وزیر اعظم ، آرمی چیف ، علمائے کرام اور عوام ہوشیار باش

(Aslam Lodhi, Lahore)
ملک کو بچانا صرف فوج کا نہیں عوام کابھی فرض ہے
سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے ہر قسم کی شناخت ختم کرکے صرف اور صرف پاکستانی بننا ہوگا ۔

فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ پاکستانی گزشتہ چالیس سال سے انگلینڈ میں رہائش پذیر ہیں ۔وہ گاہے بگاہے پاکستان کے خلاف عالمی سازشوں کے بارے میں مجھے واٹس اپ کے ذریعے آگاہ کرتے رہتے ہیں تاکہ میں فرقوں میں بٹی ہوئی اور باہمی انتشار کا شکار پاکستانی قوم کو ان کے خلاف ہونیوالی سازشوں سے بروقت آگاہ کرسکوں ۔گزشتہ روز انہوں نے ایک حقیقت پر مبنی تجزیہ انگلینڈ سے ارسال کیا۔ جس کو پڑھنے کے بعد تو میرا دماغ شل اور جسم لرزنے لگا۔ میں یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ امریکہ، بھارت،اسرائیل ہمارے ملک میں انتشار اور قومی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے لیے کس قدر متحرک ہیں اورہم کس قدر غافل ہوچکے ہیں۔ اندورن ملک عوامی ، سیاسی اور حکومتی قائدین ایک ایسی نہ ختم ہونیوالی جنگ میں پوری شدت سے شریک ہیں جو ملک دشمن طاقتوں کے مہلک ترین ایجنڈے کو وقت سے پہلے ہی پایہ تکمیل تک پہنچاسکتی ہے ۔ ہم تو شامی اور برمی مسلمان کے ہولناک واقعات اور سانحات پر آنسو بہارہے ہیں لیکن امریکہ بھارت اور اسرائیل اپنا اگلا شکار پاکستان کو بنانا چاہتے ہیں اور شام جیسے حالات سے (ان کے منہ میں خاک ) سے ہمیں دوچار کرنا چاہتے ہیں ۔میں ظفر زمان چشتی کی انگلینڈ سے بھیجی ہوئی رپورٹ کو من وعن اپنے آرٹیکل کا حصہ بنارہا ہوں تاکہ ہمارے حکمران ، سیاست دان ، علمائے کرام ، عسکری ماہرین اور عوام اس پر غور کرکے ان سازشوں کا مقابلہ کرنے کی حکمت عملی اپناسکیں ۔لیجیئے آپ بھی ملاحظہ فرمالیجیئے -:
"پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس کی سب سے بڑی ایکٹو جنگی سرحد ہے جو کہ 3600کلومیٹر طویل بنتی ہے ۔ بدقسمتی سے پاکستان ہی دنیاکا واحد ملک ہے جو بیک وقت تین خوفناک جنگی ڈاکئرائن کی زد میں ہے ۔ جس کے بارے میں بہت تھوڑے لوگ جانتے ہیں ۔ پہلے نمبر پر کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن Cold Strat Doctrineہے جو انڈین جنگی حکمت عملی ہے جس کے لیے انڈیاکی کل فوج کی سات کمانڈز میں سے چھ پاکستانی سرحد پر تعینات ہو چکی ہیں۔ یہ بھارت کی تقریبا 80 فیصد سے زیادہ فوج بنتی ہے اور اس ڈاکئرائن کے لیے انڈین فوج کی مشقیں ، فوجی نقل و حمل کے لیے سڑکوں ،پلوں اور ریلوے لائنوں کی تعمیر اور اسلحے کے بہت بڑے بڑے ڈپو نہایت تیز رفتاری سے بنائے جارہے ہیں ۔اس ڈاکئرائن کے تحت صوبہ سندھ میں جہاں بھارت کو جغرافیائی گہرائی حاصل ہے ۔وہ تیزی سے داخل ہوکر سندھ کو پاکستان سے کاٹتے ہوئے گوادر کی طرف بڑھیں گی اور مقامی طور پر ان کو سندھ میں جسقم اور بلوچستان میں بلوچستان لبریشن آرمی کی مدد حاصل ہوگی ۔ پاکستان کواصل اور سب سے بڑا خطرہ اسی سے ہے اور پاکستان آرمی انڈین فوج کی ایسی نقل و حرکت کو مائنیٹر کرتے ہوئے اپنی جوابی حکمت عملی تیار کررہا ہے ۔ آپ نے سنا ہوگا ،پاکستان آرمی کی" عزم نو "مشقوں کے بار ے میں جوپچھلے کچھ سالوں سے باقاعدگی سے جاری ہیں ۔ یہ بھارت کی کولڈ سٹارٹ ڈاکئرائن کا جواب تیار کیا جارہا ہے جس کے تحت پاک آرمی جارحانہ دفاع کی تیاری کررہی ہے ۔ گو کہ اس معاملے میں طاقت کا توازن بری طرح ہمارے خلاف ۔انڈیا کی کم ازکم دس لاکھ فوج کے مقابلے میں ہماری صرف دو سے اڑھائی لاکھ فوج دستیاب ہے کیونکہ باقی فوج امریکن ایف پاک ڈاکئرائن منصوبے کی زد میں ہے ۔ امریکن ایف پیک ڈاکئرائن American AFPak doctrine باراک اوباما ایڈمنسٹریشن کی پاکستان کے خلاف جنگی حکمت عملی ہے جس کی تحت افغان جنگ کو بتدریج پاکستان کے اندر لے کرجانا ہے اورپاکستان میں پاک آرمی کے خلاف گوریلا جنگ شروع کروانی ہے ۔ درحقیقت یہی وہ ڈاکئرائن ہے جس کے تحت اس وقت پاکستان کی کم ازکم دو لاکھ فوج حالت جنگ میں ہے اور اب تک ہم کم ازکم اپنے 20 ہزار فوجی گنوا چکے ہیں جو پاکستان کی بھارت کے ساتھ تینوں جنگوں میں شہید ہونے والوں کی مجموعی تعداد سے زیادہ ہے ۔ اس جنگ کے لیے امریکہ اور بھارت کا اآپس میں آپریشنل اتحاد ہے اور اسرائیل کی تیکنیکی مدد بھی حاصل ہے ۔ اس کے لیے کرم ایجنسی اور ہنگو میں شیعہ سنی فسادات کروائے گئے اور وادی سوات میں نفاذ شریعت کے نام پر ایسے گروہ کو مسلط کیاگیا ،جنہوں نے وہاں کے عوام پر مظالم ڈھائے اور فساد برپاکیا جس کے لیے مجبورا پہلی بار پاک فوج کوان کے خلاف ان وادیوں میں داخل ہوناپڑا ۔ پاک فوج نے عملی طور پر ان کو پیچھے دھکیل دیا ہے لیکن نظریاتی طور پر اب بھی ان کو بہت سے حلقوں کی سپور ٹ حاصل ہے جس کی وجہ سے عوام اپنی آرمی کے ساتھ اس طرح نہیں کھڑی، جیسے ہونا چاہئیے۔ اس کی وجہ تیسری جنگی ڈاکئرائن ہے جس کے ذریعے امریکہ اور اس کے اتحادی پاک آرمی پر حملہ آور ہیں اور اس کو فورتھ جنریشن وار کہاجاتاہے ۔ فورتھ جنریشن وار Fourth Generation Warfare ایک نہایت ہی خطرناک جنگی حکمت عملی ہے جس کے تحت ملک کی افواج اور عوام میں مختلف طریقوں سے دوری پید ا کی جاتی ہے ، مرکزی حکومتوں کو کمزوراور صوبائیت کو ہوا د ی جاتی ہے ، لسانی اور مسلکی فسادات کروائے جاتے ہیں ۔عوام میں مختلف طریقوں سے مایوسی اور ذہنی خلفشار پھیلایاجاتاہے۔ اس مقصد کے لیے کسی ملک کامیڈیا خریدا جاتاہے اور اس کے ذریعے ملک میں خلفشار ، انارکی اور بے یقینی کی کیفیت پیدا کی جاتی ہے ۔ فورتھ جنریشن وار کی مدد سے امریکہ نے پہلے یوگوسلاویہ ،عراق اور لیبیا کاحشر کردیا۔ اب اس جنگی حکمت عملی کو پاکستان اور شام پر آزمایا جارہا ہے ۔ بدقسمتی سے انہیں اس میں کافی کامیابی بھی حاصل ہوچکی ہے -پاکستان کے خلاف فورتھ جنریشن وار کے لیے بھی امریکہ انڈیا اور اسرائیل اتحادی ہیں۔ بارک اوباما نے اپنی زبان سے کہا تھا کہ وہ پاکستانی میڈیا میں 50 ملین ڈالر سالانہ خرچ کریں گے۔ آج تک کسی نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ کس مقصد کے لیے اور کن کو یہ رقوم ادا کی جائے گی جبکہ انڈیا کاپاکستانی میڈیا پر اثرو رسوخ بخوبی دیکھا جاسکتا ہے ۔ اس وقت ساری پاکستانی قوم اس امریکن فورتھ جنریشن وار کی زد میں ہے ۔یہ واحد جنگ ہوتی ہے جس کا جواب آرمی نہیں دے سکتی ، آرمی اس صلاحیت سے محروم ہوتی ہے ۔ چونکہ پاک آمی کو امریکن ایف پاک ڈاکئرئن کے مقابلے پر نہ عدالتوں کی مدد حاصل ہے اورنہ ہی سول حکومتوں کی اورنہ ہی میڈیا کی ۔ اس لیے باوجود بے شمار قربانیاں دینے کے، اس جنگ کو اب تک ختم نہیں کیاجاسکا ہے اور اس کو مکمل طور پر جیتا بھی نہیں جاسکتا۔ جب تک پوری قوم مل کر اس امریکن فورتھ جنریشن وارکا جواب نہیں دیتی۔فورتھ جنریشن وار بنیادی طور پر ڈس انفارمیشن وار ہوتی ہے اوراس کا جواب سول حکومتیں اور میڈیا کے محب وطن عناصرہی دیتے ہیں۔ پاکستان میں لڑی جانے والی اس جنگ میں حکومتوں سے کوئی امیدنہیں۔ اس لیے عوام میں سے ہر شخص کو خود اس جنگ میں عملی طور پر حصہ لینا ہوگا۔ اس حملے کا سادہ جواب یہی ہے کہ عوام ہر اس چیز کو رد کردیں جو پاکستان ،نظریہ پاکستان اور دفاع پاکستان یا قومی سلامتی کے اداروں پر حملہ آور ہو ۔"
.................
ان حالات میں کیا ایک محب پاکستانی کا فرض نہیں بنتا کہ وہ امریکہ بھارت اور اسرائیل کی ان سازشوں کا مقابلہ کرے ۔ لیکن اگر ہم پاکستان کے اندرونی حالات کو دیکھتے ہیں تودل خون کے آنسو روتا ہے ۔سیاست دان ہوں ، یا حکمران ، عوام ہوں یا خواص ہر کوئی اپنے ہی مفاد ات کو پورا کرنے میں مصروف دکھائی دیتاہے۔ مولا نا فضل الرحمن ہی کو دیکھ لیں وہ پاکستان کے ایسے سیاست دان ہیں جن کے پاس پارلیمنٹ کی بمشکل دس پندرہ سیٹیں ہی ہوں گی لیکن انہوں نے پوری نواز حکومت کو مفلوج کررکھا ہے اور حکومتی اداروں کو اپنی انگلیوں کے اشارے پر نچا رہے ہیں۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ وہ ہر حکومت میں کشمیر کمیٹی کے چیرمین بھی ضرور ہوتے ہیں حالانکہ انہیں کشمیر کے بارے میں کچھ پتہ نہیں اور نہ ہی انہوں نے کبھی کشمیر کے بارے میں کوئی پریس کانفرنس ، سیمینار منعقد کیا ہے ۔وہ تو مفاد حاصل کرنے کے میدان میں اس قدر مشاق اور ماہر ہوچکے ہیں ان کی ذو معنی مسکراہٹ ہی بے شمار داستانوں کی زبان بن جاتی ہے ۔ سوائے عمران کے تمام سیاست دان ان سے ڈرتے ہیں اور عمران کے خلاف وہ جب بھی بولتے ہیں تو پورا ہی تولتے ہیں ۔وہ کچھ کریں یا نہ کریں ایک وزیر کے برابر تنخواہ اور مالی مراعات نقد وصول کرتے ہیں ۔ہیں نا یہ کمال والی بات ۔ یہ ان کی مرضی پر منحصر ہے کہ حکومت سے تین وزارتوں کا مطالبہ کردیں یا پانچ کا ۔ حکومت کسی حیل و حجت کے بغیر ان کی ہر بات ماننے کو تیار نظر آتی ، ورنہ سازشوں کے ایسے جال بنتے ہیں کہ اﷲ کی پناہ ۔ موصوف نے عمران خان کی احتجاجی تحریک میں نواز شریف کی اخلاقی حمایت کرکے حکومت کو ممنون احسان کرلیا ہے ۔ اپنی ذات اور علاقے کے لیے جو مفادات حاصل کیے اس کا ذکر یہاں ضروری نہیں لیکن اب جبکہ نواز شریف مکمل طور پر مولانا فضل الرحمن کی گرفت میں آچکے ہیں تو قبائلی علاقہ جات کی حکومتی اصلاحات کی عین اس وقت مخالفت کردی جبکہ صدیوں سے پسماندہ یہ علاقے قومی دھارے میں شامل ہورہے تھے ۔ یہ انہی کا کارنامہ ہے کہ اب قبائلی عوام ، رہنما اور عمائدین ذہنی طور پر منتشر ہوچکے ہیں ۔ موصوف فرماتے ہیں اگر کشمیر کے لیے استصواب رائے کامطالبہ کیاجاسکتا ہے تو قبائلی علاقوں میں ایسا کیوں نہیں ہوسکتا ۔ اگر یہ کہاجائے تو غلط نہ ہوگا کہ نواز شریف بری طرح مولانا فضل الرحمن کے چنگل میں پھنس چکے ہیں اب جو فضل الرحمن چاہتے ہیں وہی نواز شریف کرنے کو تیار ہیں یہی وجہ ہے کہ تین مرتبہ قبائلی علاقہ کے حوالے اصلاحات کو کابینہ ایجنڈے سے عین موقع پر نکال دیاگیا۔ اگر نواز شریف قبائلی علاقوں کو خیبرپختوانخواہ میں شامل کردیتے ہیں تو موصوف اپنا وزن تحریک انصاف کے پلڑے میں ڈال کر حکومت کے لیے اس قدر مسائل پیدا کرسکتے ہیں جس کو برداشت کرنے کی ہمت شاید موجودہ حکومت میں نہ ہو۔ اس وقت حکومت ، سی پیک منصوبے کی تکمیل کے لیے آگے بڑھنے کی جستجو کررہی ہے اور ملک سے بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے پرجوش ہے تو مولانا فضل الرحمن سمیت دیگر تمام سیاست دان حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لیے ہر لمحے سوچتے رہتے ہیں ۔

