جنات کا غلام حصہ دوم قسط 1

(محمد فاروق حسن, ڈسکہ)
پہلی بار اس وقت مجھے شدید خوف محسوس ہوا جب میانی صاحب میں ایک جاننے والے کی نماز جنازہ پڑھنے
کے بعد حضرت بابا موج دریاؒ کی درگاہ پر دعاکے لئے گیا۔یہ بات برسون پہلے غازی نے مجھے بتائی تھی کہ بابا موج دریاؒ کی درگاہ پر مختلف قبائل کے جنات چلّے کاٹتے ہیں اور بڑے بڑے اولیاآپؒ کی مسجد میں نماز ادا کرتے ہیں۔میں نماز مغرب وہاں ادا کرنا چاہتا تھا لیکن جب میں نے مسجد میں داخل ہونے سے پہلے بایاں پاؤں اٹھانا چاہا تو میرا پاؤں جیسے ہوا میں معلق ہوکر رہ گیا اور توازن برقرار نہ رکھ سکا اور بائیں پہلو میں گرنے لگا لیکن اسی لمحہ کسی سرسراتے جسم نے مجھے سہارا دیا اور چشم زدن میں لڑکھڑاتا ہوا سیدھا ہوا اور مسجد میں داخل ہوگیا۔میرا وضو قائم تھا ،نماز کھڑی ہوچکی تھی لہذا میں فوراً نماز کے کھڑا ہوگیا ۔اللہ مجھے اس کوتاہی پر معاف فرمائے ، سچی بات تو یہ ہے نماز میں میری یکسوئی قائم نہیں ہوپائی اور ذہن بار بار اس غیر معمولی واقعہ پر بھٹک رہا تھا اور دل کی دھڑکن بھی تیز ہوگئی تھی۔نماز کے بعد میں درگاہ میں حضرت بابا موج دریاؒ کی لحد کے دائیں جانب بیٹھ کر بھی یہی سوچتا رہا مگر ہاتھ تسبیح کے دانوں پر رکھا۔ایک انجانے سے احساس نے میری ساری یک سوئی برباد کردی تھی اور میں سوچ رہا تھا کہ یہ کیا ہوا ہے۔؟اسکا جواب مجھے واپسی پر مل گیا۔جب میں گاڑی چلاتے ہوئے جین مندر کے پاس سے گزرا تو گاڑی میں مانوس سی خوشبو پھیل گئی۔یہ خوشبو برسوں بعد محسوس ہوئی تھی،اس میں کیف و نشاط تھا۔’’غازی۔۔۔‘‘ میں اشتیاق سے بڑبڑایا ،چوبرجی تک میں غازی کا نام پکارتا رہا لیکن مجھے جواباً کوئی رسپانس نہیں ملا اور پھر وہ خوشبو معدوم ہوگئی اور ساتھ ہی میرا بدن جھرجھری لیکر کانپ اٹھا۔یہ خوشبو غازی استعمال کیا کرتا تھا لہذا میں یہی سمجھا کہ غازی مجھ سے ملنے آیا ہے لیکن بوجوہ سامنے نہیں آرہا تھا۔رات کو جب حسب معمول تسبیحات پڑھ کر سویا تو خواب میں ایک بار پھر بابا تیلے شاہ کی زیارت ہوگئی۔وہ ذرا رنجیدہ تھے’۔
مجھے اندازہ نہیں تھا کہ میرے تجویزکردہ بسم اللہ شریف اور اسمائے ربیّ کے مرکبات کا ذکر اوروظیفہ کرنے والوں کے دن پھرنے شروع ہوجائیں گے۔یہ سب اچانک نہیں ہوا تھا۔ اس میں برسوں کی گریہ زاری اور ریاضت شامل تھی ۔ مجھ پر باطنی کیفیت طاری ہونے کا سلسلہ ابھی کچھ ہفتے پہلے ہی شروع ہواتھا اور اس حالت میں میں اگر کسی کو کوئی وظیفہ تجویز کردیتا تو بندے کا کام بن جاتا۔لیکن مجھے اسکا کوئی ادراک نہیں ہورہاتھا نہ شعور بتارہا تھا کہ جذب کی غیر اختیاری حالت میں میرے منہ سے نکلنے والا کوئی بھی وظیفہ کیا رنگ لاسکتا ہے۔اس کا اندازہ مجھے اس وقت ہواجب میں اپنے دوست کے ہاں گیا ہواتھا۔ان دنوں دوست کی بیوہ بہن اپنی بیٹی کی شادی کے لئے پریشان تھی۔حالانکہ بچی کی عمر انیس بیس سال تھی ،لائق بچی تھی لہذا سکالرشپ پر جی سی یونیورسٹی میں پڑھ رہی تھی۔اور اسکی شادی تعلیم مکمل کرائے بغیر مناسب نہیں لگتی تھی۔۔دوست کی بہن نے میری کتاب پڑھ رکھی تھی اور اس حوالے سے بڑی بے تاب تھی کہ میں اسے جنات کے بابا جی سے ملا کر اسکے مسائل حل کیوں کراتا۔میں کیسا دوست ہوں جو اپنے دوست کی بیوہ بہن کے درد کا علاج نہیں کرتا۔میں خاتون کے جذبات اور حالات کو سمجھتاتھا۔وہ خود دار خاتون خود بھی ایم ایس سی پاس تھی مگر قابلیت سے کمتر جاب کررہی تھی۔بھائی اسکا بہت خیال رکھتے تھے لیکن بھابیوں نے اسکو طعنے دے دے کر زندہ درگور کردیا ہواتھا۔

’’بھائی آپ کو تو علم ہے میں کسطرح زندگی گزار رہی ہوں ،خدا کے لئے اپنے بابا جی سے یاکسی اور اللہ والے سے کہہ کر میرے لئے دعا کرائیں۔ثنا کی شادی ہوجائے تو میں اپنی نوکوری میں گزارہ کرکے جیسے تیسے باقی عمر گزارلوں گی‘‘
آپا کے دلگدازلہجے نے جیسے میرے اندر تک بلیڈ اتار دئے تھے۔میرے سر میں چیونٹیاں سی رینگنے لگیں اور لذت آمیز درد سے کنپٹوں میں گرمی سی محسوس ہوئی ۔یوں لگ رہا تھا جیسے کوئی رینگ رینگ کرمیری کھوپڑی سے باہر آنا چاہ رہا ہے۔اسی حالت میں ،میں نے آپا سے گھٹی گھٹی سی آوازمیں کہا’’آپا پریشان نہ ہوں،آج سے آپ اور ثنا صبح اور عشاء کے بعدبسم اللہ شریف کی تین تین تسبیح پڑھنا شروع کردیں اور دعا کیا کریں لیکن جو طریقہ سمجھا رہا ہوں اسے لازمی سمجھ لیں۔انشاء اللہ چالیس دن کے اندر اندر ثنا کا رشتہ آئے گا اوریہ رشتہ بہت اچھا ہوگا اوریہ پاکستان میں نہیں رہے گی ،خوشحالی اس اسکے گھر کو جنت بنادے گی۔۔۔۔۔۔‘‘ آپا کو بسم اللہ شریف کی تسبیح دیکر اور انکی دعائیں لیکر میں گھر چلا آیا مگر راستہ بھر یہی سوچتا رہا کہ میں نے اتنے وثوق سے یہ کیا کہہ دیا ہے۔وظیفے تو تقریباً ہر ضرورت مند پڑھتا ہے اور کتابوں سے ،رسائل اور اخبارات سے بھی اور جہاں جہاں سے مل جائے وہ لیکر پڑھتا ہے لیکن اسکی مرادیں پوری نہیں ہوپاتیں تو کیا آج سے میری بھی ذلت اور شرمندگی شروع ہورہی ہے ۔میرے دئیے ہوئے وظیفہ سے ان کا مسئلہ حل نہ ہوا تو میں بھی عنقریب ان لوگوں کی صف میں کھڑا ہوتانظرآؤں گا جوخیرو برکت کے لئے وظائف اور اذکار کا بہت ذکرکرتے ہیں لیکن اسکی آڑ میں کاروبار چمکاتے یا غیر معمولی پذیرائی حاصل کرنے کی ہوس میں لگے رہتے ہیں۔لوگوں کو امیدیں دلا کر اپنے پیچھے لگائے رکھتے ہیں اور جب انکی مرادیں پوری نہیں ہوتیں تو وہ اللہ سے دور ہوجاتے ہیں۔

