پانامہ کیس کا درست فیصلہ پاکستان کے سیاسی مستقبل کا تعین کرے گا !

(Fareed Ashraf Ghazi, Karachi)
 اﷲ تعالیٰ نے پاکستان کو دنیا کے اہم ترین مقام پر بے شمار قیمتی معدنی ذخائر سے بھرپور بہترین سرزمین عطا فرمائی ہے اور اس ملک کوتیل ،گیس ،کوئلے اور ماربل جیسی ضروری اور قیمتی نعمتوں سے مالا مال کررکھا ہے لیکن افسوس اس ملک پر حکومت کرنے والوں نے قدرتی ذخائر کا صحیح استعمال نہیں کیا جس کی وجہ سے ہمارا ملک ہمارے ساتھ اور ہمارے بعد قائم ہونے والے بہت سے دیگر ممالک سے ترقی اور خوش حالی میں بہت پیچھے ہے ورنہ اگر ہمارے ملک کا برسراقتدار آنے والا طبقہ ذاتی مفادات سے بالا تر ہوکر ملکی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے ملک اور قوم کی ترقی اور استحکام کے لیئے خلوص نیت سے کام کرتا تو آج پاکستان بھی دبئی کی طرح ہر قسم کی جدید سہولتوں سے لیس ترقی یافتہ ملک ہوتاجسے کسی بیرونی طاقت یا آئی ایم ایف جیسے اداروں سے قرضہ لے کر ملک نہ چلانا پڑتا لیکن یہ پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ اسے قائد اعظم محمدعلی جناح ،لیاقت علی خان،ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے بعد کوئی سچا پاکستانی اور مخلص رہنما نہ مل سکا اور ملک رفتہ رفتہ ان لوگوں کی گرفت میں چلا گیا جو صرف اپنے ذاتی فائدے کے لیئے اقتدار میں آکر پاکستان کی دولت کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں مصروف ہوگئے اور انہوں نے پاکستان میں موجود قدرتی معدنی ذخائر سے اس لیے فائدہ نہیں اٹھایا کہ اگر پاکستان پیٹرول میں خود کفیل ہوکر پیٹرولیم کمپنیوں کی غلامی سے آزاد ہوگیا یا اگر پاکستان میں کچرے، کوئلے کے ذخائر ،ساحلی شہر وں میں ہوائی ٹربائن(پن چکی) اور سولر پینلز کے استعمال سے بجلی پیدا ہونے لگی توانہیں کرپشن کرکے ملک اور بیرون ملک اپنی جائیدادیں اور بینک بیلنس بنانے کا موقع کیسے ملے گا، کہ ہمارے مفاد پرست حکمرانوں کو اس بات کا اچھی طرح پتہ ہے کہ اگر انہوں نے یہ تمام سہولتیں عوام کو فراہم کردیں تو ان ا ہم ترین ضروریات زندگی کی فراہمی کے سلسلے میں انہیں جو کروڑوں روپے کا کمیشن ملتا ہے وہ مارا جائے گا ۔

عوام سے بڑے بڑے وعدے اور عوامی خدمت کے دعوے کرنے والے یہ موقع پرست اور دولت کی ہوس میں مبتلا لوگ جب انتخابات میں عوام کے ووٹ لے کر اسمبلیوں میں پہنچنے کے بعد وزارتوں پر فائز ہوتے ہیں تو انہیں کچھ یاد نہیں رہتا اور وہ صرف اپنی ذات اور اپنی پارٹی کے مفادات پورے کرنے کے لیئے کام کرنا شروع کردیتے ہیں۔ ہمارے ملک میں برسراقتدار آنے والے اکثر حکمرانوں کی ساری سیاست چل ہی اس بات پر رہی ہے کے عوام کے مسائل کو برقرار رکھا جائے کہ اگر یہ سارے مسائل حل کردیئے گئے تو ان حکمرانوں کو کون پوچھے گا ۔کسی زمانے میں سیاست عوام کی خدمت کے لیئے کی جاتی تھی لیکن افسوس اب سیاست میں کاروباری قسم کے لوگ آگئے ہیں جنہوں نے سیاست کو بھی ایک کاروبار بنا کر رکھ دیا ہے جس کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں کرپشن اب ایک ناسور کی حیثیت اختیار کر گئی ہے اور خاص طور پر سیاست کا میدان کرپٹ افراد کا مسکن بن گیا ہے جہاں عمران خان اور مصطفی کمال جیسے محب وطن اورسچے اصولی سیاست دان بہت مشکل سے دکھائی دیتے ہیں جو محض عوامی مسائل کو حل کرنے کے جذبے کے ساتھ میدان سیاست میں قدم رکھتے ہیں لیکن یہاں انہیں کرپشن میں ڈوبے ہوئے سیاسی مگرمچھوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو اپنی کرپشن ،لوٹ مار اور بدعنوانیوں کو چھپانے اور بچانے کے لیئے ان کو سیاست میں آگے نہیں آنے دیتے جس کا واضح موجودہ دور میں دو بڑے کرپٹ سیاست دانوں کا آپس میں دوستانہ اتحاد ہے جس کی وجہ سے یہ دونوں باری باری پاکستان پر حکومت کرتے چلے آرہے ہیں اور جب کسی ایک پر کوئی مصیبت آتی ہے اور کرپشن کے حوالے سے اس کے خلاف کوئی کاروائی شروع ہوتی ہے تو دوسرا کرپٹ سیاست دان اپنی پارٹی کی سیاسی طاقت کو اس پہلے کرپٹ سیاست دان کے اقتدار کو بچانے کے لیئے فعال ہوجاتا ہے۔

