رد الفساداور سیرت مصطفی ﷺ!

(Inayat Kabalgraami, )
 آج پاکستان سمیت پوری دنیا ایک عجیب انتشار اور فساد میں مبتلا ہے۔ آج بہت سے لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ یورپ ،امریکہ یا دیگرممالک میں امن ہے،صرف پاکستان میں ہی انتشار ہے اور دیگرممالک کے لوگ مامون ومطمئن ہیں۔ شاید وہ حقیقت سے اجتناب کرتے ہیں ۔یا پھر حالات کے حقیقی رخ سے ناواقف ہیں۔ کیوں کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ ہر جگہ ایک فساد برپا ہے۔ یہ بات بھی درست ہے کہ مسلمانوں پر دنیاوی اعتبار سے یقیناً ایک وبال آیا ہواہے۔ بنسبت دیگر ممالک کے اسلامی ممالک فساد اور انتشار میں مبتلا ہیں۔ ایسا کیوں ہے ؟کیوں کر مسلمانوں پرمصایب اورآلام کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں؟ اس موضوع پر اہل قلم حضرات نے بہت کچھ لکھا ہے۔ مگر آج دیکھنا ہے کہ پوری دنیاپریشانک کیوں ہیں؟ یہ بہت ہی ضروری عمل ہے۔ آپ اگر انتہائی غائرانہ نظروں سے دنیا کے حالات کا جائزہ لے تو یہ بات واضح ہوگی کہ آج علوم وفنون ، ٹکنالوجی کی ترقی نے انسانوں کو وہ سب کچھ دیدیا ہے جو اس نے کبھی سوچا بھی نا تھا، مگر اس کے بدلے میں چھین اور سکون، رشتہ داروں کا احترام، انسانوں کی تعظیم، انسانوں کے ساتھ ہمدردی، آپسی محبت ، گھروں کا چھین، رشتہ داروں کے باہمی روابط وتعلق، انسیت والفت سب کچھ چھین لیاہے۔ آج پوری دنیا ایک ہوس کی شکارہیاور فساد کی کئی صورتیں ہیں،آ ہر کوئی نت نئی ٹکنالوجی اور ترقی یافتہ علوم وفنون سے فائدہ اٹھانا چاہتاہے، جب کہ یہ فائدہ انسانیت کیلئے نہیں بلکہ اپنے ذاتی مقاصد کیلئے ہوتاہے۔ ہر فرد یہ چاہتاہے کہ وہ اس ترقی یافتہ دور میں زیادہ سے زیادہ مال اکٹھاکرلے اور بڑے بڑے گھر بناکر خوب سے خوب تر ہوجائے۔ مگر دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہر شخص مایوسی کا شکار ہے۔ ہر ایک شک وشبہ کا مریض بن گیاہے۔ انسانیت کو بھو ل گیا ہے۔آج پوری دنیا کی حالت کچھ ایسی ہی ہوگئی ہے۔ امریکہ، اسرائیل، یورپ ، روس،ایران اور بھارت دنیا کے دوسرے خطوں پر حملہ آور ہورہاہے، وہاں آباد لوگوں کی خواہ وہ کوئی بھی ہو۔ لیکن اکثر مسلمانوں کو تہہ تیغ کردیا جاتاہے، جوانوں کو گولیوں سے چھلنی کر دیا جاتاہے، بچوں اور بوڑھوں کو فاس فور بموں کی یلغار سے تباہ کیا جاتاہے۔ عورتوں کی عصمتیں تارتار کی جاتی ہے۔ یہ سب اس ہی بات کا اظہار ہے کہ وہ ہوس کے شکار ہیں۔ ان کو اپنی پڑی ہے، اس کی وجہ ان کی مایوسی، زندگی سے بے اطمینانی، دل کا اجاڑ پن، سکون واطمینان کا غارت ہوجانا ہے۔ انسانیت زخمی ہے، اس کے زخموں سے خون رس رہاہے، اسی رسنے والے خون کے چھینٹیں ہمارے ملک پاکستان کے فضاء پر بھی پڑرہی ہیں جس نے یہاں کے ماحول کوبھی گندہ کردیاہے۔ پاکستان میں کچھ لوگ انسانیت کا مذاق اڑاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ انسان مٹی سے بنا ہے جس کی فطرت پستی، نفس پرستی، لالچ،خواہشات اور مال ودولت اور اپنے فائدہ کیلئے سب کچھ کرنے کا جذبہ ہے۔ مگر اس کے بالکل برعکس انسان کی زندگی اور حیات کا انحصار روح پر ہے ۔جس کی فطرت میں بلند پرواز، ایک ایسی فضا میں رہنے کی خواہش ہے جہاں انس ومحبت، آزدی وہمدردی کا راج ہو، جہاں مٹی کی الائشیں نہ ہوں، جہاں خلوص و انسانیت ہو، اپنے خالق ومالک جس نے وجود بخشاہے اس کا سایہ ہو۔ مگر دنیا میں اسی فضا کی کمی ہے۔ فقدان ہے اس ہی خلوص کا، پوری دنیا مایوسی کا شکار ہے ،حیران و پریشان ہے۔ دنیا کی ٹکنالوجی کی بلندی، آرام وآسائش اوریہ ترقیکے سامان اس جذبے کو ٹھنڈا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اس کو سکون و راحت نہیں پہنچاسکتے،اور یہی انسانیت میں فسادات کا اور انسانیت کی زوال کا سب سے بڑا سبب ہے اور جو کچھ ہورہاہے یہ اسی کا رد عمل ہے۔ ایسے حالات اور خطرناک صورت حال اور فسادات سے چھٹکارے کا بس ایک ہی راستہ ہے جو انسانوں کو حقیقی انسانیت سے روشناس کرسکتاہے۔ انسانوں کو انسان ہونے کا احساس دلا سکتا ہے۔ بھٹکے ہوؤئے کو راہ نجات، ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑنے کا آلہ ہے، بے چین روحوں کو تسکین کا سامان فراہم کرسکتا ہے ۔وہ ہے اسلام کا راستہ ، قرآن اور نبی اکرم ﷺ کی سیرت اور آپ ﷺ کی تعلیمات کا راستہ ہیں۔جب حضرت ابن ہشامؒ نے سیرت رسول اکرم ﷺ تحریر کی تھی،جب امام ترمذیؒ نے شمائل وخصائل جمع کئے تھے، جب امام بخاری رحمہ اﷲ نے تاریخ کبیر اور سیرت رسول اکرم ﷺسے متعلق احادیث (بخاری شریف) جمع کئے تھے، اس وقت شاید اس کی اتنی اشد ضرورت نہ تھی جتنی آج ہے۔ کیوں ؟ کیوں کہ وہ زمانہ خیرالقرون تھا اور خیرالقرون سے قریب ترین تھا، وہاں کے لوگوں میں صحابہ کرامؓ کی سیرت اور تریقے موجود تھے، تابعینؒ وتبع تابعینؒ، اولیاء کرام کی بڑی جماعتیں موجود تھی ،جو کتابی نہیں بلکہ عملی نمونہ اور صاف کردار رکھتے تھے۔ مگر آج ہم جس زمانہ میں ہیں یہ خیرالقرون سے بہت دور ہیں۔ نئے نئے فتنے مختلف شکلوں اور رنگ وروپ کے ساتھ ہمیں ٹھکانے لگانے گھات میں کھڑے ہیں۔غلط راستوں کی رہنمائی کرنے والوں کا ایک جم غفیر ہے، شروروفتن اپنے تمام اشکال کے ساتھ وجود پذیر ہے، علماء،مفسرین دانشور تو ہیں ،کیوں کہ اس کے بغیر دنیا کا نظام ہی نہیں چلے گا۔ مگرہمیں شعور نہیں ہے۔ انسانوں کو انسانیت کی پہچان نہیں ہے۔ ایسے میں وہ گوہر نایاب جو مردہ انسانیت کیلئے زندگی، زہر کے لئے تریاق، دم توڑتی، انسانیت کے مرض کا مداوی، ٹوٹے، اجڑے اوردکھی دلوں کا سہارا، بے چین روحوں کی تسکین وسکون کاسامان رکھتاہے وہ ہم مسلمانوں کے پاس ہے، جو اﷲ کی ایک امانت ہے اور ایسی امانت جس کے بارے میں کل بروز قیامت ہم سے پوچھ ہوگی۔ پھر ہم اس میں کوتاہی کے مرتکب ہوں گے تو پکڑے جائیں گے۔ ہماری ذمہ داری دوچند ہوجاتی ہے کہ زمانہ ماضی میں جو کچھ ان پر کام ہوا ہے اس سے کہیں زیادہ آج اس کی ضرورت ہے۔ قرآن فہمی، احادیث کی تشریحات، رسول اکرم ﷺکی سیرت کی نشرواشاعت، صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین کی زندگی ان تمام کے ساتھ ہمارے قریب ترین دور کے اسلاف صالحین کی زندگی، مسلم حکمرانوں کی صحیح اور سچی تصورکی تصویر کشی کی جائے۔ آج ہم کو اس طرف بطور خاص توجہ دینی ہوگی اور ایک عزم کرنا ہوگاکہ رسول اکرم ﷺ کی سچی تصویر آپؐ کی صحیح صورت وسیرت جس سے دنیا بے بہرہ ہے وہ آج دنیا کے سامنے آجانا چاہئے۔ اس کے لئے ایک بہترین اسٹیج جمعہ کے خطبہ کا ممبر ہے جہاں حضرات خطباء عوام سے گفتگو کرتے ہیں، ان کو چاہئے کہ وہ رسول ﷺ کی زند گی کے واقعات، قرآن میں مذکور انبیاء اور ان کے حالات پر مبنی واقعات لوگوں کو سنائیں۔ صحابہؓ کی زندگی پرپڑے ہوئے دبیز پردوں کو چاق کرکے ان کے حقائق انسانوں کے سامنے لائیں۔ دوسرا اسٹیج مضامین ومقالہ نگار کا ہے، اخبارات ورسائل میں روزانہ مضامین ومقالات شائع ہوتے ہیں۔ قلم کار حضرات دنیا، سیاست، اور حالات حاضرہ سے لوگوں کو اپنی تحریروں کے ذریعہ باخبر کرتے رہتے ہیں ایسے میں کتنا اچھا ہوتا کہ وہ اپنے اپنے انداز میں لوگوں کو نبی اکرمﷺ ان کے سچے جانشینوں، صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین اور بزرگان دین، علماء اسلاف صالحین کی حقیقی تصویر پیش کرتے اور لوگوں کو اس پر عمل کرنے پر آمادہ ومجبور کرتے، تو شاید غلط فہمی میں کمی آتی۔ افسوس کہ ہم مسلمان خود رسول اکرمﷺ کی سیرت و زندگی سے ناواقف ہیں۔ تو دوسروں تک کیسے یہ پیغام پہنچا سکتے ہیں۔سارا عالم جل رہاہے۔ بس ضرورت ہے کہ ابر رحمت برسے اور ابر رحمت مسلمانوں کے سوا اور کون ہوسکتاہے۔ابر رحمت بن کر جہاں بھر چھاجایئے۔ عالم یہ جل رہاہے برس کر بجھاجایئے۔اﷲ ہمیں عمل کی توفیق عطاء کریں( آمین)
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Inayat Kabalgraami

Read More Articles by Inayat Kabalgraami: 94 Articles with 53317 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Feb, 2017 Views: 334

Comments

آپ کی رائے