مصطفی کمال اور انیس قائم خانی کی برق رفتار سیاست کا ایک سال !

(Fareed Ashraf Ghazi, Karachi)

 (مصطفی کمال اورانیس قائم خانی کے نئے سیاسی دور کا ایک سال پورا ہونے پر خصوصی تحریر )

مصطفی کمال اورانیس قائم خانی کے نام سے کون واقف نہیں،یہ وہ سینئر اور فعال سیاست دان ہیں جو جب ایم کیوایم کا حصہ تھے تو اس وقت بھی اپنی صلاحیت اور قابلیت کی وجہ سے کراچی کی سیاست میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتے تھے اور جب انہوں نے اپنی سابقہ سیاسی جماعت ایم کیوا یم کو خیرباد کہتے ہوئے اعلانیہ بغاوت کرکے اپنے نئے طرز سیاست کی ابتدا کی تو لوگوں نے ان کی کہی گئی تما م باتوں کو بہت توجہ اور غور سے سنا کہ یہ تمام باتیں ایم کیو ایم کے کسی عام کارکن یا عہدیدار کی جانب سے نہیں کی جارہی تھیں بلکہ ایم کیوایم کے کئی عشروں پر مشتمل دور سیاست و حکومت میں مرکزی اور کلیدی عہدوں پر اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے والے مصطفی کمال اور انیس قائم خانی کررہے تھے یہی وجہ تھی کہ جب 3 مارچ2016 کے روز کراچی اور حیدرآباد کے عوام کے جانے پہچانے اور مقبول سیاسی رہنمامصطفی کمال اور انیس قائم خانی نے تین سال کے بعد کراچی واپس آکر جس پرجوش اور ولولہ انگیز انداز میں اپنی سابقہ سیاسی جماعت کے قائد الطاف حسین پرکثرت شراب نوشی ،قتل وغارت گری اور بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ سے بھاری رقم وصول کرکے ان کے لیئے کراچی میں تخریبی کارروائیاں کرنے کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے ایم کیو ایم کو چھوڑنے اور نئی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کرکے اپنی نئی سیاسی اننگ کا آغاز کیا تو اسے غیر متوقع طور پر بہت پذیرائی حاصل ہوئی ورنہ اس سے قبل تو جس سیاسی رہنما نے ایم کیو ایم یا الطاف حسین سے بغاوت کرنے کی کوشش کی اسے موت کے فرشتے نے آن دبوچا اور یوں ایم کیو ایم میں ہونے والی ہر بغاوت ناکام ہوتی رہی،عظیم احمد طارق سے لے کر ڈاکٹر عمران فاروق تک ماسوائے آفاق احمد کے بیشتر باغی رہنما موت کے حقدار ٹہرے لیکن آفاق احمد ایم کیو ایم حقیقی کے نام سے نیا دھڑا بنانے کے بعد طویل عرصہ سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنے کے باوجود آج تک کوئی قابل ذکر سیاسی کامیابی حاصل نہ کرپائے۔ ایم کیوایم کی کشتی میں سب سے بڑا سوراخ آج سے ایک سال پہلے3 مارچ 2017 کو مصطفی کمال اور انیس قائم خانی نے کیا جس نے ایم کیو ایم کے30 سالہ دورسیاست کا اس بری طرح شیرازہ بکھیرا کہ ایم کیو ایم نے خود اپنی سیاسی جماعت کے بانی و قائد الطاف حسین کو غدار وطن قرار دے کرپارٹی سے ہی باہر نکال دیا جس کا کریڈٹ بجا طور پر مصطفی کمال اور انیس قائم خانی کے بے خوف اور حب الوطنی پر مبنی کامیاب طرز سیاست کو جاتا ہے جس کی وجہ سے صرف ایک سال کے عرصہ میں ان دونوں سیاست دانوں کو کرشماتی شخصیت ،قائدانہ صلاحیت اور دلیرانہ موقف کی بدولت عوام میں جو حیرت انگیز مقبولیت اور پذیرائی حاصل ہوئی وہ بہت ہی کم سیاستدانوں کو حاصل ہوتی ہے۔