ندامت کا احساس مجھے کچوکے لگا رہا تھا کہ یہ میں نے کیا کردیا۔۔۔اس رات میں ٹھیک سے سویا بھی نہیں ،نماز فجر کے بعد آنکھ لگی تو خواب میں باباتیلے شاہ سے ملاقات ہوگئی۔انہوں نے میرا کاندھا تھپتھپایا ’’شہزادے گھبراتے کیوں ہو۔ایک تو بڑی دیر کردی ہے ادھر آتے آتے اور پھر یقین کا برتن بھی خالی سمجھتے ہو۔اوئے تیرے سائیں ابھی مرے نہیں۔سوہنے کانام لیکر دکھی لوگوں کو کلمے دیتے رہاکر،اور اسکا اجر اس سوہنے پر چھوڑ دے، جس نے وعدہ کیا ہے اور وہ اپنے وعدے کا پکا ہے۔جا پُتر ستے خیراں ‘‘
ایسے بہت سے سہانے اور امیدوں بھرے خواب میں پہلے بھی دیکھتا آرہاتھا لیکن سچی بات ہے میں خوابوں کو زیادہ اہمیت نہیں دیا کرتا تھا۔کیونکہ کچھ ایسے تجربات سے گزرچکا تھا جب خواب کی رہنمائی میں بربادی کا سودا کربیٹھتا تھا۔ یہ انسان کی خوابیدہ اور آسودہ خواہشوں کا نتیجہ بھی ہوتے ہیں ،مگر ہمارے دین میں جن سچے خوابوں کی وعید بیاں کی جاتی ہے وہ خواب نیک اور پارسا لوگوں کو ہی آسکتے ہیں ۔خیر میں اس معیار پر پورا نہیں اترتا تھا اور کم ازکم یہ بات مجھے تو اپنی حد تک معلوم تھی۔
آپا اس دوران فون کرکے مجھے بتا تی جارہی تھیں کہ انہوں نے وظیفہ شروع کردیا ہے لیکن میں اندر سے بہت زیادہ خوفزدہ تھا ۔لیکن اگلے ہی ہفتے آپا کا فون آگیا’’بھائی ایک انجینئر کا رشتہ آیا ہے ،لڑکا کینیڈا میں ہے اور جلد از جلد شادی کرنا چاہتے ہیں۔وہ تو ثنا کو انگوٹھی بھی پہنا گئے ہیں حالانکہ میں آپکو بلانا چاہتی تھی لیکن یہ سب اتنا اچانک ہوا ہے کہ میں آپ کو اطلاع بھی نہیں دے سکی۔آپ بتائیں کیا کریں‘‘
آپا کی مسرتوں میں ڈوبی آوازسن کر میرے اندر کوئی خوشی سے چیخ چیخ کر کلکاریاں مارنے لگا۔گلا رندھ گیا’’آپا بسم اللہ کرو،صدقہ اتارو،دیر نہ کرنا ،یہ رشتہ اوپر والے نے خاص طور پر بھیجا ہے۔۔۔‘‘میں یہ خبر سن کر نہال بھی ہورہا تھا اور ندامت میں بھی ڈوب رہاتھا۔۔۔کہ میں نے اپنے سوہنے ربّ کانام پڑھنے کو دیا اور گماں میں کمزور رہ گیا۔یقین کوماردیاتھا۔

ثنا کی چند روز میں ہی رخصتی ہوگئی اور پھر آپا نے تو یہ بات دور دور تک پھیلا دی کہ یہ کس کی دعا سے ہوا ہے۔میں آپا کو روکتا رہ گیا لیکن بہت سے اور دکھیارے مجھے دکھی کرنے کے لئے چلے آئے،کسی کو نوکری کا مسئلہ تھا اور کوئی ساس اور نند سے دکھی تھا۔خیر میں نے سب کو وظائف بتائے لیکن جس کو خاص کیفیت میں وظیفہ دیا وہ تر گیا اور جس کو عام حالت میں بتایا اسکا مسئلہ حل ہونے میں دیر لگی یا بالکل نہیں ہوا۔لیکن اس دوران میرے ساتھ خود عجیب و غریب حالات پیش آنے لگے۔
پہلی بار اس وقت مجھے شدید خوف محسوس ہوا جب میانی صاحب میں ایک جاننے والے کی نماز جنازہ پڑھنے
کے بعد حضرت بابا موج دریاؒ کی درگاہ پر دعاکے لئے گیا۔یہ بات برسون پہلے غازی نے مجھے بتائی تھی کہ بابا موج دریاؒ کی درگاہ پر مختلف قبائل کے جنات چلّے کاٹتے ہیں اور بڑے بڑے اولیاآپؒ کی مسجد میں نماز ادا کرتے ہیں۔میں نماز مغرب وہاں ادا کرنا چاہتا تھا لیکن جب میں نے مسجد میں داخل ہونے سے پہلے بایاں پاؤں اٹھانا چاہا تو میرا پاؤں جیسے ہوا میں معلق ہوکر رہ گیا اور توازن برقرار نہ رکھ سکا اور بائیں پہلو میں گرنے لگا لیکن اسی لمحہ کسی سرسراتے جسم نے مجھے سہارا دیا اور چشم زدن میں لڑکھڑاتا ہوا سیدھا ہوا اور مسجد میں داخل ہوگیا۔میرا وضو قائم تھا ،نماز کھڑی ہوچکی تھی لہذا میں فوراً نماز کے کھڑا ہوگیا ۔اللہ مجھے اس کوتاہی پر معاف فرمائے ، سچی بات تو یہ ہے نماز میں میری یکسوئی قائم نہیں ہوپائی اور ذہن بار بار اس غیر معمولی واقعہ پر بھٹک رہا تھا اور دل کی دھڑکن بھی تیز ہوگئی تھی۔نماز کے بعد میں درگاہ میں حضرت بابا موج دریاؒ کی لحد کے دائیں جانب بیٹھ کر بھی یہی سوچتا رہا مگر ہاتھ تسبیح کے دانوں پر رکھا۔ایک انجانے سے احساس نے میری ساری یک سوئی برباد کردی تھی اور میں سوچ رہا تھا کہ یہ کیا ہوا ہے۔؟اسکا جواب مجھے واپسی پر مل گیا۔جب میں گاڑی چلاتے ہوئے جین مندر کے پاس سے گزرا تو گاڑی میں مانوس سی خوشبو پھیل گئی۔یہ خوشبو برسوں بعد محسوس ہوئی تھی،اس میں کیف و نشاط تھا۔’’غازی۔۔۔‘‘ میں اشتیاق سے بڑبڑایا ،چوبرجی تک میں غازی کا نام پکارتا رہا لیکن مجھے جواباً کوئی رسپانس نہیں ملا اور پھر وہ خوشبو معدوم ہوگئی اور ساتھ ہی میرا بدن جھرجھری لیکر کانپ اٹھا۔یہ خوشبو غازی استعمال کیا کرتا تھا لہذا میں یہی سمجھا کہ غازی مجھ سے ملنے آیا ہے لیکن بوجوہ سامنے نہیں آرہا تھا۔رات کو جب حسب معمول تسبیحات پڑھ کر سویا تو خواب میں ایک بار پھر بابا تیلے شاہ کی زیارت ہوگئی۔وہ ذرا رنجیدہ تھے’۔