اگر یہ کہاجائے تو غلط نہ ہوگا کہ عمران خان غلطی سے سیاست میں وارد ہوئے ہیں ۔موصوف کو جب سے عوامی سطح پر کچھ کامیابی نظر آنے لگی ہے تو میچ شروع ہونے سے پہلے ہی دھاندلی کا شور مچا کر سیاسی ماحول کو پراگندہ کرنے کی ہر ممکن جستجو میں مصروف ہیں ۔ انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ ان کی احتجاجی تحریک اور احتجاجی دھرنوں سے ملک کو کس قدر نقصان ہورہا ہے اور سیاسی عدم استحکام پیدا ہونے کی بنا پر ملک دشمن عناصر کے عزائم کس قدر تیزی سے انجام پذیر ہورہے ہیں ۔ وہ اپنی ہی دھن میں کبھی شہروں سمیت وفاقی دارالحکومت کو بند کرنے کی کھلی دھمکیاں دیتے ہوئے سنائی دیتے ہیں ۔ عمران خان اپنے باغیانہ روش اور بیانات کی وجہ سے ریاست کومفلوج کرتے جارہے ہیں ۔کبھی یہ غیر ممالک میں مقیم پاکستانیوں کو زرمبادلہ وطن عزیز نہ بھجوانے کی دھمکی دیتے ہیں توکبھی یوٹیلٹی بلز پھاڑنے پر آمادہ کرتے ہیں ۔ کرنسی نوٹوں کو سیاسی بلیک میلنگ کے استعمال کرنے کا رواج بھی موصوف کا ہی ہے ۔جب تھرڈ ائمپائر کی وجہ سے وزارت عظمی نہ ملی تو اب پانامہ لیکس کا سوشہ پکڑ کر پوری دنیامیں دھما ل ڈالتے پھر رہے ہیں ۔ عدالت عظمی کے باہر دونوں فریق اس قدر جوش خطابت کااظہار کرتے ہیں کہ میڈیاکوریج کی وجہ سے پوری قوم ذہنی طور پر مفلوج ہوچکی ہے بلکہ ماؤں کے پیٹ میں پرورش پانے والے بچوں کو بھی پانامہ لیکس کے بارے میں علم ہوچکا ہے ۔ اگر یہی صورت حال جاری رہی تو آنے والی نسلیں ضرور اس کے بارے میں بزرگوں سے سوال کریں گے کہ عمران خان کون تھا جو ہر وقت احتجاج ہی کرتا دکھائی دیاکرتا تھا ۔ جس نے دھرنوں میں رقص و سرور کی محفلیں جماکر نیا پاکستان بنانے کی ناکام کوشش کی تھی۔اگر یہ کہاجائے تو غلط نہ ہوگا کہ وہ اپنا بھی اور حکومت کا وقت بھی ضائع کررہا ہے اور اس کا سہرا شیخ رشید کے سر ہے جسے پیار سے لوگ شیدا ٹلی کہتے ہیں جو اپنی ہی ذات میں خود انجمن ہے ۔ دوسرے لفظوں میں وہ ملک میں سیاسی عدم استحکام پیداکرکے امریکہ بھارت اور اسرائیل کے ایجنڈے کو ہر ممکن پورا کرنے کی مکمل جستجو کررہے ہیں ۔ انہیں اس ایجنڈے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے اتنی جلدی ہے کہ وہ الیکشن 2018ء کا انتظار کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں ۔ انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ پاکستان کی سا لمیت کو کس قدر نقصان پہنچ رہا ہے ۔ وہ تو ہر حال میں نواز شریف کو فارغ اور خود وزیر اعظم بننے کے جتن کررہے ہیں ۔چینی سفیر نے ان سے ملاقات کرکے گزارش کی تھی کہ سی پیک منصوبے کی کامیابی کے لیے سیاسی استحکام کی اشد ضرورت ہے آپ کچھ عرصہ سکون سے زندگی گزار لیں لیکن چینی سفیر کو بھی یہ کہہ شرمندہ کردیا کہ میں تو کرپشن کے خلاف احتجاج کررہا ہوں حکومت کے خلاف نہیں ۔ اس کے باوجود کہ خیبرپختوانخواہ میں جہاں تحریک انصاف کی حکومت ہے وہاں چیف منسٹر اور بیشتر وزراء پر کرپشن کے الزامات ان کا اپنا قائم کردہ احتساب کمیشن لگا چکاہے جسے یک جنبش ختم کردیاگیا ۔ اب وہ کس منہ سے وفاقی حکومت کے خلاف سراپااحتجاج ہیں یہ بات بہت معنی خیز ہے ۔