مصطفی کمال اورانیس قائم خانی کی کرشماتی سیاست نے صرف ایک سال میں جس تیررفتاری کے ساتھ کراچی سے بلوچستان اور لاہور سے لندن تک اپنا موقف پہنچا کر کے زبردست عوامی حمایت حاصل کی ہے اس سے ان دونوں نڈر اور بے باک سیاستدانوں کی صلاحیت ،قابلیت ،فعالیت اور عزائم کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے گوکہ ان دونوں کو کراچی کی سیاست میں ایک نئی شناخت کے ساتھ انٹری دیئے ہوئے صرف ایک سال ہی ہوا ہے جبکہ انہوں نے اپنی نئی سیاسی جماعت پاک سرزمین پارٹی کے قیام کا باقاعدہ اعلان 23 مارچ 2016 کو کیا تھا اس لحاظ سے ابھی پاک سرزمین پارٹی کو قائم ہوئے تو پورا ایک سال بھی نہیں گزرا لیکن لوگوں کے دل ہوں،اخبار وں کے صفحات ہوں،ٹی وی چینلز کی اسکرین ہوں یا پاکستان بھر کے مختلف شہراور علاقے ہوں ہر جگہ مصطفی کمال اور انیس قائم خانی اور ان کی قائم کردہ سیاسی جماعت پاک سرزمین پارٹی کے نام کی دھوم مچی ہوئی ہے اور لوگ جوق درجوق اس پارٹی کا حصہ بن رہے ہیں جس سے 2018 کے متوقع عام انتخابات میں پاک سرزمین پارٹی کی ملک گیر کامیابی کے امکانات کا کچھ اندازہ تو لگایا ہی جاسکتا ہے۔

اگر مصطفی کمال نے ماضی میں کراچی کے ناظم اعلیٰ کے طور پر اپنی صلاحیت اورقابلیت کے بل بوتے پر کراچی کی تعمیر وترقی کے لیئے بلا تعصب اوربے داغ شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرکے کراچی کے عوام کے دل جیتے تھے توانیس قائم خانی نے اپنی سابقہ سیاسی جماعت میں رہتے ہوئے اپنی فطری قائدانہ اورتنظیمی صلاحیت کااستعمال کرکے متحدہ کی تنظیم سازی کو جس منظم انداز میں مستحکم کیا اس نے انہیں متحدہ کی اہم ترین شخصیت بنا دیا تھا اور خاص طور پر حیدرآباد اور میرپور خاص میں انیس قائم خانی کو ابتدا سے ہی جو مقبولیت اور اثرورسوخ حاصل تھا اس کا بھرپور اظہار حیدرآباد، میرپورخاص اور سندھ کے دیگر شہروں میں گزشتہ ایک سال میں رونما ہونے والی تیزی کے ساتھ بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال سے لگایا جاسکتا ہے جہاں اب بیشتر مقامات پر مصطفی کمال اور انیس قائم خانی کی تصاویر سے سجے ہوئے پوسٹرز اور بینرز لگے ہوئے نظرآنے لگے ہیں جبکہ گزشتہ دنوں حیدرآباد میں پکہ قلعہ کے مقام پر منعقد ہونے والا پاک سرزمین پارٹی کا پاور شوبھی حیدرآباد کی تاریخ کا ایک ایسا کامیاب جلسہ عام تھا جس کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے۔

گو کہ مصطفی کمال اور انیس قائم خانی کی سیاست کا بیس کیمپ تو کراچی اور حیدرآباد کی سیاست ہی ہے لیکن چونکہ انہوں نے اپنی سابقہ سیاسی جماعت کے برعکس پورے پاکستان کی سیاست کو اپنا محورومرکز بنایا ہے اس لیئے انہیں کراچی اور حیدرآباد کے علاوہ ملک کے دیگر بڑے شہروں میں بھی بڑی تیزی کے ساتھ پذیرائی حاصل ہورہی ہے جبکہ متحدہ کی 30 سال سے زائد سیاست ہمیشہ کراچی اور حیدرآباد تک ہی محدود رہی اور ملک کے دیگر حصوں میں انہیں کبھی قابل ذکر پذیرائی حاصل نہیں ہوسکی اور اس کے مقابلے میں مصطفی کمال ،انیس قائم خانی اور ان کی قائم کردہ پاک سرزمین پارٹی کو صرف ایک سال کے عرصہ میں ہر زبان اور نسل کے لوگوں کی جانب سے مثبت ریسپانس ملا ہے جس سے یہ امید ہو چلی ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں پاک سرزمین پارٹی نہ صرف کراچی اور حیدرآباد بلکہ پورے ملک سے انتخابی نستیں جیت سکتی ہے اور جوکام ایم کیوایم تیس سال میں نہ کرسکی وہ کام PSP نے صرف ایک سال کے اندر کردکھایا۔

