دلِ محترم کے حامل -ڈاکٹر محمد حسین مُشاہدؔ رضوی

(Dr. Muhammed Husain Mushahid Razvi, Malegaon)
جناب ابن آدم ، مالیگاؤں (ریسرچ اسکالر ، شعبۂ اردو ممبئی یونی ورسٹی) کی مشاہدنوازی
پیش کش : ڈاکٹر مشاہدرضوی

میں اپنے برادرِعزیز جناب ’’ڈاکٹر محمد حسین مُشاہدؔ رضوی‘‘کے متعلق کیاکہوں ؟ اور کیا لکھوں ؟ ان کی شخصیت دینی و ادبی حلقوں میں محتاجِ تعارف نہیں ہے ۔ یہ بہت ہی حکیم ، سلیقہ مند، خوش طبع اور حق گو واقع ہوئے ہیں، جو کہ ایک سچے مدرس کا خاصہ ہے ۔ انھوں نے دینی اور عصری علوم اس قدر اور اس طور سے حاصل کیا ہے کہ یہ ان کے رگ و پَے میں لہو بن کر ہمکنے لگا۔ یہ شایستہ اور دینی مزاج کے حامل ہیں ۔ ان کا دل آئینہ کی طرح اجلا اور شفاف ہے، جس میں ہر مقابل اپنا عکس بہتر طور پر دیکھ لیتا ہے۔ علمی و ادبی سفر میں ہم بچپن کے رفیق ہیں۔ انھیں عہدِ تعلیم سے ہی شاعری کا ذوق و شوق رہا ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ اردو زبان و ادب میں شاعری ہیں وہ صنفِ سخن ہے، جس کی خوشبو سے ذہن و دل جلد ہی معطر ہوجایا کرتے ہیں ۔ اپنے عہدِ طالب علمی میں، انھوں نے بھی اپنی طبعِ نازک کو شاعری پر آمادہ پایا ۔ انھوں نے ابتدا ہی سے شاعری کی اس صنفِ سخن نے اپنا رشتہ استوار کیا ، جس میں طبع آزمائی کے لیے دلِ محترم اور جذبۂ الفت اور حق گوئی کا متناسب امتزاج ہونا نہایت ضروری ہے۔ شاعری کی اس صنفِ سخن کو ’’نعت شریف‘‘کہا جاتا ہے۔ ان کے دینی مزاج اور خدا کے حبیب رسول اکرم ﷺ سے الفت کے مقدس جذبے نے ، انھیں اس حساس صنفِ سخن پر طبع آزمائی کے لیے اکسایا۔ چوں کہ ان کا ذہن و دل، آبِ رواں کی طرح صاف و شفاف ہے، ان کے جذبۂ شوق نے نبیِ کریم ﷺ سے اپنی محبت اور عقیدت مندانہ احساسات کو شعری پیرہن میں اس طرح بیان کرنا شروع کیا کہ رفتہ رفتہ ’’نعت شریف‘‘کا گراں مایہ خزانہ بن گیا۔ جن کے دو شعر مجموعے ’’لمعاتِ بخشش‘‘اور ’’تشطیراتِ بخشش‘‘شائع ہوچکے ہیں۔ ان کے کلام کا سامع یا قاری اپنے آپ کو حضور اقدس ﷺ کے حضورپاتا ہے، زبان بے ساختہ ’’سبحان اللہ!‘‘کہہ اٹھتی ہےاور دل میں دُرود شریف کا دریا موجزن ہوجاتا ہے۔

