جنات کا غلام حصہ دوم قسط (3)

(محمد فاروق حسن, ڈسکہ)
ان راہوں پر چلنے والے ان مصیبتوں کو خوب جانتے ہیں کہ کسی نامکمل عمل کے نتیجے میں اسے کتنی مصیبتوں سے پالا پڑسکتا ہے۔وہ زندگی بھر کے لئے عقل و فہم سے نابلد ہوجاتا،مدہوش زندگی گزارتا،معذور ہوجاتا،تڑپ تڑپ کر مرتا اور نہ جانے اسکے عزیزوں کو بھی کن کن مصیبتوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ اسی لئے سیانے کہتے ہیں کہ مرشد کامل کی مدد کے بغیر کبھی عامل نہیں بننا چاہئے۔ لیکن جنات اور ہمزاد و موکلان کی محبتوں کے جنون میں مبتلا ہونے والے اس احتیاط کو مدنظر نہیں رکھتے ۔جہاں تک میں جانتا ہوں،بہت سے عامل بھی یہ راز نہیں جانتے ہوں گے کہ جنات کے بھی ہمزاد ہوتے ہیں ،یہ تو غازی جیسا میرا دوست تھا جس نے ایسے راز سے آگاہ کردیا تھا ۔میں تو اپنی غلطی کی وجہ سے اس حالت تک پہنچا تھا اور آج ایک انسان کی مدد کرنے کی غرض سے میں موت کے منہ میں جارہا تھا،ماہی بے آب کی طرح ہوا میں تڑپ رہا تھا۔
’’ یار بندہ بشر ہوں غلطی تو ہوسکتی ہے ۔اگر کبھی غلط عمل کربیٹھوں تو مجھے کیا کرنا چاہئے‘‘ میں نے پوچھا
’’ واہ جی واہ۔مفت میں تو نہیں بتا سکتا ‘‘ اس نے ہاتھ لہرا کر کہا’’ کوئی کھانے پینے کی رشوت ہوجائے ذرا‘‘
’’ چل بول کیا کھاؤ گے۔کالا بکرا،کالا مرغا یا آئس کریم ‘‘
’’کھی کھی کھی۔۔۔ اگر آئس کریم کے ساتھ مور کا گوشت مل جائے تو بات بن سکتی ہے۔۔۔‘‘ اس نے ندیدوں کی طرح زبان لبوں پر پھیری۔
’’ تیرا دماغ تو ٹھیک ہے۔یاد ہے بابا جی نے تمہیں مور کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا اور آئس کریم سے دور رہنے کی ہدایت کی تھی‘‘ میں نے اسے یاد دلایا۔
’’ ہاں مگر ۔۔۔ وہ کہتی ہے کہ مور کھانے سے حسن میں اضافہ ہوتا ہے اور آئس کریم کھانے سے میں گانا بہت اچھا گاسکتا ہوں‘‘ غازی نے اپنی منگیتر کو یاد کرکے کہا’’ مگر جب میں اسے کہتا ہوں تو بھی یہ چیزیں کھایا کر تو کہتی ہے جن زادیوں کو ایسی چیزیں کھانا منع ہے ۔میں کسی حکیم جنّ سے پوچھوں گا کہ جو چیز ایک جنّ کھاسکتا ہے تو جن زا دی کیوں نہیں کھا سکتی‘‘

میں نے غازی کے لئے مور کا گوشت اور آئس کریم کا بندوبست کیا اور وہ چٹ کرنے کے بعد مجھے راز بتانے پر رضا مند ہوا۔
’’ ہاں اُس وقت تم اپنا حصار کرلینا اور حزب البحر پڑھنا شروع کردینا اور کسی بھی صورت حصار سے باہر نہ نکلنا۔ادھورا عمل پڑھنے سے میرا ہمزاد ظاہر ہوجائے گا جوتم کو نقصان پہنچائے گا‘‘ اسکی بات سن کر میں حیرت میں ڈوب گیا کہ کیا جنات کا بھی ہمزاد ہوتا ہے۔غازی نے مجھے حزب البحر پڑھنا سکھایا ۔حضرت امام شازلی ؒ کی یہ دعا کافی طویل ہے ۔میں تو اسے زبانی یاد نہ کرسکا ۔غازی کو ازبر تھی۔بولا ’’ حزب البحر مسلمان جنات کو بہت زیادہ پسند ہے ۔وہ اسکی قوت وبرکات سے بڑے بڑے کام کرجاتے ہیں ۔خاص طور پر انہیں اپنے دشمن کے خلاف اس دعا کی برکت سے فتح نصیب ہوتی ہے ۔جنات نے اپنی بستیوں کابھی حزب البحر سے حصار باندھ رکھا ہے۔‘‘ میں نے بعد میں بہت کوشش کی کہ حزب البحر کا عامل بن جاؤں اور غازی سے اسکی باقاعدہ تربیت لے لوں لیکن مصروفیات حیات میں یہ ممکن نہ ہوسکا ،تاہم میرے پاس حزب البحر کا ایک کتابی نسخہ موجود رہا کرتا تھا ۔لیکن اس وقت وہ بھی میری دسترس سے دور تھا۔
اس دوران مجھ سے ایک غلطی یہ ہوگئی کہ میں نے حصار پہلے باندھ لیا تھا لیکن حزب البحر میرے پاس نہیں تھی ۔اگر میں حصار توڑ کر نکلتا تو یہ میرے لئے دوہری مصیبت کا باعث بن جاتا ۔بالفرض میں نے غازی کو بلانے کے لئے جو عمل کیا تھا ،وہ درست بھی ہوتا تو تب بھی مجھے حصار میں ہی بیٹھ کر اسکی آمد کا انتظار کرنا تھا ،حصار سے باہر جانے کی صورت میں غازی آبھی جاتا تو اسکو عمل کے سحری اثرات سے نقصان پہنچ سکتا تھا ۔۔۔ اور کسی دوست جن زادے کو عمل سے نقصان پہنچانااچھی بات نہیں سمجھی جاتی۔ایسی صورت میں جن زادے کی قوت مسخر میں کمی ہوتی ہے اور بسا اوقات اسکی ہلاکت بھی ہوجاتی ہے۔بھلا غازی کے ساتھ میں ایساکیسے کرسکتا تھا۔میں اپنی جان تو دے سکتا تھا لیکن غازی کو نقصان پہنچانے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔وہ یارمن تھا۔
میں اسی شش وپنج میں مبتلا تھا کہ کیا کروں کیا نہ کروں؟۔پھر میں نے سوچا کہ مجھے دوبارہ عمل کرنا چاہئے ۔میں ایک طویل عرصہ بعد غازی کو یاد کرنے کا یہ عمل کررہا تھا لہذا دل میں وسوسہ پیداہونا فطری بات تھی کہ کہیں عمل میں کسی لفظ کے تلفظ کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی نہ برت بیٹھا ہوں۔یہ عمل کوئی لمبا چوڑا تو تھا نہیں ۔اسمائے ربیّ میں سے چند اسما ء مبارکہ تھے جن کی تاثیر سے غازی پردۂ غیب سے باہر آنے کی قوت حاصل کرتا تھا ۔میں نے دوبارہ عمل کرنا شروع کیا ہی تھا کہ کمرے میں کوئی شے دھپ سے آکر گری۔اسکی بھاری بھاری گرم اور باسی سانسیں مجھے صاف سنائی دے رہی تھیں ۔معاً مجھے احساس ہوگیا کہ یہ غازی نہیں ہوسکتا اور میں عمل غلط پڑھ چکا ہوں ۔جبکہ دوسری بار عمل پڑھتے ہوئے مجھے صرف ایک منٹ ہی ہوا تھا ۔

