اظہر مسعود اور ان کے مرزا جی

(Shamim Iqbal Khan, India)
ایک اتوار کو نخاس میں بھیڑ کو چیرتا پھاڑتا آگے بڑھ رہا تھا کہ پرانی کتابوں کی دوکان پر نظر پڑی اور میں رک کر زمین پر بچھے ترپال پر رکھی مختلف زبانوں کی کتابوں کا جائزہ لینے لگا۔ ایک صاحب پر نظر پڑی جو جھُک کر’دیوانِ چرکین‘ اُٹھانے کی کوشش میں تھے، حلیہ کچھ آشنا سا لگا، جب وہ کتاب اُٹھانے میں کامیاب ہو کرسیدھے ہو رہے تھے تو میں نے پہچان لیا کہ یہ اور کوئی نہیں ادبستان والے اظّو بھائی(اظہر مسعود) کے خیالی ساتھی مرزا جی ہیں۔میں نے کہا مرزا جی آداب۔لیکن میرے آداب کو لاجواب کرتے ہوئے دوکان پر بیٹھے ایک آدمی نما شخص سے کتاب کا دام پوچھا۔اس نے کہا ۲۵؍ روپئے۔مرزا جی بدک گئے بولے’’اس پر چار آنے لکھے ہیں اور تم ۲۵؍ روپئے بتا رہے ہو‘‘۔وہ شخص بڑے زہریلے انداز میں بولا تو آج کیوں آئے ہو،اُسی چار آنے والے زمانے میں آتے،بڑے آئے ہیں چرکین کا دیوان خریدنے والے۔ یہ کہتے ہوے کھڑے ہوکر مرزا جی کے ہاتھ سے کتاب تقریباً جھپٹا مار کر چھین لی۔

نخّاس علاقہ مرزا جی کا حلقہ اور ان کے ہی حلقہ میں اتوار ،اتواروالے دوکاندار کی یہ مجال کہ مرزا جی سے اس طرح کلام کرے۔میں نے ذرا ڈپٹ کر کہا ’کیوں بے گنجیڑی، تیرا دماغ خراب ہیں، مرزا جی سے اس طرح باتیں کرتا ہے‘۔میری آواز سن کردوکاندار کا لڑکاجو تھوڑی دور پر کسی سے بات کر رہا تھا،قریب آیا، وہ مجھے پہچانتا تھا،سلام کر کے کہنے لگا کہ ’’صاحب میرے والد ہیں، ان کی باتوں کا برا نہ مانئے گا، میں معافی چاہتا ہوں، آپ کون سی کتاب لے رہے تھے‘‘۔

کتاب تو مرزا جی لے رہے تھے، میں ان کو دیکھ رہا تھا۔وہ مرزا جی سے عاجزی کے ساتھ بولا ’’آپ جو کتاب چاہیں لے لیں‘‘۔ لیکن مرزا جی بھی ماش کے آٹے کی طرح اینٹھ گئے اور بغیر کویٔ جواب دیے میرا ہاتھ پکڑ کر حلقۂ دوکان سے باہر نکل آئے اور وہ آواز ہی دیتا رہ گیا۔

اب مرزا جی مجھ سے مخاطب ہوئے’’آپ کی تعریف اور کیا شغل فرماتے ہیں‘‘۔پہلے اپنا نام بتایاپھر اپنے بارے میں بتانے کے لیے عرض کیا کچھ لکھنے پڑھنے کا شوق پال رکھا ہے،اُسی میں وقت کھپاتا رہتا ہوں، ویسے پولیس کی ملازمت سے سبکدوش ہوں، اظو بھائی ،میرے بڑی بھائی کی طرح ہیں،ان سے ملنے گیا تھا وہاں آپ کا ذکر خیر ہو ا ، یہاں آپ سے ملاقات ہو گئی۔آجکل ادبستان نہیں جا رہے ہیں کیا؟اظو بھائی آپ کو یاد کر رہے تھے۔

