گستاخ بلاگرز اور میڈیا!

(Inayat Kabalgraami, )

گزشتہ تین ہفتوں سے پاکستان کی الیکٹرونک میڈیا ،پرنٹ میڈیااور سوشل میڈیا میں گستاخ بلاگرز کے حوالے سے آہ آہکار مچا ہواتھا ۔ خاص کر الیکٹرونک میڈیا مسلسل ان گستاخ بلاگرز کے بارے میں اس خدشات کا اظہار کر رہاتھا کہ ان کو کہی ماؤرائے عدالت قتل نا کیا جائے ۔بلا اخر گزشتہ دن تمام گستاخ بلاگرز اپنے اپنے گھر پہنچ گئے ۔اور الیکٹرونک میڈیا کے خدشات غلط ثابت ہوئے ۔ان تمام بلاگرز کو کس نے اُٹھا یا اور کیوں اُٹھایا آج ہر پاکستانی شعور رکھتا ہے ۔پر افسوس اس بات کا ہے کہ الیکٹرونک میڈیا میں بیٹھے کچھ پڑھے لکھے اینکرز کو اس بات کی سمجھ نہیں ۔ان گستاخ بلاگرز کیلئے سوشل میڈیا میں بہت زیادہ شور مچا مگر سوشل میڈیا نے ہی ان لوگوں کے چہرے سے نقاب ہٹایاکیوں کے سوشل میڈیا پر ہر شخص کو رسائی حاصل ہے ۔اس کے بنسبت پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا میں ایک مخصوص لابی سرگرم ہے جو صرف سیکولرز آفراد کی ہی طرف داری اور ان ہی کا گن گھاتے ہے ۔یہ گستاخ بلاگرز جن کا تعلق ایک مخصوص فرقے سے ہے اور ان کی حمایت میں سب سے ذیادہ آواز بھی میڈیا پر اُٹھانے والوں کا تعلق بھی اس ہی فرقے سے ہے ۔بھینسا نیٹ ورک، خود روپوش ہوا تھا یا کسی نے لاپتہ کر وا یا تھا، اس پر مکمل تحقیق کی ضرورت ہے، کیونکہ ایک ہی فرقے سے وابستہ اور ایک ہی سوچ کے حامل، نیٹ ورک کے افراد کا یوں یکے بعد دیگر غائب ہونااور پر گھر واپس آجانا،اچانک نہیں ہوسکتا۔ ممکن ہے کہ کھل بوشن یادو کو کئی سال تک اپنی سرزمین میں جگہ دینے والے اور ان کے سرپرستوں اور سہولت کاروں، مسلک کے نام پر مسلح جنگجوؤں کو بھاری رقوم پر بھرتی کرنے والوں نے پاکستان کو عالمی دباؤ کا شکار کرنے کیلئے نئی منصوبہ بندی کی ہو۔ ہمارے ملک کی میڈیا آزاد نہیں ہے اس کو سیکولرز عناصر نے اپنے قبضے میں کیا ہوا ہے جس کو کئی مسالیں موجود ہے ، ان میں ایک مسال یہ ہے متنازع مذہبی اینکر کو ہی لیلے تھے ہے ،جناب ڈاکٹر عامرلیاقت حسین جس نے اپنے کئی پروگرامز میں شعار اسلام ،پاکستان اور صحابہ کرام ؓ کی توہین کی اور رمضان ٹرانسمیشن کے نام پر بابرکت مہینے میں روزے کی حالات میں لوگوں کو نچایا ان تمام حرکتوں کے باوجود کبھی بھی اس کو پیمرا کا نوٹس جاری نہیں ہوا لیکن اب جب اس نے ان گستاخ بلاگرز کے خلاف پروگرام کیا تو پیمرا کی پیٹ میں مروڑ شروع ہو گئی اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ میڈیا خصوصاََ الیکٹرونک میڈیا میں ایک مخصوص لابی سرگرم ہے ۔آج الیکٹرونک میڈیا ،سیکولرزم کی حامی سیاسی جماعتیں اور نام نہاد سیول سوسائٹی کے اتفاق سے ہی شاید یہ بلاگرز اپنے گھر لوٹ آئے ہو ،مگر ان کا یہ اتفاق ایک گستاخ رسول ﷺ اور گستاخ امہات المومینینؓ کیلئے تھا جس کا حساب اﷲ کی دربار میں انہے دینا پڑ یگا کیوں کے گستاخ رسول ﷺ کیلئے نرم گوشہ بھی رکھنا گستاخی ہے ۔اس وقت گستاخ بلاگرز صرف پاکستان میں نہیں بلکہ پورے دنیا میں موجود ہے آزادی اظہار کے نام پر اس طرح کی گستا خیاں معمول بنتی جارہی ہے ۔مگر آج تک کسی بھی اسلامی ملک میں ان گستاخوں سزا نہیں ہوئے جب ہی تو ان کے حوصلے اتنے بلند ہے اگر آزادی اظہار اس کا نام ہے تو میں اس کو مسترد کرتا ہوں اور جو بھی شخص آزادی اظہار کے نام پر اشعار اسلام کی توہین کرتا ہے اس کی اس توہین کی اگر ہم مذمت بھی نہیں کرسکتے تو پھر ہم کو بھی اپنے ایمان کی اصلاح کرنی ہو گی۔

