خدمت

(Hina Deedar, Karachi)

انسان اس دنیا میں ایک مسا فر کے مانند ہے اوریہ زندگی ایک سفرمانند ہے۔ جس میں ہر فرد اپنے منزل تک کی رسا یٔ میں مصروف نظر آ تا۔اس دورانِ زندگی میں انسا ن کو ، جسے خدا وندِ کریم کی جا نب سے ــــاشرف ا لمخلوخا ت کا درجہ حا صل ہے،بہت سی آ ز ما ـیٔشوں کا سامنا کر نا پڑتا ہے۔ در حقیقت اس فا نی دنیا میں وہی انسان کامران ہے۔ جس نے ان آزما یٔشوں کو گہرای سے پرکھا ا ور دانایٔ و فراست سے ان کا سا منا کیا۔ چونکہ تمام انسان کو پیدا کرنے والاایک ہی ذات ہے۔اور ہماری منزل بھی ایک۔ اگر چہ ہم ایک دوسرے کو فراموش کر بیٹھے ہیں۔ ہم اپنی ذاتی زندگی میں اتنا غرق ہوگیٔے ہیں کہ ہمیں کسی دوسرے فرد کا دکھ و رنج کا احساس بلکل نہیں ہوتا۔

یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے ملک کے حا لات کشیدہ ہے۔ہمارے درمیان با ہمی اتحاد، محبت اور خد مت کے تصور کا فقدان ہے۔انسان کی خد غرضی اور حریص اس پر غا لب آ گیا ہے۔ پہلے زما نے میں ماں با پ کی قدرِخدمت کی جا تی تھی۔انہیں گھر کا منتطم ، سربراہ سمجھا جا تا تھا۔مگر اج انہیں ماں باپ، جو اپنی پوری زندگی اپنے بچوں کی خدمت میں گزارتے،کو بڑھاپے میں ایک بوج سمجھ کے اولڈ ہاوس میں متقل کردیا جا تا ہے۔جس معاشرے نے ماں با پ کی خدمت کو درگزر کر دیا۔ وہ بھلا کسی اجنبی کی کیاخدمت کرے۔

خدمت ایک جذبہ، ایک احساس ہے جس سے افرادمیں اتحاد، محبت اور استحکام پیدا ہو تا ہے۔آج ہم میں سے ہر ایک صر ف اپنی ذات کا سو چتا اور صرف ذاتی مفاد کو تر جیع دیتا ہے۔

خدمت کا نظرانہ تا ریخ میں ہما رے معتبر لیڈران قاداعظم،علامہ اقبال، سر سید احمد خان،فاطمہ جناح اور سر آغا خان (۳)جو کہ مسلم لیگ کے اول صدر تھے۔جنہوں نے مسلما نوں کے لئے علی گڈ یو نیورسٹی قا ئم کر نے کے خا طر خودچندہ اکھٹا کیاتا کہ وہ اپنے مسلمان بہن بھائیوں کو تعلیم یا فتہ بنا سکے۔ہمارے آج کے حکمران کوان لیڈران کی زندگیوں سے خدمت کے تصور کا سبق لینا چاہئے۔ہم جتنا ہما رے معاشرے میں میں خدمت کے تصور کو پروان چڈہائینگے اتنا ہی ہمارامعا شرہ خوشحال اور مستحکم ہوگا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hina Deedar
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Mar, 2017 Views: 422

Comments

آپ کی رائے
مختصر اور دلوں کے تار کو چھوتی مختصر تحریر کا پیغآم عمدہ ہے۔
By: Zulfiqar Ali Bukhari, Rawalpindi on Mar, 15 2017
Reply Reply
0 Like
This is really inspirational Urdu article :)
By: Alisa, London on Mar, 14 2017
Reply Reply
0 Like