دو کرپٹ ترین سیاست دان اور ان کی سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے کے اقتدار کوبچانے کے لیئے فرینڈلی اپوزیشن کا کردار ادا کرتی رہتی ہیں تاکہ ان کے خاندانی اقتدار کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو ان مفاد پرست سیاست دانوں کا یہ شرمناک سیاسی اتحا د ہی عمران خان اور مصطفی کمال جیسے بہادر ،محب وطن اورعوامی رہنماؤں کے اقتدار میں آنے کی راہوں میں روڑے اٹکاتا رہتا ہے جس کی وجہ سے ایک طویل عرصہ سے عوام ان مفاد پرست اور کرپٹ سیاست دانوں اور بعض علاقائی مذہبی اور سیاسی دہشت گرد تنظیموں کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں جن سے عوام کی جان صرف ایک صورت میں چھوٹ سکتی ہے کہ عوام باربار کے آزمائے ہوئے ان کرپٹ سیاسی لیڈروں اور ان کی جماعتوں کی چکنی چپڑی باتوں میں آکر انہیں ووٹ دینا چھوڑ دیں اور پولنگ بوتھ میں جانے کے بعد ایسے سیاست دانوں کو ووٹ دے کر انتخابات میں کامیابی دلوائیں جن کا قول وفعل ایک ہو جو سچے اور اچھے انسان اور پاکستانی ہوں جنہیں پاکستانی عوام کے مسائل سے دلچسپی ہو جو اس ملک میں موجود قدرتی معدنی ذخائر اور دیگر نعمتوں کو پاکستان کی ترقی اور استحکا م کے لیئے استعمال کرکے پاکستان کو بیرونی قرضوں سے آزادی دلوا کر پاکستان کو ایک خود کفیل ملک بنا سکیں ۔اگر عوام نے اب بھی ہوش سے کام نہ لیا تو پھر ان پر وہ ہی کرپٹ لوگ دوبارہ مسلط ہوجائیں گے جوسیاست کو خدمت نہیں بلکہ کاروبار سمجھتے ہیں لہذا اگر پاکستانی قوم اپنی قسمت بدلنا چاہتی ہے تو اسے ووٹ والے دن صحیح فیصلہ کرنا ہوگا ۔

پاکستانی سیاست کے حوالے سے پانامہ لیکس میں کیے جانے والے انکشافات کے نتیجے میں نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف عدالت میں دائر کیے جانے والے مقدمے ’’ پانامہ کیس‘‘ کو خصوصی اہمیت حاصل ہے کہ اس کیس کا فیصلہ پاکستان کے سیاسی مسقبل کاتعین کرے گا ۔بنیادی طور پر یہ جھوٹے اور سچے سیاست دانوں کی لڑائی ہے جو اس وقت پاکستانی عدالت کے اندر اور باہر لڑی جارہی ہے ۔پانامہ کیس گزشتہ کئی ماہ سے ہماری عدالت میں زیر سماعت ہے جس کے دوران نواز شریف کے حامیوں اور ان کے مخالفوں نے کاغذی اور زبانی لڑائی کے تما م سابقہ ریکارڈ توڑ ڈالے ہیں ،کیس کی سماست کے دن روزآنہ عدالت کے اندر اور باہر دومختلف سیاسی موقف رکھنے والے سیاست دان خوب دلائل دے کر اپنے آپ کو درست ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن چونکہ یہ الیکٹرونک میڈیا کا دور ہے اس لیے اب کوئی بات عوام سے پوشیدہ نہیں رہتی جو کچھ عدالت کے اندر اور باہر ہوتا ہے اس کا علم اخبارات اور ٹی وی چینلز کی بہتات کی وجہ سے ملک کے ہرباشندے کو چند لمحوں میں ہوجاتا ہے اور آج کی عوام کافی باشعور ہوچکی ہے وہ بھی دن رات پانامہ کیس کی تفصیلات پڑھ کر سن کر اور دیکھ کر بہت کچھ جان اور سمجھ چکی ہے ۔سچ اور جھوٹ کی لڑائی لڑنے والوں کو ایک بات کبھی فراموش نہیں کرنی چاہیئے کہ : سچائی چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے اور خوشبو آنہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے ۔۔۔جھوٹ ہو یا سچ ایک دن سامنے آکر ہی رہتا ہے اور جو لوگ اپنے بولے ہوئے ایک جھوٹ کو چھپانے کے لیئے سو جھوٹ بولتے ہیں وہ بہت جلد اﷲ ،عدالت اور عوام کی پکڑ میں آجاتے ہیں جس کے بعد نہ ان کی عزت اور شہرت باقی رہتی ہے اور نہ ہی کرپشن سے کمائی ہوئی دولت کے انبار ان کو بچا سکتے ہیں ۔

