کراچی یونیورسٹی اور ٹرانسپورٹ کا ناقص نظام ۔

(Muhammad Arshad Qureshi (Arshi), Karachi)
گذشتہ دنوں کسی ضروری کام سے کئی دفعہ کراچی یونیورسٹی جانے کا اتفاق ہوا وہاں بہت سی تکلیف دہ باتیں میرے مشاہدے میں آئیں جس میں سب سے اہم کراچی یونیورسٹی کے طلبہ کو حاصل سفری سہولیات تھیں ،تیزی سے بدلتے ہوئے اس جدید ٹیکنالوجی کے دور میں اگر کراچی یونیورسٹی میں طلبہ کو حاصل صرف سفری سہولیات کا ہی پچھلے تیس پینتیس سال سے موازنہ کیا جائے تو یونیورسٹی کا ٹرانسپورٹ نظام مکمل تباہی سے دوچار نظر آتا ہے ، پوری دنیا میں تدریسی ادارے اپنے اداروں میں زیر تعلیم طلبہ کو بہترین سہولیات فراہم کرتے ہیں جن میں ٹرانسپورٹ کی سہولت سر فہرست ہے تاکہ وہ پرسکون ہوکر اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھ سکیں لیکن افسوس یہاں اس کے برعکس طلبہ کو میسر چند سہولیات بھی چھین کر انہیں زہنی اور جسمانی اذیت سے دوچار کیا جارہا ہے

گذشتہ دنوں کسی ضروری کام سے کئی دفعہ کراچی یونیورسٹی جانے کا اتفاق ہوا وہاں بہت سی تکلیف دہ باتیں میرے مشاہدے میں آئیں جس میں سب سے اہم کراچی یونیورسٹی کے طلبہ کو حاصل سفری سہولیات تھیں ،تیزی سے بدلتے ہوئے اس جدید ٹیکنالوجی کے دور میں اگر کراچی یونیورسٹی میں طلبہ کو حاصل صرف سفری سہولیات کا ہی پچھلے تیس پینتیس سال سے موازنہ کیا جائے تو یونیورسٹی کا ٹرانسپورٹ نظام مکمل تباہی سے دوچار نظر آتا ہے ، پوری دنیا میں تدریسی ادارے اپنے اداروں میں زیر تعلیم طلبہ کو بہترین سہولیات فراہم کرتے ہیں جن میں ٹرانسپورٹ کی سہولت سر فہرست ہے تاکہ وہ پرسکون ہوکر اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھ سکیں لیکن افسوس یہاں اس کے برعکس طلبہ کو میسر چند سہولیات بھی چھین کر انہیں زہنی اور جسمانی اذیت سے دوچار کیا جارہا ہے۔

اپنے قارئین کو کراچی یونیورسٹی کے طلبہ کو درپیش سفری مشکلات کی تفصیلات کے بارے میں آگاہ کرنے سے پہلے اپنے اس مضمون کی مناسبت سے جاپان میں صرف ایک طالبہ کو کس طرح سفری سہولت دی گئی تاکہ اس کی تعلیم میں کوئی خلل نہ آئے واقعہ اس لیئے تحریر کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ شائید ارباب اختیار میں سے کسی کے دل میں میری بات اتر جائے ۔

تو ہوا کچھ یوں کہ جاپان کے ایک قصبے ہو کائیدو کے دور دراز گاؤں اینگارو میں کچھ عرصہ قبل علاقے کے عوام کی ضرورت کے تحت کامی شیرا تاکی ریلوے اسٹیشن قائم کیا گیا تھا وقت کے ساتھ ساتھ اس علاقے کی آبادی کم ہوتی گئی جس کی بڑی وجہ لوگوں کا روزگار کے حصول کی خاطر دوسرے علاقوں میں منتقل ہونا تھی یہی وجہ تھی کہ اس ریلوے اسٹیشن سے چلنے والی ٹرین میں لوگوں کی آمد و رفت روز بروز کم ہوتی گئی یہاں تک کہ اس علاقے سے ٹرین کے ذریعے آمد و رفت اور سامان کی نقل و حمل صفر ہوگئی اور یوں یہ اسٹیشن خسارے میں چلنے لگا ،جاپان ریلوے نے مالی خسارہ دیکھتے ہوئے تین سال قبل اس اسٹیشن کو بند کرنے کا فیصلہ کرلیا جس کے لیئے ریلوے حکام نے متعلقہ عہدیداروں کی میٹنگ طلب کی تھی ریلوے حکام نے اس اسٹیشن کی کارکردگی رپورٹ میں اسٹیشن سے صرف ایک طالبہ کے مسافر ہونے کی رپورٹ پیش کی جو صبح کی ٹرین سے ہائی اسکول جاتی ہے اور شام ساڑھے سات بجے کی ٹرین سے گھر واپس آتی ہے اجلاس کے تمام شرکاء کے لیے یہ لمحہ فکریہ تھا کہ اسٹیشن بند کرنے سے گاؤں کی اس اکلوتی طالبہ مسافر کی تعلیم کا کیا ہوگا خدشہ تھا کہ کہیں اسٹیشن بند ہونے سے اسے اپنی تعلیم نہ چھوڑنی پڑجائے بہت غور و خوز کے بعد بورڈ نے لڑکی کے ہائی اسکول کی تعلیم مکمل ہونے تک اسٹیشن بند کرنے کا فیصلہ موخر کردیا اور بورڈ کے فیصلے سے جاپان حکومت کو آگاہ کردیا گیا جس پر جاپانی حکومت نے نہ صرف فوری طور پر فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیشن پر ہونے والے خسارے کو جاپان حکومت برداشت کرے گی بلکہ ٹرین کا ٹائم ٹیبل بھی اس طالبہ کے آنے جانے کے شیڈول کے مطابق کردیا جس کے بعد سے اب اس اسٹیشن پرٹرین دن میں دوبار ہی رکتی ہے جہاں سے ایک مسافر طالبہ سفر کرتی ہے اور اب وہ ٹائم پر واپس اپنے گھر بھی پہنچ جاتی ہے۔