’’ شہزادے،اللہ سوہنے نے کرم کیا ہے ،تیری کوئی نیکی تیرے کام آگئی ہے اور تجھے کھروچ بھی نہیں آسکی۔آج بدکارروحوں نے تجھ پر حملہ کیا تھا ۔پتر جی ۔تو اسطرح ننگے سر نہ گھوما کر،اب تو لوگوں کو پڑھائیاں دے رہا ہے اور جس کو تو کہتا ہے کہ اللہ کا کلمہ پڑھا کرو انکے سو دشمن بھی ہوتے ہیں۔تو اپنی ڈھال اور حصار کا خیال نہیں کرتا اور انکے دشمن تجھے مارنے پر اتر آتے ہیں۔میرے بچے شیطان کا علم بھی ایک حقیقت ہے مگر یہ باطل ہے ۔توناں اپنی پڑھائی اور مجاہدے پر بھی توجہ دے ۔بسم اللہ شریف کی معرفت کا سبق حق کے ساتھ ادا کر۔ہاتھ میں ہتھیار سچل ہوتو کام ٹھیک کرتا ہے۔کچے اور کمزورہاتھوں سے دوسروں کی رکھوالی مشکل ہوجاتی ہے۔اپنی نگاہ تیز کراور دربار چلا جا۔۔۔‘‘باباتیلے شاہ نے اس روز مجھے سینے سے لگایا اورپھر میری آنکھ کھل گئی۔ فجرکی اذانیں ہورہی تھیں۔نماز ادا کرنے کے بعد میں بابا تیلے شاہ کی باتوں پر غور کیا اور پھر اپنے باطن کا اندازہ لگایا کہ کہیں اندر تک انجانا سا خوف بہر حال موجود ہے جو مجھے علوم کی اس راہ پر چلنے سے خوفزدہ کررہا ہے لیکن اب کیا کیا جاسکتا تھا۔جب بادل ناخواستہ اس راہ پر چلنا شروع کرہی دیا تھا تو پھر اپنے تحفظ سے غفلت اختیار کرنا ہلاکت کا باعث بن سکتی تھی۔

بابا تیلے شاہ کی باتیں اپنی جگہ۔۔۔ مگر دنیادار بندے کے لئے یہ کام بڑا مشکل ہوتاہے۔بہت کچھ جاننے کے باوجود میں کوتاہی برت رہا تھا۔ بسم اللہ شریف کا وظیفہ اگر قاعدے کے مطابق کرتا تو شاید روحانی قوت کے حصول میں میں اتنی دیرنہ لگتی لیکن نوکری کے دوران جہاں اَنجانے میں اللہ کی ناراضی کے اسباب پیدا ہوتے رہتے ہیں وہاں اپنی زبان اور عمل کو قابوکرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے لہذا وظائف اور چلّے کرنے والے کے لئے یہ مسئلہ بہت شدت اختیار کرجاتا ہے۔وظائف میں قلب و نگاہ کی پاکیزگی اور عمل میں سچائی معرفت اعمال و عمل کے لئے ناگزیر ہوتی ہے ۔آپ تو جانتے ہی ہیں آج کل ہم ایک بے ہودہ بے حیا اور بدعنوان نظام میں رہ رہے ہیں لہذا وظائف کے لئے کرداروعمل کا غازی بننا کتنا مشکل ہے۔بزرگی لینے کے لئے تقریباًہر مسلمان میں بے قراری رہتی ہے لیکن موجودہ دور کا پسا ہوامسلمان سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر کسی ویرانے میں جا کر چلّہ کاٹنے سے تورہا۔میری ان مشکلات کو دیکھ کر اللہ کے ایک ولی اخندزادہؒ نے مجھے سمجھایاتھا ’’ دنیا بڑی گندی چیز ہے ،باہر ہی کیا گھر میں بھی توکّل و تقویٰ کے ساتھ گزارہ مشکل ہوگیا ہے۔بگڑے نظام کا ناسور بڑا طاقتورہوچکا ہے جس نے حقوق العباد بجالانے میں انسان کو معرفت کی مشکل راہ پر نکلتے ہوئے تزکیہ نفس کرنے سے روک دیا ہے۔ہاں میں دیکھ رہاہوں اب مسلمان کو بھی عبادات کے علاوہ ایسے تیز وظائف کا ذکر کرنا چاہئے جو چلتے پھرتے اور جب تنہائی اور خاموشی میسر ہو وہاں بیٹھ کر تسبیح قلب کرلیا کرے۔اللہ اور ہمارے آقاﷺ کا بھی یہی حکم ہے

