پنجابی ،پٹھان کی تقسیم اور سانحہ مشرقی پاکستان

(Muhammad Abdullah, Hyderabad)
پاکستان کی آزادی کی تحریک میں ایک نعرہ لگا تھا جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک کردیا تھا اور پھر متحد ہوکر ایک زبردست تحریک چلانے کے نتیجے میں مملکت خداداد پاکستان مسلمانوں کو ودیعت کی گئی تھی وہ نعرہ یہ تھا مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ، اس طرح مسلم لیگ کے پرچم تلے اور لاالہ الا اللہ (نظریہ پاکستان)کے نظریے پر پنجابی، بلوچی،بہاری،پختون،سندھی،بنگالی،گجراتی غرض کہ سارے ہی لسانیت اور علاقائیت کی بنیاد پر اپنی شناختوں کو ختم کرکے اکٹھے ہوئے تھے۔ مگر قیام پاکستان کے بعد نظریہ پاکستان قوم کے ذہنوں سے محو ہوتا چلا گیا اور پاکستانی دوبارہ سے پنجابی، بنگالی،سندھی اور بلوچی وغیرہ کی تقسیم میں پڑ گئے تو اسکے نتائج ہمیں سانحہ مشرقی پاکستان کی صورت میں دیکھنے پڑے کہ جس مسلمانوں کی تاریخ کی عبرتناک شکست اور پھر مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور اس کے بعد محبان پاکستان کی قتل غارت گری کی صورت میں ہمیں بھگتنا پڑے۔ اس وقت بھی ہمارے دشمن نے فقط اتنا کام کیا تھا کہ ہمارے علاقائی اور لسانی تعصبات کو ہوا دے کر ہمیں اس موڑ پر لا کھڑا کیا تھا جہاں سے واپسی کا سفر نہایت اذیت ناک تھا۔ڈاکٹرصفدر محمود لکھتے ہیں کہ بنگالی سیاستدان دونوں صوبوں کے درمیان موجود ثقافتی اور جغرافیائی بُعدسے پوری طرح باخبر تھے اور انہوں نے اختلافات کی تشہیر کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ دستور ساز اسمبلی کے ایک ممتاز بنگالی رکن ابوالمنصور احمد نے اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ’’پاکستان ایک منفرد ملک ہے۔ اس کے دو بازوؤں کے درمیان ایک ہزار میل سے زائد فاصلہ ہے۔ مذہب اور مشترکہ جدوجہد کے سوا ان کے درمیان کوئی قدر مثلاً زبان، ثقافت غرض کچھ بھی مشترک نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں صوبوں میں وہ مشترکہ اقدار عنقا ہیں جو کسی قسم کی قوم کی تشکیل کے لیے ناگزیر ہوتی ہیں۔‘‘ اس وقت دہلی اور بمبئی کے پریس خانوں سے نظریہ پاکستان کے خلاف اور تعصبات اور نفرت کو ہوا دینے والا زہریلا لٹریچر چھپتا اور پھر اس کو پورے پاکستان اور بالخصوص مشرقی پاکستان میں بھرپور انداز میں پھیلایا جاتا۔ اس وقت کسی ایسے مرد مجاہد کی ضرورت تھی جو قوم کو متحد رکھ سکتا مگر بدقسمتی سے نہ عوام میں اور نہ خواص میں ایسا کوئی مرد مومن موجود تھا ۔ نتیجتاََ ہمیں سقو ط ڈھاکہ کو برداشت کرنا پڑا۔ محترم قارئین آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ میں کیا پرانی کہانیاں لکھنے بیٹھ گیا دراصل مسئلہ کچھ یوں ہے کہ آپریشن رد الفساد اور پنجاب میں رینجرز کے آپریشن شروع ہوتے ہی ایک عجیب سی فضا پورے ملک میں بنا دی گئی ہے۔ پنجابی اور پٹھان کی تقسیم کرکے ہمارے دشمن پھر سے وہ فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں جو اس سے قبل وہ اٹھا چکے ہیں۔ میں پچھلے تین چار دن سے سوشل میڈیا پر پنجابی اور پٹھان ازم اور ان سے منسوب انتہائی زہریلی کہانیاں گردش کرتی دیکھ رہا ہوں اور جو صورتحال بنانے کی کوشش کی جارہی ہے وہ ہمارے لیے بہت ہی خطرناک ہوگی۔ ہم اور ہمارا ملک پہلے ہی بہت ہی نازک موڑ پر کھڑے ہیں ،دہشت گرد اور ان کے پشت پناہ اس وقت اپنا آخری زور لگارہے ہیں، ملک میں جاری حالیہ دھماکے بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے، دشمنوں کو پاکستان میں قائم امن اور چائنہ پاکستان اقتصادی راہداری کی بدولت پاکستان کی ترقی کسی صورت بھی منظور نہیں ہے لہذا وہ ہر محاذ پر اپنا پورا زور لگارہے ہیں کہ کسی بھی طریقے سے پاکستان کو اپنے ارادوں میں کامیاب کردیا جائے۔ ایسے میں ہمارے سوشل میڈیا کے نام نہاد دانشور جانے انجانے میں دشمن کے ہاتھوں استعمال ہورہے ہیں جھوٹی اور مصنوعی تصویریں اور پوسٹیں بنانا اور ان سے جعلی کہانیاں منسوب کرکے معاشرے میں سراسمگی پھیلانا اور پاکستانی عوام کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے میں مصروف عمل ہیں ۔ اسی طرح اس نازک موقع پر بعض عقل کے اندھے افواج پاکستان اور عوام کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کے لیے افواج پاکستان پر کیچڑ اچھالنے کی بھی کوششین کررہے ہیں۔ ہمیں اس وقت اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے اور وہ اتحاد ہمیں نظریہ پاکستان اور پاکستان کی روحانی اساس لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر عمل پیرا ہوکر ہی حاصل ہو سکتا ہے۔ پاکستان اور اہل پاکستان نے اس جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں اور اس میں کامیابی کی خاطر ہم سے جو بھی قربانی طلب کی جائے ہم نے پاک سرزمین کی حفاظت اور سبز ہلالی پرچم کی آن کو قائم رکھنے کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرنا۔ یہ مملکت خداداد نہ پنجابیوں کی ہے اور نہ پٹھانوں کی،اس کے مالک نہ سندھی ہیں اور نہ بلوچی بلکہ یہ پاکستانیوں کا ملک ہے اور سبھی اس کے عزت دار شہری ہیں اور بحیثیت مسلمان ہونے کے ہم سب بھائی بھائی بھی ہیں۔ لہذا ہمیں ان حالات میں دشمن کی ہرسازش کو ناکام کرنا ہے اور اپنے اتحاد اور بھائی چارے پر آنچ نہیں آنے دینی۔ یاد رکھیں یہ آپریشن ضرب عضب،آپریشن ردالفساد اور پنجاب میں رینجرز کا آپریشن دہشت گردوں کے خلاف ہیں نہ کہ کسی خاص طبقے یا قوم کے خلاف لہذا کسی پریشانی کی ضرورت نہیں ہے۔ جن کو ان آپریشنز سے مسئلہ بننا ہے وہی یہ ساری حرکتیں کررہے ہین ہم نے اپنے اندر سے ایسی کالی بھیڑوں کا خاتمہ کرنے میں افواج پاکستان کی مدد کرنی ہے۔ اللہ ہمارے ملک و ملت کا حامی ناصر ہو۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Abdullah

Read More Articles by Muhammad Abdullah: 39 Articles with 19595 views »
Muslim, Pakistani, Student of International Relations, Speaker, Social Worker, First Aid Trainer, Ideological Soldier of Pakistan.. View More
27 Feb, 2017 Views: 652

Comments

آپ کی رائے