حضرت شاہ ولی اللہ ؒ کی دینی وملی خدمات(حصہ اول)

(Tanveer Awan, )

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حضرت شاہ عبدالرحیم ؒ بن شیخ وجیہ الدین شہید جومشرباًصوفی اور تعلیماً منطقی وفلسفی تھے ،اللہ کریم نے مسلمانان ہند پر فضل واحسان فرماتے ہوئے انہیں 60برس کی عمر میں سعادت مند بیٹے کی نعمت سے نوازا ،1114 ؁ھ میں ضلع مظفرنگر کے قصبہ پھلت میں حضرت مولانا شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ کی ولادت ہوئی ،والدمحترم نے حضرت قطب الدین بختیار کاکی ؒ کی بشارت اور نسبت سے آپ کا نام قطب الدین احمد رکھا،آپ کو شہرت "ولی اللہ "کے نام سے ملی ،آپ فاروقی النسل تھے ،آپ نے اپناسلسلہ نسب خلیفہ ثانی، امیرالمؤمنین حضرت عمرفاروقؓ تک تحریر فرمایا ہے۔

علمی گھرانے سے تعلق تھا ،پانچ سال کی عمر میں مکتب میں داخل ہوئے،سات سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی،ذکاوت اور خداداد صلاحیتوں کی وجہ سے 15سال کی عمرمیں مروجہ تمام علوم حاصل کرکے والد محترم سے صحیح البخاری اور دیگر کتب احادیث کا درس لینا شروع کرلیا تھا۔آپ کے تفسیر،حدیث،فقہ،اصول فقہ، منطق،کلام ،سلوک ،حقائق،طب ،حکمت اوردیگر علوم عقلیہ ونقلیہ کے مشہور اساتذہ اور مشائخ میں والد محترم حضرت شاہ عبدالرحیمؒ ،شیخ محمد فاصل سندھیؒ ،شیخ ابوطاھرکردیؒ ،شیخ تاج الدین القلعی الحنفیؒ ،شیخ محمد افضل سیالکوٹی ؒ ،شیخ وفداللہ المکی المالکیؒ ،عمرابن احمدالمکّی ؒ ،شیخ عبدالرحمن ؒ ، شیح عبداللہ بن سالم البصریؒ اور شیخ ابن عقیلہ ؒ مشہور ہیں۔

حضرت شاہ ولی اللہ ؒ جامع الصفات ،علوم وفنون پر خوب دسترس رکھنے والے ،ہمہ جہت اورعالم گیر شخصیت کے مالک تھے ،اللہ کریم نے اپنی رحمت سے وافر حصہ آپ کو عطا کیا ہوا تھا،فتنوں اور شورشوں کے دور میں جب اصحاب جبہ ودستار میں سے ہر دوسرا اسلامی تعلیمات سے دور توہمات و خواہشات پر اکتفا کئے ہوئے تھا،عوام میں جاہلانہ رسومات رچ بس چکی تھیں،مرہٹے اور سکھ مسلمانوں کے عوام وخواص کا خون بے دریغ بہا رہے تھے ،خلیج بنگال کے ساحلی علاقوں پر مغربی قوتیں تدریجاًمستحکم ہورہی تھیں،ایرانیوں ،تورانیوں اور روہیلوں کی سازشیں اور غلام گردشیں ایک مستقل مسئلہ تھیں ،غرض ہرپہلو سے اسلامی حکومت ہند انحطاط کا شکار تھی۔