پاکستان کے مفاد پرست ٹولے میں پیپلز پارٹی کا شمار بھی ہوتا ہے ۔یہ جب اقتدار میں ہوتی ہے تب بھی پاکستان کے مفادات کو چھوڑ کر ذاتی مفادات کی تکمیل اور کرپشن میں مصروف ہوجاتی ہے اوراپوزیشن ہوتی ہے تو اپنی کرپشن بھول کر کرپشن کے خلاف جلوس نکالتی ہے ۔ اس وقت جب اپنی بدترین کرپشن کی وجہ سے سندھ تک محدود ہوکر رہ چکی ہے پھر سازشوں سے باز نہیں آتی ۔عمرانی دھرنے کے خلاف حکومت کا ساتھ دینے کا معاوضہ اپنی کرپشن کوچھپانے اور اپنے ناجائز مطالبات منوانے کی شکل میں کررہی ہے ۔ جب چاہتے ہیں ، حکومت کے خلاف ہوجاتے اور جب چاہتے ہیں ذومعنی خاموشی اختیار کرلیتے ہیں ۔سندھ کارڈ کوہر لمحے اپنی جیب میں رکھتے ہیں اور قومی وسائل عوام پر نچھاور کرنے کی بجائے بھٹو اور زرداری خاندان کی تشہیر اور افزائش پر خرچ کرتے ہیں۔ فوج اور وفاقی حکومت پر تنقید کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ۔ یہ بھی انہی کی خوبی ہے کہ وہ ایک قومی اور کثیر الامقاصدمنصوبے کالاباغ ڈیم کو اپنی موت تصور کرکے اس کی مخالفت کرتے چلے آرہے ہیں ۔ سندھ اسمبلی سے ڈیم کے خلاف قرار داد منظور کراکے ملک دشمنی میں سب سے آگے نظر آتے ہیں ۔ حیدر آباد دکن جس کے مہاراجہ نے 1947 میں تحریری طور پر لکھ کر پاکستان کے ساتھ الحاق کرلیا تھا، ذوالفقار علی بھٹو کے والد سر شاہنواز نے حیدر آباد دکن میں بھارتی فوج کو دعوت دے کر قبضہ بھی کروا دیا ۔ وگرنہ یہ سب سے دولت مند ریاست پاکستان کا حصہ بنتی تو تاریخ اور حالات تبدیل ہوجاتے ۔ بھٹو نے پہلے ایوب خان سے بے وفائی کی پھر مشرقی پاکستان کو اپنی غلط پالیسی اور بیانات سے الگ کروایا ۔ پھر شملہ معاہدہ کرکے کشمیر جیسے منصوبے کو پس پشت ڈال دیا جس کا سہار الے کرآج بھی بھارت یہ کہتا ہوا دکھائی دیتا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین تمام متنازعہ معاملات کو صرف شملہ معاہدے کے تحت ہی حل کیاجاسکتا ہے گو یا کشمیر پر سلامتی کونسل کی قرارداد فارغ کروادی ۔پیپلزپارٹی کے رہنما صوبہ پنجاب کو تو ہر صورت تقسیم کرنا چاہتے ہیں لیکن جب کراچی کو سندھ سے علیحدہ صوبہ بنانے کی بات آتی ہے تو ان کی چیخیں نکل جاتی ہیں اور زبان حلق سے نکل آتی ہے ۔پھر یہ سندھ ماتا کی تقسیم ناقابل قبول کہہ کر میڈیا میں طوفان برپا کرتے ہیں اور تقسیم کا بیان دینے والوں کو ایسے کوسنے دیتے ہیں جیسے محلے کی عورتیں مصروف جنگ ہوں ۔ بے نظیر نے وزیر اعظم کی حیثیت سے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے نقشے مانگے جو نقشے انہیں دیئے گئے وہ چند ہفتے بعد امریکہ میں دیکھے گئے ۔ جب امریکیوں نے جائزہ لیاتو انہوں نے بے نظیر سے شکوہ کیاکہ آپ نے ہمیں جعلی نقشے فراہم کردیئے ہیں ۔ اﷲ کا شکر ہے کہ ایٹمی پروگرام ہمیشہ سے پاک فوج کے ہی کنٹرول میں رہا ہے وگرنہ پیپلز پارٹی کب کی انہیں امریکہ اور بھارت کے ہاتھوں فروخت کرچکی ہوتی ۔ جنرل ضیاء الحق نے بھارت کی جانب سے سندھ کی علیحدگی کے اثر کو زائل کرنے کے لیے مشرقی پنجاب کے سکھوں کی خالصتان تحریک کو پرموٹ کیا لیکن جب بے نظیر وزارت عظمی پر فائز ہوئیں تو ان کے ایک وزیر نے بغاوت کرنے والے سکھوں کی فہرستیں بھارتی حکومت کو دے کر ہمیشہ کے لیے خالصتان کا مسئلہ ہی ختم کردیا ۔ اگر خالصتان بن جاتا تو ہماری آدھی سرحدبھارت سے دور ہوجاتی ۔لیکن پیپلز پارٹی کو بھارت کی بے بسی پسند نہیں آئی اور بھارت کو ایسا ریلیف فراہم کیا کہ آج وہ ہمارے بلوچستان اور سندھ میں ایک بار پھر علیحدگی کی تحریکوں کو شروع کرچکا ہے ۔