کہ اللہ کی معرفت اور حق کی تلاش دنیا کو ترک کرکے نہ کیا کرو۔ ‘‘لہذا میں نہایت سوچ سمجھ کر قدم آگے بڑھانے کا فیصلہ کرلیا اور اپنے کچھ ضروری معاملات سیدھے کرکے اس سیدھی راہ پر چل پڑا لیکن جوں جوں آگے بڑھا کئی ٹیڑھے راستوں سے ہوکر سیدھا ہونے میں کافی وقت لگ گیا۔
تقریباً آٹھ دس سال پہلے جب میں نے 20 روز جنات کے ساتھ گزارنے والے لمحات کو ’’جنات کا غلام‘‘ کے نام سے قلمبند کیا تھا تو اس کتاب کے آخر میں بہت سے انکشافات اور تلخ حقائق بیان کر دئیے تھے اور پھر یہ وعدہ کیا تھا اب جب بھی میری بابا جی اور ان کے شرارتی بیٹے غازی کے ساتھ ملاقاتیں شروع ہوں گی، داتا صاحب پر بابا تیلے شاہ کی براہ راست زیارت سے مستفید ہوں گا تو میں اپنی بپتا پھر سے سناؤں گا۔
اب میں اپنی یہ بپتا آپ کو سنانا چاہتا ہوں۔ ایک عرصہ گزر گیا ہے لیکن محسوس ہوتا ہے کہ ابھی تک یہ کہانی مجھ پر گزر رہی ہے۔
اقبال شاہ سے ملاقات کے بعد ان کے بھائی ریاض شاہ کی اصلیت کھل کر سامنے آ گئی تھی اور ان کے زیر دام بابا جی کی حقیقت بھی اقبال شاہ نے بیان کر دی تھی۔ بہت عرصہ بعدیہ عقدہ کُھلا کہ انسان جھوٹ چھپانے کیلئے مصلحت سے کام لیتا ہے اور پھر مصلحت کو حکمت قرار دیکر اس کی عقلی توجیہہ پیش کر کے خود کو حق بجانب سمجھتا ہے۔
اقبال شاہ سے ملاقاتوں کے بعد کئی سال تک میں بابا جی کی اصلیت جان کر بہت زیادہ غمزدہ رہا۔ پھر میں نے اقبال شاہ اور بابا جی سے کبھی نہ ملنے کا فیصلہ کر لیا۔ حالانکہ مجھے ان سے نہ ملنے کے عہد پر پکا رہنے میں بشری خامیوں کو بھی چھتر مارنا پڑے۔ زندگی کی تلخیوں اور سماجی و کاروباری معاملات کو حل کرنے کیلئے کسی ماورائی طاقت کی مدد کا بھی خیال آتا تھا۔ اس عجز و پستی سے گزرنے والی زندگی اور جھکی ہوئی گردن کے ساتھ زندہ رہنے کی عادت سے چھٹکارا پانے کیلئے بھی بابا جی سے مددمانگنے کی خواہش کی نفسانی قوت غلبہ پا لیتی تھی۔ مجھ پر اللہ کریم کا یہ احسان رہا کہ میں نے خود کو کبھی مغلوب نہیں ہونے دیا لہذا نفس پر ایمان کی قوت غلبہ پا لیتی تھی۔ اقبال شاہ نے جب یہ بتایا تھا کہ ’’بابا جی شیطان کا پرتو ہیں۔ وہ عامل کے معمول ہیں اور موکل کی طرح حکم بجالاتے ہیں‘‘۔ تو مجھے پندرہ سو سال کی زندگی کا دعویٰ رکھنے والے ان بابا جی پر بہت غصّہ آتا تھا جنہوں نے علم و حکمت اور اسّی زبانوں پر دسترس حاصل کر رکھی تھی لیکن وہ ان پڑھ، جاہل اور گندے مسلمان کی عملیاتی قوت کے اسیر ہو کر رہ گئے تھے۔ ان کی عظمتیں عامل کی خباثتوں کے سامنے ہیچ ہوکررہ گئی تھی۔

میں بابا جی کی علمی عظمتوں سے بہت زیادہ متاثر تھا لیکن جب ایک جاہل کالا علم رکھنے والے ریاض شاہ نے انہیں مٹھی میں قابو کر کے تماشاگر بنایا تو میرا ایمان ڈانواڈول ہو گیا تھا۔ میں نے اس دور میں بہت بڑا دھوکا کھایا اورپھر ایک معمول کی طرح زندگی بسر کرتا رہا ، اس دھوکے کے غلاف کوپھاڑنے کی ناکام کوششیں کرتا رہا کہ کسی طرح حقیقت پسندانہ اور عملی زندگی کی طرف لوٹ آؤں۔ مگر اس وقت بہت دیر ہو گئی تھی۔ میرا بہت کچھ لٹ گیا تھا۔ جوحاصل ہوا اسے میں نے استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔یہ جو علم مجھے بابا جی نے سکھایا تھا اسکو استعمال نہ کرنے کی اصل وجہ بڑی معقول تھی۔ میں انکے سکھائے علم کواپناایمان بچانے کی خاطر استعمال نہ کر سکا اور اس سارے عمل و فعل کو کفر و شرک اور شیطان کی دنیا کا کھیل سمجھتا رہا۔ مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ ہمارے مسلمان بہن بھائیوں نے اس شیطانی دنیا سے اپنی رغبت کتنی بڑھا لی ہے؟؟ان سالوں میں ایسے بہت سے مسلمانوں کو دیکھا ہے جو سیدھے راستے پر چلنے کی بجائے الٹے راستے پر چلنے پر بضد رہے۔ وہ اس شیطانی دنیا کے کرداروں کی مدد سے اپنے گھریلو، کاروباری اور رومانوی مسئلے حل کرانے کیلئے میرے ساتھ رابطے کرتے اور پوچھتے۔
’’شاہد صاحب۔ آپ تو جانتے ہیں۔ آپ بتا سکتے ہیں۔ لاہور میں یاپھر پاکستان میں کونسا عامل یا ایسی ہستی موجود ہے جو جنات پر بالادستی رکھتی ہے۔ جنات ان کی مانتے ہیں‘‘۔
’’بھائی میں آپ کو کیا بتا سکتا ہوں۔ کسی کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ اس میں فراڈ بہت ہے۔ آپ کیلئے یہی مشورہ ہے کہ آپ اللہ کی کتاب پر یقین رکھیں اور خود کو جنات سے دور رکھیں‘‘۔ میں ان پتھریلے انسانوں کو سمجھاتا حالانکہ ان میں کوئی ڈاکٹر، پروفیسر، انجینئر ہوتا۔ کوئی جاپان، کوئی امریکہ کوئی روس اور کوئی جرمنی و سپین، کینیڈا سے مجھے فون کر رہا ہوتا ’’خدارا ہماری مدد کریں۔ ہمیں بابا جی کا۔ غازی کا۔ بابا تیلے شاہ کا۔ اقبال شاہ صاحب کا۔ کسی کا تو پتہ بتادیں‘‘۔ ان سالوں میں بلامبالغہ ہزاروں ای میلز، فونز اور بالواسطہ ملاقاتوں کے ذریعے مجھ پر زور دیا جاتا رہااور میں جواباً کہتا رہا ’’خدارا یہ بات سمجھیں کہ میں نے جنات کے غلام میں کیا پیغام دیا ہے۔ بابا جی سے نہیں اللہ پاک سے رابطہ کریں۔ عاملوں کے پیچھے بھاگنے کی بجائے عمل کی راہ پر بھاگیں‘‘