آپ نے جہاں تدریس وتصنیف کے ذریعے تعلیماتِ قرآن وسنت کی تبلیغ و اشاعت کا اہتمام کیا وہیں احیاء اسلام ،فتنوں کے سدباب کے لیے باقاعدہ تحریک شروع کی۔حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے حجۃ اللہ البالغہ،فتح الرحمن،فیوض الحرمین،انفاس العارفین،الفوزالکبیر،رسالہ ردالروافض سمیت 24اہم ترین کتب تصانیف کیں،آپ نے قرآن و حدیث کے دوسری زبانوں میں تراجم کی بنیاد ڈالی تاکہ ان سے استفادہ کرکے مسلمان اپنے مقصد حیات کو سمجھ سکے،تصوف وسلوک میں اللہ کریم نے آپ کو بہت بڑا مقام عطاکیا تھا،روحانی مکاشفات کے ذریعے بہت اعزازات اور مراتب سے نوازا گیا جن کو آپ نے اپنی کتاب"فیوض الحرمین "میں تفصیلاًتحریر فرمایا ہے۔

حضرت شاہ ولی اللہ ؒ نے خواب میں حضرات حسنین کریمینؓ کی زیارت کی ،آپ ؒ فیوض الحرمین میں لکھتے ہیں کہ "حضرات حسنین کریمین میرے گھر تشریف لائے ،حضرت حسنؓ کے ہاتھ میں ایک قلم تھاجس کی نوک ٹوٹی ہوئی تھی ،آپؓ نے اپنا ہاتھ بڑھایا تاکہ وہ قلم مجھے عطا فرمائیں، اور فرمایا کہ یہ قلم میرے نانا حضرت محمدﷺ کا ہے ،پھر آپ نے ارشاد فرمایا کہ حسین اسے درست کرلیں ،حسین جیسا درست کرسکتے ہیں ویساکوئی دوسرا نہیں کرسکتا ہے،پھر حضرت حسینؓ نے قلم لیا اور اسے درست کیا،میں اس انعام پر بہت مسرور ہوا، پھر ایک چادر لائی گئی،جس پر دھاریاں بنی ہوئیں تھی ، ایک سبز اور ایک سفید،پہلے یہ چادر ان دونوں حضرات کے سامنے رکھی گئی، پھر حضرت حسین نے اسے اٹھا یا اور فرمایا کہ یہ چادر میرے نانا رسول اللہ ﷺ کی ہے،پھر وہ چادرمجھے اڑھا دی گئی،تب میں نے تعظیما اسے اپنے سر پر رکھ لیا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔

اصلاح معاشرہ کے حوالے سے حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے سماج کے ہرطبقہ پر محنت کی،امراء وسلاطین ہوں یا وارثان منبر ومحراب ،اولیاء اللہ کی مزارات کے سجادہ نشین ہوں یا اہل صنعت وحرفت،واعظین ہوں یاعامۃ الناس ،ہر ایک کو مخاطب کرکے شریعت کے احکامات کی طرف متوجہ فرمایا،چنانچہ مسلمانوں کے امراض کی تشخیص اور علاج تجویز کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اے اولاد آدم!تمھارے اخلاق سو چکے ہیں،تم پر حرص وہوس کا "ھُو" سوارہو چکا ہے اورتم پرشیطان نے قابو پالیا ہے،عورتیں مردوں کے سرچڑھ گئی ہیں اورمرد عورتوں کے حقوق برباد کررہے ہیں،حرام کو تم نے اپنے لیے خوشگوار بنا لیا ہے اور حلال تمھارے لیے بدمزہ ہوچکا ہے،اپنے مصارف اوروضع قطع میں تکلف سے کام نہ لیا کرو ،اسی قدر خرچ کرو جس کی تم میں سکت ہو۔یادرکھو!ایک کابوجھ دوسرا نہیں اٹھاتااورخواہ مخواہ اپنے اوپرتنگی سے کام نہ لو،اگرایساکرو گے تو تمھارے نفوس بالآخرفسق کی حدتک پہنچ جائیں گے،اللہ تعالیٰ اس کو پسندکرتے ہیں کہ اس کے بندے اسکی دی ہوئی آسانیوں سے فائدہ اٹھائیں،اتناکمانے کی کوشش کرو جس سے تمھاری ضرورتیں پوری ہوں،دوسروں کے سینے کابوجھ بننے کی کوشش نہ کرو۔