۔۔۔تو کیا یہ غازی کا ہمزاد تھا ،کسی انسان کے ہمزاد کا نام تو سن رکھا تھا لیکن ایسے کسی ہمزاد سے ملاقات اس وقت مجھے یاد نہیں تھی کجا ایک جنّ کے ہمزاد سے ملاقات کرنا عجیب سا احساس پیدا کررہا تھا جبکہ غازی کہہ چکا تھا کہ یہ نقصان پہنچاتا ہے تو اسکا مطلب یہ ہو اکہ جنات کے ہمزاد کا شرُ ان سے بھی زیادہ ہوتا ہے ۔ یہ بات تو میں بتا چکا ہوں کہ جنات انسانوں سے زیادہ شر پسند ہوتے ہیں ،ان میں فتور کی قدرت زیادہ ہوتی ہے کیونکہ آگ سے بنی ہوئی مخلوق میں نار فطرت بھڑکتی رہتی ہے ۔
میں دل میں خوف محسوس کررہا تھا لیکن میں نے عمل پڑھنا جاری رکھا بلکہ پہلے میں خفی طور پر پڑھائی کررہا تھا لہذا اپنا خوف زائل کرنے کے لئے عمل جہر شروع کردیا۔یہ سنتے ہوئے غازی کا ہمزاد ڈکرایا تو باسی سانسوں کا بھبھوکا سونگھ کر میری سانس اٹکی اور میں لحظہ بھر کے رکا۔کمرے میں اے سی لگا ہو اتھا لیکن مجھے محسوس ہورہا تھا کہ اس عفریت نما ہمزاد کی موجودگی سے کمرے میں حبس اور گرمی بڑھ گئی ہے۔
’’ چپ کر ‘‘ وہ لفظ کھینچ کھینچ کر بولا ،کسی مجہول کی طرح ۔
میں نے اسکی سنی ان سنی کی ،عمل پڑھتا رہا بلکہ آواز مزید اونچی کردی۔اسے میری میری جسارت ناگوار گزری اور کسی گرم بگولے جیسا ایک تھپڑ میرے منہ پر جڑدیا،تھپڑ کی شدت بہت زیادہ تھی ،میں الٹ کر حصار سے باہر تک لڑہک گیا۔ پھر اس نے مجھے گریبان سے پکڑ کراٹھایا اورمیرا سر چھت سے جا ٹکایا ،شکر ہے اس وقت کمرے کا پنکھا نہیں چل رہا تھا ورنہ سر اس ے ٹکراتا اور اسکے پرخچے اڑجاتے۔
میں پڑھائی بھول گیا اور یوں دوسری باربھی میرا عمل ادھورارہ گیا۔
ان راہوں پر چلنے والے ان مصیبتوں کو خوب جانتے ہیں کہ کسی نامکمل عمل کے نتیجے میں اسے کتنی مصیبتوں سے پالا پڑسکتا ہے۔وہ زندگی بھر کے لئے عقل و فہم سے نابلد ہوجاتا،مدہوش زندگی گزارتا،معذور ہوجاتا،تڑپ تڑپ کر مرتا اور نہ جانے اسکے عزیزوں کو بھی کن کن مصیبتوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ اسی لئے سیانے کہتے ہیں کہ مرشد کامل کی مدد کے بغیر کبھی عامل نہیں بننا چاہئے۔ لیکن جنات اور ہمزاد و موکلان کی محبتوں کے جنون میں مبتلا ہونے والے اس احتیاط کو مدنظر نہیں رکھتے ۔جہاں تک میں جانتا ہوں،بہت سے عامل بھی یہ راز نہیں جانتے ہوں گے کہ جنات کے بھی ہمزاد ہوتے ہیں ،یہ تو غازی جیسا میرا دوست تھا جس نے ایسے راز سے آگاہ کردیا تھا ۔میں تو اپنی غلطی کی وجہ سے اس حالت تک پہنچا تھا اور آج ایک انسان کی مدد کرنے کی غرض سے میں موت کے منہ میں جارہا تھا،ماہی بے آب کی طرح ہوا میں تڑپ رہا تھا۔
’’ غازی پر تجھے بڑا مان ہے ۔اگر تو مجھے یار بنا لیتا تو میں تیری رکھشا کرتا ،تجھے جیون کی لذتوں سے مالامال کرتا۔۔۔۔۔۔ ‘‘ اس نے میرا گلا دباتے ہوئے کہا’’ تو اگر چاہے تو میں بھی تیرا دوست بن سکتا ہوں لیکن تجھے یہ دوستی میری شرطوں پر کرنی ہوگی،ورنہ گلا دبا کر ادھر ہی مارچھوڑوں گا تجھے‘‘
میں نے پھڑپھڑاتے ہوئے بمشکل کہا’’ اچھا۔۔۔‘‘ اس سے زیادہ تو بولا نہیں جاسکتا تھا ۔