مرزا جی بڑے غصہ سے بولے ’’مت لیجئے ان کا نام، وہ قابل بھروسہ نہیں ہیں‘‘۔میں نے کہا آخر ناراضگی کی وجہ کیا ہے؟ بولے’’میرے پاس اچھا بھلا چشمہ تھا، ہاں یہ درست ہے کہ تھوڑا پرانا ضرور ہو گیا تھا اورشاید یہی وجہ تھی کہ ناک کی نوک پرکم اور میری گود میں زیادہ رکھا رہتا تھا، زبردستی چشمہ بدلوانے کے لیے چشمہ کی دوکان پر لے گئے اور چشمہ بدلنے کا آرڈر دے دیا۔دوسر دن ہم لوگ چشمہ لینے گئے ،میں نے چشمہ لگایا اور محسوس کیا کہ جو کچھ مجھے دکھنا چاہئے تھا وہ سب دکھ رہا ہے، یہ دیکھنے کے لیے چشمہ مجھ پر کیسا لگ رہا ہے، میں نے آئینہ مانگاتو وہ بولا آئینہ تو نہیں ہے۔اس پر اظو میاں فرمانے لگے بغل میں پان کی دوکان ہے چل کر وہیں دیکھ لیتے ہیں ویسے فریم آپ پرجچ رہا ہے۔ بھلا بتائیے، چشمہ میں یہاں بنواؤں اور چِک کرنے کے لیے پان کی دوکان پر مجھے لیے جا رہے تھے، بھلا بتائیے یہ کوئی بات ہوئی، یہ ادبستان کی شرافت ہے؟ ارے یہ تو سراسر نخاسی خرافات ہے‘‘۔

ابھی ان کی ناراضگی کا لکچر کچھ اور چلتاکہ ایک چائے کی دوکان دکھ گئی اور مرزا جی میرا ہاتھ پکڑ کر چائے کی دوکان میں گھُس لیے۔چائے والے نے بڑے پر تپاک انداز میں خیر مقدم کیا اور ڈپٹ کر چھوٹو سے میز صاف کرنے کو کہا ابھی وہ میز صاف کر ہی رہا تھا کہ ایک دوسرا چھوٹو انگوٹھے اور کلمہ والی انگلی سے چائے کے دو گلاس دباکر لایا اور میز پر رکھ دیا۔ مرزا جی نے مجھ سے پوچھا’چائے کے ساتھ کچھ وائے بھی چلے گی؟‘۔میں نے کہا ’آپ ناحق تکلف کر رہے ہیں، ابھی میں اظو بھای ٔ کے یہاں سے چائے کے ساتھ وائے بھی لے کر آ رہا ہوں۔خیر چھوڑو یہ بتاؤ اظو میاں کیسے ہیں؟ سوال مجھ سے کیا اور خود ہی گویا ہوگئے۔’’جب سے ان کی بیٹی کا انتقال ہوا ہے، ٹوٹ کر رہ گئے ہیں، اسپنڈلائٹس نے گردن کو جکڑرکھاہے اور رعشہ نے بدن کو ہلا رکھا ہے، لکھنے پڑھنے والے انسان بیکار ہو کر رہ گئے ہیں لیکن اﷲ کا شکر ہے کہ آنکھیں ابھی کام کر رہی ہیں(خدا کرے کرتی بھی رہیں) اس لیے ’ساغر و مینا‘ سے کام چل رہا ہے۔ یہ ساغر و مینا غالبؔ والا نہیں میرا مقصد ہے لکھنا پڑھنا تھوڑا بہت کرتے رہتے ہیں۔میں نے مرزا جی کو ٹوکتے ہوئے کہا کہ زبانی ہمدردی بھی ضروری ہوتی ہے ۔آپ ان سے ملاقات کرتے رہیں تاکہ وہ آپ کو اپنے قِرطاس پر بکھیرتے رہیں ۔

