یوٹیلٹی گھی اور تیل ، دوبارہ آغاز فروخت ۔

(Hafeez Khattak, Karachi)
شہر قائد سمیت پورے ملک میں عوام کو قدرے سستی اور معیاری اشیاء کی فراہمی کیلئے 6ہزا سے زائد یوٹیلٹی اسٹور قائم ہیں ۔ حکومت ماہ رمضان میں متعدد اشیاء کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کر تی ہے جن سے عوام مستفید ہوتے ہیں ۔ یوٹیلٹی اسٹورز جہاں بھی قائم ہیں ان پر عوام کا ہجوم رہتا ہے ۔ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ان اسٹورز کے باہر چینی و گھی سمیت دیگر اشیاء کی خریداری کیلئے لمبی قطاریں قائم ہوتی ہیں۔انتظامیہ عوام کی حفاظت کیلئے حساس علاقوں میں سیکورٹی کا بھی انتظام کرتی ہے۔

یوٹیلٹی اسٹورز انتظامیہ کا اپنا تیارکردہ گھی اور تیل عوام میں بے حد مقبول ہے ان کی قیمت مارکیٹ میں ملنے والے دیگر گھی اور تیل سے کم ہوتی ہیں جبکہ ان کا معیار بھی عوام کی نظر میں بہتر ہوتا ہے ۔ سپریم کورٹ کو موصول ہونے والی شکایت پر مرکزی عدالت نے قدم اٹھایا اور یوٹیلٹی اسٹورز کے تیل اور گھی سمیت دیگر چند مخصوص کمپنیوں کے تیل اور گھی کی تیاری اور فروخت پر پابندی عائد کر دی گئی ۔ ایک ماہ کی بندش کے بعد چند روز قبل ہی یوٹیلٹی اسٹورز کے گھی اور تیل پر عائد الزامات کو تحقیق کے بعد غلط ثابت کرتے ہوئے ان کی تیاری اور فروخت پر عائد پابندی کو ختم کر دیا گیا ہے ۔ سروے میں عوام اور اسٹورز کے عملے کا مشترکہ موقف اس صورت میں سامنے آیا ہے کہ اب انہیں گھی اور تیل کی مرکزسے آنے کا انتظار ہے ۔

یوٹیلٹی اسٹورز کے گھی اور تیل سے متعلق سروے کیا گیا جس میں عملے سمیت عوام سے بھی رائے لی گئی ، عملے کا کہنا تھا کہ ملک کی کمپنیاں جن میں حبیب ، کسکو، عدیل حمزہ اور دیگر کمپنیاں شامل ہیں یہی کمپنیاں یوٹیلٹی اسٹورز کیلئے گھی اور تیل تیار کرتی ہیں ۔ قیمتوں کے لحاظ سے دیکھا جائے تو تیل اور گھی 112روپے کے دستیاب ہوتے ہیں جبکہ یہی گھی اور تیل عام مارکیٹ میں 130اور اس سے بھی بڑھ کر 160روپے تک فروخت کئے جاتے ہیں اس تناسب کو دیکھا جائے تو 40روپے کا فرق ملکی کمپنیوں اور یوٹیلٹی اسٹورز کی قیمتوں میں پایا جاتا ہے جبکہ غیر ملکی کمپنیوں کے گھی اور تیل کی قیمتیں ملکی کمپنیوں سے بھی زیادہ ہوتی ہیں ۔عوام کے بڑے طبقے کی نسبت کم اور مخصوص طبقہ ہی بیرون ملک ان مصنوعات کو استعمال کرتی ہیں ۔

عوام کا یہ بھی کہنا تھا کہ یوٹیلٹی اسٹورز پر ملنے والا گھی اور تیل مارکیٹوں میں ملنے والے تیل اور گھی سے بدرجا بہتر ہوتا ہے ، حالیہ بندش کے باعث ہمیں مارکیٹوں سے ملنے والے دیگر گھی اور تیل کو استعمال کرنا پڑے جن سے ہمیں کوئی راحت محسوس نہیں اور نہ ہی ہمیں کوئی معاشی فائدہ ہوا ۔کچھ لوگوں کا یہ کہنا تھا کہ جس طرح اس گھی اور تیل پر محنت کرکے معیاری اور کم قیمت پرفروخت کیا جارہا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت دیگر اشیائے خوردونوش کو بھی معیاری بنانے کے ساتھ ان کی قیمتیں بھی کم کرے اور اسٹوروں میں ان کی ہر وقت دستیابی کو ممکن بنائیں، پابندی عائد ہونے کے بعد جہاں عوام کو ان یوٹیلٹی اسٹورز کے گھی اور تیل دستیاب نہیں تھے اور انہیں مارکیٹ میں دستیاب دیگر پر اکتفا کرنا پڑا تاہم یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ ا ن گھی اور تیل کی بندش سے یوٹیلٹی اسٹورز کی فروخت کی سرگرمی متاثر ہوئی ۔ ذمہ داران کا کہنا تھا کہ ایک محتاط اندازنے کے مطابق یوٹیلٹی اسٹورز جن کی ملک کی سطح پر تعداد 6ہزار سے زائد ہے ان پر یوٹیلٹی گھی اور تیل نہ ہونے کے سبب اربوں روپے کا نقصان ہوا ۔ اب جبکہ سپریم کورٹ نے عائد کردہ پابندی کو ہٹا دیا ہے جس کے بعد یوٹیلٹی اسٹورز تیل اور گھی کی فروخت کو ممکن بنائیں گے ، انہیں صرف مرکزسے گھی اور تیل کی فراہمی کاانتطار ہے ۔

چینی کی خریداری کیلئے آئے ہوئے ہائی کورٹ کے ایک وکیل کا کہنا تھا کہ پابندی کوئی دائمی نہیں تھی بلکہ سپریم کورٹ کو یہ شکایت موصول ہوئی تھی کہ گھی اور تیل غیر معیاری ہے ،جس کے بعدسپریم کورٹ نے ان کی فروخت کو موخر کرتے ہوئے ان کے ٹیسٹ کروائے اور نتائج کے آجانے کے بعد ان پر عائد پابندی کو ختم کیا ،یہ بندش ایک ماہ تک رہی تاہم یہ حقیقت پر مبنی بات ہے کہ عوام کو اس الزام سے گھی اور تیل دستیاب نہ ہوا اور انہیں مارکیٹوں میں موجود دیگر گھی اور تیل کو استعمال کرنا پڑا جس سے انہیں معاشی نقصان ہوا تاہم اب سپریم کورٹ کی تحقیقات کے بعد اور مثبت فیصلے کے آجانے کے بعد عوام میں خوشی کے احساسات نمایاں ہیں ۔

یوٹیلٹی اسٹورز کی انتظامیہ کو چاہئے کہ گھی اور تیل کی بندش کے بعد دوبارہ فراہمی کو جلد ممکن بنائے اور اس حوالے سے اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کیلئے بھرپور عوامی خدمت کا مظاہرہ کرئے ۔ گھی اور تیل سمیت دیگر ضروریات معمولات کو بھی کم قیمت اور معیاری بنائے اور اپنے ان اسٹوروں پران اشیاء کی فراہمی کو آسان اور ممکن بنائے ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hafeez khattak

Read More Articles by Hafeez khattak: 190 Articles with 101783 views »
came to the journalism through an accident, now trying to become a journalist from last 12 years,
write to express and share me feeling as well taug
.. View More
27 Feb, 2017 Views: 316

Comments

آپ کی رائے