پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہربھارت اور افغانستان، بھارت کا ایٹمی شہر بھارت سمیت جنوبی ایشیا کے لئے بھی خطرہ

(Muhammad Azam Azim Azam, Karachi)
دہشت گردی کے سانحات لاہور، پشاور، کوئٹہ اور سہون شریف کے ذمہ دارافغانستان اور بھارت ہیں، پاکستان میں دہشت گردی کی نئی لہر کے ماسٹر ما ئنڈ بھارت و افغانستان میں ہیں
گزشتہ ایک ہفتے کے دوران سرحد پار سے افغانستان اور بھارت سے آنے والے دہشت گردوں نے سرزمینِ پاکستان کو آٹھ مختلف دہشت گردکارروائیوں کا نشانہ بنا کر ایک بار پھر لہولہان کردیا ہے یوں ایک بار پھر پاکستانی قوم کا ایک ایک بچہ غم سے نڈھال ہے جہاں پاکستانی قوم دہشت گردی کی حالیہ لہر میں اپنے سو پیاروں کی شہادت اور متعدت زخمیوں کے دُکھ میں صبروبرداشت کا دامن تھامے ہوئے ہے تووہیں اپنے دشمنوں کو عبرت ناک سبق سیکھانے کا عزم بھی لئے ہوئے ہے آج آپریشن ضرب عضب کی بھرپور کامیا بی کے بعد ایک انتہائی قلیل مدت تک امن و آشتی کے قیام کے بعد ہی پاکستان کے شہروں لاہور، پشاور کوئٹہ اور سہون شریف میں المناک دہشت گردی کی حالیہ لہر کے ڈانڈے افغانستان اور بھارت سے ہی ملتے ہیں۔

اَب یہ ہماری حکومت اور افواج پاک اور سیکیورٹی پر معمور اداروں کی ذمہ داری ہے کہ یہ افغانستان اور بھارت سے کس طرح نمٹتے ہیں اور اِن دونوں ممالک سے اپنے بلا لچک موقف اور رویئے کا اظہار کس انداز سے کرتے ہیں اور اِنہیں لگام دینے کے کیا اور کیسے کیسے سخت اقدامات اور انتظاما ت کو یقینی بنا کر سرحد پار بھارت اور افغانستان سے دہشت گردی کو روکنے میں کامیاب ہوکر مُلک کے شہریوں اور شہروں کی حفاظت کو یقینی منا تے ہیں؟؟

تاہم اِس منظر اور پس منظر میں کوئی کچھ بھی کہے اور چاہئے جیسی بھی مصالحت اور مفاہمت کی پالیسی کا دامن تھامے مگر اِس سے انکار ہرگز نہیں ہے کہ مُلک میں دہشت گردی کی نئی اور حالیہ لہر میں سو فیصد بھارت اور افغانستان ہی ملوث ہیں جوسی پیک اور اقتصادی راہداری منصوبے سے پاکستان کے استحکام اور سالمیت سے خوف زدہ ہیں اور یہی وجہ ہے کہ بھارت اور افغانستان مل کر پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرکے اِسے دنیا کی نا کام اور غیر محفوظ ریاست گرداننے کے لئے حالیہ دہشت گردی میں پوری طرح ملوث ہیں ۔

اِس موقع پر ضرورت اِس امر کی ہے کہ قوم کو پُرسکون رہے اور صبر و برداشت سے کام رہے اور اُمید رکھے کہ ہماری فوج اور سیکیورٹی پر معمور ادارے قوم کو ما یوس نہیں کریں گے اورہمارے دُشمن کبھی بھی ہمیں غیر مستحکم کرکے اپنے گھناؤنے عزائم میں کا میا ب نہیں ہوسکیں گے ۔

اگرچہ اَب اِس میں بھی کوئی دورائے نہیں ہے کہ پاکستان کو غیرمستحکم کرنے میں بھارت اور افغانستان کا ہاتھ ملوث ہے وہ اِس لئے کہ ایک طرف بھارت افغانستان اور دیگر پاکستان دُشمنوں کے ساتھ مل کر خطے میں اپنی چوہدراہٹ کا خواب دیکھ رہاہے تو دوسری جانب افغانستان بھی پاکستان سے خداواسطے کا بیر نکالنے کے لئے پاکستان میں دہشت گردی کررہاہے اِس موقع پر آرمی چیف کا دہشت گردوں کو کیفرکردار تک پہنچانے اور اپنے معصوم شہریوں کے خون کے ایک ایک قطرے کا فوری حساب لینے کے بیان سے قوم کا حوصلہ بلند ہوا ہے اوردُعا ہے کہ اﷲ ہمارے آرمی چیف کو ہمت دے کہ وہ ہمارے دُشمنوں کو فوری سبق سیکھائیں اور مُلک و قوم کو بھارت اور افغانستان جیسے دیگر دُشمنوں سے محفوظ بنا ئیں ۔