یہ پاکستان کی ہی نہیں دنیا کی سب سے کرپٹ ترین جماعت ہے جو روٹی کپڑا مکان کے نام پرعوام سے ووٹ لیتی ہے پھر اپنی تجوریاں بھر کے رفوچکر ہوجاتی ہے ۔فرانس ، انگلینڈ اور دوبئی پیپلز پارٹی کے دوسرے لاڑکانہ ہیں جہاں ان کی جائیدادوں سے دوسرے ملک ترقی کررہے ہیں ۔ کرپشن کی بہترین مثال پیپلز پارٹی کے موجودہ اپوزیشن لیڈر ہیں جو ایک میٹرریڈر تھے اور آج کھرب پتی ہونے کے ساتھ ساتھ کنگ میکر ہیں ۔ شاید ہی دنیا میں کسی نے اتنی جلدی دولت اور شہرت حاصل کی ہو۔اس لیے یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ حساس ترین قومی معاملات پر پیپلز پارٹی پر کبھی بھروسہ نہیں کیاجاسکتا۔جو پہلے وفاق کی علامت تصور کی جاتی تھی لیکن اب اپنی عوام دشمن بدترین پالیسیوں کی بنا پر سندھی جماعت تک محدود ہو کر رہ گئی ہے ۔یہ عوام کی بات ضرور کرتی ہے لیکن ووٹ حاصل کرنے کی حد تک ۔ ووٹ حاصل کرنے کے بعد یہ عوام کو ہی مشق ستم بناتی ہے ۔

عوامی نیشنل پارٹی جو سرحد ی گاندھی خان عبدالغفار خان جیسے مکروہ شخص کی میراث ہے۔ جس نے تقسیم ہند کے وقت قیام پاکستان کی مخالفت کرکے غیور پٹھانوں کو بھارتی ہندووں کے ہاتھ فروخت کرنے سے گریز نہیں کیا۔وہ بھارتی حکومت سے اب بھی وظیفہ وصول کرتی ہے اور پاکستانی حکومت کو بھی ہمیشہ بلیک میل کرتی ہے ۔ خان عبدالغفار خان نے پاک سرزمین دفن ہونا بھی گوارا نہیں کیا اور وصیت کے مطابق ان کی میت کابل میں لے جاکر دفن کی گئی ہے ۔ 1979ء میں جب سوویت یونین نے افغانستان پر یلغار کی تھی تو یہی سرخ پوش روسی ٹینکوں کااستقبال کرنے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے تھے ۔ یہ تو اﷲ تعالی کاکرم تھاکہ جنرل ضیا الحق روسیوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کے کھڑے ہوگئے وگرنہ ان لوگوں نے پاکستان کو ختم کرنے کی ہر کوشش میں پیش پیش دکھائی دیتے ہیں ۔یہ مکروہ لوگ بیشتر حکومتی عہدوں پر فائز رہنے کے باوجود ملک کی مخالفت کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ۔کالاباغ ڈیم جیسا کثیر الامقاصد منصوبہ انہی کی مخالفت کی بھینٹ چڑھ چکا ہے ۔ اس کے باوجود کہ خیبرپختوانخواہ میں ہر سال موسم برسات میں طوفانی ریلے انسانی بستیوں کا صفایا کر جاتے ہیں اور جانی و مالی نقصانات اس کے علاوہ ہیں ۔ پھر بھی یہ ڈیموں کی مخالفت نہیں چھوڑتے اور موسم برسات میں خود زندگی کی رنگینوں کو اپنے محل نما گھروں میں بیٹھ کر انجوائے کرتے ہیں لیکن غریب پاکستانی لوگ طوفانی سیلاب کی نذر ہوجاتے ہیں ۔

محمود اچکزئی کا تعلق بلوچستان سے ہے لیکن ان کی زبان سے کبھی پاکستان کے حق میں کوئی بات نہیں نکلتی ان کا بس چلے تو پاکستان کا نام ہی افغانستان رکھ دیں ۔ وہ رہتے پاکستان میں، کھاتے پاکستان کا ہیں۔ ببانگ دہل حمایت افغانستان کی کرتے ہیں ۔اب جبکہ بم اور خود کش دھماکوں میں افغان مہاجرین کا سہولت کاری کا کردار سامنے آیا ہے تو جب بھی قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کے خلاف کاروائی کرتے ہیں تو سب سے پہلے ان کی حمایت میں بولنے والے یہی اچکزئی ہوتے ہیں ۔