انسان دنیا کے سامنے جھوٹ بول سکتا ہے کچھ عرصے کے لیئے کچھ لوگوں کو بے وقوف بنا سکتا ہے لیکن وہ ساری زندگی تمام لوگوں کو بے وقوف نہیں بنا سکتا کہ وہ جو کچھ کرتا ہے اسے کوئی دیکھے نہ دیکھے اﷲ تو دیکھ ہی رہا ہوتا ہے اور جب اﷲ کسی کو پکڑنے پر آتا ہے تو وہ شخص دنیا اور آخرت میں ذلیل وخوا ر ہوجاتا ہے ۔پاکستان سمیت دنیا بھر کی تاریخ ایسے لوگوں کے تذکرے سے بھری پڑی ہے جوخود کو فرعون سمجھا کرتے تھے کہ ان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور وہ کرپشن سے حاصل کرنے والی دولت کے بل بوتے پر سب کو خرید کر خود کو بچا لیں گے لیکن دنیا یہ نظارہ کئی بار دیکھ چکی ہے کہ ہر دور کے فرعون کے لیئے اﷲ تعالی نے ایک موسیٰ پیدا کیا جس نے فرعون کو اس کے تمام دعووں سمیت ذلیل و خوار کرکے اس کی بادشاہت کو اس طرح تباہ وبرباد کیا کہ ہر دور کے فرعون کو اﷲ تعالی کی مدد اور تائید سے عبرت کی مثال بنادیا۔