آج یقینا یہ بات نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ دنیا کے بیشتر امن پسندممالک کے لئے بھی سخت باعثِ تشویش ہے کہ بھارت نے کرناٹک میں تباہ کن نیوکلیئر تھرمو بم بنا نے کے لئے پورا ایٹمی شہر تعمیر کرلیا ہے بھارت میں 2012ء میں شروع ہونے والا یہ منصوبہ سوائے خطے میں طاقت کا توازن بگاڑنے کے اور کچھ بھی نہیں ہے اَب اِس منصوبے کی تکمیل کے بعد یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی ہے کہ آنے والے وقتوں بھارت اپنی ہولناک ایٹمی طاقت سے خطے میں ایٹمی جنگ کو بھی کبھی ہوا دے سکتا ہے اور یہی بھارت کا اصل مقصد ہے اِس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ بھارت خطے میں اپنی چوہدراہٹ قائم کرنے کے چکر میں اپنی بقا ء اور سا لمیت کو بھی خطرے میں ڈالنے سے دریغ نہیں کررہاہے کیا ابھی ہم جنگی جنون میں مبتلا بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کا اِسے پاگل پن نہ کہیں تو پھراِسے اور کیا کہاجائے ؟؟

خبر ہے کہ ماضی کے بھارتی ہندو بنئے حکمرانوں نے اِس خطرناک ترین ایٹمی شہر کی تعمیر کا آغاز2012ء میں کیا تھااور اِس کی تکمیل (ماضی میں ڈھابے پر چائے فروخت کرنے والے) موجودہ بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کے دورِ حکومت میں ہوئی ہے۔

آج اِس میں شک نہیں کہ بھارتیوں کی اپنی بقا ء و سا لمیت کے خاطر بنا ئے گئے اِس ایٹمی سٹی نے بھارت سمیت جنوبی ایشیا کے کروڑوں امن پسندمعصوم و نہتے انسانوں کی زندگیاں خطرے سے دوچار کرکے رکھ دی ہیں مگر اِس سے بھارت کے جنگی جنون میں مبتلاحکمرانو، سیاستدانو، افواج ، میڈیا اور ننگے بھوکے لاغراور کمزروجسموں والے ہڈی کا ڈھانچہ بنے عوام کا کیا بگڑتا ہے اِن سب بدعقلوں پر تو جنگی جنون سوار ہے اور یہ سب خطے میں طاقت کا توازن بگاڑ کر بس اپنی شہنشاہت برقرارکرنے کی ضد میں مبتلاہیں جس کے لئے چاہئے اِنہیں خود بھی فناہونا پڑے تو یہ عقل سے غافل بھارتی اِس سے بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔

جبکہ یہاں یہ امراِنتہائی تشویشناک اور قابلِ توجہ ہے کہ عالمی ماہرین نے بھی دوٹوک انداز سے یہ واضح کردیاہے کہ ’’ بھارت کے شہر کرناٹک میں بننے والانیوکلیئر شہر اور اِس شہر میں تیارکیا جانے والانیوکلیئرتھرموبم ایٹم بم سے بھی دوگنی تباہی پھیلانے کی پھرپورصلاحیت رکھتاہے‘‘ اَب اِس کے بعد کسی قسم کی شک کی کوئی گنجا ئش باقی نہیں رہ جا تی ہے کہ بھارت کا یہ ایٹمی شہر اور تھرموبم کتنا خطرناک ہے یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ابھی تک بھارت کے اِس منصوبے پر امریکا اور اقوام متحدہ کیوں خا موش ہے ؟؟اَب تک اِس نے بھارت کی تنبیہ کیوں نہ کی؟؟ اور اِس کے ایران اور شمالی کوریاکی طرح کان کیوں نہ کھینچے ہیں؟؟ کہیں یہ تو نہیں ہے کہ بھارت نے اپنا ایٹمی شہر اور نیوکلیئر تھرموم بم اِن کی پست پنا ہی میں بنا ئے ہیں؟؟ آج جنوبی ایشیا سمیت دنیا کے کروڑوں امن پسند باسی امریکا و یورپ اور اقوام متحدہ سے تسلی بخش جواب کے منتظر ہیں۔

تاہم یہ ٹھیک ہے بھارت نے یہ ایٹم بم بناتو لیا ہے مگر کیا بھارتیوں کے پا س اِسے استعمال کرنے کی بھی ہمت اور حوصلہ ہے؟؟ یاپھر بھارتی ہندوبنئے اِس ایٹم بم کو بنا کر اِسے ’’ ایٹمی دیوتا‘‘ کا نام دے کر اِسے پوجا کیا کریں گے اور اِسے اپنے مندروں اور اپنی عبادت گاہوں میں سجا کر اِسے اپنی مصیبت اور پریشانی کے وقت یاد کرکے اِس کے سامنے ناریل پھوڑکر اِس سے اپنی مرادیں اور اپنی حاجتیں ہی منوایا کریں گے؟؟ ذرابھارتی بھی یہ بتادیں تو بہت اچھا ہوگاورنہ خطے سے تعلق رکھنے والے باسی بھارتیوں کی ہمت اور حوصلے پر شک ہی کرتے رہیں گے۔

