اگیا تھا ہمت نہیں ہو رہی تھی اندر کیسے جا ۓ ایسے مت کرو حریم کی والد اللہ سب ٹھیک کرے گا .....انشاللہ ...
اندر جاتے ہی نظر سامنے پڑی جو نظر جما ۓ دروازے کی طرف ہی دیکھ رہی تھی امی دیکھوں کون آیا ہے خالہ جان
بات چیت کی حالات میں نہیں تھی لیکن پھر بھی نظر اٹھا کر دیکھا اور آنکھ سے آنسو جاری ہو گے پورا گھر اس وقت اک عجیب سی حالت میں تھا کسی کی بھی آنکھ سے آنسو ہے کہ روکنے کا نام نہیں لے رہے تھے بس تینوں بہنیں سر جوڑے تھی بس اتنا ہی وقت تھا کہ روح جسم سے پرواز کر چکی تھی امی کے ہاتھوں میں دم نکلا تھا

چالیسویں کے بعد سب لوگ اپنے اپنے گھر جاچکۓ تھے بیٹا کل میں بھی چلی جاؤ گی سب اپنا بہت خیال رکھنا اور اب سب اپنے آپ کو سمبھال لو
جی ا یسا ہی ہوگا خالہ آپ فکر نا کرے میں ہو نا یہ سب میرے بچے ہے میں انکا بہت خیال رکھو گا ابراہیم اک اچھا بھائی ہے اس پر کوئی شک نہیں بس اب تم لوگ اک دوسرے کا سہارا ہو
ویسے بھی ارسلان دبئی جارہا ہے کیوں بیٹا .....خالہ جان اسے دبئی سے جوب کی او فر ہے اور وہ بہت اداس رہتا ہے بہت خاموش ہوگیا ہے مجھے دڑ لگتا ہے اسکی خاموشی سے
ٹھیک ہے بیٹا اللہ خیر کرے ....... جاری ہے
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abrish anmol

Read More Articles by Abrish anmol: 27 Articles with 40709 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Jan, 2017 Views: 960

Comments

آپ کی رائے
bht acha ja raha hai ap ka novel welldoneeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeee
By: umama khan, kohat on Jan, 25 2017
Reply Reply
1 Like
thunko sisssssssss
By: Abrish anmol, Sargodha on Jan, 25 2017
0 Like
hhhh thunko sis
By: Abrish anmol, Sargodha on Jan, 25 2017
Reply Reply
0 Like
nice epi :)
By: Zeena, Lahore on Jan, 25 2017
Reply Reply
0 Like