لیکن میں سمجھتا ہوں میری ہڈبیتی جنات کا غلام نے انہیں متاثر تو بہت کیا لیکن کوئی اس رمز کو پانے کی کوشش نہ کر سکا اور نتیجہ یہ ہے کہ آج بھی لوگ اصرار کر رہے ہیں کہ میں بابا جی سے ہونیوالی ملاقاتوں کی روداد انہیں سناؤں۔
میں نے یہ عرض کردیاہے کہ بوجوہ میں اقبال شاہ سے ملنے سے بھی گریز کرنے لگا تھا۔ بخدا میں ان سے ہرگز نہ ملتا اگر میرے اندر روحانی بیداری شروع نہ ہوجاتی یا میرے دئے ہوئے ذکر و اذکار اور وظائف کے بعد بابا تیلے شاہ مجھے حکماً ہدایت نہ فرمادیتے۔میں نے بابا تیلے شاہ کا حکم مان لیا اور پھر داتا ہجویریؒ کی بارگاہ میں پہنچ گیا۔اور پھر اسکے بعد وہ کہانیاں اور راستے کھلتے چلے گئے جن سے کنارہ رکھنے کی خواہش کیا کرتا تھا۔
جب داتا ہجویری سرکارؒ کی بارگاہ میں حاضری دیکر واپس آ رہا تھا تو میرے موبائل کی گھنٹی بجی۔ رات کا وقت تھا ۔ بازار میں شور سا برپا تھا لہٰذا میں نے رش میں سے گزرتے ہوئے فون اٹھانا مناسب نہ سمجھا۔ گھنٹی بند ہوتی اور پھر بج اٹھتی ۔میں پیدل چلتا ہوا حزب الاحناف کے قریب پہنچا تو میرا ڈرائیور گاڑی لئے وہاں کھڑا تھا۔میں گاڑی میں بیٹھا اور فون چیک کرنے لگا۔کافی سارے غیر مانوس نمبروں کی کالیں آئی ہوئی تھیں۔لیکن ایک نمبر سے کم از کم پانچ مسڈ کالیں موصول ہوئی تھیں۔اس سے پہلے کہ میں اس بے چین نمبر والے کو فون کرتا،اس کی کال پھر آگئی۔
’’یہ شاہد بھائی کا نمبر ہے‘‘ دوسری جانب سے ایک صاحب نے پوچھا۔
’’اسلام و علیکم ‘‘ میں نے جواباً کہا’’جی فرمائیے‘‘
اس نے سلام کا جواب دینے کی بجائے وفور مسرت سے کہا ’’اسلام وعلیکم کہا شاہد بھائی میں بابر حسین بات کررہا ہوں اسلام آباد سے ‘‘
میں نے سلام کا جواب دیا۔

’’شاہد بھائی میں لیبرڈپارٹمنٹ میں جاب کرتا ہوں ۔دراصل میں اور میری بیگم آپ کی کتاب جنات کا غلام پڑھنے کے بعد آپ سے ملنے کے لئے بے تاب ہیں۔کیا ایسا ممکن ہے کہ آپ ہمیں تھوڑا سا ٹائم دے دیں‘‘ میں سمجھ سکتا تھاکہ بابر حسین کی طرح بہت سے لوگ اس کتاب کو پڑھنے کے بعدمجھ سے کیوں ملنا چاہتے ہیں لیکن میں اس حوالے سے کسی سے بھی نہ ملنے کے لیے صاف گوئی سے کام لیتا۔
’’برادر اس کتاب کے حوالے سے آپ ملنا چاہتے ہیں اور ظاہر ہے آپ کے استفسارات ہوں گے یا پھر آپ کا کوئی ایسا مسئلہ ہوگا جو آپ اس کتاب کے کرداروں کی مدد سے حل کروانا چاہتے ہوں گے تو سچی بات یہ ہے کہ میں آپ سے مل نہیں پاؤں گا۔میں کوئی کاروباری یا فی سبیل اللہ عامل بھی نہیں۔۔۔ نہ میں اس کام کو پسند کرتا ہوں۔نہ مجھے یہ کام کرنے آتے ہیں لہذا آپ کی مجھ سے ملاقات رائیگاں جائے گی۔‘‘
’’آپ کی بات بجا ہے ،میں سمجھ سکتا ہوں ۔میں آپ کا فین ہوں لیکن حقیقت میں مجھے آپ سے ایک کام بھی ہے۔اصل میں میری اور آپ کی کہانی بہت ملتی جلتی ہے۔اگرچہ اب میں ایک اچھی جاب اور کاروبار سے منسلک ہوں ،لیکن میں نے زندگی میں پراسرار حالات کی وجہ سے مشکلات اٹھائی ہیں ،وہ آپ سے شیئرکرنا چاہتا ہوں ۔۔۔اور اس سے بڑی اہم بات یہ ہے کہ میں آج بھی ایک بہت بڑی آزمائش میں مبتلا ہوں۔اگر آپ مائنڈ نہ کریں تو میں بتاتا چلوں کہ محض کتاب پڑھ کر آپ کا فین نہیں ہوا ہوں ،میری بیگم ۔۔۔۔سمجھ لیں وہ آپ کی زلیخاہے ،میرا مطلب ہے جو آپ کی زلیخا کے ساتھ ہوا میری بیگم بھی ان حالات سے گزری ہے لیکن آپ کو آپ کی زلیخا نہ ملی لیکن میں نے اپنی زلیخا کو حاصل کرلیا اور اسے موت و عذاب سے نکال کر واپس لایاتو بے تحاشا خوش ہوا تھا ۔۔خوش تو اب ہوں کہ میری محبت میرے پاس ہے لیکن اس فاتح محبت کو جو اولاد عطا ہوئی ہے وہ بہت کڑا امتحان اور سزا ہے۔ہماری جو اولاد پیدا ہوئی ہے وہ ابنارمل ہے بلکہ ابنارمل تو عام سا لفظ ہے۔۔۔۔۔۔ بس کیا بتاؤں شاہد بھائی میں ایسا بدقسمت انسان ہوں جو محبت دولت حاصل کرکے بھی بے بس ہے۔میری دولت مجھے صحت مند اولاد نہیں دے سکی ہے حالانکہ ملک میں، ملک سے باہر سے بھی ڈاکٹروں سے علاج کرائے ،ہر طرح کی رپورٹس ٹھیک ہوتی رہی ہیں ،ڈاکٹروں کی مکمل نگرانی میں بیگم کا چیک اپ ہوتا رہا ،الٹرا ساؤنڈ اور سارے ٹیسٹ ٹھیک ہوتے اور نارمل بے بی کی تصدیق کرتے تھے لیکن جب بے بی پیداہوتا تو دنیا میں آتے ہی وہ ایک ایسی دردناک اور زہریلی آواز نکالتا کہ ڈاکٹرز اور نرسیں سراسیمہ ہوجاتیں۔سنسنی پھیل جاتی تھی ۔یہ باتیں خاصی پیچیدہ اور حیرت ناک ہوں گی۔۔۔۔بس میں چاہتا ہوں آپ تھوڑا سا ٹائم دے دیں ۔ہوسکتا ہے آپ کی رہ نمائی سے میرا مسئلہ حل ہوجائے۔۔‘‘
’’ میں آپ سے مل تو لیتا ہوں لیکن میں نہیں سمجھتا میں آپ کا مسئلہ بھی حل کرپاؤں گا‘‘ میں نے کہا’’اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو اسم اعظم بتا دیتا ہوں۔‘‘

