چلیں آپ کو ایک گاؤں دکھاتا ہوں نام ہے جس کا نلہ

(Iftikhar Chohdury, )
ماسٹر حسین بخش نے ایک بار ماہیا بولا تھا مینہ وس گیا ڈھوکاں تے صدقے میں جاواں اینہاں نلے دیاں لوکاں تے
نجف پور سے ایک موت راستہ ببھوتری کی طرف جاتا ہے یہاں پاکستان بننے کے بعد خانپور کے راجاؤں اور ریحانہ کے ترینوں کی حکومت رہی ۔یہ لوگ باریاں تو بدلتے رہے لیکن اس اندھیر نگری میں اب بھی زمانہ ء قدیم کی سختیاں مشکلات موجود ہیں سورج جب نکلتا ہے تو روشنی تو پھیل ہی جاتی ہے لیکن دھارتیاں کے آگے اندھیرے گھٹا ٹوپ ہیں۔یہاں ہرو کے پار ایک گاؤں بوکن ہے۔میرے اباء و اجداد یہیں سے اوپر کوئی دس میل دور نلہ جا کر آباد ہوئے۔کہتے ہیں گجروں کی روائت کے مطابق یہ لوگ اپنے مال مویشی کھلے جنگلوں میں لے جایا کرتے تھے۔ایک بار یوں ہوا کہ برسات میں نلہ میں ان میں سے کوئی مر گیا مرحوم کا جسد ہرو کے پار لے جانا مشکل تھا وہیں دفن کیا۔اور رہنا شروع کر دیا ۔پہلا بڑا کھڑپینچ ملک علی شیر تھا۔ملک سے مراد یہ تھا کہ وہ زمین کا مالک تھا کسی کے ماتحت نہ تھا۔یہ سارا علاقہ انگریزوں نے ایک جاگیر کی شکل میں خانپور کے گکھڑوں کو دے رکھا تھا اس بحث میں نہیں جانا چاہتا کہ کہ انہوں نے کیا خدمات انجام دیں جس کے عوض چوراسیوں کے مالک بنے۔ہرو کے آر پار حالات اب بھی نہیں بدلے اب بھی اگر کوئی مر جائے تو اسے امانتا دفن کر دیا جاتا ہے۔میں ۲۰۱۷ کی بات کر رہا ہوں۔ملک علی شیر گجر نے اس خوبصورت گاؤں کی بنیاد رکھی یہیں بسیرا کیا اب بوکن اجڑا ہوا ایک گاؤں ہے یہاں چند گھر ہیں ۔اس کے اجڑنے کی وجہ ایک پل کا نہ ہونا ہے۔نلہ نے بڑے نامور لوگ پیدا کئے ہیں شہداء کی ایک بڑی تعداد یہاں مدفون ہے جو انگریزوں کے ساتھ برما سنگا پور اور ملایا میں لڑی کشمیر میں سیاچین اور وزیرستان کراچی اس گاؤں نے ارض وطن کے وہ قرض بھی اتارے ہیں جو اس پر واجب نہ تھے۔سیاست میں اسی خانوادے نے علاقے کی قسمت بدلنے کو کوشش کی ہے۔یوں تو مقامی سیاست میں چودھری خداداد کا جواب نہیں لیکن سیاسی میدان میں چودھری مختار احمد گجر ایک بڑا پہلوان تھا جس نے پہلی بار خانپوری اقتدار کو چیلینج کیا۔گرچہ وہ ایم پی اے تو نہ بن سکے مگر دو بار ممبر ڈسٹرکٹ کونسل بنے-

اسی گھرانے سے فیصل ذوالفقار ماجد مختار نے سیاست میں نام کمایا ہے آئیندہ الیکشن میں عابد مختار گجر صوبائی سیٹ کے لئے جب کہ این اے اٹھارہ سے فیصل لڑ رہے ہیں تحریک انصاف کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات انجینئر افتخار چودھری پنڈی پی پی ۶ سے امیدوار ہوں گے۔چودھری ارشاد جو چیئرمین رہے انہوں نے گجران نلہ کا نام روشن کیا۔یہ گاؤں اب اسلام آباد سے ایک سڑک آنے کی وجہ سے کافی ترقی کر رہا ہے لیکن پی ٹی آئی کی حکومت جس نے ہریپور کی تقدیر بدلی ہے یہاں بڑی کوتاہی کی مرتکب ہوئی ہے اور وہ پہاڑ کی ان چار یونین کونسلوں کو ایک دن نظر انداز کرنا ہے۔اس کوبصورت تصویر میں اس گاؤں کو دیکھئے یہ ہری پور کے ماتھے کا جھومر ہے اگر ندی ہرو کنارے واقع اس گاؤں پر توجہ دی جائے تو اس سے منسلکہ ندی کے کنارے والا علاقہ سیاحتی مرکز بن سکتا ہے یہ منظر برسات کے دنوں کا ہے۔گاؤں کے وسط میں ایک چوٹی جو آپ دیکھ رہے ہیں یہ گاؤں کی عید گاہ ہے۔نیچے سرخ رنگ کی خوبصورت کوٹھی نثار گجر کی ہے جو میرے برادر نسبتی اور فرسٹ کزن ہیں سامنے ڈھیری پر ملک خداداد کی اولاد کی رہائیش گاہیں ہیں۔درمیان میں گاؤں کی چھوٹی سی مارکیٹ ہے۔گاؤں کے دو حصے ہیں آریا نلہ اور پاریا نلہ۔گاؤں کی آبادی کوئی پانچ سے چھ ہزار نفوس پر مشتمل ہیں زیادہ گجر اور اعوان ہیں آپس میں مل جل کر رہتے ہیں گاؤں کا اوپر والا علاقہ چڑیلاہ جہاں میں پیدا ہوا آبشاروں چشموں اور چیڑ کے درختوں سے سجا ہے۔نلہ کے لوگ بڑے پر امن ہیں پولیس اس گاؤں سے بے فکر ہے یہاں سے اسلام آابد سوپر کے لئے ویگنیں بھی چلتی ہیں زیادہ تر لوگ ملازمت پیشہ ہیں۔گجر اپنے گھروں میں گوجری بولتے ہیں یہاں لسی والا ساگ گنہار کا تڑکے والا ساگ مکئی کی روٹی دہی اور دودھ لوگوں کی پسندیدہ غذاا ہے جو تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔شادی بیاہ کی رسمیں علاقے کے دیگر دیہات کی طرح ہیں گھومر ڈانس کے بغیر زادی نا مکمل ہے۔شادی کی رات لوک فنکار بلانا بھی ایک نئی رسم بن چکی ہے وہ شادی ہی کیا جس میں لوک فنکار اپنے فن کا مظاہرہ نہ کر سکیں فوجی زندگی گزارنے والے آج کل پردیس میں ہوتے ہیں جہاں سے وہ ملک کو زر مبادلہ بھیجنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھروں کے چولہے بھی جلاتے ہیں نلہ سیاسی طور پر ملحقہ گاؤں جبری سے مقابلے میں رہتا ہے باوجقد سیاسی مخالفت کے نلہ کے گجروں اور جبری کے عباسیوں کی دوستی مثالی ہے۔اسی گاؤں کے چودھری برخودار نے گجرانوالہ جا کر شہری سیاست میں نام کمایا۔اسی گھرانے کے چودھری عبدالغفار پولیس میں اعلی عہدے تک پہنچے اسی گھرانے میں ایک ایم این اے اور ایک ایم پی اے ہے جن کا تعلق پی ایم ایل این اور پی پی پی سے ۔انجینئر افتخار چودھری تحریک انصاف کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات اور معروف لکھاری ہیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry

Read More Articles by Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry: 408 Articles with 167337 views »
I am almost 60 years of old but enrgetic Pakistani who wish to see Pakistan on top Naya Pakistan is my dream for that i am struggling for years with I.. View More
17 Feb, 2017 Views: 454

Comments

آپ کی رائے