اس نے مجھے اتارنے کی بجائے اوپر ہی چھوڑ دیا اور میں جب نیچے گرا تو ٹانگیں دوہری ہوگئیں اور کمر ساکت وتختہ۔بے حس ہوکر پڑا رہا۔۔۔ لمبی لمبی سانسیں لیکر ہوش سنبھالنے لگا۔
’’ بول منظور ہے‘‘ وہ چہرہ میرے قریب لیکر آیا تو میں نے خوف سے آنکھیں بند کرلیں ،انتہائی مکروہ شکل،آنکھین ماتھے تک دراز ،ناک کے نتھنے کانوں تک پھیلے ہوئے اور کان غائب ،دانتوں کی جگہ جیسے لوہے کے کیل گڑھے ہوئے ہوں۔لب موٹے اور لٹکے ہوئے۔۔۔ اسکا چہرہ آج بھی میرے یادداشتوں کی سلیٹ پر کندہ ہے۔
’’ مجھے کیا کرنا ہوگا‘‘ میں نے آنکھیں بمشکل کھولیں۔
’’ ہاں ۔یہ جو تو پڑھ رہا تھا،اسکو الٹ ترتیب سے پڑھ اور اس میں ساتھ یہ ملا کر پڑھ‘‘ اس کی بات سنتے ہی میرے لبوں سے بے اختیار نکلا’’ لاحول ولا قوۃ۔یہ تو کفریہ کلمے ہیں اورمیں تو یہ نہیں پڑھ ۔۔۔‘‘
میرا جملہ مکمل ہونے سے پہلے اس نے مجھے پھر گلے سے دبوچا’’ جانتا ہے ۔لاکھوں تیرے جیسے مسلمان ترستے ہیں اس عمل کو پانے کے لئے ،اور تو گھر آئی سوغات کو لات مارتا ہے‘‘

’’ جانتا ہوں لیکن میں اپنے ربّ کے کلمے کو چھوڑ کر شیطان کا کلمہ نہیں پڑھ سکتا۔‘‘ میں بمشکل زور لگا کر بولا’’ اس سے مرنا بہتر ہے ‘‘
اس نے نفرت اور غصے سے مجھے لات ماری اور میرا سر دیوار سے ٹکرایا۔بس مجھے اتنا یاد ہے،میرے لبوں سے کراہ نکلی تھیمجھے قدرے ہوش آیا تواس وقت تک کافی وقت گزر چکا تھا،میرا سر بھاری تھا،چوٹ بڑی زور دار تھی جس کی وجہ سے حسیات مکمل طور پر جاگنے میں ناکام ہورہی تھیں۔میں آنکھیں بند کرکے دماغ پر زور دینے لگا کہ شاید مجھے خود کو سنبھلنے کا موقع مل جائے ۔یہ تو مجھے یاد تھا کہ میرے ساتھ کیا ہوا ہے لیکن میری بے ہوشی کے دوران کیا کچھ ہوا ہوگا یہ مجھے یاد نہیں تھا۔میں آنکھیں کھولنے کی بجائے دم سادھے ہی لیٹا رہنا چاہتا تھا تاکہ غازی کے ہمزاد کو میرے ہوش میں آنے کا علم نہ ہوسکے ،بڑی جستجو اور توجہ سے میں نے ذہن کو یکسو کرنے کی کوشش کی اور اپنے دولطائف میں تعلق اور یکسوئی پیدا کرتے ہوئے اخفااور قلبی پر ذکر کا مخصوص انداز اختیار کیا اور کسمسایاتو اچانک ہمزاد کا قہقہہ گونجا .
’’ بڑا چالاک بنتا ہے تو ۔۔۔تو کیا سمجھتا ہے میں تیرے ڈرامے سے بے خبر ہوں ۔تیری رگ رگ سے واقف ہوں ،غازی تجھے اتنا نہیں جانتا مسنے جتنا میں جانتا ہوں ‘‘
وہ قہقہے لگا کر میری بے بسی کا مذاق اڑاتا رہا۔