بہرحال، بھارتی ڈرپوک حکمرانو، سیاستدانو، افواج ، میڈیا ، عوام اور سیاستدانوں نے مل کرناٹک میں نیوکلیئر تھرموبم بنانے کے لئے پوراایٹمی شہر بنا کر خطے میں طاقت کا توازن تو بگاڑہی دیاہے، مگرآج یہ ایٹمی سٹی اور تھرموم خود بھارت کے لئے بھی اُتنا ہی خطرناک ترین ہے جتناکہ کبھی یہ خطے کے دوسرے ممالک کے لئے سنگین نتائج کے ساتھ ہولناک ثابت ہوسکتاہے۔

اَب اِس منظر میں کرناٹک سے مسلسل آنے والی خبروں میں یہی بتایا جارہاہے کہ ’’ کرناٹک میں نیوکلیئر شہر کی تعمیر سے 27کلومیٹرسے زائد کا رقبہ راتوں رات عام لوگوں کی آمدورفت کے لئے ممنوع قراردے دیاگیاہے جس کی وجہ سے علاقہ مکینوں کو سخت مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کرناپڑرہا ہے،شہریوں پر یہ خفیہ راز اُس وقت آشکار ہوا کہ جب اِن کے بغل میں بھارت کی حفاظت اور شہریوں کی جان و مال کی سیکیورٹی کا نام دے کر(مگردراصل پاکستان اور چین کو دباؤمیں رکھنے کے خاطر) پورا ایک ایٹمی سٹی آباد کردیاگیاتب کرناٹک کے شہریوں کوپتہ چلاکہ بھارتی سرکار نے اِن کے حقوق غضب کرلئے ہیں اور اِنہیں اِن کی بنیادی سہولیات زندگی سے بھی یکسر محروم رکھنے کا دائمی مکروہ ترین انتظام کرلیا ہے جس پر کرناٹک کے شہر ی تو تلملا ہی اُٹھے ہیں مگر افسوس ہے کہ پھر بھی بھارتی حکمرانوں اور سیاستدانوں کے کانوں پر جون تک نہیں رینگی ہے جبکہ آج بھی بھارتی ایٹمی شہر کے بارے میں ایسی خبریں زوروشورسے آرہی ہیں کہ اِس خفیہ ایٹمی مرکز کے چاروں جانب وسیع رقبے پر 15فٹ اُونچی مضبوط ترین دیوار بھی تیزی سے تعمیر کردی گئی ہے اور اَب اِس چاردیواری میں تھرمونیوکلیئربم بنانے کے لئے دن رات تجربات ہورہے ہیں یہی وجہ ہے کہ کرناٹک کے پورے علاقے میں پانی مکمل طور پر خشک ہوچکاہے اور ہر طرف خشک سالی منہ کھولے کھڑی ہے جس کی وجہ سے شہر میں بھوک و افلاس کا دوردورہ ہے کوئی بھی فرد بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کی اِس خود ساختہ پیداکردہ مصیبت سے بچاہوانہیں ہے جبکہ شہر میں پانی نہ ہونے پرزمین نے بھی فصل پیداکرنی چھوڑ دی ہے اور کم بیش 101کسان بھی اَب تک خودکشی کرچکے ہیں مگر یہ کتنے افسوس ناک بات ہے کہ مودی کی ایٹمی دہشت گردی خود بھارتیوں کے لئے بھی خطرناک ترین ثابت ہورہی ہے مگر اِس پر سونے پہ سہاگہ یہ کہ جنگی جنون میں مبتلانریندرمودی کے پاگل پن کے سامنے نہ تواَب تک کرنانک کے عوام سڑکوں پر آئے ہیں اور نہ ہی بھارت بھر سے کسی سماجی تنظیم نے مودی کی ایٹمی دہشت گردی کے آگے احتجاج کرکے کرناٹک کے ایٹمی شہر کے خلاف چوں کی بھی کوئی آواز بلند کی ہے کہ وہ مودی پر دباؤ ڈالے اوراحتجاج اور مظاہروں سے اِسے ختم کرانے اور رکوانے کے کوشش کرے ۔ختم شُد)
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Azim Azam Azam

Read More Articles by Muhammad Azim Azam Azam: 1230 Articles with 617604 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Feb, 2017 Views: 424

Comments

آپ کی رائے