قمر نے کمر کس لی

(Muhammad Nasir Iqbal Khan, Lahore)
کسی کی حیثیت اوراہمیت کااندازہ اس کے دشمنوں کی تعداد سے بخوبی لگایاجاسکتا ہے ۔ کوئی انسان ہویاریاست اس کی ترقی اورمضبوطی کیلئے جہاں دوست ناگزیر ہیں وہاں دشمن کاہونابھی ازبس ضروری ہوتا ہے ۔پاکستان کے جہاں برادراسلامی ملک سعودیہ اوربرادراسلامی ملک ترکی سمیت چین کی صورت میں گہرے اورمخلص دوست ہیں وہاں بھارت کی صورت میں ایک بدترین دشمن بھی ہے ،دشمنوں کی فہرست میں اوربھی ملک ہیں مگر وہ کسی گنتی میں نہیں آتے۔ اگربھارت کی دشمنی کو پاکستان کیلئے مفید کہاجائے توبیجانہ ہوگا۔روس کی مددسے پاکستان کابٹوارہ کرنے کے باوجودبھارت جنوبی ایشیاء کاتھانیدار بننے میں ناکام رہا اورآئندہ بھی ناکام رہے گا۔امریکہ کے ساتھ دوستی کی ون وے سڑک پرمزیدگاڑی نہیں دوڑائی جاسکتی۔امریکہ سے پاکستان کے حق میں کسی مثبت اقدام کی توقعات رکھنامحض قیمتی وقت اورتوانائیوں کاضیاع ہے ۔افغانستان کے حکمران اوران کے مٹھی بھر وظیفہ خور پاکستان کیخلاف نریندر مودی کے ہم خیال ہوسکتے ہیں مگرغیورافغان قوم پاکستان کابرانہیں سوچ سکتی۔برادراسلامی ملک ایران بھی کسی صورت پاکستان پربھارت کوفوقیت نہیں دے گااورنہ ایساکوئی اقدام اسے فائدہ پہنچاسکتا ہے ۔بنگلہ دیش کی بھارت نوازحکومت ریاستی فسطائیت کے باوجود بنگالی عوام کوپاکستان کے ساتھ نفرت پرمجبورنہیں کرسکی، پاکستان سے والہانہ محبت کی پاداش میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے بزرگ قائدین تختہ دارپرلٹکائے گئے مگر اس کے باوجودوہاں پاکستان سے محبت پرپرچم سرنگوں نہیں ہوا ۔پاکستان اورچین کی مثالی دوستی کا دونوں ملکوں کیلئے انتہائی سودمندنتیجہ برآمدہوا ،دونوں ایک دوسرے کاہاتھ تھام کرآگے بڑھ رہے ہیں۔دنیامیں طاقت کاتوازن بدلناپاکستان کیلئے اطمینان بخش جبکہ بھارت کیلئے انتہائی تشویش کاسبب ہے،سی پیک نے بھی بھارتی حکمرانوں کی نیندیں اڑادی ہیں ۔پاکستان کے ساتھ دوستی کاحق اداکرنے کیلئے چین جہاں تک جاسکتا ہے امریکہ کسی قیمت پربھارت سے دوستی نبھانے کیلئے اس حد تک نہیں آئے گا۔ روس کئی دہائیوں تک بھارت کابھگت رہا مگراب اس نے بھی اس بوجھ سے جان چھڑانے کافیصلہ کر تے ہوئے اپنے معاشی مستقبل کیلئے پاکستان کاانتخاب کرلیا ہے ،بھارت کے اہل دانش مودی سرکار کامحاسبہ کرنے کی بجائے روس کی بیوفائی کاماتم کررہے ہیں۔پاکستان اورچین کی دیرینہ دوستی بھی بھارت کے حکمرانوں کی طرح ہندو قلم کار وں سے برداشت نہیں ہوتی۔اگرعالمی سطح پراہمیت کودیکھاجائے تو پاکستان کے مقابلے میں اس کادشمن بھارت ایک'' بونا'' لگتا ہے ۔ امریکہ کے نومنتخب صدرڈونلڈٹرمپ کی اسلام کیخلاف حالیہ ہرزہ سرائی محض اس کاخبث ِباطن ہے مگر وہ مٹھی بھرمسلمانوں کوتونقصان پہنچاسکتاہے مگروہ اسلام کاکچھ بگاڑنے کی پوزیشن میں نہیں،اب امریکہ کے لوگ بھی زیادہ قرآن مجید فرقان حمید کامطالعہ اوراسلام کی طرف رجوع کریں گے۔امریکہ میں داخلی عدم استحکام کے سبب دنیا میں طاقت کاتوازن مزید بدل جائے گا جبکہ آنیوالے دنوں میں ماضی سے زیادہ تنہائی اورپسپائی بھارت کامقدربن جائے گی ۔

