غالب کے ہاں مہاجر اور مہاجر نما الفاظ کے استعمال کا سلیقہ

(مقصود حسنی, قصور)
ساختیات ایک صحت مند فکری رویے، ہمہ وقت ترقی پذیر سماجی ضرورت اورانتھک تحقیق و دریافت کا نام ہے جو سوچ کوکسی مخصوص ، زمانی ومکانی کرّے تک محدود رہنے نہیں دیتی ۔ یہ نہ صرف معلوم (ڈیکوڈ) مگر غیرا ستوار کرّوں سے تعلق استوار کرتی ہے بلکہ ان سے رشتے ناتے دریافت کرتی ہے۔ اس کا دائرہ کا ر یہاں تک ہی محدود نہیں رہتا بلکہ معلوم مگر غیر دریافت شدہ کرّوں کی طرف پیش قدمی کرکے ان کے حوالوں کو اشیاء ، اشخاص اور ان سے متعلقات وغیرہ کی جذب و اخذ کی صلاحیتوں سے پیوست کر دیتی ہے ۔ یہ پیوستگی مخصوص ، محدود اور پابند لمحوں کی دریافت تک محدود نہیں رہتی اور نہ ہی تغیرات کی صور ت میں جامد وساکت رہتی ہے۔ اس کارد ساخت کا حلقہ ہمیشہ لامحدود رہتا ہے۔
کچھ لوگ ساخت شکنی کو ساخت سے انحراف کانام دیتے ہیں یا سمجھتے ہیں ۔ یہ سوچ ساخت کے ضمن میں درست مناسب اور’’ وارہ کھانے‘‘ والی نہیں ہے۔ ساخت شکنی درحقیقت موجودہ تشریح کو مستردکرکے آگے بڑھنے کانام ہے۔ شاخت شکنی کے بغیر کسی نئے کی دریافت کا سوال پیدا ہی نہیں اٹھتا۔ ساخت شکنی کی صورت میں نامعلوم کائناتیں دریافت ہوکر کسی بھی دال (Signifier) کے ساتھ بہت سارے مدلول (Signified) وابستہ ہو جاتے ہیں۔
کوئی دال غیر لچکدار اور قائم بالذات نہیں ہوتا۔ لچک، قطرے کا سمندر کی طرف مراجعت کا ذریعہ ووسیلہ ہے یااس کے حوالہ سے قطرے کا سمندر بنناہے۔ ساخت شکنی سے ہی یہ آگہی میّسر آتی ہے کہ قطرہ اپنے اندر سمندر بننے کا جوہر رکھتاہے۔ وال کوغیرلچکدار قرار دینا آگہی کے پہلے زینے پر کھڑے رہناہے۔ ہر زندہ اور لچکدار سوچ ازخود آگہی کی جانب بڑھتاہے ۔زندہ اورلچکدار سوچ کو دائرہ کاقیدی ہونا خوش نہیں آتا اور نہ ہی اسے کسی مخصوص دائرے سے منسلک کیا جاسکتاہے۔ یہ ان گنت سماجی رشتوں سے منسلک ہوتاہے۔ اسی بنیادپر گریماکا کہنا ہے:
’’ ساختیاتی نظام ممکنہ انسانی رشتوں کے گوشواروں پر مبنی ہے‘‘(۱)
ڈاکٹر وزیر آغا اس ضمن میں کہتے ہیں :
’’ساختیات نے شعریات (Poetics) کو ثقافتی دھاگوں کاجال قرار دیا ہے ۔وہ تصنیف کی لسانی اکائی یا معنوی اکائی تک محدود نہ رہی بلکہ اس نے تصنیف کے اندر ثقافتی تناظرہ کابھی احاطہ کیا‘‘ (۲) کے وقت شارح کا وجود معدوم ہوجاتاہے اور فکر موجودہ تغیرات کے نتائج سے مدلول اخذ کرتی چلی جاتی ہے جبکہ وقوع میں آنے والے مدلول پھر سے نئی تشریح وتفہیم کی ضرورت رہتے ہیں ۔ اس کے لئے تغیرات کے نتائج اور دریافت کے عوامل پھر حرکت کی زدمیں رہتے ہیں ۔ اس سے ردّ ساخت (Deconstruction) کے مواقع بڑھ جاتے ہیں۔ اگران لمحوں میں شارح جو قاری بھی ہے، کے وجود کو استحقام میسّر رہے گایا اس کا ہونا اور رہنا قرار واقعی سمجھاجائے گا تودریافت کا عمل رک جائے گا۔ مصنف کو لکھتے اور شارع کو تشریح کرتے وقت غیر شعوری طور پر معدوم ہونا پڑے گا۔ شعوری صورت میں ایسا ہونا ممکن نہیں کیونکہ شے یا شخص اپنی موجودہ شناخت (Indentity) سے محروم ہونا کسی قیمت پر پسند نہیں کرتے ۔ شعوری عمل میں نئی تشریحات ، نئے مفاہیم اور نئے واسطوں کی دریافت کے دروا نہیں ہوتے ۔
مصنف، قاری اور شارح نہ صرف دریافت کے آلہ کارہیں بلکہ ہر دال کے ساتھ ان کے توسط سے نیا مدلول نتھی ہوتا چلا جاتاہے۔ اس ضمن میں اس حقیقت کوکسی لمحے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ جب تک مصنف ،قاری اور شارح دریافت کے عمل کے درمیان معدوم نہیں ہوں گے ،نیا مدلول ہاتھ نہیں لگے گا ۔ اسی طرح کسی دال کے پہلے مدلول کی موت سے نیا مدلول سامنے آتاہے۔ پہلے کی حیثیت کوغیر لچکدار اور اس کے موجودہ وجود کے اعتراف کی صور ت میں نئی تشریح یا پھر نئے مدلول(Signified) کی دریافت کا کوئی حوالہ باقی نہیں رہ پاتا۔’’میں ہوں‘‘ کی ہٹ معاملے کی دیگر روشوں تک رسائی ہونے نہیں دیتی۔
رویے ، اصول ، ضابطے اور تغیرات کے وجوہ و نتائج اورعوامل کی نیچر اس تھیوری سے مختلف نہیں ہوتی۔ تغیرات ایک سے ہوں ، ایک طرح سے ہوں ، ایک جگہ ایک وقت سے مختلف نہ ہوں یا پھر ہو بہو پہلے سے ہوں ، سے زیادہ کوئی احمقانہ بات نہیں۔ اگر تغیرات ایک سے وجوہ اور ایک سے عوامل کے ساتھ جڑے نہیں ہوتے توان کے نتائج ایک سے اور پہلے سے کیسے ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں نئی تشریح کی ضرورت کوکیونکر نظرانداز کیا جا سکتا ہے۔
موہنجوداڑو کی تہذیب و ثقافت سے متعلق پہلی تشریحات، موجودہ وسائل اور فکر کی روشنی میں بے معنی ٹھہری ہیں ان کی معدومی پر نئی تشریحات کا تاج محل کھڑا کیا جا سکتاہے۔ ایسے میں معدوم تشریحات پرا نحصار اور ان سے کمٹ منٹ نئی تشریحات کی راہ کا بھاری پتھر ہوگی ۔’’ہے‘‘ اور ’’ہوں‘‘کی عدم معدومی کی صورت میں محدود حوالے ، مخصوص تشریحات یا پہلے سے موجو د مفاہیم کے وجود کوا ستحقام میسّر رہے گا۔
دہرانے یا بار بار قرات کا مطلب یہی ہے کہ پہلے سے انحراف کیاجائے تاکہ نئے حوالے اور نئے مفاہیم دریافت ہوں ۔ پہلی یا کچھ بار کی قر ا ت سے بہت سے مفاہیم کے دروازے نہیں کھلتے ۔ ذراآگے اور آگے (Post) ہی مزید کچھ ہاتھ لگ سکتاہے۔ یہ درحقیقت پہلے سے موجود سے انحراف نہیں بلکہ جو اسے سمجھا گیا یا جو کہا گیا ،سے انحراف اور اس کی موت کا اعلان ہے ۔ اگر وہ درست ہے اورعین وہی ہے، جو ہے تونئی تشریحات کا عمل کوئی معنی نہیں رکھتا اور نہ ہی کثیر الامعنی کی فلاسفی کوئی حیثیت اور وقعت رکھتی ہے۔ ڈاکٹر گوپی چند نارنگ کہتے ہیں:
’’اگر پہلے سے تحریر (ادب) کا وجود نہ ہو تو کوئی شاعر یا مصنف کچھ نہیں لکھ سکتا ۔ جوکچھ اگلوں نے لکھا ہر فن پارہ اس پرا ضافہ (نئے مفاہیم ، نئی تشریح کانام بھی دے سکتے ہیں) ہے‘‘ (۳)
دہرانے کا عمل ’’جو ہے‘‘ تک رسائی کی تگ ودو ہے ۔ یعنی جو اسے سمجھا گیا وہ ، وہ نہیں ہے یاپھر اسے موجودہ ، حالات اور ضرورت کے مطابق سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اسے اسی طرح سمجھنے کی تشنگی ، جس طرح کی وہ ہے، کے حوالہ سے ساختیات کبھی کسی تشریح یا تفہیم کو درست اور آخری نہیں مانتی ۔وہ موجود کی روشنی میں آگے (Post) نہیں بڑھتی کیونکہ یہ موجود کی تفہیم ہوگی اور اصل پس منظر میں چلا جائے گا۔ اس سینار یو میں دیکھئے کہ اصل نئے سیٹ اپ کے بھنور میں پھنس گیا ہوتاہے۔
ساختیات متن اور قرات کو بنیا دمیں رکھتی ہے ۔ ان دونوں کے حوالہ سے تشریح وتفہیم کا کام آگے بڑھتاہے۔ کیایہ تحریر کے وجود کا اقرار نہیں ہے۔ متن درحقیقت خاموش گفتگو ہے۔’’ خاموشی‘‘ بے پناہ معنویت کی حامل ہوتی ہے۔متن کا ہر لفظ کسی نہ کسی کلچر سے وابستہ ہوتاہے۔ اس کلچر کے موجود سیٹ اپ اور لسانی نظام کے مزاج سے شناسائی کے بعد ہی موجودہ (نئی ) تشریح کے لئے تانا بانا بُنا جاسکتا ہے۔ اس تناظر میں متن کی باربار قرات کی ضرورت محسوس ہوتی رہے گی۔
دورانِ قرات اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکے گا کہ لفظ اس کلچر کے موجودہ سیٹ اپ کا ہاتھ تھام کرا س سیٹ اپ کی اکائیوں سے وحدت کی طرف سفر کرتاہے اور کبھی وحدت سے اکائیوں کی طرف بھی پھر ناپڑتاہے۔ ہر دو نوعیت کے سفر ، نئی آگہی سے نوازتے ہیں ۔’’یہ نئی آگہی ‘‘ ہی اس لفظ کی موجودہ تشریح وتفہیم ہوتی ہے۔ قرات کے لئے سال اور صدیاں درکارہوتی ہیں۔ اسی بنیاد پر ڈاکٹر سہیل بخاری نے کہاتھا:
’’ ہزاروں سال کسی زبان کی عمر میں کوئی حقیقت نہیں رکھتے ‘‘ (۴)
ساختیات موضوعیت سے انکار کرتی ہے۔ موضویت چیز ،معاملے یاپھر متن کے حلقے محدود کرتی ہے۔ اس سے صرف متعلقہ حلقے کے عناصر سے تعلق استوار ہو پاتاہے اور ان عناصر کی انگلی پکڑ کر تشریح وتفہیم کا معاملہ کرنا پڑتاہے۔ کیایہ ضروری ہے کہ لفظ یاکسی اصطلاح کو کسی مخصوص لسانی اور اصطلاحی نظام ہامیں ملاحظہ کیا جائے۔ اسے کئی دوسرے لسانی و اصطلاحی سٹمز میں ملاحظہ کیا جاسکتاہے۔ اس طر ح دیگر شعبہ ہائے حیات کا میدان بھی کبھی خالی نہیں رہا ۔ ایسا بھی ہوتاہے کہ اسے ایک مخصوص اصطلاحی سٹم کے مخصوص حلقوں تک محدود رکھاجاتاہے یاپھر مخصوص حوالوں کی عینک سے ملاحظہ کیا جاتاہے۔ ساختیات اسے گمراہ کن روّیہ قرار دیتی ہے اور نہ ہی موجود کے درجے پر فائز کرتی ہے۔