با حیثیت انسان، کوئی بھی کسی بھی مذہب، مسلک سے تعلق رکھتا ہو، اس کو وہی حقوق حاصل ہیں جو اُس ملک میں کسی دوسرے شہری کو حاصل ہیں، اسی طرح اُس شہری کو بھی اُس ملک کے قوانین و عوام کا احترام ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ اپنی زبان، ہاتھ، پاؤں سے کسی کی دل آزاری اور تکلیف کا باعث نہ بنے۔سوشل میڈیا نے جہاں دنیاوی قربتوں کو ایک کوزے میں سمیٹ کر رکھ دیا، وہاں مدرپدر آزادی، جیسے اظہار رائے کی آزادی کا نام دیکر جھوٹ کے پرچارک اپنے مذموم مقاصد کے لئے بے دریغ استعمال کرکے کروڑوں انسانوں کی دل آزاری کا سبب بنتے ہیں۔یہاں سب سے پہلے امریکہ کی بات کرلیتے ہیں کہ امریکی و برطانیہ نے پاکستان میں سوشل میڈیا استعمال کرنے والے بلاگرز کے لاپتہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔بی بی سی اردو سروس نے کچھ یوں خبر لگائی‘‘پاکستان کے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق نے پانچ لاپتہ سماجی اور سوشل میڈیا کے کارکنان کی گم شدگی کا نوٹس لیتے ہوئے وزرات داخلہ سے جواب طلب کرلیا ہے’’واپس آنے والے گستاخ بلاگرز اب ملک سے فرار ہونے کیلئے پر تول رہے ہیں ان میں ایک گستاخ بلاگرز کے بارے میں اطلاع ہے کہ وہ فرار ہوچکا ہے ،وازارت داخلہ کو چاہئے کہ ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالے تاکہ یہ ملک سے فرار نہ ہو اور ان کے اور میڈیا میں بیٹھے ان کے حوارین کے خلاف مکمل تحقیقات ہونے چاہیئے۔آج ہمارے کچھ نام نہاد اینکرز ٹی وئی کے ٹاک شو میں آر ٹکل ۹ کی بات کرتے ہیں کہ جس میں اس ملک کے شہری کو غائب کرنا آئین پاکستان کے سراسر خلاف ہے ، مگر کیا اس ملک میں صرف یہی پانچ آفراد لاپتہ ہوئے یا اور بھی لوگ ہے ،کراچی میں ایک لسانی جماعت بھی اپنے لاپتہ کارکنان کا دوکڑا رو رہی ہے تو دوسری طرف ایک مذہبی جماعت مسلسل اپنے لاپتہ کارکنان کی رہائی کیلئے مظاہرے کررہی ہیں ،کیا میڈیا نے ان حضرات کو آرٹکل ۹یاد دلایا ایک سابق اور مرحوم ممبر نیشنل اسمبلی مولانا اعظم طارق کا بیٹا جس کو لاپتہ ہو ئے گیارہ ماہ سے بھی ذیادہ عرصہ ہوا ہے، کیا کبھی کسی میڈیا اینکرز نے ان کے حوالے سے کوئی پروگرام کیا ہے کیا مولانا اعظم طارق کے گھر والوں کو میڈیا پر لاکر ان کے آنسوں دنیا کو دیکھائے ہیں ،یا تو پر یہ لوگ پاکستانی نہیں یا اس ملک میں انسانیت نہیں ایک طرف ملک کے وزیر داخلہ یہ کہرہے ہیں کہ ملک میں لاپتہ لوگوں فہرست زیرو ہے تو دوسرے طرف کچھ سیاسی اور مذہبی لوگ مسلسل احتجاج کر رہے ہیں اپنے لاپتہ کارکنان کیلئے ۔ ریاست ماں کی مانند ہواکرتی ہے ۔یاست کی یہ زمہ داری بنتی ہے کہ اپنے ہر شہری کو ایک نظر سے دیکھے اگر کوئی مذہب کی آڑ میں ملک کو نقصان پہنچا رہا ہے تو قانون کے مطابق اس سے سختی سے نمٹ نہ چاہی ہے اگر کوئی سیکولرزم کے زرعیہ اس ملک کو کھوکلہ کررہا ہے تواس کو بھی قانون کی گرپ لانا ہوگا تب ہی ملک میں امن کی جو فضاء قائم ہوئے ہے وہ قائم ہی رہے گی ۔الیکٹرونک میڈیاکو ہر شخص دیکھتا ہے اور ہر طبقے والا دیکھتا ہے ۔جس طرح ریاست کو اپنے شہریوں کو ایک نظر سے دیکھنا چاہیئے ٹھیک اس ہی طرح میڈیا کو بھی ہر پاکستانی کو یک سہ موقعہ دینا چاہیئے آزادی اظہار کے نام پر کسی بھی مذہب اور مسلک کو توہین بند ہوجانی چاہیئے ۔ میڈیاکو ریاست کے اہم ستون کا درجہ حاصل ہے اور اس ستون کو کمزور بننے سے بچانا ہوگا ،گستاخ بلاگرز چاہے کہی پر بھی ہو اس کو قانون کے مطابق گرفتار کرکے عدالتوں میں پیش کیا جائے اور سزا دیلائی جائی ،اﷲ ہم سب کو ہدایت نصیب فرمائے ۔ (آ مین )

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Inayat Kabalgraami

Read More Articles by Inayat Kabalgraami: 94 Articles with 53117 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
31 Jan, 2017 Views: 789

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