اے اولاد آدم !جس کو خدا نے رہائش کے لیے جائے سکونت دے ر کھی ہو،پینے کے لیے پانی اورپہننے کے لیے کپڑاعطاکیا ہو،ایسی بیوی جو اس کی شرم گاہ کی حفاظت کرسکتی ہواور رہن سہن کی جدوجہد میں اس کومدد دے سکتی ہو،تو یاد رکھو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا کامل طور پر اس شخص کو مل چکی ہے اسے چاہیے کہ اللہ کا شکر ادا کرے۔اللہ کی یاد کے لیے جوفرصت میسر آئے اسے غنیمت جانو،کم از کم تین وقتوں صبح ،شام اور رات کے آخری پہر کے ذکرکا خاص خیال رکھو،تسبیح وتہلیل اور قرآن پاک کی تلاوت کے ذریعے اللہ کا ذکرکیا کرو،احادیث اور ذکر کے حلقوں میں حاضر ہوا کرو۔

اے اولاد آدم !تم نے ایسی بگڑی ہوئی رسومات اختیار کرلی ہیں جن سے دین کی اصلی صورت بگڑ چکی ہے،تم عاشوریٰ کے دن جھوٹی باتوں پر اگھٹاہوتے ہو،اسی طرح شب برأت میں کھیل کود کرتے ہو،مُردوں کے لیے کھانا پکا پکا کر کھلانے کو اچھا خیال کرتے ہو،اگرتم سچے ہو تو اس پر دلیل پیش کرو؟تم نے بُری بُری رسمیں جاری کرلی ہیں،جس نے تم پر تمھاری زندگی تنگ کردی ہے،اسی طرح ایک بری رسم یہ بھی ہے کہ کچھ بھی ہو جائے لیکن تم نے گویا طلاق کو ناجائز سمجھ لیا ہے،بیوہ عورتوں کو نکاح سے روکے رکھتے ہو،تم نے اپنی نمازیں برباد کررکھی ہیں،تم نے زکوٰۃ دینا چھوڑ دیا ہے حالانکہ کوئی ایسا دولت مند نہیں جس کے اعزاء و اقرباء میں حاجت مندلوگ نہیں ہوتے۔

حضرت شاہ ولی اللہ ؒ نے جاہل واعظوں اور پیروں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ،دین میں سختی اور خشکی پیدا کرنے والوں سے میں پوچھتا ہوں؟ واعظوں،عابدوں اور کنج نشینوں سے سوال کرتا ہوں جوخانقاہوں میں بیٹھے ہیں،اے زبردستی اپنے اوپر دین کو عائدکرنے والو!تمھارا کیا حال ہے؟ ہربری بھلی بات،ہررطب و یابس تمھارا ایمان ہے،لوگوں کو تم جعلی اور گھڑی ہوئی احادیثوں کا وعظ سناتے ہو،اللہ کی مخلوق پر تم نے زمین تنگ کرچھوڑی ہے،حالانکہ تم کو اس لیے پیداہوئے تھے کہ لوگوں کو آسانیاں بہم پہنچاؤنہ کہ ان کو دشواریوں میں مبتلا کردو،تم ایسے لوگوں کی باتیں بطور دلیل پیش کرتے ہو جو بیچارے مغلوب الحال تھے،جو محبت و عشق الہی میں عقل وحواس کھو بیٹھے تھے ۔

تم کو چاہیے کہ مقامِ احسان کی طر لوگوں کو بلاؤ،پہلے اس کو خود سیکھ لو پھر دوسروں کو دعوت دو۔کیا تم بتا سکتے ہو جوا فعال تم کرتے ہو وہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کرتے تھے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Molana Tanveer Ahmad Awan

Read More Articles by Molana Tanveer Ahmad Awan: 207 Articles with 136971 views »
writter in national news pepers ,teacher,wellfare and social worker... View More
07 Feb, 2017 Views: 3988

Comments

آپ کی رائے