وہ مرزا ہی کیا جو تُنکیں نا، لہذا وہ تُنک کر بولے ’’ میں کوئی کوڑا کرکٹ ہوں جو مجھے بکھیریں گے؟‘‘۔مرزا جی ! آپ تو برا مان گئے،کوڑا کرکٹ اُسی وقت بکھیرا جاتا جب نیتاؤں کو جھاڑو لگانے کا ڈرامہ کرنا ہوتا ہے،عموماً کوڑے کو بند جگہ پر ہی رکھا جاتا ہے، خوشبو بکھیری جاتی ہے،شیشی میں بندخوشبو بے مقصد رہتی ہے۔مرزاجی چائے کی آخری چسکی لیکرگلاس کو تقریباً پٹکتے ہوئے میز پر رکھا اور کھڑے ہو کر شیروانی کی یکے بعددیگرے جیبوں میں ہاتھ ڈالنے اور نکالنے لگے جیسے کچھ تلاش کر رہے ہوں اور میں چائے والے کو پیسے دیکر باہر آگیا لیکن مرزا جی چائے والے سے کچھ بات کرنے لگے اور میں نے اس ڈر سے آواز نہیں دی کہ کہیں تُنک نہ جائیں اور پھر مجھے کوئی جلدی بھی نہیں تھی۔ذرا ہی دیر میں وہ ہنستے ہوئے باہر آگئے۔ میں نے کہا ’اگر مناسب سمجھیں تو اپنی خوشی میں اس خاکسار کو بھی شامل کر لیں‘۔ فرمانے لگے’’یہ چائے والا پہلے سائکل کی دوکان کرتا تھا،اس امید پر چائے بیچنے لگا کہ لوگ چائے بیچ کر وزیر اعطم بن سکتے ہیں لیکن وہ بیچارہ ابھی تک نگر نگم کا ممبر بھی نہیں بن سکا۔ میں نے اس سے کہا ’ایک بار بیوی بھی چھوڑ کر بھاگ پھر دیکھ کہ کامیابی تجھے ملتی ہے کہ نہیں، خالی چائے بیچنے سے کچھ نہیں ہوتا؟‘‘۔

میں نے کہا مرزا جی! کامیابی کے لیے شوکت تھانوی کا ایک مجرّد نسخہ میرے پاس ہے اگر آپ چاہیں تو میں لکھا دوں۔فرمایا’’تم بولو میری یا داشت ابھی ٹھیک ٹھاک ہے‘‘۔میں نے عرض کیا تو پھر سنئے ’’ گُل حسد، گُل دغا بازی، سمر بد یقینی، برگ خیانت، شربت خوشامد، پوست تخم بدی،چھال نالائقی،جڑ غرور۔ تمام اودیات کوبے ایمانی کی ترازو میں تولئے، نحوست کی کھرل میں ڈالکر بے شرمی کے سونٹے سے رگڑ کر باریک کر لیجئے،بعدازیں تعصب کی چھلنی میں چھان کر،حرص کی ہانڈی میں ڈال کر، غیبت کے چولہے پر چڑھا کر خیانت کی دھیمی آنچ دیجئے۔جب خوب پک جائے تو ذلت اور رسوائی کے چمچے سے قطرہ قطرہ حلق میں ڈالیے انشا ء اﷲ پہلی ہی خوراق حب الوطنی،سچائی اور ایمانداری کے جراثیم کو ہلاک کرے گی اور کامیابی آپ کے قدم چومے گی‘‘۔مرزا جی نے ایک فلق شگاف نعرہ لگایا اور پھر ہنستے ہی چلے گئے۔جب ہنسی روک پائے تو بولے اچھا یہ بتاؤ اظو میاں کی کتابیں ’اردو کے ضرب المثل اشعار‘ اور ’مرزا نامہ‘ دیکھیں؟ میں نے کہا اظو بھائی نے ابھی عنایت کی ہیں اب دیکھوں گا۔ارے بھیٔ پہلی کتاب بڑے غضب کی ہے،اس کتاب کو پڑھ کر ان کی محنت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔وہ مصرعے جوچُھٹّا گھوم رہے تھے،جس کا دوسرا مصرعہ نہ کوئی جانتا تھا اور نہ شاعر کا نام ہی معلوم تھا۔اظومیاں نے نہ صرف کتابوں میں گھُس کر شعر مکمل کیا بلکہ شاعر کو بھی تلاش کر کے زندہ کر دیا، کمال کا کام کیا ہے انھوں نے ۔ مثال کے طور پر شعر ملاحظہ کریں:
۱۔ بھانپ ہی لیں گے اشارہ سرِ محفل جو کیا
’’تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں‘‘
(لالہ مادھو رام جوہر کانپوری)
۲۔ قیسؔجنگل میں اکیلا ہے مجھے جانے دو
’’خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو‘‘
(میاں داد خاں سیاحؔ)
اور پھر مرزا جی مجھ سے دوبارہ ملنے کا وعدہ لیتے ہوئے رخصت ہو گئے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shamim Iqbal Khan

Read More Articles by Shamim Iqbal Khan: 2 Articles with 875 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Feb, 2017 Views: 497

Comments

آپ کی رائے
very nice article welldone
By: umama khan, kohat on Feb, 04 2017
Reply Reply
0 Like