ایک چھوٹا سا کیڑا لیکن کردار کی عظیم مثال

(Dr Zahoor Ahmed Danish, Karachi)

کائنات عالم پر غور کریں تو تدبر و تفکر کرنے پر بہت سے راز ہم پر افشاں ہوتے ہیں کہ عقل حیران و خیرہ رہ جاتی ہے ۔اور زبان حال سے ایک ہی جملہ جاری ہوجاتاہے ۔سبحان تیری قدرت ،سبحان تیری قدرت ۔

میرا معلوم ہے کہ میں سفر و حضر میں چیزوں پر غور کرتاہوں ۔ایک تو یہ میراشوق ہے دوسرا یہ مزاج میرے شعبے کا تقاضا بھی ہے ۔میں ہواؤں کے دوش پراُڑنے والے پرندوں ،زمین پر رینگتے حشرات پر بھی غورکرتاہوں ۔مقصد صرف و صرف میں اپنے خالق و مالک کے زیادہ سے زیادہ قریب ہوجاؤں ۔کائنات ِ عالم کے رازوں کو جان سکوں ۔خیر بات طویل ہوگئی ۔

آپ نے مکڑی تو دیکھی ہوگی ۔کتنی چھوٹی سے مخلوق ہے ۔

قارئین!یہ چھوٹی سی مکڑی self motivation اور positive thinking کا شاہکار ہے ۔اور ان اوصاف ہی کی بدولت اﷲ عزوجل نے اس مکڑی کا ذکر قرآن مجید فرمایا۔نہ صرف یہ بلکہ قرآن مجید کی ایک سورۃ کا نام بھی عنکبوت یعنی مکڑی کے نام سے رکھاگیا۔ہے نا مزے کی بات ۔آئیے میں آپ کو بتاتاہوں کہ اتنی چھوٹی سے مکڑی کو انتا مقام ملاکیسے ۔

کفار نے بتوں کو معبود بنا کر ان کی امداد و اعانت اور نصرت و نفع رسانی پر جو اعتماد اور بھروسا رکھا ہے، اﷲ تعالیٰ نے کفار کی اس حماقت مـآبی کے اظہار اور ان کی خود فریبیوں کا پردہ چاک کرنے کے لئے ایک مثال بیان فرمائی ہے جو بہت زیادہ عبرت خیز اور اعلیٰ درجے کی نصیحت آموز ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ:
مَثَلُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَوْلِیَآء َ کَمَثَلِ الْعَنْکَبُوْتِ اِتَّخَذَتْ بَیْتًا وَ اِنَّ اَوْہَنَ الْبُیُوْتِ لَبَیْتُ الْعَنْکَبُوْتِ لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ ()(پ۲۰،العنکبوت،آیت:۴۲)
ترجمہ کنزالایمان:۔ان کی مثال جنہوں نے اﷲ کے سوا اور مالک بنالیے ہیں مکڑی کی طرح ہے اس نے جالے کا گھر بنایا اور بیشک سب گھروں میں کمزور گھر مکڑی کا گھر کیا اچھا ہوتااگر جانتے۔

مکڑی:۔مکڑی ایک عجیب الخلقت جانور ہے اس کے آٹھ پاؤں اورچھ آنکھیں ہوتی ہیں یہ بہت ہی قناعت پسند جانور ہے۔ مگر خدا کی شان کہ سب سے حریص جانور یعنی مکھی اور مچھر اس کی غذا ہیں۔ مکڑی کئی کئی دنوں تک بھوکی پیاسی بیٹھی رہتی ہے مگر اپنے جالے سے نکل کر غذا تلاش نہیں کرتی۔ جب جالے کے اندر کوئی مکھی یا مچھر پھنس جاتا ہے تو یہ اس کو کھا لیتی ہے ورنہ صبر و قناعت کر کے پڑی رہتی ہے۔
مکڑی کے فضائل میں یہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ ہجرت کے وقت جب رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم غارِ ثور میں تشریف فرما تھے تو مکڑی نے غار کے منہ پر جالا تن دیا تھا اور کبوتری نے انڈے دے دیئے تھے۔ جس کو دیکھ کر کفار واپس چلے گئے کہ اگر غار میں کوئی شخص گیا ہوتا تو مکڑی کا جالا اور انڈا ٹوٹ گیا ہوتا۔
(عجائب القران مع غرائب القران) (تفسیر صاوی،ج۴، ص۱۵۶۴ ، العنکبوت۴۱)

قارئین :میری کوشش رہتی ہے کہ آپ کے لیے پرمغز اور مفید معلومات پیش کروں ۔قلم و قرطاس سے تعلق کا یہ کفارہ بھی ہے اور آپ سے میرے قریبی و قلبی رشتے کا تقاضا بھی ۔اپنی رائے سے ضرور نوازئیے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 355 Print Article Print
About the Author: DR ZAHOOR AHMED DANISH

Read More Articles by DR ZAHOOR AHMED DANISH: 217 Articles with 207900 views »
i am scholar.serve the humainbeing... View More

Reviews & Comments

Language: