جسٹس شوکت عزیز صدیقی اور عشق رسولﷺ

(Mian Muhammad Ashraf Asmi, Lahore)

جن کے قلوب میں حکمرانی کا نشہ ہے۔اُنھیں عشق رسولﷺ کا کیا پتہ ہے۔جن کی منزل یہ گدھ جیسی دُنیااُنھیں آقا کریمﷺ کے مقام کا کیا شعور ہے۔ عشق رسولﷺ ایمان ہے۔ دین کی بُنیاد ہے۔ ربِ کائنات کی سُنت ہے۔ صحابہ اکرامؓ کا یقین ہے اولیاء اکرام کا بد مذہبوں کے دلوں کو مسخر کرنے کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ عشق رسولﷺ اطاعت رب کائنات کا دستور ہے۔ عشق رسولﷺ نظام حیات کا امام ہے۔ نبی پاکﷺ کی محبت کے بغیر رب کی خوشنودی حاصل کرنے والے تو تمام دیگر مذاہب ہیں جو رب کو ایک مانتے ہیں۔ لیکن اُمت ِ نبی پاکﷺ کا ایمان عشق رسولﷺ سے ہی تکمیل پاتا ہے۔ عشق رسولﷺ ہی ہماری نماز کا امام۔ عشق رسول ﷺ ہی اویس قرنیؓ کا مشن۔ عشق رسول ﷺ ہی غازی علم دین شہیدؒ اور ممتاز قادری شہیدؒ کا ایمان۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے جس انداز میں سوشل میڈیا پر شان رسالت مین ہونے والی گستاخیوں کو نوٹس لیا اور اِس کیس کی سماعت کے دوران جس طرح اُن کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوئے اِس سے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ آقا کریمﷺ کے غلامان کا غیرت ایمانی کا جذبہ قایم ہے اور یہ جذبہ اُس وقت تک قایم رہے گا جب تک روئے زمین پر ایک بھی مسلمان موجود ہے۔ حضرت اقبالؒ نے فرمایا تھا کہ ہر مسلمان کے اندر روح محمدﷺ ہے۔ تو جناب شوکت عزیز صدیقی نے سچ ثابت کر دیکھایا کہ مسلمان کے اندر روح محمد کا پاس کیسے رکھا جاتا ہے۔ نبی پاکﷺکی عزت و ناموس کی حفاظت ہر مسلمان کا فرض ہے اور اِس حوالے سے کوئی چوں کی چنانچہ نہ برداشت کی جاسکتی ہے اور نہ ہی اِس کرنے کی کسی کو اجازت ہے۔انسانی تخیل کی پرواز جتنا سفر کر سکتی ہے اور کائنات کے وجود سے آنے سے لے کر زمانہ حال تک کی تاریخ کے ہر گوشے پر بھی نظر ڈال لے پھر بھی ہی اُس کے ذہن میں ایک ہی بات سما سکتی ہے اور یہ بات اٹل حقیقت ہے کہ دُنیا میں جتنے بھی رہنماء انسانی معاشرت کی رہنمائی کے لیے آئے وہ خالق کائنات کے کرم سے انسانوں کو ہدایت دیتے رہے۔ ان تمام انسانوں میں سے افضل البشر ہستی صرف اور صرف نبی پاکﷺ کی ہے۔ جو انسانیت کی رہنمائی کے لیے اﷲ پاک نے خاص طور پر مبعوث فرمائی۔ اِس عظیم ہستی کی توقیر نے ہی انسانیت کو عزت و احترام بخشا ۔ خالق نے جتنی بھی الہامی کتابیں نازل فرمائیں اُن میں سے سب سے افضل کلام انسانیت کے لیے جو نازل فرمایا گیا وہ بھی دُنیاکی افضل ترین ہستی جناب محمد رسول اﷲ ﷺ پر نازل ہوا ۔ اﷲ پاک نے نبی پاکﷺ کو اُس وقت نبوت پر سرفراز فرما دیا جب ابھی آدم کا ظہور بھی نہ ہوا تھا۔ گویا نبی پاک ﷺ وجہ تخلیق کائنات ہیں۔ آپﷺ کی عظمت در حقیقت اﷲ پاک کی عظمت ہے اور آپﷺ کی عظمت کا ادراک درحقیقت انسانیت کی عظمتوں کا اساس ہے۔دُنیا بھر میں امن کے دُشمن ادیان کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرکے دُنیا میں فساد برپا کیے ہوئے ہیں۔ ساری دُنیا جانتی ہے کہ مسلمانوں نے اسلام کو بزور شمشیر نہیں پھیلایا بلکہ نبی پاکﷺ کی عظمت کو دلوں میں راسخ کیا۔ جدید دُنیا میں جہاں دُنیا کو ایک گلوبل ویلج میں تبدیل کر دیا گیا وہاں اظہار رائے کی آزادی کے نام پر بھی بہت سے فتنے سر اُٹھا رہے ہیں۔ نبی پاکﷺ کی ختم نبوت کے حوالے سے آپﷺ کی عزت و ناموس کے حوالے سے یورپی ممالک اور امریکہ میں رسالت مابﷺ کی شان اقدس میں گستاخانہ اندازاختیار کیا جا رہا ہے۔سو شل میڈیا اِس حوالے سے فساد کی جڑ بنتا جارہا ہے۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ جس نبی پاکﷺ کی شان اقدس اور عزت و ناموس کی خالقِ کائنات قسمیں کھاتا ہے ایسی ہستی کے حوالے نازیبا الفاط استعمال کیے جائیں۔ جبکہ مسلمانوں کا تو عقیدہ ہی نبی پاکﷺ کی ذات اقدس سے محبت سے شروع ہوتا ہے اور ایمانی جذبے کی تکمیل کامنبع بھی آپﷺ کی ذات پاک ہے۔ مسلمانوں کا ایمان ہی اِس ارشاد پاک پر ہے جو آقا کریم ﷺ کاہے کہ تم میں سے کوئی شخص اُس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنی اولاد ، جان مال سے بڑھ کر مجھ محمدﷺ سے محبت نہ کرئے۔ جب ایمان کی کسوٹی ہی عشق رسول ﷺ ہے تو پھر دُنیا اِدھر سے اُدھر ہو جائے۔ سوشل میڈیا کی اربوں کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری مسلمانوں کی جوتی کی نوک پر ۔ نام نہاد سوشل میڈیا کی افادیت کا ستیا ناس ہوجائے۔ گویا خالص انداز ِ توحید کا مطلب ہی یہ ہے کہ اﷲ اور اُس کے محبوب نبی ﷺ کی اطاعت کی جائے۔ اِس لیے ادب احترام کا دامن کبھی بھی چھوڑا نہ جائے۔کیونکہ جہاں جبریل جیسے قرب الہی رکھنے والے فرشتے کو بھی ااجازت پیش ہونے کی ہمت نہیں جہاں عالم یہ ہو کہ نبی پاکﷺ اُس وقت بھی نبی تھے جب آدم ابھی آب وگل میں تھے۔ جہاں اﷲ پاک خود نبی پاکﷺ کے مقام کے تحفظ کی قسم کھاتا ہو۔ جہاں ابوبکرؓکی لیے صرف خدا کا رسولﷺ ہی سب کچھ ہو۔ جہاں عمر فاروقؓ کی عدالت کافیصلہ صرف اِس بات پر ہو کہ نبیﷺ کا فرمان حتمی ہے اور عمر فاروقؓ نبیﷺ کے فرمان میں تاولیں پیش کرنے والے کی گردن اُڑانے کے بعد کہیں کہ اگر تمھیں نبی پاکﷺ کا فیصلہ پسند نہیں تو پھر میرا فیصلہ تو یہ ہے۔ جہاں عثمان غنیؓ دو انوار کے حامل ہوں جہاں حیدر کرارؓؓ کی تربیت نبیﷺ نے خود فرمائی ہوئی جہاں امام عالیٰ مقام حسن و حسین کو اپنے کاندھوں پر جھولے دئیے گئے ہوں ایسی ہستی کے حوالے یہ گمان کرنا کہ اُس کی حثیت عمومیت کی حامل ہے یا وہ عام انسانوں جیسے ہیں یا اُن کا حلقہِ اثر صرف عرب کی سرزمین ہے۔