ایم کیو ایم کے کئی نیک نام اور فعال رہنما آج مصطفی کمال اور انیس قائم خانی کی قائم کردہ سیاسی جماعت پاک سرزمین پارٹی کا حصہ بن چکے ہیں جن میں رضا ہارون،ڈاکٹر صغیر،افتخارعالم ،وسیم آفتاب ،انیس ایڈوکیٹ،اشفاق منگھی ،افتخار رندھاوا، بلقیس مختاراور دیگر کئی بڑے نام شامل ہیں جبکہ دیگر کئی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے بھی کچھ رہنما اس وقت اپنی سابقہ پارٹیوں کو چھوڑ کر پاک سرزمین پارٹی کا حصہ بن چکے ہیں جبکہ اس وقت بھی بہت سے رہنما ایسے ہیں جو پاک سرزمین پارٹی کو جوائن کرنا چاہتے ہیں لیکن پاک سرزمین پارٹی کی قیادت نے اپنی پارٹی میں شامل ہونے والوں کے لیئے اب کچھ اصول وضع کرلیئے ہیں اب جو سیاستدان یا شخص ان اصولوں پر پورا اترے گا وہی پاک سرزمین پارٹی کا حصہ بن سکے گا کہ PSP کی قیادت کو اس بات کا اچھی طرح اندازہ ہے کہ اگر انہوں نے ایم کیوایم سے تعلق رکھنے والے کسی بھی بدنام یا کرمنل شخص کو اپنی پارٹی میں شامل کیا تو ان کا حشر بھی متحدہ جیسا ہی ہوگا کہ مصطفی کمال اور انیس قائم خانی کا شمار اب محب وطن سیاست دانوں میں کیا جاتا ہے اور ان کی قائم کردہ سیاسی جماعت پاک سرزمین پارٹی کی مقبولیت اور کامیابی کی وجہ بھی یہ ہی ہے کہ ان کے ساتھ جو لوگ شامل ہورہے ہیں وہ ماضی میں کسی کرپشن اور یاکرمنل سرگرمیوں میں ملوث نہیں رہے اور اگر کسی پر ایک آدھ مقدمہ غلط یا صحیح بنا ہوا بھی ہے تو متعلقہ شخص اس سلسلے میں عدالتی فیصلے کو قبول کرنے کے لیئے آمادہ ہے۔

مصطفی کمال کی سچی اور کھری باتوں سے متاثر ہوکر اور انیس قائم خانی کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ایم کیوایم کے کئی بڑے رہنما گزشتہ ایک سال کے دوران پی ایس پی کے ساتھ شامل ہوتے گئے جبکہ دیگر سیاسی جماعتوں میں پی ٹی آئی کے رہنما حفیظ الدین اور پیپلز پارٹی کے بہت سے کارکن بھی مصطفی کمال کے قافلے کا حصہ بنتے گئے اور یوں آج مصطفی کمال اورانیس قائم خانی کا کارواں سینکڑوں اور ہزاروں سے نکل کر لاکھوں افرادکے دلوں کی آواز بن چکا ہے اور ان لاکھوں لوگوں کے لیئے مصطفی کمال نے لسانیت،عصبیت اورعلاقائیت سے پاک ایک وفاقی سوچ رکھنے والی سیاسی جماعت ’’پاک سرزمین پارٹی‘‘کی بنیاد رکھ کر ہر سچے پاکستانی کو وطن پرستی کے جھنڈے تلے جمع ہوکر پاکستان اور باالخصوص کراچی کو بدامنی ،دہشت گردی،لسانیت ،عصبیت ،بھتہ خوری اورقتل وغارت گری جیسی لعنتوں سے پاک کرنے کے لیئے ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کردیا ہے جس کی آڈیالوجی کو اپنا کر ہم اپنے ملک اور کراچی کو ایک بارپھر روشنیوں کا گہوارہ اور پرامن شہر بناسکتے ہیں۔