’’ تم سمجھتے ہوں جنّ بڑی طاقتور مخلوق ہوتے ہیں ،آج میں تیرا یہ مغالطہ بھی دور کردوں گا۔جنات کا ہمزاد جنات سے زیادہ قوی ہوتا ہے ۔اسے ان خبروں کا بھی علم ہوتا ہے جسے وہ نہیں جان سکتے لیکن تم تو لاعلم اور بے بس ہو۔۔۔ کیا تم وہ کچھ کرسکتے ہو جو میں کرسکتا ہوں ‘‘
’’ میں واقعی کچھ نہیں کرسکتا ،صرف میرا اللہ کرتا ہے۔میرے اندر تو ایک مچھر کو پکڑ کر مارنے کی قوت نہیں ہے لیکن میرا اللہ چاہے تو میں تیرے جیسے خناس کو بھی مارسکتا ہوں‘‘ میں نے اپنی قوت کو یکجا کرکے کہا۔
’’ ہم بھی اللہ کو مانتے ہیں لیکن تم جیسے لوگوں کی طرح اللہ کی مانتے نہیں ۔یہی ہماری سرشت ہے ‘‘ اس نے کھلا اعتراف کیا’’ میں تم سے بحث نہیں کرنا چاہتا، تمہیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس حقیقت کو تسلیم کرلو کہ جو عمل تم نے پڑھا تھا اسکی قوت تسخیر سے آیا ہوں اور جا میں اس وقت ہی سکتا ہوں جب تو یہ کلمہ پڑھے گا،آنے اور جانے کے علم کا اذن چاہئے ہوتا ہے‘‘
اس سے پہلے کہ میں اسکو جواب دیتا ،ایک خیال میرے دل میں آیا اور میں نے کہا’’ تو دیکھ رہا ہے میں خود کو بہت کمزور محسوس کررہا ہوں ۔مجھے کچھ وقت دے میں اپنے حواس پر قابو پالوں تاکہ تیرے ساتھ سکون سے بات کرسکوں ،پھر جو تو کہے گا میں اس پر عمل کروں گا ‘‘ جان بچانے اور اس سے نجات حاصل کرنے کے لئے میں خفی طور پر اپنے اللہ سے تعلق جوڑنا چاہتا تھا ۔انسان جب قلب میں اللہ کا ذکر کرتا ہے تو سوائے اللہ عزّوجل کی ذات رحیم کے کوئی فرشتہ بھی جان نہیں پاتا کہ ذاکر اپنے اللہ سے کیا رازونیازکررہا ہے۔اس سے بہتر کوئی اور موقع نہیں ہوسکتا تھا کہ میں خفی طور پر ذکر کرتا ہوا اللہ کی پناہ میں چلا جاؤں اور اس شیطانی عفریت کے کفریہ عزائم سے بچ سکوں ۔اللہ تو شان والا ہے،وہ اپنے بندے پر بڑا ہی رحم کرتا ہے۔نفی اثبات کا ذکر ایسی دولت ہے جو بندے کو اپنے اثرات اور فیض کی بُکل میں لپیٹ لیتا ہے۔میں نے اس روز نفی اثبات کا ذکربالکل ساکت ہوکر سانسوں کو اعتدال میں لاکر شروع کیا تھا تاکہ اسکو احساس نہ ہوسکے کہ میں کسی ذکر میں مشغول ہونے کے لئے اس سے وقت لے رہاہوں ۔اللہ کریم نے میری مدد فرمائی اور کچھ ہی دیر میں مجھے اپنے اندر روحانی قوت کے بیدار ہونے کا احساس ہونے لگا۔میرا یقین اور اعتمادبڑھ گیااور میں سیدھا ہوکر بیٹھ گیا۔
کمرے میں کافی اندھیرا تھا لیکن مجھے ہمزاد کا سیاہ ہیولا دکھائی دے رہا تھا۔
’’ تم چاہتے ہو کہ میں تمہارے ساتھ دوستی کرلوں اور تم غازی سے زیادہ محبت کرو گے مجھ سے ؟‘‘ میں نے آہستہ سے پوچھا لیکن اس دوران برسوں کی ریاضت میرے کام آرہی تھی ۔میراقلبی ذکر جاری ہوچکا تھا،یہ اللہ کی خاص عطا ہوتی ہے کہ انسان جب ذات کریم کے ذکر کا عادی ہوجاتا ہے تو اسکا دل ذاکر ہوجاتااور ہاتھ زبان چاہے دنیا داری میں مصروف ہوں ،اسکے ذکر میں کوئی شے حائل نہیں ہوتی۔


’’ چاہتا تو یہی ہوں لیکن اسکے لئے تمہیں میرا عملِ اسیر کرنا ہوگا ‘‘ یہ کہتے ہوئے اس نے بدبودار سانس ایسے میرے منہ پر چھوڑی جیسے عیاش سگریٹ نوش دھویں کا مرغولہ چھوڑتا ہے۔
’’ کیا کوئی دوسرا راستہ ہے‘‘ میں نے کہا’’ دیکھو میں نے غازی کو کسی عمل سے اسیر نہیں کیا ۔وہ تو باباجی کی محبت کی وجہ سے میرے ساتھ جڑ گیا تھااور آج برسوں بعد میں اسے ایک کام کی غرض سے بلا رہا تھا ۔‘‘
’’ تم نے عمل تو کیا ہے تبھی میں آیا ہوں۔اگر تم نے غلط عمل کیا ہے تو اس کا نتیجہ تمہیں بھگتنا ہی ہوگا ۔ جان سے جاؤ گے‘‘ ہمزاد نے ذرا تیز لہجے میں دھمکایا۔
’’ اگر تو تمہیں میری جان لیکر سکون مل سکتا ہے تو میرے دوست تم میری جان لے سکتے ہو۔ٹھیک ہے میں میں مانتا ہوں مجھ سے یہ عمل غلط ہوگیا تھا لیکن تم یہ بھی تو سمجھ سکتے ہو کہ اس میں بھی اللہ کی مشیت ہوگی کہ میری اور تمہاری ملاقات ہوگئی۔ویسے میں نے سنا ہے کہ کسی اچھے انسان کا ہمزاد بھی اچھا ہوتا ہے اور اچھے جن کا ہمزاد بھی اچھا ہی ہونا چاہئے ۔مجھے تو تمہاری باتوں سے بڑی حیرانی ہورہی ہے کہ ایک مسلمان جن کے ہمزاد ہو مگر کفریہ کلمے پڑھتے ہو۔۔۔ایسا کیوں ہے؟‘‘ میں نے اسے باتوں میں مشغول کرنے کے سوال کیا۔
وہ ڈکرایا اور کراہت سے بھری ابکائی لیکر لمبی سی سانس ایسے چھوڑی جیسا گیس کا کوئی مریض بدحال ہوکر پیٹ ہلکا کرتا ہے۔خدا جانتا ہے اسکی سانس اور ہوا میں کتنی ناگوار بو تھی۔اگر میں اس لمحے سانس نہ روک لیتا تو اسکی ہوا سے میری ہوا قبض ہوجاتی ۔
اس نے کسلمندی کے انداز میں اپنی گردن کو ادھر ادھر جھٹکا ’’ تمہارے پاس کھانے کے لئے مور کا گوشت ہے۔۔۔‘‘
’’ مور۔۔۔ تم کھانا چاہتے ہو؟‘‘ مجھے اسکے رویہ اور انداز میں جیسے تبدیلی سی محسوس ہوئی۔یہ نفی اثبات اور ذکر کے اثرات کا نتیجہ تھا کہ اس کا دل موم ہورہا تھا۔میرا سوہنا ربّ اپنی اس مخلوق کے دلوں میں بھی اپنے ذاکروں کی محبت و الفت اور نرمی ڈال دیتا ہے۔
’’میں بھی کھانا چاہتا ہوں اور میرا ہمزاد بھی اسکو کھانا چاہتا ہے‘‘ اس نے ناگواری کے انداز میں بائیں جانب دیکھا تو میں ہڑبڑا کر چونکا۔مجھے دیوار پر چھوٹا سا ہیولا نظر آیا۔
’’ کیا تمہارا بھی ہمزاد ہے‘‘ میں نے پوچھا ’’ تم غازی کے ہمزاد اور وہ تمہارا ہمزاد ۔۔۔ پرت در پرت،روح در روح ۔۔۔ یہ کیسا نظام ہے ‘‘
’’بڑا عجیب نظام ہے۔خالق نے مخلوقات کو نہ جانے کیسے کیسے وجود عطا کئے ہیں۔ہر وجود کے اندر ایک وجود ہے۔ایک لمبا سلسلہ ہے۔ایک غازی کا جنم ہوتا ہے تو اسکے پیچھے ہمزادوں کی لمبی قطار ہوتی ہے۔اس قطار کا پہلا اور آخری سرا بحر علم سے جڑا ہوا ہے۔ہمارا اور تمہارا خالق ایک ہے لیکن ہماری اور تمہاری دنیائیں مختلف ہیں۔ہم ہوا میں بستیاں بساتے ہیں،ہوا کے ایک ایک ذرّے میں روح ہے ،ہوا زندہ ہوتی ہے ،پانی میں روحیں ہوتی ہے۔ایک ایک بوند میں روح کا عمل ہے جو انسان کے اندر جاتی ہیں


اور اسکو آباد و قائم رکھتی ہیں ۔ہم تم انسانوں کے اندر ہوا بن کر بھی جاتے ہیں اور پانی بھی،لیکن کب ،یہ راز ہے۔ تم انسان بہت بڑی چیز ہو،تم انسانوں کے اندر سارے جہانوں کی مخلوقات کا علم اور وجود ہے۔بس اسکو جاننا ضروری ہے۔۔۔‘‘ اس نے پھر انگڑائی لی اور بولا ’’ مجھے کھانے کے لئے مور لادو ورنہ میں تمہیں کھاجاؤں گا‘‘۔
مور جنات کو بڑا مرغوب پرندہ ہے ۔غازی تو اسکا شیدائی تھا ۔ظاہر ہے اسکا ہمزاد کیسے پیچھے رہ سکتا تھا اور پھر وہ اکیلا تھوڑی تھا،اسکا ہمزاد بھی اسکے ساتھ آیا ہوا تھا ۔میں نے اپنے ذہن کو الجھنوں میں ڈالنے کی بجائے اسکے لئے مور کا بندوبست کردیا ۔یہ مت پوچھیں کہ میرے پاس مور کہاں سے آگیاتھا۔میرے ایک دوست کو مور پالنے کا شوق تھااور اسکا گھر بھی قریب تھا ،میں نے اسکو فون کرکے مور منگوایا اور اسے تاکید کی تھی کی فٹافٹ سیاہ مور لیکر آجائے۔اس کو معلوم تھا کہ مور میں کیوں منگواتا ہوں لہذا اس نے مہربانی کی اور مجھے مور دیکراشتیاق کے مارے پوچھنے لگا’’ غازی آیا ہے‘‘؟
’’ ہاں‘‘ میں نے اسے تسلی دی’’ بس آنے والا ہے‘‘
’’ ہیں ۔۔۔ ‘‘ وہ ہاتھ ملنے لگا ’’ وہ میرا کام بھی بولنا بھائی اسکو ‘‘
’’ ہاں ہاں ۔۔۔ کہوں گا‘‘ میں مور لیکر کمرے کی جانب چلا تو مور میرے ہاتھوں میں اچھلنے لگا،بے اختیار چیخیں نکالنے لگا ۔اسکے پیروں کو رسی سے باندھا نہ ہوتا تو زورآوری کرتا ہوا میرے ہاتھوں سے نکل جاتا ۔میں بڑی مشکل سے اسکو سنبھالتا ہوا کمرے میں پہنچا تو مور کی چیخیں یکایک گھٹ سی گئیں۔
مور کو دیکھتے ہوئے ہمزاد دیوانے کی طرف لپکا اور اسے لیکر دیوار کے پاس بیٹھ گیا۔میں نے مور کی آخری چیخ سننے سے پہلے دیوار میں دوعجیب سے سائے دیکھے تھے جو جانوروں کی طرح اپنے شکار کو چاٹ رہے تھے۔انکی چپڑ چپڑ اور تیز تیز سانسوں سے لگ رہا تھا جیسے وہ برسوں کے بھوکے ہوں ۔
کچھ ہی دیر بعد ہمزاد نے ڈکار لیا اور میری طرف پلٹا،اب کی بار اسکی بدبودار سانسوں سے مجھے کوفت نہیں ہوئی تھی۔’’ دل خوش کردیا ۔کمینہ پہلے اکیلا مور کھا جاتا تھا ،اب ہم دونوں نے کھایا ہے تو جی بھر گیا ہے ۔کیا تو ہمیں مور کھلایا کرے گا‘‘اس کا رویہ دوستانہ ہورہا تھا۔
’’ کیوں نہیں میرے دوست۔اگر تمہیں مور پسند ہیں تو بسم اللہ ۔جب کہو گے کھلا دیا کروں گا ‘‘ میں نے خوش ہوکراسکا دل پرچانے کی کوشش کی ۔
’’ ٹھیک ہے۔اب تم غازی کو نہیں مجھے مور کھلایا کروگے اور میں تمہارے کام بھی کردیا کروں گا‘‘ اس نے سینہ تان کر کہا’’ تم بھی کیا یاد کروگے ۔آج جنّاتی تم سے وعدہ کرتا ہے کہ تم میرے دوست ہو،میں تمہارا معمول موکل نہیں ہوں ۔اس لئے کہ دوستی کی شرائط میں برابری ہوتی ہے ۔تم مجھے کوئی حکم نہیں دے سکتے اور نہ میں تمہیں ۔۔۔ لیکن دوست ہونے کے ناطے جنّاتی تمہیں مایوس نہیں کرے گا۔۔۔بولو کیا کام کرنا ہے؟‘‘


