کیش

(Shahid Shakeel, Germany)
کیا زمانہ آگیا ہے جسے دیکھو شارٹ کٹ میں دولت کمانے کیلئے ہر جائز وناجائز طریقے سے دن رات اسی چکر میں باؤلا ہورہا ہے کہ بھلے کسی کی جان جائے لیکن میری جیب میں مال آئے ،انسانیت نام کا لفظ ہی ناپید ہوچکا ہے ،اخلاق ، پیار،احساس ،مروت ، اعتماد ، اعتبار اور خلوص نام کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں ،کہتے ہیں طوائف جسم بیچتی ہے اپنا ایمان نہیں جبکہ آج ایمان کی بھی ذرے برابر کوئی قیمت اور وقعت نہیں بچی،مشرق ہو یا مغرب دولت کے حصول کیلئے کوئی جسم بیچ رہا ہے تو کوئی ایمان جس دھرتی پر جنم لیا اسکا بھی مول لگایا جارہا ہے صرف اس لئے کہ راتوں رات لاکھوں کروڑوں اور اربوں پتی بن جائے۔روپے پیسے نے اگر انسان کے لئے آسانیاں پیدا کی ہیں تو اسی دولت کے حصول کیلئے انسان سب کچھ داؤ پر بھی لگا رہا ہے اور سب کچھ داؤ پر لگانے کا دوسرا نام کرپشن اور بد عنوانی کہلائی جاتی ہے،ترقی پذیر ممالک میں ہی نہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی ہر طریقے سے کرپشن کی جاتی ہے باالفاظ دیگر جس کا جہاں داؤ لگتا ہے موقع کی نزاکت سے فائدہ اٹھاتا ہے اور ناجائز طریقے سے فائدہ اٹھانے کے اس کاروبار کو ختم کرنے کیلئے چند ترقی یافتہ ممالک نے ایک سکیم تیار کی ہے جس سے نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری یعنی اگر پیسہ ہی فساد کی جڑ ہے تو اسے ہی ختم کیا جائے،کرپشن اور ناجائز طریقے سے ڈالرز ، پاؤنڈز، ین،روبل، کراؤن،فرانک،لیرے،دینار ،درہم اور روپیہ و غیرہ کمانے اور بدعنوانی میں انسویسٹ کرنے کو دنیا سے مکمل ختم کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ کرنسی وہ کسی بھی ریاست کی ہو کرپشن پیدا کرتی اور پھیلاتی ہے جس سے روزانہ ہزاروں لاکھوں انسان موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں تو ایسی کرنسی کا کوئی فائدہ نہیں جو انسانوں کی جان لے اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں ہی سب کی بھلائی ہے لیکن کیوں اور کیسے ؟۔جرمنی کے معروف میگزین کے چیف ایڈیٹر فرینک پوپسِل کا کہنا ہے کرنسی مکمل طور پر ختم کرنے کی تجویز مضحکہ خیز لگتی ہے لیکن اس کا فیصلہ سنجیدگی سے کیا گیا ہے ،اقتصادی ماہرین اور مرکزی بینکس نقد رقم یعنی کیش سسٹم کو ختم کرنا چاہتے ہیں ان کا کہنا ہے کیش ختم کرنے سے بدعنوانی کا بھی خاتمہ ہو جائے گا لیکن اسکے ساتھ ساتھ انسانی آزادی اور حقوق بھی مجروح ہونگے ،پہلی نظر میں یہ تجویز بہت زیادہ نقصان دہ نہیں لگتی کیونکہ بقول امریکی ماہر معاشیات کینیتھ روگوف جو مالیاتی فنڈز ادارے سے تعلق رکھتے ہیں اور ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر بھی ہیں کا کہنا ہے کیش کا نظام نہایت فرسودہ ہے یہ نظام کرپشن کو فروغ دیتا ہے دنیا بھر میں لوگ بلیک اینڈ وائٹ منی کے چکر میں سسٹم کو تباہ کر رہے ،ہر قسم کی سمگلنگ جس میں ڈرگس ،بینک ڈکیتی ،انسانوں کی سمگلنگ،پروسٹیٹیوشن،اسلحے کا کاروبار اور سب سے بڑھ کر ایک خطیر رقم دہشت گردی میں بھی استعمال کی جارہی ہے ،انسانوں کی سوچ پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی لیکن انسانوں کی منفی سوچ سے پیدا ہونے والے زرائع یعنی کیش کو ختم کرنے سے ممکنہ طور پر کم سے کم جرائم میں کمی واقع ہو سکتی ہے،جرائم پیشہ افراد عام طور پر کیش استعمال کرتے ہیں بینک اکاؤنٹ کو استعمال نہیں کیا جاتا اور یہی وجہ ہے کہ کیش ختم تو سب کچھ ختم۔