جہدوجہدِڈاکٹر عافیہ صدیقی رہائی میں کامیابی ہوگی ۔(الحاج احمد حسین ہارون)

(Hafeez khattak, Karachi)
مرکزی چیئر مین غریب اتحاد پارٹی الحاج احمد حسین ہارون سے حفیظ خٹک کا خصوصی انٹریو۔

جہدوجہدِڈاکٹر عافیہ صدیقی رہائی میں کامیابی ہوگی ۔(الحاج احمد حسین ہارون)

مرکزی چیئر مین غریب اتحاد پارٹی الحاج احمد حسین ہارون سے حفیظ خٹک کا خصوصی انٹریو۔
سوال : الحاج احمد حسین ہارون صاحب اپنی جماعت کی تاریخی حیثیت کے ساتھ اس کا مکمل تعارف کرائیے ؟
الحاج احمد حسین ہارون ۔شہر قائد سمیت پورے ملک میں غریب عوام کی اکثریت ہے اور اسی غریب عوام کو حقوق دلانے کیلئے غریب عوام پارٹی برسوں سے جدوجہد کررہی ہے۔ احمد علی اس جماعت کے بانی ہیں جنہوں نے 90کی دہائی میں اس جماعت کی بنیاد رکھی ۔ اس وقت سے اس جماعت کی جدوجہد اس یقین کے ساتھ جاری ہے کہ اک روز یہ جماعت اس ملک کے عوام بنیادی حقوق دلائے گی اور غربت اس ملک سے ختم ہو جائیگی اور غریب بھی ملک کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرینگے۔
سوال :آپ اس جماعت میں کب شامل ہوئے اور ان دنوں آپ کی کیا ذمہ داریاں ہیں ؟
الحاج احمد حسین ہارون : غریب اتحاد پارٹی میں 1991کو ایک عام کارکن کی حیثیت سے شامل ہوا اور تب سے آج تک اسی جماعت میں میں غریب عوام کیلئے جہدوجہد کر رہا ہوں۔1993 میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں اپنی جماعت کی جانب سے کیماڑی کے حلقے پی ایس73 میں مقابلہ کیا تھا جس میں عوام نے بھرپور حمایت کی لیکن مخصوص حالات کے باعث اس نشست پر کامیابی حاصل نہ ہوسکی ۔ اس وقت میں مرکزی چیئرمین کی حیثیت سے ذمہ داریاں نبھا رہا ہوں ۔ شہر قائد سمیت لاہور پشاور اور کوئٹہ میں ہمارے دفاتر موجود ہیں اور ہزاروں کارکنان اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں ۔
سوال : ماضی میں اک دور ایسا بھی گذرا جب شہر قائد کی دیواروں پر صرف آپ کی جماعت اور احمد علی صاحب کا نامنظر آتا تھا اب ایسا نہیں ہے اور احمد علی صاحب بھی عملی سیاست میں نظر آتے ۔ اس کی کیا وجوہات ہیں ؟
الحاج احمد حسین ہارون : جی آپ صحیح کہا ماضی میں اک دور ایسا گذرا ہے کہ جب شہر قائد میں ہی نہیں پورے ملک میں غریب اتحاد پارٹی کے نعرے نظرآتے تھے اور ان کے ساتھ جماعت کے سربراہ احمد علی صاحب کا بھی نام نظر آتا تھا تاہم اب ایسا نہیں ہے لیکن اس کا قطعی مطلب یہ نہیں کہ ہماری جماعت ختم ہوگئی ہے ۔ ہماری جماعت آج بھی موجود ہے اور منظم منصوبہ بندی کی تحت اپنی جدوجہد میں مصروف ہے۔احمد علی صاحب کا معاملہ یہ ہے کہ ان کی طبیعت ان دنوں ناساز ہے اس لئے وہ خرابی صحت کے باعث کم نظر آتے ہیں ۔ تاہم اس کے باوجود ان کی ملکی صورتحال پر گہری نظر ہے اور جماعت کے رہنماؤں اور کارکنوں کو ہدایات اور رہنمائی جاری کرتے ہیں ۔
کراچی اپڈیٹس : ملک میں دو جماعتوں کی حکومتیں زیادہ رہی ہیں ۔ کیا انہوں نے عوام کیلئے کام کئے ہیں ۔سابقہ ادوار سمیت موجودہ دور حکومت آپ کے سامنے ہیں ۔ اس حوالے سے آپ کیا کہتے ہیں ؟
سوال : قیام پاکستان کے بعد سے آج ان مقاصد کو حاصل نہیں کیا گیا جس مقصد کیلئے یہ ملک قائم ہوا ۔ دو جماعتوں کو ایک جانب رکھیئے ابتدا ء سے تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں کسی جماعت نے بھی قائد اعظم اور علامہ اقبا ل کے خوابوں کو پورا نہ کیا ہے اور نہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ موجودہ دور حکومت جس جماعت کی ہے اس کو ماضی میں بھی دوبار عوام پر حکومت کرنے کا موقع ملا اس پنجاب میں تو اسی جماعت کی حکومت سب سے زیادہ رہی ہے لیکن آج پنجاب کے عوام سے اور اس کے بعد ملک کے عوام سے ان کی صورتحال اور اس جماعت پر ان کی رائے لے کر دیکھیں تو سب سامنے آجائیگا ۔ اس جماعت سمیت دیگر جماعتوں نے بھی اس ملک کیلئے قابل تعریف کردار ادا نہیں کیا ۔ ہماری جماعت نے جب اپنے سفر کا آغاز کیا اس وقت پوری عوام ہمارے ساتھ تھی اور عوام اب ہمارے ساتھ ہے لیکن بڑی سیاسی جماعتوں کی منظم منصوبہ بندی کے باعث وہ انتخابات کے موقع پرعوام کی ہمدردیا ں حاصل کرتی ہیں اور ووٹ لینے کے بعد انہیں نظر آتیں ۔ عوام چند دنوں کیلئے تو خوش ہوجاتے ہیں انہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب ان کے مسائل حل ہوجائیں گے لیکن آج تک ان سیاسی جماعتوں نے عوامیمسائل حل نہیں کئے ۔ ہمیں امید ہے کہ ان عوامی مسائل کو غریب اتحاد پارٹی ہی حل کرے گی ۔