مصطفی کمال اور انیس قائم خانی 3 مارچ2016 کو کراچی آئے تھے یوں ان کو ایک نئے طرز سیاست کے تحت فعال ہوئے ابھی صرف ایک سال ہی گزرا ہے لیکن انہوں نے بغیر کسی وقفے کے جس تیز رفتاری بلکہ برق رفتاری کے ساتھ اپنی سیاسی سرگرمیاں شروع کرکے ان کا دائرہ وسیع کیا ہے اس سے ان کی اور ان کے ساتھیوں کی نیت ،جذبے ،محنت اور لگن کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ 3 مارچ 2016 کومصطفی کمال اور انیس قائم خانی کی اپنی سابقہ سیاسی جماعت ایم کیو ایم سے بغاوت کرکے نئی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان ،کراچی میں ڈیفینس کلفٹن کے علاقے میں خیابان سحر کے ایک بنگلے میں رہائش اور پھرمسلسل پریس کانفرنسیں اور انٹرویوز، ایم کیوایم کے کئی نامور رہنماؤں کی پاک سرزمین پارٹی میں پے درپے شمولیت اور پھر 23 مارچ2016 کو یوم پاکستان کے موقع پر نئی سیاسی جماعت ’’پاک سرزمین پارٹی ‘‘ کا قیام ،پی ایس پی کے مرکزی رہنماؤں کے کراچی ،حیدرآباداور میرپور خاص کے طوفانی دورے اور وہاں پر PSP کے دفاتر کا قیام ،پنجاب میں پی ایس پی کے اہم رہنماؤں کا دورہ اور پاک سرزمین پارٹی کے دفاتر کا قیام ،ایم کیوایم کے سینکڑوں کارکنوں اور عام پاکستانیوں کی بڑی تعداد میں پی ایس پی میں شمولیت ، 24 اپریل 2016 کو کراچی میں باغ جناح کے مقام پر ایک بڑا جلسہ عام اور پھر 21 مئی 2016 کو کراچی میں پاک سرزمین پارٹی کے تحت پہلے جنرل ورکرز کنوینشن کا کامیاب انعقاد،4 جون 2016 کو کراچی میں پاک سرزمین پارٹی کے مرکزی سیکریٹیریٹ کا باقاعدہ افتتاح ،پورے ملک کے طوفانی سیاسی دورے کراچی اور حیدرآباد سمیت پورے ملک کے مختلف شہروں میں تیز رفتار تنظیم سازی ،29 جنوری 2017 کو کراچی میں پاک سرزمین پارٹی کا تبت سینٹر ایم اے جناح روڈ پر کامیاب جلسہ عام اور اس میں پیش کی گئی یادگار’’ قرارداد کراچی‘‘ اور گاہے بگاہے ورکرز کنونش کا انعقاد ، اہم ملکی اور صوبائی مسائل کے حوالے سے منعقد کیئے جانے والے تنظیمی اجلاس، پاکستان میں رونما ہونے والے ہر اہم واقعے کے حوالے سے پاک سرزمین پارٹی کی قیادت کا واضح اور دوٹوک موقف ،مصطفی کمال ،انیس قائم خانی اور دیگر قائدین کے بیانات ،تقریریں اور ٹی وی ٹاک شوز میں اپنے حب الوطنی سے بھرپور خیالا ت کا کھل کر اظہار اورہاتھوں میں پاکستانی جھنڈا تھامنے کے علاوہ پی ایس پی کے سیاسی جلسوں جلوسوں میں پاک سرزمین پارٹی کے جھنڈوں کی بجائے پاکستان کا جھنڈاسربلند کرنے اور اپنے پارٹی پرچم کو پاکستان کے قومی پرچم سے مشابہ رکھتے ہوئے اس پر جلی حروف میں’’ پاکستانی ‘‘ لکھوانے جیسے اقدامات سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ مصطفی کمال،انیس قائم خانی اور ان کی نئی سیاسی جماعت میں شامل تمام سیاسی رہنما اور کارکن اپنے مثبت عزائم اور مقاصد کے حصول کے لیئے نہایت پرامید اور پرعزم ہیں جن کی محبت ،لگن ،جوش ،جذبے اور انتھک محنت سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاک سرزمین پارٹی بہت جلد ایک ملک گیر پارٹی کی شکل اختیار کرلے گی کہ ایم کیوایم کا شہر کہلائے جانے والے شہر کراچی اور حیدرآباد کے نوجوانوں اورسنجیدہ لوگوں میں مصطفی کمال اورانیس قائم خانی اوران کی سیاسی پارٹی کی دن بدن بڑھتی ہوئی مقبولیت نے نہ صرف متحدہ قومی موومنٹ بلکہ کراچی کی سیاست میں حصہ لینے والی دیگر سیاسی جماعتوں کے لیئے بھی خطرے کی گھنٹی بجادی ہے ۔ خاص طور پر کراچی جہاں ایم کیو ایم کو مکمل کنٹرول حاصل تھا وہاں بھی متحدہ کے زیر اثر علاقوں میں بھی پاک سرزمین پارٹی سے عام لوگوں کی دلچسپی دیکھ کر 2018 میں ہونے والے انتخابات کے نتائج میں متوقع تبدیلوں کا بخوبی اندازہ لگا یا جاسکتا ہے۔