اب اپنے اصل مضمون کی طرف آتا ہوں کراچی یونیورسٹی جہاں زیر تعلیم طلبہ پہلے ہی کئی مشکلات سے دو چار ہیں وہیں ان کی پریشانیوں میں روز بروز مزید اضافہ کیا جارہا ہے یہ بات کراچی میں زیر تعلیم اور سابقہ طلبہ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ کراچی یونیورسٹی کےزیادہ تر شعبہ جات یونیورسٹی کے داخلی گیٹوں سے بہت زیادہ فاصلے پر ہیں جن داخلی راستوں سے طلبہ کو داخلے کی اجازت ہے اس میں مسکن گیٹ، سلورجوبلی گیٹ اور شیح زید سلطان گیٹ شامل ہیں لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ تمام داخلی راستو ں سے طلبہ کو اپنے شعبوں تک پہنچانے کے لیئے ناہی یونیورسٹی میں کوئی شٹل سروس کا انتظام ہے نہ ہی طلبہ کو اپنی گاڑیاں اور موٹر سائیکل وغیرہ متعلقہ شعبوں تک لے جانے کی اجازت ہے اور نہ ہی طلبہ کے والدین کو ان کے شعبوں تک پہنچانے کی اجازت دی جاتی ہے تمام گاڑیوں کو داخلی راستوں پر پارک کرکے متعلقہ شعبوں تک پیدل جانے پر مجبور کیا جاتا ہے ان حالات میں اگر یونیورسٹی کے داخلی راستوں پر تعینات انتظامی اہلکاروں سے یونیورسٹی کے شعبوں تک جانے کے لیئے ذاتی گاڑیوں کے اجازت نامے کی درخواست کی جاتی ہےتو ان اہلکاروں کی جانب سے نہایت تضحیک آمیز رویہ اختیار کیا جاتا ہے اور بعض اوقات انا کا مسئلہ بنا کر طلبہ کو واپس گھر لوٹ جانے پر مجبور کردیا جاتا ہے اور جواز دیا جاتا ہے کہ اجازت نامہ یونیورسٹی کے ملازمین اور رہایشیوں کو جاری کیا جاتا ہے طلبہ کی یا والدین کی گاڑیوں کا متعلقہ شعبوں تک داخلہ ممنوں ہے بعض اوقات اس حد تک طلبہ اور والدین سے اہلکاروں کی تکرار ہوتی ہے کہ طلبہ اپنے شعبوں تک جانے کے بجائے خود ہی واپس گھر لوٹ جاتے ہیں ۔

کراچی یونیورسٹی کے چلنے واے پوانٹس کی حالت زار کا اندازہ اس پر لٹکے ہوئے طلباء اور طالبات کو دیکھ کر بخوبی لگایا جاسکتا ہے جو چند پوانٹس چلائے جارہے ہیں وہ بھی محض چند علاقوں سے چلتے ہیں ، کراچی کے شہریوں کو پہلے ہی بہتر سفری سہولیات میسر نہیں اس پر کراچی یونیورسٹی کی انتظامیہ کی جانب سے قوم کے معماروں کے ساتھ یہ ناروا سلوک سمجھ سے بالاتر ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ارباب اختیار فی الفور اس جانب توجہ دیں اور طلبہ کو مشکلات سے نجات دلایں تاکہ وہ پر سکون انداز میں اپنی تعلیم پر توجہ دے سکیں اس کے لیئے کراچی یونیورسٹی کی انتظامیہ کو چند اقدامات کرنے کی فوری ضرورت ہے اگر کسی بھی وجہ سے یہ ضروری ہے کہ طلبہ کی ذاتی گاڑیوں کو اندر آنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی تو یونیورسٹی کے تمام داخلی گیٹوں سے تمام شعبوں تک مقررہ اوقات میں شٹل سروس مہیا کی جائے تاکہ طلبہ وقت مقررہ پر اپنے شعبوں میں پہنچ سکیں اور اگر یونیورسٹی انتظامیہ ایسا کرنے سے قاصر ہے تو پھر طلبہ اور ان کے والدین کی ذاتی گاڑیوں کو ان کے تعلیمی شناختی کارڈ کو چیک کرنے کے بعد متعلقہ شعبوں تک جانے کی اجازت دی جائے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Arshad Qureshi

Read More Articles by Muhammad Arshad Qureshi: 127 Articles with 80069 views »
My name is Muhammad Arshad Qureshi (Arshi) belong to Karachi Pakistan I am
Freelance Journalist, Columnist, Blogger and Poet.​President of Internati
.. View More
22 Feb, 2017 Views: 816

Comments

آپ کی رائے