سوال:ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے جاری تحریک میں آپ نظر آتے ہیں ، آپ کے خیال میں ان کی رہائی کیسے ممکن ہوسکے گی ؟
الحاج احمد حسین ہارون : ڈاکٹر عافیہ صدیقی اس قوم کی بیٹی ہیں اور جب سے ان کا معاملہ سامنے آیا ہے اس وقت سے میں ،میری پوری جماعت ان کی رہائی کیلئے برسرپیکار ہیں ۔ ہم ہر طرح سے ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی جدوجہد میں شامل ہیں ۔ جب بھی ان کی جانب سے بلایا جاتا ہے ہم حاضر ہوتے ہیں ان کی جدوجہد میں ہم برابر کے شریک ہیں ۔ جماعت کے سربراہ سمیت غریب اتحاد پارٹی کا ہر کارکن ، عافیہ موومنٹ کے ساتھ ہے اور ہمیں اس بات کا یقین ہے کہ قوم کی بیٹی کو رلائی ملے گی اور جلد وہ باعزت رہائی کے بعد اپنے دیس میں اپنوں کے درمیان ہونگی ۔
سوال:2008سے قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے جدوجہد جاری ہے ، کامیابی کیوں حاصل نہیں ہوتی ؟
الحاج احمد حسین ہارون : سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں داکٹر عافیہ صدیقی اور ان کے تین بچوں کو شہر قائد اغوا کر کے اسلام آباد اوروہاں سے افغانستان پہنچایا گیا ۔ وہاں اس بچوں سے الگ جیل میں مقید کیا گیا ان کا سب سے چھوٹا بیٹا سلمان کا تو آج تک پتہ ہی نہیں چل پایا ہے کہ وہ زندہ بھی ہے یا نہیں اور ہے تو کہاں اور کس حال میں ہے ۔باقی دونوں بچے احمد اور مریم تو محنتوں کے بعد سامنے آگئے لیکن ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو واپس کرنے کے بجائے ان پر گولیاں چلائی گئیں اور زخمی حالت میں امریکہ منتقل کیا گیا جہاں عدالتوں نے انہیں جھوٹے مقدمات میں انسانیت سوز 86برسوں کی سزا دی ۔ ڈاکٹر عافیہ تب سے آج تک امریکی جیلوں میں مقید ہیں ۔ ان کی رہائی کیلئے2008میں شروع ہونے والی جہدوجہد میں مجھ سمیت میری پوری جماعت ابتدا ء سے شریک ہوئی ۔
ماضی میں دو مواقع ایسے آئے ہیں کہ جب حکومت کے پاس قوم کی بیٹی کی واپسی کے راہ ہموار ہوسکتی تھی لیکن حکومت نے دونوں مواقع ضائع کئے اور اس کے ساتھ اب تک ان کی رہائی کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا ۔ پیپلز پارٹی کا دور تھا انہوں نے بھی کچھ نہیں کیا اور اب مسلم لیگ ن کا دور حکومت ہے انہوں نے بھی عافیہ کے نام پر ووٹ لئے اور وعدے کئے نہ صرف عافیہ کی والدہ اور بچوں سے بلکہ پوری قوم سے لیکن آج تک اس وعدے کو پورا نہیں کیا ۔ ذاتی طور پر ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کو یہ مشورہ دیا کہ وہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق مندوب عبداللہ حسین ہارون سے ملاقات کریں میرے خیال میں وہ بہتر مشورے اور راہیں اس قوم کی بیٹی کی واپسی کیلئے دے سکتے ہیں تاہم مخصوص مصروفیات کے سبب ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی اب تک عبداللہ حسین ہارونسے ملاقات نہیں ہوپائی ہے۔ میں ذاتی طور ان کی ملاقات کیلئے کوشاں ہوں ۔وہ یو این او میں ملک مندوب رہے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ وہ اپنااثر و رسوخ استمال کرتے ہوئے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی میں کلیدی کردار ادا کریں گے اور اس کے ساتھ میں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے کی جانے والی جہدوجہد کو ضرور کامیابی حاصل ہوگی ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hafeez khattak

Read More Articles by Hafeez khattak: 190 Articles with 98866 views »
came to the journalism through an accident, now trying to become a journalist from last 12 years,
write to express and share me feeling as well taug
.. View More
04 Mar, 2017 Views: 573

Comments

آپ کی رائے