یہ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ ایک جانب امریکہ ، اسرائیل اور بھارت مشترکہ طور پر پاکستان کو اپنی مکروہ سازشوں کا شکار کرکے اس کا شیرازہ بکھیرنا چاہتے ہیں اور توبہ نعوذ باﷲ پاکستان کو شام جیسی خانہ جنگی کا شکار کرنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں تو دوسری جانب آدھے سیاست دانوں ملک دشمنی پر ہی کمر بستہ رہتے ہیں ۔ ان کی وفاداریاں بھارت ،افغانستان اور امریکہ کے ساتھ ہوتی ہیں ۔ اور جو سازشیں وہ وطن عزیز کے خلاف کررہے ہیں ان کا میں اوپر ذکر کر چکا ہوں ۔ اس کے علاوہ پاکستان میں بے شمار مافیا کام کر رہے ہیں ان کی وفا داریاں اپنے اپنے سرپرستوں کے ساتھ ہیں ۔ پاکستان میں ایک مافیا ،جوانسانی حقوق کا چیمپیئن بن کے ہر اس فیصلے کے لیے بین الاقوامی سطح پر ملک کی بدنامی کا باعث بنتا ہے جو واقعات ملک میں آئے روز رونما ہوتے رہتے ہیں ۔ ایسی تنظیموں اور افرادکو نہ تو امریکہ کی بدترین انسانیت سوز مظالم اور مکروہ عزائم دکھائی دیتے ہیں اور نہ ہی بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیر ی مسلمانوں کے ساتھ روا رکھا جانے والا بدترین سلوک نظر آتا ہے ۔ بھارت میں دس ہزار مسلمانوں کو متعصب ہندوں زندہ جلا دیں یا ان کے گھر راکھ کا ڈھیر بنادیں انکی زبان سے ایک لفظ بھی نہیں نکلتا لیکن پاکستان میں کسی ایک ہندو یا عیسائی کو معمولی سے تکلیف بھی پہنچ جائے تو وہ اس قدر چیخ و پکار کر تے ہیں کہ امریکی صدر کا بیان حمایت میں جاری ہوجاتاہے انہیں بین الاقوامی میڈیا کا تعاون حاصل ہے وہ اس تعاون کو بروئے کار لاکرہرلمحے پاکستان کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں جیسے پاکستان ہی دنیا کا انسانی حقوق کے حوالے سے بدترین ملک ہے ۔ ایسی تنظیموں کا ضمیر نہ جانے کیوں فلسطین میں ، شامی میں ، یمن ، میں چیچنا میں ، فلپائن میں ، برما میں ، بنگلہ دیش میں ہونے والے مسلمانوں کے خلاف بدترین تشدد اور مظالم پر زندہ نہیں ہوتا ۔ ان سانحات کو دیکھ کر ان کی زبانیں گنگ کیوں ہوجاتی ہیں ۔

اسی طرح پاکستان میں ایک مذہبی مافیا بھی اسلام کا ٹھیکیدار بن کر بہت مضبوط ہوچکا ہے ۔ ان کو جلوس نکالنے اور جلسے کرنے کا کوئی نہ کوئی بہانہ چاہیئے۔ حکومت اگر دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کرتی ہے تو یہی مذہبی ٹھیکیدار ان دہشت گردوں کی وکالت کرتے ہوئے انہیں اسلام کا ہیرو قرار دے دیتے ہیں ۔ اس کے باوجود کہ یہ علمائے کرام ایک دوسرے کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے اور فرقہ وارانہ نفاق پھیلانے میں ہر جگہ پیش پیش دکھائی دیتے ہیں لیکن دہشت گردوں کے خلاف ان کی زبان سے ایک لفظ بھی نہیں نکلتا ۔سنی تحریک کے نام پر بھی کتنے ہی مولوی صاحبان میدان سیاست میں کود پڑے ہیں حالانکہ انہیں کوئی ووٹ نہیں دیتا پھر بھی وہ دوینی مدرسوں کے طلبہ و اساتذہ کوسڑکوں پر لاکر اپنے وجودکا احساس کروانانہیں بھولتے ۔ یہ بھی پاکستان سے کم ، پیسے سے محبت زیادہ کرتے ہیں اور ہر حکومت کو بلیک میل کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ یہ اپنے اپنے گھروں میں بیٹھ کر بھارت کے دارالحکومت دھلی پر سبز ہلالی پرچم لہرانے کاعزم رکھتے ہیں۔ یہی لوگ پاک فوج کو کرایے کی فوج بناکر کبھی عراق توکبھی یمن بھجوانے کے لیے جلو س نکالتے ہیں۔لیکن یہ جہاد کے حق میں لمبی چوڑی تقریریں تو بہت کرتے ہیں لیکن اﷲ نے انہیں کبھی توفیق نہیں دی کہ وہ خود بھی کبھی کشمیری مسلمانوں کو آزادی دلانے ، فلسطینی مسلمانوں کو اسرائیل کے چنگل سے رہا کرانے کے لیے جہاد کرنے جائیں اور کفار سے جنگ کرتے ہوئے شہید ہوجائیں ۔ مولانا فضل الرحمن ہوں یا مولا نا سمیع الحق ، مولانا سراج الحق ہو ں یا کوئی اور مولوی سب نے ریاست کے اندر اپنی ریاست بنارکھی ہے ۔ دوران الیکشن انہیں بیس پچیس نشستیں ہی بمشکل ملتی ہیں لیکن یہ مذہبی لوگ پورے پاکستان کی سیاست کو اپنی مٹھی میں بندکرنے کا ہنر خوب جانتے ہیں ۔
..............
لشکر جھنگوی ہو یا ایسی ہی دیگر جہادی تنظیمیں جنہوں نے اپنے ہی ملک میں قتل و غارت گری کا بازار گرم رکھا ہے -کیا ان کو پاکستان کا دوست کہاجاسکتا ہے ۔ مجھے یہ کہتے ہوئے کوئی عار محسوس نہیں ہوتی کہ یہ امریکی ، بھارتی اور اسرائیلی ایجنٹ کا کردار اداکرکے پاکستانی قوم کو فرقوں میں تقسیم کررہے ہیں ۔وہ کام تو سرحدوں پر بھارت ،امریکہ اور اسرائیل پاک فوج کی وجہ سے نہیں کرسکتے وہی کام یہ ملک کے اندر رہتے ہوئے انکے آلہ کار بن کر نہایت مہارت سے کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ ایسے ہی مکروہ جہادی تنظیموں کی آڑ میں جی ایچ کیو سمیت پاکستان کی حساس ترین تنصیبات پر کتنے ہی حملے ہوچکے ہیں ۔کتنے ہی پاکستانی بے گناہ شہری ایسے مکروہ لوگوں کے بم اور خودکش دھماکوں کی وجہ سے شہادتوں کے جام پی چکے ہیں ۔ ان وطن دشمن عناصر اور دہشت گرد تنظیموں کی وجہ سے ہی ملک میں ہر کوئی سیکورٹی کا طلب گار ہے کہیں فورس ججوں کی سیکورٹی فورس بنائی جارہی ہے تو کہیں سی پیک پراجیکٹ کے لیے فوج کی پوری بٹالین مخصوص کی جارہی ہے ، کہیں تعلیمی ادارے حکومت سے سیکورٹی کے طلب گار ہیں تو کہیں پارکوں کے گرد سیکورٹی اہلکاروں کے کیمپ لگا ئے جارہے ہیں ۔ ملک بھر کے مزارات میں سیکورٹی رسک بن چکے ہیں ۔حکمران سخت ترین سیکورٹی کے قافلے لیے پھرتے ہیں ۔ ہر پولیس اور سرکاری افسر بھی حفاظتی گارڈ کا تقاضا کررہا ہے سرکاری افسروں کے گھروں میں بھی رات دن پہرے لگا دیئے گئے ہیں خار دار تارو ں کا ہر جگہ استعمال نظر آتا ہے سیمنٹ کی بھاری سلیبیں قطار در قطار ہر سرکاری دفتر کے باہر دکھائی دیتی ہیں ۔فلمی اداکار ،کھلاڑی ، بزنس کیمونٹی کے لوگ ، تاجر ، حتی کہ ہر شخص حکومت سے سیکورٹی کا طلب گار ہے ۔

کیا یہ حالات وہ نہیں ہیں جو امریکہ ، بھارت اور اسرائیل پاکستان میں پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔ ایک فرقے کا مولوی دوسرے فرقے کو کافر قرار دے رہا ہے ۔ایک فرقے کا مسلمان دوسرے فرقے کی مسجد میں جانے کو آمادہ نہیں ہوتا ۔ اپوزیشن جماعتیں حکومت کو ختم کرنے کے لیے امریکہ جیسے شیطان سے بھی تعاون کرنے کے لیے ہر لمحے تیار رہتے ہیں ۔ حکومت ملک میں اتحاد ، یکجہتی اور باہمی اشتراک پیدا کرنے کی بجائے اپنے ہی مالی سیکنڈلز کے دفاع میں لگی ہوئی ہے ۔ ہماری فوج کے دو لاکھ سپاہی افغان سرحد اور دو لاکھ بھارتی سرحد پر تعینات ہیں ایک لاکھ فوجی کینٹ ایریا اور کومبنگ آپریشن میں مصروف ہیں ۔ پولیس اس قدر نااہل ہوچکی ہے کہ دہشت گردوں کو تو چھوڑو وہ چور اور ڈاکووں کو بھی پکڑنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ۔جس کی نااہلی کی بنا پر دہشت گردپورے ملک میں دندناتے پھر رہے ہیں ۔فوج کے بغیر نہ تو الیکشن کاتصور کیاجاسکتا ہے اور نہ ہی مردم شماری کا ۔

سیلاب آئے ، زلزلہ آئے یا کوئی اور آفت ٹوٹے سول ادارے مکمل طورپر ناکام ہوچکے ہیں حکومت اور عوام فوج کی طرف ہی دیکھتے ہیں ۔ ان حالات میں سوال یہ پیدا وتا ہے کہ کیا ہماری فوج جو گزشتہ سترہ سالوں سے حالت جنگ میں ہے ۔ سیاچین ، کنٹرول لائن پر ، قبائلی ایجنسیوں میں ، جہاں اب بھی جنگی حالات کا انہیں سامنا ہے کیا وہ امریکہ بھارت اور اسرائیل کی ان سازشوں کا مقابلہ کرسکتی ہے ۔کیا ملک کے اندر قومی یکجہتی کی فضا قائم کرنا بھی فوج کا ہی کام ہے اگر یہ کام بھی فوج کو ہی کرنا ہے تو حکومت سمیت باقی سول ادارے کس مرض کی دوا ہیں وہ سب کے سب قومی خزانے پر بوجھ ہیں ۔

پاکستان میں امریکہ سفارت خانہ بھی امریکہ بھارت اور اسرائیل کے مشترکہ مفادات کی تکمیل کے لیے ایک اڈے کی حیثیت اختیار کرچکا ہے ۔ وہ سفارت کاری کے بجائے پاکستان میں امریکی مفادات کا رکھولا بن کر ہر سازش کو پروان چڑھانے کے درپے ہے ۔ میڈیا کو امریکہ کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے سابق صدر امریکہ بارک حسین اوباما نے 50 ملین ڈالر سالانہ کااعلان کیا تھا وہ امریکی سفارت کے ذریعے ہی پاکستانی میڈیا میں تقسیم ہوگی اور میڈیا کے جو لوگ اپناضمیر فروخت کردیتے ہیں وہ یہ رقم لے کر امریکی مفادات کے حق میں رائے عامہ ہموار کریں گے ۔ بدقسمتی کی بات تو یہ ہے کہ موسم برسات کے پانی میں جتنے مینڈک نظر آتے ہیں اتنے ہی ٹی وی چینلز پاکستان میں بن چکے ہیں جن کے پاس ڈھنگ کا کوئی پروگرام بھی نہیں ہوتا ۔ وہ انڈین پروگرام آن ائیر کرکے بھارتی ثقافتی یلغار کو پاکستانی عوام کے ذہنوں پر سوار کر رہی تھیں بلکہ اب بھی کئی ٹی وی چینلز بھارتی فلموں اور ادارکاروں کو پرموٹ کرنے کا فریضہ بخوبی نبھا رہے ہیں ۔ پاکستان کے خلاف اگر کوئی شخص پریس کانفرنس کرتا ہے تو اس کی گالیوں کو بھی بریکننگ نیوز کے طور پر سارا دن ہمارا میڈیا دکھاتا ہے اس کے برعکس پاکستان سے محبت کرنے والوں اور وطن عزیز پر جانیں نچھاور کرنے والوں کے کارناموں کو اجاگر کرنے کے لیے ہمارے میڈیا کے پاس وقت نہیں ہوتا ۔ انہیں بھارتی فلمی اداکاروں کے سیکنڈلز تو یاد ہیں لیکن پاک فوج کے ہیرو کی یوم پیدائش اور یوم شہادت یاد نہیں رہتا ۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ میڈیا جس قسم کی رائے عامہ ہموار کرتا ہے عوام کی رجحان بھی ویسا ہی ہوتا ہے ۔ اس لیے بین الاقوامی سازشوں کامقابلہ کرنے کے لیے میڈیا کے ذمہ دارانہ کردار کی اشد ضرورت ہے ۔ یہ بات میڈیا سے متعلقہ لوگوں کو بھی جان لینی چاہیئے اور اپنے ضمیر کا سودا کرنے سے ہرممکن گریز کرنا چاہیئے ۔