’’جی شکریہ ۔وہ تو اللہ بہتر جانتا ہے کون کس کا مسئلہ حل کرنے میں معاون ہوسکتا ہے۔آپ کو اپنے علم پر گمان نہیں یہ بہت اچھی بات ہے۔لیکن میں نے آپ کے علم سے استفادہ کیا ہے ۔آپ نے جنات کے غلام میں جو وظیفہ بتایا تھا اسکی پڑھائی کے بعد ہی میں نے اپنی زلیخا کوپایا تھا۔آپ کی کہانی اور علم میرے لئے نافع ثابت ہوئی تھی۔۔۔ بہر حال مسائل بھی ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔میں سمجھتاہوں آپ کے توسل و رہنمائی سے مجھے ایک راستہ ملااور میں کامیاب ہوگیا۔میں شایداب بھی آپ سے رابطہ نہ کرتالیکن میں جب بہت عاجز آگیا توکسی کے مشورہ پر استخارہ کیا ہے ۔استخارہ کی رات میں نے خواب دیکھاکہ ایک عجیب و غریب انسان آپ کی کتاب پڑھ رہا ہے اور ساتھ ساتھ شکرپارے بانٹ رہا ہے۔میں اس بندے کے پاس سے گزرتا ہوں اور اس سے شکر پارے مانگتا ہوں تووہ میرے منہ پر تھوک دیتا اور پھر اس کتاب یعنی جنات کا غلام سے پیٹنا شروع کرتا ہے۔اس دوران میری آنکھ کھل جاتی ہے۔میں کیا دیکھتا ہوں آپ کی کتاب جو شیلف میں رکھی تھی میرے سینے پرپڑی ہے اور میرے پورے بدن کا جوڑ جوڑ درد کررہا ہے۔مجھے اس خواب کی تعبیر تو معلوم نہیں ہے لیکن میں نے جب بیگم کو یہ خواب سنایا اور پھرکتاب اور درد کا واقعہ سنایا تو اس نے آپ سے فوری رابطہ کا مشورہ دیا‘‘
’’اوہ۔۔۔یا اللہ مجھے معاف فرمانا‘‘ میں انکی بات سن کر گھبراگیا۔’’بھائی میرے، اللہ آپ کو اور مجھے بھی ہر طرح کے امتحان سے بچائے‘‘
’’آمین۔بھائی،ہم لوگ آج ادھر لاہور ڈیفنس میں آئے ہوئے ہیں۔میراایک گھر ادھر بھی ہے۔اگر آپ مناسب سمجھیں تو میں آپ کو گاڑی بھیج دیتا ہوں آپ میرے گھر تشریف لائیں۔یہ میرے لئے عزت کی بات ہوگی،میں خود بھی حاضر ہوسکتا ہوں آپ کے آفس میں لیکن میں بیگم اور بچوں کو بھی آپ سے ملوانا چاہتاہوں‘‘
بابر حسین کی گفتگو نے مجھے پریشان کر دیا تھا۔ ان دنوں ویسے بھی میں داتا دربار پر بابا جی کے ’’عطا کردہ ‘‘ ایک علم سے جان چھڑوانے کے لیے دعا کرنے جاتا تھا۔اس عجیب و غریب علم نے مجھے اب پریشان کر رکھا تھا لہٰذا جب میں ان علوم سے کوئی فائدہ اٹھاناہی نہیں چاہتا تھا تو اس لئے نجات ہی بہتر تھی۔
اتفاق یہ ہوا۔ اسی رات مجھے ایک اسائمنٹ پر شہر سے باہر جانا پڑ گیا۔ رات بھر سفر میں رہنے اور صبح سویرے اسائنمنٹ مکمل کرنے میں خاصا وقت لگ گیا۔ اس دوران بابر حسین کا فون آتا رہا لیکن کمزور سگنل کی وجہ سے میں اس سے بات نہ کر سکا اور اسے میسج کے ذریعہ مطلع کرکے مطمئن ہوگیا کہ آج رات لاہور واپس آگیا تو اگلے روز انشاء اللہ ملاقات کروں گا۔

بعض اوقات انسان اپنے تئیں اپنے ہر کام کو ترتیب سے کرنا چاہتاہے اور اسے یقین ہوجاتا ہے وہ وقت کو اپنے ہاتھ میں لیکر اپنے سارے کام بخوبی انجام دے لے گا۔ لیکن ایسا ہر بار نہیں ہوتا۔ وقت چکمہ دیتا رہتا ہے اور انسان کو نچواتا ہے۔ میں اس روز عشاء کے وقت لاہور واپس پہنچا تو ایک نئی مصیبت میرا انتظار کر رہی تھی۔ خیر اس کا ذکر کیے بغیر میں یہ عرض کر دوں کہ میں اگلے روز ہی کیا، ایک ہفتہ تک بابر حسین سے نہ مل سکا۔ میں بار بار معذرت کرتارہا۔ اس دوران کئی اور مصیبت زدہ لوگوں نے بھی بابا جی سے ملنے کی درخواستیں کی تھیں لیکن میں کسی کو بھی مناسب جواب نہیں دے سکا۔ جواب دیتا بھی تو کیا ۔۔۔کس کے بھروسے پر انہیں بابا جی سے ملوانے لے جاتا؟ میں خود بھی حیران تھا کہ یکایک اتنی گہما گہمی اور مصروفیت کا سبب کیا پیداہوگیاہے۔
جمعرات کو میں حسب معمول داتا ہجویریؒ کے حضور رات گئے حاضری دینے پہنچا تو اس بات کا اشارہ مل گیا کہ اس میں مشیّت الٰہی تھی ۔ بابر حسین سے فی الفور ملاقات قدرت کو منظور نہیں تھی۔ میں داتا ہجویری ؒ کی مسجد میں نماز تہجد پڑھنے کے بعد دعا کے لیے مزار پُرنور کے پاس پہنچا اور آپؒ کی تربت کے سرہانے کی جانب باہرایک ستون سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ زائرین معمول کے مطابق آجارہے تھے لہٰذا اس وقت کوئی ایسی غیر معمولی بات نہیں لگ رہی تھی لیکن میں نے محسوس کیا کہ جس ستون کے ساتھ میں نے ٹیک لگا رکھی تھی اس کے دوسرے پہلو پرکوئی اور بھی بیٹھا تھا اور دھیرے دھیرے کھسکتاہوا میری جانب آرہا ہے۔ اس وقت میں ارتکاز کی حالت میں تھا اور لذت انہماک سیباطنی وسعتوں میں خود کو تیرتا ہوا محسوس کر رہا تھا۔ معاً میرے شعور کی دہلیز پر دستک ہوئی،احساس نے مجھے چوکنا کیا اور گمان پیدا کیا کہ کوئی شے سرسراتی ہوئی میرا دامن کھینچ رہی ہے۔
ذہن چوکس ہوگیا ، میری حسیات بیدار ہوئیں تو میں نے جھٹ سے اس جانب دیکھا۔ وہ ایک مجہول عام سے چہرے والا شخص تھا۔ اس نے میری قمیض کا دامن کھینچا اور بولا ’’اٹھو۔۔۔اس کی بات سنو۔۔۔‘‘ اس نے سر سے ایک طرف اشارہ کیا۔

