مردم شماری کا آغاز خوش آئند

(Noor us Sabah Hashmi, )

ملک بھر میں انیس سال بعد مردم و خانہ شماری کا آغازہوگیا ، لاہورمیں پنجاب اسمبلی اور کراچی میں برنس روڈ پر عمارت کو 001 شمار کر دیا گیا۔ ہر مکان ، دکان ، فلیٹ ، مسجد ، مدرسہ ، خیمہ ، کشتی اور غار کی گنتی ہوگی ، پہلے مرحلے میں خانہ شماری ہوگی جبکہ اٹھارہ مارچ سے مردم شماری شروع کی جائے گی۔ انیس سو اٹھانوے کے بعد ملک کے چاروں صوبوں میں بیک وقت مردم اور خانہ شماری شروع پہلے 3 دن خانہ شماری ، 18 مارچ سے مردم شماری ہو گی۔ پنجاب اسمبلی کی عمارت پر ایک نمبر لگا کر خانہ شماری کا آغاز کیا گیا۔ ڈپٹی سپیکر شیرعلی گورچانی کا کہنا تھا مردم شماری کا کریڈٹ سپریم کورٹ کو جاتا ہے ۔ ملک کو ایک لاکھ 68 ہزار بلاکس میں تقسیم کیا گیا ، مردم شماری کا پہلا کالم مرد ، دوسرا خواتین ، تیسرا خواجہ سراؤں کیلئے مختص ہے ، مردم اور خانہ شماری کیلئے ایک لاکھ 18 ہزار اہلکار جبکہ 2 لاکھ فوجی بھی فرائض انجام دے رہے ہیں۔ مختلف شہروں میں شمار کنندگان کو متعلقہ سامان فراہم کر دیا گیا ہے۔ ملک بھر کے منتخب اضلاع میں مردم شماری کے پہلے مرحلے کے دوران ایک لاکھ 18ہزار سے زیادہ شمارکنندگان پہلے 3روز تمام عمارتوں کی گنتی کریں گے اور پھر 18مارچ سے افراد کی گنتی شروع ہو گی، فوج کے 2لاکھ جوان سیکیورٹی کے لئے بھی موجود ہوں گے۔14 اپریل تک جاری رہنے والے مردم شماری کے پہلے مرحلے میں خصوصی فارم اور جدید ترین مشینری استعمال ہوگی تاکہ کوئی بھی مردم شماری کے نتائج پر اعتراض نہ کر سکے۔پہلے مرحلے میں پنجاب سے جو اضلاع شامل ہیں ان میں لاہور، فیصل آباد، سیالکوٹ، ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے نام اہم ہیں جب کہ سندھ میں کراچی کے 6اضلاع کے علاوہ حیدرآباد اور گھوٹکی میں بھی مردم شماری ہوگی۔خیبرپختونخوا کے ضلع پشاور، مردان، نوشہرہ، ڈیرہ اسماعیل خان، ایبٹ آباد اور فاٹا میں اورکزئی ایجنسی جیسے اضلاع میں لوگوں کی گنتی ہوگی۔ بلوچستان سے کوئٹہ، نصیرآباد، ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کے اضلاع مردم شماری کے پہلے مرحلے کا حصہ ہیں۔ اسی طرح آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے 5، 5اضلاع میں مردم شماری پہلے مرحلے میں ہی ہوگی۔مردم شماری کے لیے کراچی کو 14ہزار 552بلاکس میں تقسیم کر کے سیکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، فوج اور رینجرز کے علاوہ 16ہزار پولیس افسران اور اہلکار سیکورٹی فرائض سرانجام دیں گے۔ شہرقائد کو اس مقصد کے لیے 365چارجز، 2 ہزار 412سرکلز اور 14ہزار552بلاکس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک شمار کنندہ 2بلاکس کا ذمہ دار ہوگا، ایک بلاک کی خانہ شماری 15سے17مارچ تک جاری رہے گی اور پھر 18سے27مارچ تک اسی بلاک کی مردم شماری ہوگی جب کہ 28مارچ کا دن بے گھر افراد کی شماری کے لیے مختص کیا گیا ہے۔