قصہ مختصر یہ کہ ہمیں اپنی ذاتی شناخت ختم کرکے خود کو صرف اور صرف پاکستانی بننا ہوگا ۔سب پاکستانیوں کا فرض بنتا کہ بین الاقوامی سازشوں ناکام بنانے کے لیے اپنے ہرقسم کے اختلافات ختم کرکے یک جان ہوجائیں ۔اگر خدانخواستہ پاکستان کو کچھ ہواتو یہ سیاست دان ، حکمران اور دولت مند طبقہ دوسر ے ملکوں میں پناہ لے لے گا لیکن عوام یعنی ہم نے تو اسی ملک میں ہی رہناہے ہمارا جینا مرنا اسی وطن عزیز کے ساتھ ہے تو پھر کیوں نہ ہم پنجابی سندھی ، بلوچی ، پٹھان ، قادری ، نقشبندی ، بخاری ، مدنی ، خان ، بٹ ، آرائیں ، لودھی ،پٹھان کہلانے کی بجائے اپنا نام محمداسلم پاکستانی رکھ لیں اور مسجدوں کے نام بھی صرف مسجد ہی رہنے دیں جہاں ہر مسلک کا انسان نماز پڑھ سکے۔ہمیں وہابی ، سنی ، اہلحدیث اور شیعہ کی شناخت ختم کرنا ہوگی اور خود کو صرف اور صرف مسلمان کہلانا ہوگا ۔ تاکہ دشمن ہماری صفوں میں کوئی دراڑ پیدا نہ کرسکے ۔

اگر ہماری پہچان پاکستان ہے تو ہمارے نام کے ساتھ بھی صرف پاکستانی ہی ہونا چاہیئے ۔ یہ ہر پاکستانی کے سوچنے کی بات ہے آ یئے ہم سب پاکستانی یہ عہدکریں کہ ہم ہر قسم کی فرقہ پرستی ، باہمی دشمنی ختم کرکے وطن عزیز کی آزادی و خودمختاری کے لیے اپنا تن من دھن قربان کردیں گے ۔ جو آزاد ی ہمیں اﷲ تعالی کے فضل و کرم ،نبی کریم ﷺ کی دعاؤں اور ہمارے آباؤاجدادکی قربانیوں کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے اس کو امریکہ بھارت اور اسرائیل کی تمام سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے ہر سطح پر اکٹھے ہوجائیں۔پاک فوج جغرافیائی سرحدوں کا دفاع کرسکتی ہے اور کر بھی رہی ہے لیکن اندرون ملک مردم شماری ہو ،الیکشن ہو ، زلزلہ آئے سیلاب آئے پولیس اور سول اداروں کو اپنا کردار بھر پور انداز سے نبھانا ہوگا ۔ ہمارے علمائے کرام کو چشتی ، قادری اور بخاری بننے کی بجائے صرف اور صرف مسلمان بننا ہوگااور قوم کی اسلام کے حقیقی مقاصد کی روشنی میں انتشار کی بجائے ہر سطح پر اتفاق اور اتحاد کو فروغ دینا ہوگا ۔ دینی مدرسوں کو علم کا گہوارہ بناناہوگا دہشت گردوں کے لیے سہولت کاری کے اڈے نہ بنائے جائیں ۔ فوج ملک کی حفاظت کرتی ہے عوام کا فرض ہے کہ اندرون میں فوجی چھاؤنیوں اور تنصیبات کی حفاظت عوام اور پولیس کرے ۔ ہر کام فوج پر چھوڑنے سے ریاستیں قائم نہیں رہتیں ۔ آزادی بہت بڑی نعمت ہے اس کی قدر کریں اورکشمیر ، فلسطین ، برما اور شام کو ہی دیکھ لیں ۔ ایک بات طے ہے کہ جب تک عوام خود اپنی اور اپنے ملک کی حفاظت کے لیے کمر بستہ نہیں ہوتے اور باتوں کی بجائے عملی طور پر اپنی فوج اور حکومت کا ساتھ نہیں دیتے اس وقت تک ملک دشمن عناصر کو سازشیں کرنے اور قتل و غارت گری کا بازار گرم کرنے کے لیے لوگ باہر سے نہیں لانے پڑیں گے ۔ پاکستان کے اندر ہی بے شمار لوگ فروخت ہونے اور آلہ کار بننے کے لیے ہر لمحے تیار ملتے ہیں ۔ آزادی کا پرندہ اگر خدانخواستہ ہاتھ سے نکل گیا تو پھر واپس نہیں آتا ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aslam Lodhi

Read More Articles by Aslam Lodhi: 571 Articles with 290299 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 Feb, 2017 Views: 606

Comments

آپ کی رائے