اگر اﷲ تعالیٰ کسی شخص کو عزت ،شہرت ،دولت اور اقتدار سے نوازتا ہے تو اس شخص کو غرور کرنے کی بجائے اپنے حکومتی عہدے اور اقتدار کو اپنے ملک اور ملک کی عوام کی فلاح وبہبود اور ترقی واستحکام کے لیئے استعمال کرکے دنیا اور آخر ت میں نیک نامی حاصل کرنی چاہیے نہ کہ وہ اپنے اقتدار اعلیٰ کو کرپشن ،لوٹ مار ،ذاتی مفادات اور سیاسی چالوں کے ذریعے مظبوط اور قائم رکھنے کی کوششوں میں لگارہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک کو گنتی کے 4 مخلص حکمرانوں کے بعد کوئی ڈھنگ کا حکمران نصیب نہ ہوسکا اور خاص طور پرگزشتہ 15 سال کے دوران ہمارے حکمرانوں نے اس ملک کو اس بری طرح لوٹا ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی ،کشکول توڑنے کا وعدہ اور دعویٰ کرنے والوں نے اپنی عیاشیوں اور شاہ خرچیوں کو پورا کرنے کے لیئے پاکستان کا نظام حکومت چلانے کے نام پر آئی ایم ایف سے اتنا زیادہ قرضہ لیا کہ ملک کے ہر باشندے کو بیرونی طاقتوں کا مقروض بنا کررکھ دیا ۔
پانامہ لیکس کے نام سے جو انکشافات میڈیا کے ذریعے ساری دنیا کے سامنے آئے اس میں دنیا کے اکثر ممالک کے برسراقتدار حکمرانوں کے نام شامل تھے ان میں سے جن حکمرانوں کے دل میں خدا کا خوف اور آنکھوں میں شرم باقی تھی یا انہیں اپنے عوام کی ناراضگی کا احساس تھا انہوں نے اپنا راز فاش ہونے کے بعد اقتدار سے خود ہی علیحدگی اختیار کرلی جبکہ کچھ برسراقتدار کرپٹ لوگوں کو خود ان کی عوام نے ہی احتجاج کے ذریعے ایوان اقتدار چھوڑنے پر مجبور کیا اور یوں دنیا کو پانامہ لیکس کی بدولت چند بدعنوان اور کرپٹ حکمرانوں سے نجات ملی لیکن ہمارے ملک کا نام پاکستان ہے جہاں ایسی کوئی روایت نہیں پائی جاتی کہ کبھی کسی حکمران یا چھوٹے موٹے وزیر نے بھی اپنی ناکامی یا کرپشن پر از خود استعفیٰ دے دیا ہو۔یہاں تو جو بھی حکمران اقتدار سے گیا یا تو اسے فوج نے زبردستی اقتدار سے باہرنکال کر اپنی حکومت قائم کی یا پھر عدالت نے اس کے خلاف فیصلہ سنا کر اس کے دور اقتدار کا خاتمہ کیا ۔کاش ہمارے حکمرانوں میں بھی اتنی غیرت اور شرم ہوتی کہ وہ اپنی کرپشن اور لوٹ مار سامنے آنے کے بعد خود ہی اپنی غلطی تسلیم کرکے اقتدار سے سبکدوش ہونے کی روایت ڈال کر ہماری قوم کے سرفخر سے بلند کردیتے لیکن افسوس ہمارا سیاسی کلچر آج بھی نہیں بدلا اور آج بھی عام آدمی جب اپنے ملک کے برسر اقتدار حکمرانوں سے بہت زیادہ تنگ آجاتا ہے تو وہ بے چارہ سب سے پہلے تو نماز پڑھ کر اﷲ کے سامنے سجدہ ریز ہوکر ظالم اور کرپٹ حکمرانوں سے نجات حاصل کرنے کی دعا مانگتا ہے اور اس کے بعد وہ فوج اور عدالت جیسے قابل احترام اور غیر متنازعہ اداروں اور ان کے سربراہوں سے امید رکھتا ہے کہ وہ ان کرپٹ اور ظالم حکمرانوں کو پکڑ کر انہیں سزا دے کر عوام کے زخموں پر مرہم رکھیں گے لیکن اگر عوام کی جائز توقعات یہ دونوں ادارے بھی نہ پوری کر پائیں تو پھر وہ ملک انارکی کا شکار ہوجاتا ہے اور وہاں کے باشندے مایوس ہوکر ناامید ہوجاتے ہیں اورکسی بھی دنیاوی ادارے یا فرد سے رجوع کرنے کی بجائے دن رات اﷲ تعالیٰ سے کسی موسیٰ کی آمد کی دعائیں مانگتے رہتے ہیں جو آکر ان کے ساتھ انصاف کرے اور کرپٹ اور ظالم حکمرانوں کو ان کے عبرتناک انجام تک پہنچائے۔

ہماری دعا ہے کہ اﷲ تعالیٰ ہماری عدالت کے ہاتھوں پانامہ کیس کا ایسا درست فیصلہ صادر فرمائے جو نہ صرف انصاف کے اصولوں کے عین مطابق ہو بلکہ عوامی امنگوں کا بھی آئینہ دار ہو تاکہ عوام نے جو امیدیں عدالت سے لگا رکھی ہیں وہ پوری ہوں اور اس ملک سے منافقت ،مفاد پرستی ،جھوٹ اور کرپشن پر مبنی سیاست کا ہمیشہ کے لیئے خاتمہ ہوجائے اور ہماری آنے والی نسلوں کو ایک ایسا معاشرہ نصیب ہو جہاں امیر اور غریب کے لیئے ایک ہی طرح کا قانون ہو ،جہاں سب کو ایسا انصاف ملے جو نظر بھی آئے اور جہاں کے ہر باشندے کوایک ہی طرح کی مراعات اورسہولیات حاصل ہوں اور جہاں سب کو قانون کے مطابق فوری سزائیں دی جائیں تاکہ ہمارے ملک کا شمار بھی امن و امان اورترقی و استحکام اور عدالتی انصاف کے حوالے سے ساری دنیا میں پہچانا جائے کہ ’’پانامہ کیس‘‘ کوئی عام مقدمہ نہیں ہے بلکہ اس مقدمے کے درست فیصلے سے پاکستان کے سیاسی مستقبل کی راہوں کا تعین ہونا ہے ۔اﷲ تعالیٰ ہم سب کو سچائی کے ساتھ انصاف پر مبنی فیصلے کرنے اور ان فیصلوں پر عمل درآمد کے ذریعے پاکستان کو ایک مثالی ملک بنانے کی توفق عطا فرمائے(آمین)
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Fareed Ashraf Ghazi

Read More Articles by Fareed Ashraf Ghazi : 111 Articles with 71990 views »
Famous Writer,Poet,Host,Journalist of Karachi.
Author of Several Book on Different Topics.
.. View More
27 Feb, 2017 Views: 274

Comments

آپ کی رائے