آٹھ کروڑ ․․․․․ !

(Muhammad Anwar Graywal, BahawalPur)

 جس عمارت میں میرا دفتر وغیرہ ہے، وہ کرایہ پر ہے، میں اپنی آمدنی کے حساب سے دیگر اہم اور ضروری اخراجات کے ساتھ ساتھ معقول کرایہ ادا کرتا ہوں۔ کرایہ ادا کرنے میں مجھے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کبھی کوئی اور ضرورت سر چڑھ آئی تو کرائے کو تھوڑا سا ملتوی کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مالک مکان بہت سخت مزاج انسان ہیں، وہ بھی ذہنی طور پر پریشان ہی رکھتے ہیں، کبھی دو مہینے تک کرایہ لینے نہیں آتے (ایسے میں بھی مجھے ہی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے) کبھی اچانک آ کر مہینوں کا پیشگی کرایہ طلب کرلیتے ہیں، وہ سرکاری ملازم تھے، آجکل ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ اپنی سنانے کے قائل ہیں، دلائل اور مجبوریوں کی زبان سے وہ نا آشنا ہیں، جو لفظ ان کی زبان سے ادا ہوگیا وہ حرفِ آخر ہی ہے، اور کرایہ دار قارئین اس مجبوری کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ آخر شکست کرایہ دار نے ہی ماننی ہوتی ہے، کرایہ دار پر کیا موقوف جہاں بھی کوئی ’’زیر دست‘‘ ہے، وہ زیر ہی رہتا ہے۔ دور کے ڈھول سہانے کے مصداق دیکھنے والوں کی نگاہ میں دوسروں کی آمدنی بہت زیادہ دکھائی دیتی ہے، بلکہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ یار لوگ دوسروں کی آمدنی کا اپنے تئیں حساب بھی کرلیتے ہیں، کُل اخراجات وغیرہ نکال کر بچت بھی ظاہر کردی جاتی ہے۔

میں نے اپنے تجربہ کار اور پاکستانی قوم کے بڑے محسن وزیر خزانہ جناب اسحاق ڈار کا بیان پڑھا، تو دل باغ باغ ہو گیا، دماغ میں سرور کی ایک لہر پھیل گئی، خمار سے آنکھیں بند ہونے لگیں۔ چالیس ہزار روپے کے پریمیئر بانڈ پر انعام کی رقم ساڑھے سات کروڑ سے بڑھا کر آٹھ کروڑ کر دی گئی ہے، اس کے ساتھ ہی اب اس رقم پر ششماہی منافع بھی دیا جائے گا۔ اب میں یہ خستہ سا مکان خرید لوں گا، جس کا میں بھاری کرایہ بھر رہا ہوں، اور مالک مکان کی جلی بھنی سنتا ہوں۔ اگرچہ یہ جگہ کافی مہنگی ہے۔ مگر مجھے اس کی فکر نہیں رہی۔ میں اس عمارت کو گرا کر یہاں نئے نقشے کے مطابق عمارت تعمیر کروں گا، بڑا گیٹ جس میں کم از کم دوتین گاڑیاں کھڑی ہو سکیں، اس کے علاوہ فرنٹ پر تین چار مناسب سی دکانیں بنواؤں گا، تاکہ معقول کرایہ بھی وصول کر سکوں۔ دکانوں کے اوپر بھی میں نے چھوٹے چھوٹے فلیٹ بنانے کا منصوبہ بنا لیا ہے، جنہیں کرایہ پر چڑھا کر میں اپنی آمدنی میں مزید اضافہ کر سکوں گا۔ دکانوں سے پیچھے ایک ہال زیر زمین بنواؤں گا، وہاں سے نکلنے والی مٹی کو پلاٹ کے دیگر حصوں میں ڈلواؤں گا، یوں بچت بھی ہوگی اور کام بھی ہو جائے گا۔ پھر اس کے اوپر ڈبل سٹوری گھر ہوگا۔ جس میں وسیع ڈرائینگ روم اور بہت سے کمرے ہونگے۔ یہ بھی سوچ رہا ہوں کہ گراؤنڈ فلور پر رہائشی فلیٹ بنا دوں جسے مختلف لوگوں یا اداروں کو دفاتر یا رہائش وغیرہ کے لئے دے کر آمدنی میں مزید سے مزید اضافہ کر سکوں ۔ آم کے آم گٹھلیوں کے دام۔

چھت پر کھلا میدان ہوگا، جہاں گرمیوں کی رات اور سردیوں کے دن موسم سے لطف اندوز ہوا جاسکتا ہے، کھلی چھت پر سولر کی پلیٹیں بھی لگائی جاسکیں گی، کہ بجلی کا ابھی کوئی پتہ نہیں۔ عمارت سے باہر کچھ جگہ پارکنگ کی بھی چھوڑی جائے گی، اور ماحول کو خوشگوار بنانے کے لئے کچھ خوبصورت پودے بھی لگائے جائیں گے۔ دکان داروں سے صفائی کا معاہدہ ہوگا، ایسی دکانیں بنائی جائیں گی جہاں صفائی دکاندار کی مجبوری ہو۔ میں نے منصوبہ بندی مکمل کر کے خاتونِ اول کو بھی خوشخبری سنا دی ہے، اس نے فوری طور پر گھر کے استعمال کی اکثر چیزوں کے خریدنے کی منصوبہ بندی شروع کردی ہے، اس کا کہنا ہے کہ گھر نیا ہوگا تو اپنے اور اپنے بچوں کے علاوہ تمام چیزیں نئی ہی ہونی چاہیئں۔ مجھے بھی اس کی باتوں سے مکمل طور پر اتفاق ہے، کیونکہ ایک تو اتفاق میں برکت ہے، دوسرا یہ کہ اسی میں عافیت بھی ہے۔ کالم ابھی یہاں تک پہنچا تھا کہ مالکِ مکان کا فون آگیا، اگلے تین ماہ کا کرایہ پیشگی جمع کروانے کا حکم دیا جارہا تھا۔ فون سے تخیل کا حسین آبگینہ کرچی کرچی ہوگیا۔ آٹھ کروڑ کا خمار ایک لمحے میں میرے سر میں گیس کا روپ دھار گیا۔ اب ادھار مانگ کر کرایہ دوں گا اور اگلے کئی ماہ میں یہ قرض اتاروں گا، چالیس ہزار اکٹھے کر کے بانڈ خریدنے کی نوبت شاید کبھی خوابوں میں ہی آئے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: muhammad anwar graywal

Read More Articles by muhammad anwar graywal: 599 Articles with 256996 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Mar, 2017 Views: 245

Comments

آپ کی رائے