ڈنکھی ،ہمارے لوگ اور حکمران

(Umar saleem, sialkot)
آج سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو دیکھی۔منظر تھا کچھ یو ایک نوجوان بیٹھا ہوا ہے دو شخص ایک پاکستانی نوجوان کو مار رہے اور وہ معافیاں مانگ رہا تھا۔اس کی حالت ناقابل برداشت۔اب آتے ہیں اس ویڈیو کے آگے یہ منظر جو میں بیان کررہا ہو وہ لڑکا پاکستان کے ایک شہر سیالکوٹ کا ہے جو روزی کمانے کے لیے ڈنکھی لگا کر یونان جا رہا تھا جو ایجنٹوں کے ہاتھ لگ گیا تھاجو اسے مار کے اس کے گھر والوں سے بڑی رقوم وصول کرنے کے بعد بھی ان کو موت کے گھاٹ اتاردیتے ہیں۔کوئی قسمت والا ہی ہوگا جو ان کے چنگل سے چھوٹ سکے۔اگر کوئی ان سے بچ بی جائے تو وہ آگے جا کے باڈر پر مارا جائے۔ہمارے لوگ اپنے گھر والوں سے دور تو جاتے لیکن گھر والوں کو کیا پتہ ان کا جوان بیٹا گیا تو گھر کی مشکلات دور کرنے تھا لیکن ان سے ہی دور چلا گیا۔اب آئیے ہمارے حکمران کی طرف تقریر سن لو تو آپ کہو اس سے اچھا کوئی نہیں لیکن اقتدار میں آتے ہی سب بھول گئے۔اس وقت پاکستان میں روزانہ لاکھوں لوگ روزگار کی تلاش میں ڈنکی لگاتے کے کم خرچ میں اچھا روزگار کمائے ۔لیکن ابھی تک ہمارے ملک کے وزیر خارجہ ہی نہیں تو کون اٹھائے گا آواز ان لوگوں کے لیے کیا پاکستان کے نوجوان نسل ایسی طرح ڈنکھی کے ذریعے موت کی طرف جاتے رہے گے۔کیوں ہمارے حکمران ان لوگوں کے لیے آواز نہیں اٹھاتے آخر کب تک ہمارے نوجوان مرتے رہے گے کبھی ترکی کے باڈر پر کبھی یونان کبھی اٹلی تو کبھی جرمن ۔
آخر میں اپنے نوجوان بھائیوں کو کہوں گا کے خدایا اپنی زندگی خطرے میں نہ ڈالو ۔
اور حکومت سے ایپل کروں گا کے ان نوجوان کے لیے کوئی قدم اٹھایا جا ئے۔
شکریہ
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Umar saleem
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Jan, 2017 Views: 924

Comments

آپ کی رائے