شعر کے کسی لفظ یا اصطلاح کو محض رومانی سٹم سے کیونکر جوڑا جاسکتاہے۔ اس کے علاوہ دیگر کائناتوں ، سماجی ، معاشرتی ، معاشی ، سیاسی نفسیاتی ، بیالوجی، تصوف وغیرہ سے اس کا رشتہ کیوں غلط اور لایعنی سمجھا جائے۔ حقیقی کے ساتھ مجازی ، علامتی ، استعارتی وغیرہ کرّے بھی تو موجود ہیں ۔ استعارہ ایک علامت کیوں نہیں یاکسی استعارے کے لئے ، علامتی کرّے کا دروازہ کیوں بندرکھا جائے ۔ یا یہ دیکھا جائے کہ مصنف نے فلاں حالات ، ضرورتوں اور تغیرات سے متاثر ہوکرقلم اٹھایا ۔ مصنف لکھتا ہی کب ہے وہ تومحض ایک آلہ کار ہے۔ تحریر نے خود کولکھا یا تحریر خود کو لکھتی ہے۔ اس ضمن میں چارلیس چاڈ و کا کہنا ہے:
’’لسانی لحاظ سے مصنف صرف لکھنے کاایک ایما (Instance) ہے۔ جس طرح ’’میں‘‘ کچھ نہیں سوا ایک ایما ’’میں‘‘ کے ۔ زبان ایک فاعل کو جانتی ہے(اس کی ) شخصیت کو نہیں‘‘ (۵)
قاری جو شارح بھی ہے مصنف کے حالات اور ضرورتوں سے لاتعلق ہوتاہے۔ وہ الگ سے کرّوں میں زندگی گزار رہاہوتاہے۔ اس کے سوچ کے پنچھی مصنف کے کرّوں سے باہربھی پرواز کرتے ہیں بالکل اسی طرح جس طرح مصنف اپنے Living سے باہرکی بات کر رہا ہوتا ہے۔ قاری اور مصنف جن جن کرّوں میں زندگی کر رہے ہوں ان میں ذہنی طور پر ایڈجسٹ بھی ہوں ، لازمی امر تونہیں ۔ ان کی فکری Living کئی اور بہت سی کائناتوں میں ہوسکتی ہے۔ سوچ لیونگ کرّے سے باہر متحرک ہوتاہے۔ اس بات کو یوں بھی کہاجاسکتاہے کہ لیونگ کرّے میں اس کے سوچ کا، لیونگ کرّہ قرار نہیں دیا جاتا۔’’یہاں‘‘ا س کا سوچ ہمیشہ مس فٹ رہتاہے۔ اس تناظر میں ’’یہاں ‘‘ سے آزادی مل جاتی ہے جبکہ ’’وہاں ‘‘ کے مطابق قرات عمل میں آئے گی اور تشریح کا فریضہ ’’وہاں ‘‘ کے مطابق سر انجام پائے گا۔ اس (موجود) کرّے میں ان کی موت کا اعلان کرنا پڑے گا ۔قرات اور تشریح کے لئے ’’اس ‘‘تک اپروچ کرنا پڑے گی۔
سوچ کوئی جامد اور ٹھوس شے نہیں ۔ اسے سیماب کی طرح قرار میسّر نہیں آتا ۔یہ جانے کن کن کرّوں سے گزرتے ہوئے لاتعداد تبدیلیوں سے ہمکنار ہوکر معلوم سے نامعلوم کی طرف بڑھ گیا ہو۔ ایسے میں قرات اور تشریح وتفہیم کے لئے اَن سین اور اَن نون کی دریافت لازم ٹھہرے گی ۔ بصورت دیگر بات یہاں (موجود) سے آگے نہ بڑھ سکے گی۔ سکوت موت ہے اورموت سے نئی صبح کا اعلان ہوتاہے۔