مدینہ طیبہ کے بعدپاکستان دنیا کی دوسری نظریاتی اسلامی ریاست ہے لہٰذاء اسلام دشمن قوتوں کاپاکستان کیخلاف متحداورمتحرک ہونافطری امر ہے ۔نظریاتی ریاست ہونے کی حیثیت سے برادراسلامی ملک سعودیہ اورپاکستان کے دوست اوردشمن سانجھے ہیں،پاک فوج کے دبنگ سپہ سالارنے درست کہا ''پاک فوج سعودی عرب کی حفاظت کوعبادت سمجھتی ہے'' ،کس بدبخت کی شامت آئی ہے جوپاکستانیوں اورپاک فوج کے ہوتے ہوئے حرمین شریفین کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے۔حکمرانوں سے توکوئی توقعات نہیں تاہم جنرل قمرجاویدباجوہ اورجنرل (ر)راحیل شریف سے قوی امید ہے وہ سعودیہ سمیت خلیجی ملکوں میں ناحق قیدپاکستانیوں کی رہائی کیلئے اپنا کردارضروراداکریں گے ۔ مستقبل میں پاکستان کاجغرافیائی وجوداورنظریاتی کردارمزید اہم ہوجائے گالہٰذاء اسلام دشمن قوتوں کاپاکستان اورپاک فوج سے خوفزدہ ہوناقابل فہم ہے ۔ہنودویہود اورمسیحیوں کے نزدیک پاکستان اسلام کاقلعہ ہے اور وہ ہرقیمت پراس قلعہ کوکمزورکرنے کے درپے ہیں مگر قدرت کی مہربانی سے اس کی اہمیت مزیدبڑھ گئی ہے جبکہ اس کے دفاعی اموربھی مضبوط ہاتھوں میں ہیں۔ حضرت ابوانیس صوفی محمد برکت علی لدھیانوی ؒ نے کئی دہائیاں قبل فرمایا تھا ''ایک وقت آئے گاجب اقوام عالم کے فیصلے پاکستان کی ''ہاں اورناں'' کے مطابق ہواکریں گے'' ،اب وہ وقت آن پہنچا ہے۔حضرت ابوانیس صوفی محمد برکت علی لدھیانوی ؒ نے پاکستانیوں کیلئے جو میراث چھوڑی ہے اس میں ہماری کامیابی کے رازپنہاں ہیں۔

آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ کاپاکستان میں قیام امن اور دفاع وطن کیلئے ویژن قابل قدر ہے،اگر یہ کہاجائے پاک سرزمین سے دہشت گردوں کاناپاک وجودمٹانے اورناراض بلوچ بھائیوں کومنانے کیلئے ہمارے ''قمرنے کمرکسی لی'' توبیجا نہیں ہوگا۔آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ انتہائی زیرک اورمتحرک ہیں،ان کاایک قدم پشاورتودوسراشہرقائدؒ میں ہوتا ہے۔ان کافوری طورپر کرم ایجنسی ہسپتال میں سانحہ پاراچنار کے زخمیوں کی عیادت کیلئے پہنچنا اور مقامی قبائلی عمائدین کی درخواست پروہاں آرمی سکول کے قیام کااعلان کرنا قابل قدر ہے۔ آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ کی خوداعتمادی نے پاکستان کے بیرونی واندرونی دشمنوں پران کی دھاک بٹھادی ہے۔شہرقائدؒ میں بھی آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ نے ملک دشمن قوتوں اوران کے کارندوں کودوٹوک پیغام دے دیاہے ،پاک فوج کے دبنگ سپہ سالار کاعزم واستقلال دیکھتے ہوئے وثوق سے کہاجاسکتا ہے کہ پاک فوج کراچی اوربلوچستان سمیت ملک بھرمیں شرپسندوں کودوبارہ سراٹھانے کی اجازت اورمہلت نہیں دے گی۔آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ کے ساتھ شہرقائد ؒ کے ٹریڈرز کی ملاقات سے جہاں مقامی سرمایہ کاروں کااعتماد بحال ہوگا وہاں ملک بھرمیں کاروباری سرگرمیوں کوبھی بھرپورتقویت ملے گی ۔ کراچی کی روشنی سے پورا پاکستان منور ہوگا،کراچی میں پائیدار امن کی بحالی پاکستان میں معاشی خوشحالی کاروڈ میپ ہے۔کراچی اوربلوچستان بارے پاک فوج کی ترجیحات میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں آئی۔سیاسی حکمرانوں کی مصلحت پسندی نے کراچی کوکرچی کرچی کردیاتھا جبکہ پاک فوج کے آشیرباد سے ہمارے جانباز رینجرز یہ کرچیاں سمیٹ رہے ہیں۔کراچی میں قانون کی دھجیاں بکھیرنے والے مٹھی بھر عناصر کو ماضی کے سیاسی اتحاد قانون کی گرفت سے بچاتے رہے ہیں لیکن سرفروش رینجرز نے سیاسی مداخلت کے مقابل سرنڈر کرنے سے انکار کردیا جس کے نتیجہ میں کراچی آئی سی یو سے باہرآگیا۔رینجرز کی انتھک خدمات کی بدولت کراچی میں امن وامان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے ،تاہم اگرباربارکراچی میں قیام امن کیلئے سرگرم رینجرزکاراستہ نہ روکاجاتا ،ان کے اختیارات سلب نہ کئے جاتے تواس وقت یقینا وہاں صورتحال مزید بہتر ہوتی ۔سپہ سالار جنرل قمرجاویدباجوہ اپنے منصب سے بجاطورپرانصاف کررہے ہیں،وہ پاک فوج کی قیادت کیلئے واقعی درست انتخاب ہیں۔ان کی قیادت میں پاک فوج مختلف محاذوں پرپورے قد سے کھڑی اور ملک دشمن قوتوں پرانتہائی حاوی ہے۔دہشت گردوں کے سرکچلنے میں پاک فوج کی مہارت اورصلاحیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ نے جس بھرپوراندازسے شہرقائدؒ سمیت سندھ میں رینجرز کے کرداراوران کی خدمات کوسراہا وہ خوش آئند ہے،''جہاں ڈینجرز وہاں رینجرز'' کے مصداق ہمارے رینجرز واقعی شاباش کے مستحق ہیں ۔ آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ نے ایک بارپھر واضح کردیاکہ پاک فوج کی قیادت بدلی مگر اس ادارے کی سمت اورترجیحات میں کوئی تبدیلی آئی نہ آئے گی۔جنرل قمرجاویدباجوہ نے اپنے سفرکاآغاز اس مقام سے کیا جس مقام پر جنرل (ر)راحیل شریف نے پاک فوج کی کمانڈ ان کے سپرد کی تھی ،کمانڈ سپردکرتے وقت جنرل (ر)راحیل شریف کے روشن چہرے پرگہرااطمینان درحقیقت جنرل قمرجاویدباجوہ کی خدادادصلاحیتوں پران کے بھرپور اعتماد کاغماز تھا ۔جنرل قمرجاویدباجوہ کو اپنے فرض منصبی کی بجاآوری کے سلسلہ میں ایک پل کاضیاع بھی برداشت نہیں،وہ حضرت اقبال ؒ کے شاہین کی مانندپوری طاقت سے ملک دشمن عناصر پرجھپٹ پڑے ہیں۔جنرل قمرجاویدباجوہ کی طرف سے پاک فوج کے اندر انتظامی تبدیلیاں بھی انتہائی سودمند رہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آرمیجر جنرل آصف غفور بھی اپنے محاذ پرڈٹ گئے ہیں،ان کاکام بھی بولتا ہے۔میجر جنرل آصف غفورنے خود کو آئی ایس پی آر کے شعبہ میں اجنبی نہیں لگنے دیا،اس حسن انتخاب پربھی جنرل قمرجاویدباجوہ دادوتحسین کے مستحق ہیں ۔جنرل (ر)راحیل شریف کی رخصتی کے فوراً بعداچانک ایک روز پرویز رشید منظرعام پرآیا تھا جس کو ہرکسی نے اپنے اپنے انداز میں دیکھامگر روکنے والے نے موصوف کوروک دیا ۔ڈان لیک کی گتھی بھی ضرورسلجھے گی کیونکہ یہ کسی فرد نہیں بلکہ قومی دفاعی ادارے کی ساکھ اوراس کے وقار کامعاملہ ہے جس سے کسی قیمت پر چشم پوشی نہیں کی جاسکتی ۔ڈان لیک کے سلسلہ میں پاک فوج نے عجلت اورجذبات سے کام نہیں لیا ،یقیناعدل و انصاف کاہرتقاضاپوراکرنے کے بعد مجرمان کوکیفرکردارتک پہنچایاجائے گا۔