جو نبی پاکﷺ کی شان کو کم کرکے اﷲ کی شان بڑھانے کے لیے اپنی توانائیاں صرف کر رہے ہوں تو ایسے لوگوں کے لیے بہترین راستہ یہ ہی ہے کہ وہ نبی ﷺ کا اُمتی بننے کی بجائے یہودی اور عیسائی بن جائیں کیونکہ اُن کے اور ہمارئے درمیاں فرق صرف مصطفے کریمﷺ کی نبوت کا ہے ورنہ یہود نصاریٰ بھی اﷲ کو ایک مانتے ہیں ۔ اِس لیے ایسے لوگوں کو اپنے ایمان کی خیر منانی چاہیے ۔ جب اﷲ پاک خود فرماتا ہے کہ ائے میرئے محبوب ﷺاگر میں تجھے پیدا نہ کرتا تو زمین وآسمان پیدا نہ کرتا بلکہ اپنے رب ہونے کا اظہار نہ کرتا۔ تو پھر چوں کہ چنانچہ کی گردانیں پڑھنے کی کوئی حثیت نہیں ہے۔اﷲ پاک نبی پاک ﷺ ہمارئے ایمان کی بنیاد ہیں۔ قران کو ماننے کی رٹ لگانے والے صاحب قران نبی ﷺ کی عزت و توقیر کیے بغیر کس طرح قران پر من وعن ایمان رکھنے کی بات کرتے ہیں۔ نبی پاکﷺ پر چوبیس سال تک قران نازل ہوا۔ جس بات کو نبی پاکﷺ کی زبان مبارک نے فرمادیا کہ میرئے صحابہ قران میں اﷲ پا ک نے یہ فرمایا ہے تو صحابہ اکرامؓ نے اُسے قران سمجھ کر تحریر کر لیا اور جب نبی پاکﷺ نے فرمادیا کہ میرئے صحابہ اکرامؓ یہ بات جو میں کہہ رہا ہوں یہ حدیث ہے تو اُسے صحابہ اکرام ؓنے حدیث کا درجہ دئے دیا۔ جب تعین ہی نبی پاکﷺ نے کرنا ہے کہ یہ قران ہے اور یہ بات قران نہیں ہے تو قران سے زیادہ فضیلت تو صاحب قران نبی پاکﷺ کی ہے ۔ جن پر قران نازل ہوا۔ جن کیوجہ سے خالص توحید سے آشنائی ہوئی ۔ جن کی وجہ سے کائنات کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ وجہ صرف یہ ہی ہے کہ جب نبی پاکﷺ کا بولنا چلنا پھرنا ایک ایک عمل رب کے حکم سے ہے تو پھر جو کچھ بھی نبی پاکﷺ کاعمل ہے وہ اﷲ کا عمل ہے اور جو بھی محبت اور تکریم نبی پاک ﷺکے لیے ہے وہ درحقیت اﷲ پاک سے محبت اور تکریم ہے۔اِس لیے نبی پاکﷺ کے بغیر نہ تو اﷲ پاک کو راضی کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی ہم مسلمان ہو سکتے ہیں کیونکہ اﷲ کو ماننے والے تو یہودنصاریٰ بھی ہیں۔ جن کے متعلق اﷲ پاک کا فرمان ہے کہ وہ کبھی کسی مومن کے دوست نہیں ہوسکتے ۔ نام نہاد آزادی اظہار کے علمبرداروں کو شرم نہیں اور اﷲ کے محبوب ﷺ کی ذات اقدس کے حوالے سے گستاخی مرتکب ہو تے ہیں ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MIAN ASHRAF ASMI ADVOCTE

Read More Articles by MIAN ASHRAF ASMI ADVOCTE: 445 Articles with 221275 views »
MIAN MUHAMMAD ASHRAF ASMI
ADVOCATE HIGH COURT
Suit No.1, Shah Chiragh Chamber, Aiwan–e-Auqaf, Lahore
Ph: 92-42-37355171, Cell: 03224482940
E.Mail:
.. View More
18 Mar, 2017 Views: 428

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