’’کس کی بات سنوں۔۔۔‘‘ میں نے پوچھا۔
اس نے ایک چار انچ لمبا کیل اپنی جیب سے نکالا، اس پر کچھ پڑھا اور مجھے دے کر بولا’’وہ ۔۔۔ادھر کولر کے پاس بیٹھا ہے ۔۔۔یہ کیل اس کے سر میں ٹھونک دو۔۔۔‘‘
’’کیا مطلب۔۔۔میں کیوں یہ کام کروں۔۔۔‘‘ میں نے اپنا دامن چھڑوایا اور پیچھے ہٹا۔’’کون ہو تم۔۔۔‘‘
اس نے محض دانت نکالے اور کیل زبردستی میرے ہاتھ میں پکڑا دیا اور پھر اتنی جلدی میں وہ اپنے کپڑے سمیٹ کر اٹھا کہ میں اسے دیکھتا رہ گیا۔ کیل ہاتھ میں لئے میں ششدر تھا۔ کیل ۔۔۔کس کی کھوپڑی میں ٹھونکنے کی بات کرکے وہ چلا گیا تھا ۔۔۔ یہ کیا معمہ تھا۔ بہرحال مجھے احساس ہوگیا کہ اس پراسرار یت کے پردے کے پیچھے کچھ نہ کچھ ہوگا۔ میں نے ہمت کی اور کولر کے پاس جا کر احتیاط سے پانی پینے کے لیے کھڑا ہوگیا۔ پانی کا گلاس بھرا اور ترچھی نظروں سے اس کے عقب میں دیکھنے کے لیے دبے پاؤں چلا گیا۔ مگرکوئی نہ تھاوہاں ۔۔۔میں نے پانی پیا اور سوچا یہ مجہول سا شخص یقیناً کوئی دیوانہ ہی تھا۔ اسے پُراسرار سمجھنا محض واہمہ تھا۔ ویسے بھی ہم جیسے لوگ عام مزارات پر بھی فاتحہ اور دعاؤں و منتوں کے لیے جاتے ہیں تو ہر کوئی وہاں کسی کرامت اور انہونے واقعہ کا منتظر ہوتا ہے۔ مزارات پر ایسے کردار بھی عام ہوتے ہیں جن میں سے اکثر نیکی کی آڑ میں اپنا کاروبار چلا رہے ہوتے ہیں۔ ان کے چہرے غیر معمولی طور پر بھلے سے نورانی اور پراسرار ہی کیوں نہ دکھائی دے رہے ہوں مگر ان کا باطن بہت کمزور اور نفس زدہ ہوتا ہے۔ وہ زائرین کی عقیدت لوٹ لیتے ہیں اور انہیں مرعوب و متاثر کرنے کے لیے اس طرح سے گفتگو فرماتے ہیں اچھا بھلا انسان محض کسی بددعا یا کسی موقع کے ضائع ہو جانے کے خوف سے گھبرا کر انہیں عظیم ہستی سمجھنے پر مجبور ہو جاتا ہے اورپھر اس پر فخر کرتا ، دوستوں، عزیزوں کو بھی بتاتا پھرتا ہے۔۔۔مگر میں جان گیا تھا کہ ۔۔۔بزرگ ہستیاں ان شعبدہ بازوں کالباس نہیں پہنتیں۔ وہ چکنی چپڑی باتوں سے اپنے سائلین و زائرین کو متاثر نہیں کرتیں۔ بس ان کے باطن کے سوئچ پر ہاتھ رکھ دیتی ہیں۔ ان کے قلوب میں ذوق و شوق آن کر دیتی ہیں۔ ان کی مناجات اپنی جھولیوں میں بھر کر بارگاہ ایزدی میں سفارش کرتی ہیں اور ان کے محبان کا دامن نور سے بھر جاتا ہے۔

میں نے کیل کو وہاں پھینکنا مناسب نہ سمجھا اور سوچا اگر یہاں پھینک دیا تو کسی کا پاؤں زخمی ہو جائے گا۔
اس دوران اجتماعی دعا کا وقت ہوگیا۔ داتا دربار پر برسوں سے زائرین بڑی عقیدت اور ذوق سے ذکر و دعا میں شامل ہوتے ہیں۔ اس وقت لاہور کے بڑے بڑے نامی گرامی، سرمایہ دار ، سیاستدان، گویا ہر شعبے کا بندہ عام سے لباس میں وہاں پہنچتا ہے۔ دعاکی نورانیت سے فیض حاصل کرتا ہے۔
دعاکے بعد میں باہر نکلا۔ ڈرائیور حسب معمول گاڑی میں سویا پڑا تھا۔ میں جب گاڑی سے سو قدم دور تھا کہ ایک باؤلا سا شخص میری طرف بھاگا چلا آیا اور جھٹ سے اس نے اپنا سر میرے سامنے کر دیا۔اس کا سر غیر معمولی طور پر کسی بڑے تربوز جیسا تھا۔ میں ٹھٹک گیا۔ جیب میں ہاتھ ڈالا اور اسے پانچ کا نوٹ دینا چاہا تو وہ سر اٹھا کر مجھے گھورنے لگا’’پیسہ نئیں۔۔۔کیل ٹھونک۔۔۔‘‘
میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔
میں نے اِدھر اُدھر دیکھا۔
’’کون ہو تم۔۔۔‘‘ میں نے پوچھا۔
’’کیل ٹھونکو۔۔۔کیل ٹھونکو۔۔۔‘‘ وہ میرے سوال کے جواب میں ایک ہی اصرار کرتا رہا۔
’’او بابا۔۔۔ معاف کر مجھے۔۔۔‘‘میں نے اس سے جان چھڑانے کی کوشش کی۔
’’میں کیوں ٹھونکو ں کیل۔۔۔جااپنا کام کر۔۔۔‘‘
’’نئیں ٹھونکو گے۔۔۔اچھا۔۔۔یہ بات ہے۔‘‘ اس نے زہریلے انداز میں میری طرف دیکھا اور پھر اندھیرے میں سے ناجانے اس کو کیسے ایک بڑا پتھر نظر آگیا۔ اس نے اٹھایا اور تنبیہہ کے انداز میں بولا’’وہ کھڑی ہے تیری گاڑی۔۔۔پتھر ٹھونک دوں گا اس میں ۔۔۔‘‘
’’اوئے بندے دا پُتر بن۔۔۔‘‘ مجھے اب کچھ نہ کچھ اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ کوئی غیر معمولی معاملہ ہے۔ لہٰذا میں نے رب ذوالجلال کا نام لیا اور مخصوص وظیفہ پڑھ لیا۔ میں نے اپنے اندر تقویت محسوس کی اور جیب سے کیل نکال کر اس پر بھی پھونک مارنے لگا کہ وہ چلاّ اٹھا ۔۔۔’’ناں ۔۔۔ناں۔۔۔یہ کام نہ کرنا۔۔۔بس یہ پھوکا ہی ٹھونک دو۔۔۔‘‘