اگر جذبہ اور لگن سچی ہو تو کوئی بھی کام ناممکن نہیں ہوتا ،کراچی میں رہ کر کراچی کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی ایم کیو ایم اور اس کے بانی و قائد الطاف حسین کے خلاف علم بغاوت بلند کرتے ہوئے نئی سیاسی جماعت پاک سرزمین پارٹی قائم کرنا اور صرف ایک سال کے عرصے میں سیاسی میدان میں اپنا لوہا منوانا کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے اس طرح کی برق رفتارسیاست کا مظاہرہ وہ ہی لوگ کرسکتے ہیں جن کے عزائم بلند ،نیت نیک اورحوصلہ مندی کمال کی ہو، جو کمال، مصطفی کمال اور انیس قائم خانی نے اپنے نئے سیاسی دور میں صرف ایک سال کے اندر کردکھایا ہے اسے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

پاک سرزمین پارٹی کے چئیر مین مصطفی کمال و صدر انیس قائم خانی اور ان کے دیگر تنظیمی ساتھیوں کی حب الوطنی ،سچائی ،قابلیت ،کچھ کردکھانے کا جذبہ اور پاکستان کو ہرطرح کے لسانی تعصب سے پاک ایک نئی سیاسی جماعت فراہم کرنے کی وجہ سے عوام ان کا ساتھ دیتی ہوئی نظرآ رہی ہے اور صرف 2 ،افراد سے شروع ہونے والی سیاسی جدوجہد صرف ایک سال کی مدت میں ایک مقبول عوامی پارٹی کی شکل اختیار کرکے لاکھوں افراد کی آواز بن چکی ہے اور اگرPSP کے قائدین کا جذبہ ،لگن ،محنت ،خلوص،حب الوطنی اور عوامی مسائل سے ہمدردی اسی طرح برقرار رہی تو مستقبل میں پاک سرزمین پارٹی کو کروڑوں افراد کی پسندیدہ سیاسی جماعت بننے سے کوئی نہیں روک سکتا کہ مصطفی کمال،انیس قائم خانی اور ان کی قائم کردہ سیاسی جماعت پاک سرزمین پارٹی شروع دن سے ہی پیار محبت ،پاکستانیت کے جذبے کا پرچار کررہی ہے اور امن وسکون فراہم کرتے ہوئے عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے کی داعی ہے اس لیئے عوام الناس میں پاک سرزمین پارٹی اور اس کے مرکزی قائدین مصطفی کمال اورانیس قائم خانی کی دن بدن بڑھتی ہوئی مقبولیت ایک فطری امر ہے کہ پاکستانیت کا جذبہ آج بھی دیگر تمام نعروں سے زیادہ پرکشش اور کامیاب ہے اور جو بھی سیاست دان پاکستانی عوام کو بلا تعصب پاکستانی جھنڈے کے تلے متحد کرنے میں کامیاب ہوگا وہ 2018 کے عام انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کرے گا لہذا بڑے سیاست دان اور سیاسی پارٹیاں مصطفی کمال،انیس قائم خانی اور پاک سرزمین پارٹی کو نظر انداز کرنے کی بجائے آئندہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لیئے کچھ اچھے کام ضرورکرلیں ورنہ حب الوطنی کے جذبے سے سر شار مصطفی کمال اور انیس قائم خانی کی برق رفتار سیاسی سرگرمیاں بہت سے مغرور سیاست دانوں کا غرور خاک میں ملانے کی بھرپورصلاحیت ،قابلیت اور اہلیت رکھتی ہیں۔ آخر میں دعا ہے کہ اﷲ تعالیٰ اس ملک کے محب وطن سیاست دانوں کوآئندہ ہونے والے عام انتخابات میں ایسی نمایاں کامیابی عطا فرمائے کہ وہ اقتدار میں آکر اس ملک پر گزشتہ کئی عشروں سے حکومت کرنے والے موقع پرست، بدعنوان ،مفاد پرست اور کرپٹ حکمرانوں کو اقتدار کے ایوانوں سے باہر نکال کر اس ملک کی مظلوم اور بے بس عوام کے مسائل حل کرکے عوامی امیدوں پر پورا اتر تے ہوئے ہمارے ملک پاکستان کو ایسا باقار ،ترقی یافتہ ،پرامن اور خوش حال ملک بنا سکیں جس کا خواب بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح نے قیام پاکستان کے وقت دیکھا تھا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Fareed Ashraf Ghazi

Read More Articles by Fareed Ashraf Ghazi : 111 Articles with 73462 views »
Famous Writer,Poet,Host,Journalist of Karachi.
Author of Several Book on Different Topics.
.. View More
02 Mar, 2017 Views: 462

Comments

آپ کی رائے