میں نے سب سے پہلے بابر حسین کا مسئلہ اسے بتایا تو اس نے مجھ سے اسکے کوائف مانگے۔کوائف اور مکمل پتہ تو میرے پاس نہیں تھا ۔میں نے جنّاتی سے کہا’’ اگر میں فون کرکے تمہیں اسکی آواز سنا دوں تو کیا اس سے رابطہ کرسکتے ہیں‘‘۔۔۔
’’ کرتو سکتے ہیں لیکن اسکے لئے ہمیں عمل کی قوت بھی درکار ہوتی ہے۔نہ جانے اسکی جانب ہماری مخلوق کا کون سا فرد موجود ہو۔ہم سے طاقتور بھی ہوسکتا ہے ۔‘‘ اس نے صاف گوئی سے بتایا اور کچھ دیر بعد اس نے خود ہی تجویز دی کہ اگر میں آیت الکرسی کو اس انداز میں پڑھتے ہوئے فون کروں گا تواسکی ڈھال لیکرجنّاتی بابرحسین کے گھر کا چکر لگا آئے گا۔اس نے کلام الٰہی کے فیض و اسرار کی انوکھی تاثیر کا راز مجھ پر منکشف کیا تھا۔

جناتی کی تجویز پر میں غور کرتےہوئے آیت الکرسی پڑھنے لگا۔نہ جانے اس وقت مجھے عجیب سا ڈرکیوں لگنے لگا تھا ۔شاید ا س کی وجہ یہ تھی کہ میں پہلی بار کسی ناری مخلوق کا سہولت کار بن کر ایک مصیبت زدہ کی مدد کرنے جارہا تھا اور مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ اس کام کی باریکیاں کیا ہوتی ہیں۔
جناتی نے مجھے اشارہ کیااور میں نے بابر حسین کو فون ملایا۔دوسری ہی بیل پر اس نے فون اٹینڈ کیا۔’’ اسلام علیکم شاہد بھائی‘‘ بابر حسین کی آواز مسرت سے لبریز تھی۔
’’ وعلیکم السلام ۔کیا حال ہیں جنا ب ‘‘ میں نے پوچھا۔اس دوران مجھے اپنے کاندھوں اور سر پر ہلکا ہلکا سا دباؤ محسوس ہوا،اور آواز میں گھٹن سی محسوس ہوئی۔
’’اللہ کا شکر ہے بھائی ۔میں تو آپ کے فون کا انتظار کررہا تھا ۔آپ جانتے ہیں ہم کس کرب سے گزر رہے ہیں ‘‘اسکی آواز میں کرب امڈ آیا۔
’’ اللہ خیر کرے گا۔آپ مطمئن رہیں میرے بھائی ۔میں اپنی کوشش کروں گا کہ آپ کی مدد ہوسکے‘‘ میں نے اسے تسلی دی۔اس لمحے میرے کاندھوں سے بوجھ اتر گیا اور آواز بھی بحال ہوگئی لیکن دوسری جانب بابر حسین کی آواز میں ارتعاش محسوس ہوا۔پہلے تو مجھے لگا اسے اپنے دکھ یاد آگئے ہیں اور یہ ایسالمحہ ہوتا ہے جب کوئی دلاسہ دینے والا کاندھا ملتا ہے،کوئی دل پر دھیرے سے ہاتھ رکھتا ہے،سر پر دست شفقت پھیرتا اور ہمدردی کا فسوں پھونکتا ہے تو دکھیا دل بھر آتا ہے ۔
’’بھائی۔۔۔‘‘ بابر حسین قدرے ٹھہر کر بولا’’ یہ مجھے کیا ہورہا ہے‘‘
’’کیوں کیا ہورہا ہے۔‘‘ میں نے پوچھا۔