’’اچھا۔۔۔مگر پہلے ادھر آؤ ۔۔۔ادھر فٹ پاتھ پر۔۔۔‘‘ اس نے پتھر پھینک دیا اور اندھیرے میں ڈوبے فٹ پاتھ پر میرے ساتھ بیٹھ گیا۔ فٹ پاتھ سے بہت زیادہ بدبو آرہی تھی۔ نشہ باز اور عموماً بہت سے دیوانے راتوں کو یہاں حوائج ضروریہ سے فارغ ہوتے تھے۔
میں نے یکایک اسکی کلائی پکڑ لی اور غیر محسوس انداز میں اس کی نبض ٹٹولتے ہوئے اسے باتوں میں لگانے کی کوشش کرتا رہا۔ لیکن وہ باؤلا ہی تھا ، کسی بات کا جواب دینے کی بجائے مسلسل کہتا رہا ’’کیل جلدی سے ٹھونک دے۔۔۔‘‘ مجھے اسکی حرکت بالکل ایسے لگی جیسے کوئی نشہ باز نشہ نہ ملنے پر بلکتا ہے، میں جس مقصد کے لیے اس کی نبض ٹٹول رہا تھا وہ پورا ہوگیا۔
اس کی نبض غائب تھی۔
وہ انسان نہیں تھا۔
مگروہ ایک انسانی وجود میں تھا۔ انسانی خون کی گردش اور دل کی دھڑکن اس میں مفقود تھی۔ میں نے اسے کچھ نہیں کہا۔۔۔کیل اس کے سر پر رکھا ۔۔۔اور سوچا کوئی پتھر ملے تو اس سے ٹھونک کر کھوپڑی میں اتار دوں۔۔۔مگر اسکی ضرورت ہی پیش نہیں آئی۔کیل اس کی کھوپڑی پررکھا تو یوں کھوپڑی میں دھنستا چلا گیا جیسے یہ کھوپڑی موم یا روئی کی بنی ہوئی ہو۔ کیل جونہی کھوپڑی میں نیچے تک اُتر گیا باؤلے کی آنکھوں کی پُتلیاں پھیلنے لگیں اور میں نے اس لمحہ میں پھر مخصوص وظیفہ پڑھ لیا اور جب اٹھنے لگا تو وہ دانت نکوس کر بولا ’’بابر حسین سے نہ ملنا۔۔۔اگر ملے تو یہ کیل جو تو نے اپنے ہاتھوں سے میرے مغز میں اتارا ہے اسے تمہاری کھوپڑی میں ایسا اتاروں گا ۔۔۔ایسا اتار وں گا کہ جدھر بھی جائے گا کوئی نہیں نکال پائے گا۔۔۔جا اب چلا جا ۔۔۔کسی کی عزت کرتا ہوں اس کی بدولت تجھے آج صرف سمجھانے آئے تھے ہم دونوں ۔۔۔‘‘
میرا منہ کھلا رہ گیا۔
میں کیسے گاڑی تک پہنچا۔ گھر آیا مجھے یاد نہیں۔ نماز فجر کے بعد ایسا کمزور پڑ کے سویا کہ اس روز ظہر کی نماز بھی چھوٹ گئی ۔۔۔میرا ذہن ماؤف ہوگیا تھا۔ میں اس قابل ہی نہیں رہا تھا کہ باؤلے کی باتوں کو ذہن سے کھرچ کر نکال پاتا۔

عصر کی اذان کے وقت مجھے کچھ اپنا آپ سنبھلتا ہوا محسوس ہوا۔میں نے اٹھ کر غسل کیا اور نمازعصر گھر پر ہی ادا کرکے جائے نماز پر ہی بیٹھ گیا۔پہلے تو ذہن بالکل خالی رہا پھر آہستہ آہستہ سوالات اٹھنے لگے کہ اگر ایسے معاملات پیش آتے رہے تو کہاں تک بھاگوں گا،کیا فرار حاصل کرکے ان چیزوں سے چھٹکارا حاصل کر پاؤں گا۔تم اپنا دفاع کیوں نہیں کرتے؟ کیا تمارا دامن بالکل خالی ہوچکا ہے؟ جو فیض و عطا تمہیں دی گئی تھی اسکو استعمال نہ کرکے اپنا اور دوسروں کا بھلا کیوں نہیں کرتے؟یہ علم تو زرہ کی طرح ہیں ،بلٹ پروف جیکٹ کی طرح ہیں،فائروال ہیں یہ۔۔۔ توانہیں اپنی حفاظت کے لئے استعمال کیوں نہیں کرتا۔؟تو بڑا متوکل بنا پھرتا اور مخلوق خدا کا درد سینے میں اٹھائے رکھتا ہے اور فخریہ کہتا رہتا ہے کہ ’’میرے لیئے اللہ ہی کافی ہے‘‘تو اس ’’ذات کافی‘‘ کی عطا کو استعمال کیوں نہیں کرتا؟۔۔۔تجھے ڈر کس بات کا ہے۔ایمان کے چھن جانے کا،سہواً نیکی کی آڑ میں کسی گناہ کے سرزدہوجانے کا؟۔۔۔خیر۔۔۔ایک طویل عرصہ کی کشمکش کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ سسک سسک کر یا عُذرکیساتھ زندگی گزارنے سے بہتر ہے کہ حق اور جائز کام کے لئے اور کم ازکم اپنی حفاظت کے لئے وظائف کی دولت کو استعمال کیا جائے۔لہذا میں نے عصر سے مغرب تک اپنے پاک اللہ کی حمدو ثنا کی اور ایک مخصوص ساعت میں وظائف پڑھ کر خود پر دم کرلیا۔جس وقت میں وظائف پڑھ رہا تھا مجھے اپنے پورے بدن میں یکدم جھرجھری محسوس ہوئی اور سرد سی لہرپاؤں کے انگوٹھے سے اٹھی اور سر کے مقام اخفا تک مجھے سنّ کرگئی۔مجھے لگا یہ مقبول دعا کا اشارہ ہے،فیض ربّانی کا احساس ہے۔۔۔ یہ سوچنا تھا کہ مجھے اپنے اندر والہانہ اطمینان محسوس ہوا اور پھر میں نے ربّ ذوالجلال کے حضور اپنے ساتھ پیش آنے والا معاملہ پیش کیا اور اسکوسلجھانے کی دعا کی۔

--------------------------جاری ہے

 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد فاروق حسن

Read More Articles by محمد فاروق حسن: 40 Articles with 32293 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
31 Jan, 2017 Views: 701

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