کیش سسٹم کو ختم کرنے میں سویڈن نے پہل کی اور کامیاب ہوا جبکہ یورپی کمیشن نقد لین دین میں دوہزار اٹھارہ سے مکمل منصوبہ بندی کے بعد عمل درامد کریگا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے اگر آپ ڈاکو چور اور لٹیرے نہیں ، منشیات کی خرید و فروخت نہیں کرتے یا کسی قسم کی بد عنوانی یا کرپشن میں ہاتھ پاؤں نہیں گھر کی صفائی ستھرائی کرنے والی ماسی کو بذریعہ بینک معاوضہ ادا کرتے ہیں تو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ کیش نہ آپ دیکھ رہے ہیں اور وصول کرنے والا کیونکہ جیسے آپ اپنا بل ادا کر تے ہیں ویسے دوسرے بھی ،قانون کی گرفت میں مجرم ہی آئیں گے۔ڈیڑھ سو برس قبل روسی رائٹر فیورودوستو جیوسکی نے کہا تھا پیسے انسان کو آزاد رکھنے کا خصوصی عمل ہے کیونکہ پیسے سے دنیا بھر کے انسانوں کی دوکان چلتی ہے گھر چلتا ہے حکومتیں چلتی ہیں اور اگر کبھی نقد رقم یعنی کیش کو مکمل ختم کیا گیا تو بھونچال آجائے گا انسان اپنا سب کچھ کھو دے گا،رشین رائٹر کی پیش گوئی کے برعکس آج دنیا کی کئی ریاستوں میں کیش کو ختم کرنے کے بعد بھی سارا سسٹم کامیابی سے چل رہا ہے کیونکہ پیسہ ہی سب کچھ نہیں ہوتا،کئی ممالک میں حکومتی بانڈز کی شرح میں کمی بیشی ،سود،اور کئی دیگر بینک سسٹم میں تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں جس سے ایک عام انسان کو قرضہ لینے کے بعد کئی گنا زائد سود ادا کرنا ہوگا اور یہ سسٹم انسان کی آزادی کو ایک طرف مکمل ختم کرے گا تو دوسری طرف جرائم میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے کیونکہ کئی لوگوں کو کرارے نوٹوں کی خوشبو زندہ رکھتی ہے ۔کیش سسٹم سے منسلک پہلی کڑی سپین میں ٹیکس کے ذریعے متعارف ہو چکی ہے اور کوئی بھی منفی سود کے تحت کریڈٹ نہیں لے گا حکومتی پالیسیوں اور انشورنس کمپنیز کا بینکوں پر شدید دباؤ ہے اور اپنے اقدامات واپس نہیں لے سکتے جس کے نتیجے میں کوئی انسان ایک روپیہ بھی قرض لینے کی ہمت نہیں کرے گا ، بینکس دیوالیہ بھی ہو سکتے ہیں اور شدید مالی بحران کا شکار ہونے کے بعد بے روزگاری میں مزید اضافہ ہو گا ۔یونان میں کئی بینکس کے دیوالیہ ہونے سے قبل عقلمندوں نے اپنی تمام جمع پونجی نکلوا لی تھی کیونکہ وہ جانتے تھے شپ کا کیپٹن جہاز کے ڈوبنے سے قبل لائف بوٹ کے ذریعے سب سے پہلے سمندر میں چھلانگ لگا دے گا اسے کوئی غرض نہیں ہو گی کہ جہاز میں کون سوار ہے یا جہاز کس کا ہے یہ حال بینکوں کے مالکان اور مینیجرز کا بھی ہے،دیوالیہ سسٹم کی ایک مثال دوہزار آٹھ میں ہونے والے فنانس کرائسس کی ہے جس سے جرمنی کو ریکارڈ مالی نقصان پہنچا تھا۔لڈوگ اِرہارڈ فاؤنڈیشن کے چئیر مین رولینڈ ٹِچی کا کہنا ہے کیش ختم ہو جانے سے انسان بے بس اور ناکارہ ہو جائے گا ،لیکن اگر جرائم اور دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہے تو کیش کی جگہ کارڈز یا سمارٹ فونز سب سے بہتر ذریعہ ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ دنیا میں روپیہ پیسہ کب ختم کیا جاتا ہے اور دہشت گردوں یا جرائم پیشہ افراد کو کن بینکس میں رقم ٹر انسفر کی جاتی ہے ایک طرف سے دیکھا جائے تو کیش ٹرانسفر ہونے کی صورت میں مجرموں کو گرفت میں لینے کا آسان طریقہ ہے،اور دوسری طرف اگر انسان پیسے کو سونگھ کر جینا چاہتا ہے اور وہ نظر نہیں آئے گا تو لوگ بہت جلد فوت ہو جائیں گے۔ کافی الجھا ہوا اور ام پوسیبل قدم ہے لیکن اگر ٹام فلموں میں پوسیبل کر سکتا ہے تو دنیا بھر کے بڑے بڑے سانڈ وں کے لئے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے لیکن کچھ لوگ اب بھی کہیں گے کہ کیش نہیں ہو گی تو عیش کیسے کریں گے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shahid Shakil

Read More Articles by Shahid Shakil: 250 Articles with 156554 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Mar, 2017 Views: 317

Comments

آپ کی رائے