’’ میر سر چکرارہا ہے اور ایسے لگ رہا ہے جیسے کسی نے مجھ پر منوں بوجھ لاددیا ہو،بھائی میرا دل گبھرارہا ہے اور میں ۔۔۔‘‘ اسکے بعد اسکا فون بند ہوگیا۔
’’ جناتی۔۔۔ ‘‘ میں نے فون ایک طرف رکھتے ہوئے اندھیرے میں اسے پکارا لیکن مجھے کوئی آواز نہ آئی نہ کوئی پرچھائیں دکھائی دی’’ جناتی۔۔۔ بابا کہاں ہو تم‘‘ میں نے گھوم کر اسے پکارا۔۔۔ لیکن جواب میں خاموشی اور کمرے کا اندھیرا ملا۔کمرے سے ناگوار بو بھی ختم تھی۔شاید میں اسی کشمکش میں گرفتار رہتا کہ یاد آیا جناتی نے تو بابر حسین کی طرف جانا تھا اور ظاہرہے اس وقت وہ اسکے پا س ہوگا۔۔۔ لیکن پھر خیال آیا اگر وہ اسکے پا س پہنچ گیا تھا تو پھر بابر حسین کو کیا ہوگیا تھا۔اسکی حالت کیوں غیر ہوگئی تھی۔اس کا جواب تو مجھے جناتی سے ہی مل سکتا تھا ۔میرا خیال تھا کہ جناتی ابھی واپس آجائے گا لیکن بیس منٹ گزرگئے تھے اور وہ واپس نہیں آیا تو مجھے کئی طرح کے وسوسے لاحق ہونے لگا۔اس دوران مجھے ایک خیال یہ بھی آیا کہ کیوں نہ میں جناتی کی غیر حاضری میں غازی کی حاضری کا وظیفہ پڑھ لوں ۔یہ سوچ کر میں نے دوبارہ وضو کیا اور ابھی تسبیح پکڑ کر حصار میں بیٹھا ہی تھا کہ کمرے میں دھپ کی آواز کے ساتھ ہی جناتی آگیا۔اس بار وہ بری طرح ہانپ رہا تھا۔
’’مروا دیا بھاجی۔۔۔ جلدی سے پنکھا لگادو ۔۔۔‘‘ اس نے چوبدار آواز میں کہا۔
’’ اے سی نہ لگا دوں ۔۔۔‘‘میں نے اسکی حالت کا اندازہ کرتے ہوئے کہا کہ اس لمحہ مجھے بھی کمرے میں بے تحاشا گرمی کا احساس ہونے لگا۔ساتھ ہی دیواروں پر آڑھے ترچھے ہیولے بھی نظر آنے لگے۔
’’ جو بھی کرنا ہے جلدی کرو، اور مجھے لسّی بھی بنا کر پلادو‘‘ جناتی کی بات سن کر میں چونکا لیکن اس وقت میں نے سوال کرنا مناسب نہ سمجھا کیوں کہ اسکا لہجہ الجھا اور تھکا ہوا تھا۔میں نے اے سی لگایا اور ساتھ پنکھا بھی چلا دیا۔
’’ یار وہ ناں لسّی نہیں مل سکتی۔دہی نہیں ہے۔اگر بولو تو بازار سے جاکر لے آؤں ‘‘۔میں نے کہا۔
’’ نہیں تم نہ جاؤ۔میں اسکو بھیجتا ہوں یہ لے آتا ہے۔تم پیسے دو ورنہ یہ چوری کرکے لے آئے گا‘‘ میں نے جناتی کے کہنے پر سو روپیہ نکال کر دیا تو بولا ۔’’سو روپے کے دہی سے کیا بنے گا۔دوسو روپے دو۔ویسے بھی میں جو کام کرکے آیا ہوں اسکے لئے تو دعوت الگ سے بنتی ہے۔سالم بکرے کی حلیم کھاؤں گا‘‘
’’ یار ایک بکر اکیا جتنے کہو گے کھلا دوں گا۔‘‘ میں نے اسے دوسو روپے دئیے تو اس نے ایک ہیولے کو اپنی زبان میں کچھ کہا اور وہ غائب ہوگیا ۔
’’ بھاجی آپ جانتے ہو کیا ہوا۔۔۔‘‘ جناتی کی سانس اسو قت بحال ہوچکی تھی
’’ کیا ہوا۔‘‘ میں اسکے سامنے حصار میں بیٹھ گیا ۔اس نے بھی چند قدم پر آلتی ماری اور بولا’’ تم سے اتر کر جب میں بابر حسین پرسوار ہوا تو اسکی حالت بہت غیر ہوگئی تھی ۔میں اس پر ظاہر تو ہونہیں سکتا تھا ۔

میرا خیال تھا کہ وہ وظیفے پڑھنے والا نمازی ہوگا اور اللہ اللہ کرتا ہوگا لہذا میرا بوجھ برداشت کرلے گا۔اللہ کریم ذاکروں کو نور سے مالا مال کردیتا ہے لہذا کوئی بھی جناتی قوت ان پر زیادہ اثر نہیں کرپاتی۔مگر بابر حسین ریاکار قسم کا عبادت گزار بندہ ہے۔یہ بات اپنی جگہ ٹھیک ہے کہ وہ مصیبتوں میں مبتلا ہے۔اسکی کم بختی کہ میرے ساتھ میراے ہمزاد بھی اس پر سوار ہوگئے تھے۔میں اسکی حالت دیکھ کر ابھی اترنے ہی لگا تھا کہ اسکی بیوی یکدم کمرے میں آئی۔اور چلانے لگی۔آپ تو جانتے ہی ہیں کہ جس جگہ ہماری مخلوق ہوتی ہے وہاں اگر ہم چلے جائیں تو ان کے ساتھ ٹاکرا ہوجاتا ہے۔اب اس وقت تو ہمیں نہیں معلوم تھا کہ بابر حسین کے گھر میں جنات کی پکھیاں ہوں گی۔جب وہ بے ہوش ہوا تو اسکی بیوی پر اس گھر کے جنات نے قبضہ کرلیا اور وہ کچھ کلمے پڑھتے ہوئی بابر حسین پر لپکی۔اسکی دیوانگی کا ہمیں علم ہوگیا تھا۔اب یہ بڑا نازک مسئلہ ہوتا ہے کہ ہم ظاہر ہوئے بغیر انسانوں پر حملے کریں۔ کیونکہ جواباً کچھ بھی ہوسکتا ہے ۔ہم نے دیکھ لیا تھا کہ بابر حسین کی بیوی پر بارہ جنات قابض ہوکر ہماری جانب آئے تھے ۔ہمیں دیکھ کر وہ کتوں کی طرح بھونکنے لگے۔ان میں سے ایک دوکی شکلیں بھی عجیب تھیں ،انکے لمبے نوکیلے ہاتھوں کی ہتھیلیوں میں آنکھیں چمک رہی تھیں اور چہرے بھی زرد تھے۔یہ کس نسل کے جنات تھے ،مجھے کچھ سمجھ نہیں آئی ۔باقی ہمارے جیسے ہی تھے۔
’’تم کس کی اجازت سے آئے ہو۔تمہیں جرأت کیسے ہوئی ہمارے گھر تک آنے کی اور تم نے بابر حسین کو کیوں پکڑا ہے۔‘‘
’’مجھے کیا معلوم تھا جناب کہ یہ آپ کا گھر ہے۔بات یہ ہے کہ آپ سے لڑنے نہیں آیا ،بلکہ راستہ پوچھتے ہوئے ادھر آنکلاہوں۔مجھے یہ بندہ اچھا لگااور اس سے پتہ معلوم کرنا چاہتا تھا ‘‘ بھاجی میں ان کے ساتھ ایک عامل کی مدد کے بغیر لڑ نہیں سکتا تھا ۔اگر ہم لڑپڑتے تو پوری آبادی میں بھونچال آجاتا اور اس علاقے کے حاکم اولیا اللہ تک یہ خبر پہنچ جاتی تو ہمیں بھسم کردیا جاتا۔ہم انسانی آبادیوں میں کوئی شرارت نہیں کرسکتے۔
’’کہاں سے آئے ہواورتمہیں کہاں جاناہے‘‘ ان میں سے ایک بزرگ جن نے کینہ توز نظروں سے دیکھا ۔اسکے گلے میں سندوری مالا تھی جس کا مطلب تھا کہ وہ ہندو ہیں۔
’’ میں سرکار بری امام کے مزار شریف پر حاضری دینا چاہتا تھا لیکن میں راستہ بھول گیا ،اگر آپ راستہ بتادیں تو آپ کی مہربانی ہوگی‘‘ میری التجا بھری بات سن کر انہوں نے مجھے راستہ سمجھا دیا۔