ساختیات ایک یاایک سے زیادہ مفاہیم کی قائل نہیں ۔یہ بہت سے اور مختلف نوعیت کے مفاہیم کو مانتی ہے۔ پھر سے ، اس کا سلیقہ اور چلن ہے ۔ کثرتِ معنی کی حصولی اس وقت ممکن ہے جب لفظ یاشے کے زیادہ سے زیادہ حوالے رشتے دریافت کئے جائیں ۔ یہ کہیں باہر کاعمل نہیں بلکہ تخلیق کے اپنے اند رچپ اختیار کئے ہوتاہے۔ دریافت ، چپ کو زبان دینا ہے۔ اس بنیاد پر لاکاں نے کہتاہے
’’یہ دیکھنا ضروری نہیں کہ کرداروں کی تخلیق کے وقت کون سے نفسیاتی عوامل محرک گردانے جاتے ہیں بلکہ سگینفائرز یادال کو تلاش کرکے یہ دیکھا جانا چاہیے کہ ان میں سے کون سے علامتی معنی ملتے ہیں اور لاشعور کے کون سے دبے ہوئے عوامل ہیں جو تحریر کا جامہ پہن کر ممکنہ مدلول کی نشاندہی کرتے ہیں‘‘۔ (۶)
علامت ، جودکھائی پڑرہاہے یا سمجھ میں آرہاہے وہ نہیں ہے، کی نمائندہ ہے۔ دکھائی پڑنے والے کرّے سے اس کا سرے سے کوئی تعلق نہیں ۔ تندوے کی طرح اس کی ٹانگیں ان کرّوں میں بھی پھیلی ہوئی ہوتی ہیں ۔ جو اَن سین اور اَن نون ہیں ۔ کیاتندوے کی ٹانگوں اور ان کی پہنچ کو تندوے سے الگ رکھا جاسکتاہے۔ گویا کوئی متن محدود نہیں ہوتا جتنا کہ عموماً اسے سمجھ لیا جاتاہے۔ کسی کلچر/ کرّے کی سروائیول کا انحصار بھی اس بات پر ہے کہ اردگرد سے اسے منسلک رکھا جائے ۔ وہاں درآمد و برآمد کا سلسلہ تعلق اور رشتہ کے حوالہ سے پاؤں پسارتا ہے ۔ اس حوالہ سے لفظ کے’’ کچھ معنی‘‘ کافی نہیں ہوتے ۔ کثیر معنوں پر لفظ کی حیثیت اور بقا کا انحصار ہوتاہے۔
بعض حالا ت میں لفظ کا مخصوص اکائیوں سے پیو ست ہونا ضروری ہو جاتاہے۔ تاہم اکائیوں سے وحدت کی طرف اسے ہجرت کر ناپڑتی ہے۔ لفظ کی ساخت میں لچک تسلیم کرنے کی صورت میں ہر قسم کاسفر آسان اور ممکن ہوتاہے۔ اس حوالہ سے بڑی وحدت میں نتھی ہونے کے لئے کثیر معنوں کا فلسفہ لایعنی نہیں ٹھہرتا۔
لفظ تب اصطلاحی روپ اختیار کرتاہے اور انسانی بردار کا ورثہ ٹھہرتاہے جب اس کے استعمال کرنے والے بخیل نہیں ہوتے ۔ اس لفظ کی اصطلاحی نظام اور انسانی زبان میں ایڈجسٹمنٹ اس کی لچک پذیری کو واضح کرتی ہے اور یہ بھی کہ وہ سب کا اور سب کے لئے ہے۔ لفظ نقش کو بطور مثال لے لیں یہ بے شمار کرّوں میں کسی وقت کے بغیر متحرک ہے اور بے شمار مفاہیم میں بیک وقت مستعمل ہے ۔ مزید مفاہیم سے پرہیز نہیں رکھتا۔
ہر لفظ کے ساتھ باربار دہرائے جانے کا عمل وابستہ ہے اور یہ عمل کبھی اور کہیں ٹھہراؤ کا شکار نہیں ہوتا۔ ہاں بکھراؤ کی ہر لمحہ صورت موجود رہتی ہے۔ ڈاکٹر وزیر آغا کے نزدیک :
’’ شعریات بطور ایک ثقافتی سٹم تخلیق کے تارو پود میں ہی نہیں ہوتی بلکہ اپنی کارکردگی سے تخلیق کو صور ت پذیر بھی کرتی ہے قاری کا کام تخلیق کے پرتوں کو باری باری اتارنا اور شعریات کی کارکردگی پر نظر ڈالنا ہے‘‘۔(۷)
تخلیق کے پرتوں کو باری باری اتارنا ،دہرائے جان®