کہتے ہیں کہ انسان کی زبان ، اُس کی شخصیت و افکار کی آئینہ دار ہوتی ہے۔ میرے رفیق ڈاکٹر محمد حسین مُشاہدؔ رضوی کی زبان اور ان کا لب و لہجہ اس بات کا ضامن ہے کہ وہ ایک دینی اور اصلاحی مزاج رکھتے ہیں۔ ان کا دائرۂ فکر عالمِ انسانیت کی فلاح و بہبود پر محیط ہے۔ جو نہ صرف ہر طبقے کا محاسبہ کرتا ہے ۔ بلکہ ہر عمر اور ہر نسل و قوم کا احاطہ کرتا ہے ۔ ان تمام باتوں کی صداقت کو جاننے کے لیے آپ کو ان کی تصانیف کا بہ غور مطالعہ کرنا ہوگا۔ جن میں تحقیقی مقالے ، دیگر مختلف زبانوں سے کیے گئے تراجم، ان کی نعتیہ کلام کے مجموعے ، سیرت النبی ﷺ پر مضامین ، بچوں کے لیے لکھی گئیں مختصر کہانیاں، اردو زبان و قواعد ، مختلف اصنافِ سخن پر لکھی گئی کتب اور ملک کی مایۂ ناز دینی و ادبی شخصیات پر تبصرات و مضامین شامل ہیں۔ان کے ذریعے تخلیق کیا گیا اردو ادب کا یہ تمام اثاثہ اپنے اندر ایک جہانِ علم و فن اور زبان و بیان کی شیرینی لیے ہوئے ہے۔ مَیں اپنی کم علمی اور کم فہمی پر شرمسار ہوں کہ اپنے برادرِ عزیزکی علمی و فنی اور اصلاحی و تدریسی صلاحیتوں کا مکمل احاطہ نہ کرسکا۔ مجھے اپنے برادر کی بے انتہا محبت نے مجبور کیا کہ مَیں بھی اُن جذبات و احساسات کو پیش کروں ، جو ان کے تئیں میرے دل میں موجزن ہیں، تو مَیں نے اپنے ان ہی جذبات و احساسات کو بہ صورتِ مضمون پیش کرنے کی جرأت کی۔ مجھ، آپ کو یہ اطلاع دیتے ہوئے نہایت مسرت ہورہی ہے کہ اس برس یعنی ۲۰۱۱ء میں ان کی گیارہ تصانیف ، بہ صورتِ کتاب منظرِ عام پر آچکی ہیں۔ جن میں نثرِ رضا کے ادبی جواہر پارے، سرکارِ دوعالم ﷺ کی خوش طبعی، جنگِ آزادی ۱۸۵۷ء کا فتواے جہاد اور علامہ فضل حق خیرآبادی کا کردار، تشطیراتِ بخشش( صنعتِ تشطیر پر مالیگاؤں کا پہلاشعری مجموعہ) ، شادی کا اسلامی تصوراور اقلیم ِ نعت کا معتبر سفیر سید نظمی مارہروی ،دیگر مختلف اداروں سے اور عملی قواعدِ اردو (دوسرا ایڈیشن)، پھنس گیا کنجوس(بچوں کی مختصر کہانیاں) ، گلشنِ اقوال، رہنماے نظامت ، اور خواجہ معین الدین چشتی نامی کتب رحمانی پبلی کیشنز سے جناب سلیم رحمانی صاحب کی مشفق رہنمائی میں شائع ہوئیں۔

مَیں دل کی عمیق گہرائیوں سے اپنے رفیق جناب ڈاکٹر محمد حسین مُشاہدؔرضوی کو ان کی تمام کاوشات و تخلیقات کی طباعت و اشاعت پر مبارک بادپیش کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ خداے برتر انھیں ہمیشہ خیرخواہی پر آمادہ رکھے اور یہ یوں ہی سب کی حوصلہ افزائی کرتے رہیں۔ آمین!!
ابن آدم
دسمبر ۲۰۱۱ء

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr. Muhammed Husain Mushahi Razvi

Read More Articles by Dr. Muhammed Husain Mushahi Razvi: 409 Articles with 355279 views »


Dr.Muhammed Husain Mushahid Razvi

Date of Birth 01/06/1979
Diploma in Education M.A. UGC-NET + Ph.D. Topic of Ph.D
"Mufti e A
.. View More
07 Mar, 2017 Views: 243

Comments

آپ کی رائے