’’ دیکھ اب راستہ بھول کر ادھر نہ آنا۔۔۔ یہ ہماری سلطنت ہے ۔‘‘میں نے دیکھا کہ بزرگ جن کے پیچھے سے نکل کر ایک لال بگولا پری ،جوان جن زادی سامنے آئی اورگھورکر مجھے سمجھانے لگی’’ باپو کو تم پر رحم آگیا ہے ورنہ مجھے تو تم جھوٹے اور مکار لگتے ہو۔۔۔‘‘اسکی بات سن کر نوکیلے یک چشمی ہاتھوں والی مخلوق غرا کر ہماری طرف لپکی تو وہ فوراً چیخی’’ نہیں ۔انہیں کچھ مت کہنا‘‘
میں اسکا چہرہ اور خون بار آنکھیں دیکھتا رہ گیا ’’ کیا حسین جن زادی تھی۔الہڑ،منہ پھٹ اور بدمعاش قسم کی ۔مجھے کسی ایسی ہی جن زادی کی تلاش تھی جو حسیں بھی ہو اور بدمعاش بھی۔۔۔ کیا بتاؤ بھاجی اس نار کی ناری کی جوانی میں کتنی تڑپ ہوتی ہے۔مین تو اسے دیکھ کر اپنا دل دے بیٹھا ہوں لیکن اس سمے وہاں ٹک نہیں سکتا تھا کیونکہ جناب نے پییچھے سے پڑھائی بھی چھوڑ دی تھی،لہذا میں نے نرم اندا زمیں کہا۔
’’ ناراض نہ ہوں اے شہزادی۔میں ایک بھولا بھٹکا مسافر ہوں ،جارہا ہوں۔قسمت ہوا تو پھر ملاقات ہوگی ‘‘ میں نے انہیں تسلی دی اور واپس آنے میں مجھے بڑی دقت کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔جانتے ہو کیوں‘‘؟
’’کیوں ؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’تمہاری غلطی کی وجہ سے۔‘‘ جناتی بولا’’ عجیب آدمی ہو تم ۔تمہیں کہا تھا کہ آیت الکرسی پڑھتے رہنا تاکہ مجھے روحانی قوت حاصل رہے لیکن تم نے پڑھنا چھوڑ دیا اور جان بچا کر واپس آنا پڑا ہے۔تم نہیں جان سکتے کہ اس لاپروائی میں میری جان چلی جاتی تو تمہیں کبھی معاف نہ کرتا۔‘‘
’’مم میں کیا کرتا ۔۔۔‘‘میں سہمے انداز میں بولا’’ فون کرتے ہوئے میرے کاندھوں پر بوجھ پڑگیا تو میں پڑھنا بھول گیا تھا۔۔۔‘‘

جناتی نے قہقہہ لگایا’’ اتنا آسان نہیں ہم سے دوستی کرنا۔ہمارا بوجھ اٹھانے کی ہمت پیدا کرو۔۔۔ موکل عامل کے خون میں دوڑتا ہے ۔عامل جتنا زیادہ متقی اور پکا ہوگا اس پر بوجھ نہیں پڑتا نہ اس میں ضعف آتا ہے۔تم ہلکے سے بوجھ سے ہی گھبراگئے۔خیر تمہاری تربیت کرکے ہی تمیں اس قابل بنایا جاسکتا ہے ورنہ ہم تمہارے کسی کام نہ آسکیں گے۔‘‘ اس دوران جناتی کا ہمزاد دہی لے آیا اور میں نے ایک بڑی بالٹی میں لسّی بنا کر اسے دینا چاہی تو بولا’’ میٹھا زیادہ ڈالنا بھاجی‘‘۔۔۔ میں دھیرے سے ہنس دیااور خوب چینی دال کر جناتی کے سامنے بالٹی رکھ دی۔اس نے خود اور اپنے ہمزادوں کو بلا کر بالٹی میں ہی منہ ڈالا اور غٹا غٹ یوں پی گئے جیسے نہ جانے کب سے پیاسے تھے۔میں اس بات پر حیران ہورہا تھا کہ ہم تو ساری عمر سنتے آئے ہیں کہ جنات آگ سے بنے ہیں ٹھنڈی چیزیں انکی ہلاکت کا باعث بنتی ہیں لیکن یہ اے سی میں بیٹھ کر لسّی پیتے ہیں اور اپنے اندر کی آگ کو انسانوں کی طرح ہی ٹھنڈا کرتے ہیں۔اس میں سچائی کیا ہے؟سنا تھا یہ ہڈی اور گند کھاتے ہیں لیکن یہ تو انسانوں جیسی خوراکیں ذوق شوق سے کھاتے ہیں۔

 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد فاروق حسن

Read More Articles by محمد فاروق حسن: 40 Articles with 32257 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Feb, 2017 Views: 1195

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