خانہ اورمردم شماری کے لیے 16ہزار افسران و اہلکار فرائض انجام دیں گے جن میں سے 10ہزار500اہلکار کراچی جبکہ ساڑھے 5ہزار اہلکار اندرون سندھ سے بلائے گئے ہیں۔ شمار کنندہ عملے میں مختلف محکموں کے 1لاکھ 18ہزار افراد شامل ہیں جن میں پاکستان شماریات بیورو سے تعلق رکھنے والا عملہ بھی شریک ہے، جبکہ ان تمام افراد کو مردم شماری کے لیے خصوصی تربیت فراہم کی گئی ہے۔ متعلقہ اضلاع میں 1لاکھ 75ہزار فوجی اہلکاروں کو بھی تعینات کیا گیا ہے، جو شمار کرنے کے ساتھ ساتھ سروے کرنے والے عملے کو سیکیورٹی بھی فراہم کریں گے۔ مردم شماری کا پہلا مرحلہ 15اپریل تک مکمل ہوجائے گا، جبکہ دوسرے مرحلے کا آغاز 25اپریل سے ہوگا جو 25مئی تک جاری رہے گا۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہناہے کہ مردم شماری کے لئے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ لازمی نہیں، پرانے شناختی کارڈ، ب فارم، پاسپورٹ یا شناخت کی کوئی اور دستاویز بھی کافی ہو گی۔ جن کے پاس کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ نہیں وہ بھی مردم شماری میں شامل ہو سکتے ہیں، اگر کسی خاندان کے پاس شناختی کارڈ نہیں تو وہ کوئی اور شناخت بھی ظاہر کر سکتا ہے۔ مردم شماری میں پاک فوج کی خدمات قابل تعریف ہیں اور پاک فوج کی شمولیت سے مردم شماری میں شفافیت کو یقینی بنانے میں مدد ملی ہے۔ مردم شماری سو فی صد شفاف بنائی جائے گی۔ لاہور میں بھی مردم شماری کیلئے مختص سامان عملے کو فراہم کر دیا گیا ہے جس میں مخصوص فارمز اور اسٹیشنری شامل ہیں، عملے کیساتھ فوجی اہلکار 13اور 14مارچ کو اپنے اپنے بلاکس کا سروے کریں گے ،جبکہ باقاعدہ کام کا آغاز 15مارچ کو ہوگا۔ چھٹی مردم شماری کیلئے صوبائی دارلحکومت کی پانچوں تحصیلوں شالیمار،کینٹ،سٹی ، رائیونڈ اور ماڈل ٹاؤن کے علاوہ لاہور کنٹونمنٹ بورڈ اور والٹن کنٹونمنٹ بورڈ میں پاک فوج کے 26کیمپ قائم کر دیئے گئے ،عملہ کی آسانی و سہولت کیلئے 325ہائی ایس وین ،25ڈبل کیبن ڈالے اور 60موٹرسائیکلیں بھی مہیا کر نے سمیت انتظامی شیڈول جاری کر دیا گیا ہے ، مردم شماری کیلئے کراچی کو14ہزار 552بلاکس میں تقسیم اورسکیورٹی انتظامات کوحتمی شکل دیدی گئی ہے، فوج اور رینجرز کے علاوہ16ہزار پولیس افسرو اہلکار سکیورٹی فرائض سرانجام دیں گے۔ شہرقائد کو اس مقصد کیلئے 365 چارجز، 2412سرکلز اور 14ہزار552بلاکس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک شمارکنندہ 2 بلاکس کا ذمہ دار ہوگا، ایک بلاک کی خانہ شماری 15 سے17مارچ تک جاری رہے گی اور پھر 18سے27مارچ تک اسی بلاک کی مردم شماری ہوگی جبکہ 28مارچ کا دن بے گھر افراد کی شماری کیلئے مختص کیا گیا ہے۔ خانہ ومردم شماری کیلئے 16ہزار افسران و اہلکار فرائض انجام دیں گے جن میں سے 10ہزار 500اہلکار کراچی جبکہ ساڑھے 5ہزار اہلکار اندرون سندھ سے بلائے گئے ہیں۔ مردم شماری کا مقصد ان لوگوں کو گننا ہے جو ملک کے وسائل استعمال کر رہے ہیں۔ مردم شماری میں غیر ملکیوں ، بے گھر افراد سمیت ہر اس شخص کو گنا جائیگا جو 18 مارچ کو پاکستان میں زندہ ہو گا۔ ان لوگوں کی گنتی کیلئے جانے والا سول نمائندہ گھر کے تمام افراد کا مکمل بائیو ڈیٹا لے گا جبکہ فوجی نمائندے کے پاس اپنا الگ فارم ہوگا جس میں وہ گھر میں موجود افراد کی صرف تعداد درج کرے گا۔بیرون ملک جانیوالوں کی کل تعداد لکھی جائے گی جبکہ گھر کے باقی افراد کی مکمل معلومات لی جائیں گی۔ دن میں کام کرنے کے بعد شام کو یہ دونوں نمائندے اپنے فارموں میں موجود ڈیٹا ملائیں گے اور اگر کہیں اختلاف ہوا تو یہ دوبارہ اس گھر میں جا کر اس کی تصدیق کریں گے۔لاہور میں مردم شماری میں سرکار ی عملہ کیساتھ پاک فوج کے قائم کردہ 26کیمپوں میں تحصیل سٹی میں اسلامیہ ہائی سکول بھاٹی گیٹ ،سی ڈی جی ہائی سکول قلعہ لچھمن سنگھ ،اصلاح معاشرہ سکول شاد باغ،ڈگری کالج راوی روڈ شاہدرہ ،بوائز سکول شاہدرہ،سنٹرل ماڈل سکول لویئر مال ،سنٹرل ماڈل سکول سمن آباد ،گرلز ہائی سکول جی بلاک گلشن راوی،ایل ڈی اے سکول سبزازار،کالج آف کامرس سبزازار،ایل ڈی اے سکول جوہر ٹاؤن،بوائے سکول ٹھوکر نیاز بیگ میں قائم کئے گئے ہیں جن میں عملہ کیلئے 93ہائی ایس وین ،10ڈبل کیبن اور موٹر سائیکلیں مہیا کی گئی ہیں ،تحصیل ماڈل ٹاؤن میں بوائے کالج گلبرگ،اے پی ایس سکول ماڈل ٹاؤن،بوائز ڈگری کالج کاہنہ اور گجومتہ میں کیمپ قائم کئے گئے ہیں جہاں عملہ کو 55ہائی ایس وین ،4ڈبل کیبن ڈالے میسر ہونگے ،تحصیل شالیمار میں حاجی کیمپ قلعہ گجر سنگھ ،ٹیوٹا کالج مغلپورہ اور ہائر سکول جلو میں کیمپ قائم کرنے کے علاوہ 80ہائی ایس وین 4ڈبل کیبن ڈالہ 12موٹر سائیکلیں مہیا کی گئی ہیں ، تحصیل رائیونڈ میں کاٹن ریسرچ سنٹر رائیونڈ اور بوائے سکول مراکہ میں آرمی کے 2کیمپ قائم کئے گئے ہیں جن میں 20ہائی ایس وین اور 2ڈبل کیبن ڈالوں کی سہولیات میسر کی گئی ہے ،لاہور کنٹونمنٹ بورڈ میں این ایل آئی رجمنٹ شامی روڈ میں آرمی کا کیمپ قائم کیا گیا ہے جس میں 11ہائی ایس وین اور 1ڈبل کیبن ڈالہ مہیا کیا گیا ہے جبکہ والٹن کنٹونمنٹ بورڈ میں اے کے رجمنٹ نزد سی ایس ڈی آر اے بازار میں آرمی کیمپ قائم کیا گیا جس میں 10ہائی ایس وین اور 1ڈبل کیبن ڈالہ مہیا کیا گیا ہے تاکہ عملہ مردم شماری کو دوران ڈیوٹی کسی قسم کی دقت کا سامنا نہ ہو۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Noor us Sabah Hashmi
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Mar, 2017 Views: 276

Comments

آپ کی رائے