پاکستان کا''گوادر'' نام نہاد ''نیوورلڈآرڈر''کابھرپورجواب بن سکتا ہے،پاک فوج کے ہوتے ہوئے بیرونی دشمن پاکستان کی تعمیروترقی کاراستہ نہیں روک سکتے تاہم مقامی نادان دوست گوادرکے ثمرات کے ضیاع کاسبب بن سکتے ہیں۔ہمارے سیاستدانوں کو اپنے ''ویژن'' سے زیادہ'' وزن'' اٹھانے کی عادت ہے ،اس طرح وہ اپنے ساتھ ساتھ ملک وقوم کوبھی نقصان پہنچاتے ہیں۔پاکستان میں پرائمری ٹیچراورلیڈی ہیلتھ ورکر کیلئے بھی میرٹ مقررکیاگیاہے مگر وزراء اور وزرائے اعلیٰ سمیت وزیراعظم کی اہلیت اورقابلیت پرکھنا ضروری نہیں سمجھاجاتا ۔سیاستدان اچھے منتظم ،رازداراورامین نہیں ہوتے مگربدقسمتی سے اہم قومی رازوں تک ان کی رسائی ہوجاتی ہے ۔ پاکستان کے بدنیت،بدعنوان اورگمراہ سیاسی گروہ کوگوادراورسی پیک سے دوررکھناہوگاکیونکہ ہم مزیدبدعنوانی اوربدانتظامی کی نحوست کے متحمل نہیں ہوسکتے ۔قیام پاکستان کی طرح گوادرپورٹ بھی قدرت کازندہ معجزہ ہے ،یقینا سی پیک کی تکمیل سے پاکستان کی کایا پلٹ جائے گی اورسی پیک کی تعمیر سے ملک میں جو خوشحالی آئے گی اس کاکریڈٹ پاک فوج سے کوئی نہیں چھین سکتا ۔ پاکستان کے دشمن بھی سی پیک کی تدبیر اورتعمیر میں پاک فوج کے کلیدی کردارسے انکار نہیں کرسکتے۔دوست ملک چین نے پاک فوج پرانحصار کرتے ہوئے سی پیک کی تعمیر کافیصلہ کیا ،اب روس اوربرطانیہ سمیت کئی ملک سی پیک کے ثمرات سے مستفیدہونے کے خواہاں ہیں۔پاکستان کے دشمنوں نے اپنی اپنی چال چلی مگرقدرت کی چال کے مقابلے میں ان میں سے کسی کی دال نہیں گلی ۔پاکستان کے دفاعی ادارے ان بیرونی دشمنوں کے ساتھ ساتھ ان کے اندرونی کارندوں سے بھی بھرپورانداز سے نمٹ رہے ہیں مگرسیاسی محاذ پر مجرمانہ خاموشی ہے ،جس وقت تک سیاسی اشرافیہ سمیت مادروطن کاہرطبقہ تعمیر وطن اوردفاع وطن کیلئے اپنافعال کردارادانہیں کرے گااس وقت تک پائیدارامن کی بحالی کاخواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔ جہاں سکیورٹی فورسز کی پیٹھ تھپتھپانے کی بجائے پیٹھ میں چھراگھونپنے کارواج ہووہاں زیادہ سانحات رونماہوتے ہیں۔کراچی اور بلوچستان میں سرگرم شرپسندعناصر کوتربیت کہاں سے ملتی ہے اورانہیں ہتھیارکون فراہم کرتا ہے،اس پرسیاسی محاذ گرم کرنااشدضروری ہے۔اگرہمارے حکمران اور سیاستدان آپس میں بلیم گیم پرتوانائیاں صرف کرتے رہے تو بھارتی پروپیگنڈے کاجواب کون دے گا ۔''آم'' بھجوانے سے ہمارا فطری دشمن ''رام'' نہیں ہوگا ۔پاکستان کے اندر مفلسی ،بیروزگاری ،ناخواندگی اورپسماندگی سمیت متعدد مسائل کاانبار ہے۔قوانین توہیں مگرطاقتوراشرافیہ تودرکنار کمزورطبقہ بھی قانون کی گرفت سے نہیں ڈر تا ،جہاں قانون کاڈر نہیں ہوتاوہاں مجرمانہ سرگرمیاں زوروں پرہوتی ہیں۔بدامنی اوربدانتظامی کے ڈانڈے بدعنوانی سے جاملتے ہیں ۔اس قسم کی صورتحال سے متاثرہ اورمایوس افراد کومذموم مقاصد کیلئے استعمال کرنا آسان ہوجاتا ہے ۔جوانتہائی مایوسی اورمحرومی کی حالت میں خودکومارنے پرتل جائے اسے دوسروں کومارنے کیلئے باآسانی راضی اورتیارکیاجاسکتا ہے ۔ درندوں کودرندگی سے روکنے کیلئے انہیں کچلنے کی ضرورت ہے اورہماری فو ج سے بہتر یہ کام کوئی نہیں کرسکتا ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Nasir Iqbal Khan

Read More Articles by Muhammad Nasir Iqbal Khan: 173 Articles with 80396 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Jan, 2017 Views: 330

Comments

آپ کی رائے