کرپٹ ترین بھارت کی آبی جنگ

(Syed Asif Jah, )

عالمی جریدے فوربز نے ایشیا ء کے کرپٹ ترین ممالک پر مبنی فہرست مرتب کر لی، رپورٹ کے مطابق بھارت کا ایشیاء کے کرپٹ ترین ممالک سرفہرست ہے، جہاں رشوت کی شرح 69 فیصد ہے۔فوربز کی رپورٹ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے سروے کے نتائج پر20 ہزار افراد کی رائے پر مرتب کی گئی ہے۔سروے کے مطابق بھارت میں تعلیم، صحت، شناخت، پولیس اور یوٹیلیٹی خدمات حاصل کرنے کیلئے ر شوت دینا پڑتی ہے۔رپورٹ میں ویت نام کو ایشیاء کا دوسرا کرپٹ ترین ملک قرار دیا گیاہے۔ ویتنام میں رشوت کی شرح 65 فیصد ہے۔رپورٹ کے مطابق تھائی لینڈ، ایشیاء کا تیسرا کرپٹ ترین ملک ہے، جہاں رشوت کی شرح 41 فیصد رہی۔بھارت ایک طرف کرپٹ ترین ملک ہے تو دوسری جانب پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔پاکستان کے احتجاج اور بار بار انتباہ کے باوجود بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں جاری 15 ارب ڈالر کے ڈیمز کی تعمیر کا کام تیز کردیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت دریائے سندھ، چناب اور نیلم، جہلم پر مختلف آبی ذخائر اور ڈیمز کی تعمیر عرصے سے جاری رکھے ہوئے ہے جن پرحالیہ دنوں میں کام تیز کردیا گیا ہے۔ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں کشن گنگا ڈیم اور دیگر آبی ذخائر کی غیر قانونی تعمیر پر بھارت سے مسلسل احتجاج کرتا آرہا ہے۔ یہ معاملہ عالمی بنک کے سامنے بھی جاچکا ہے اور چند روز بعد اسلام آباد میں ہونے والے سندھ طاس کمشن کے اجلاس میں بھی زیر بحث آئے گا۔ بھارت نے کمشن کے اجلاس میں شرکت کا عندیہ دیا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے چند ماہ قبل مقبوضہ کشمیر میں جاری تشدد کا مورد الزام پاکستان کو ٹھہراتے ہوئے پاکستان آنے والے دریاؤں کا پانی روکنے کی دھمکی دی تھی۔ مقبوضہ کشمیر میں ڈیمز کی تعمیر کا کام تیز کئے جانے کی رپورٹ پر پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے بتایا کہ یہ معاملہ تکنیکی نوعیت کا ہے اور وہ وزارت پانی و بجلی سے اس پر رائے لیں گے۔ بھارت نے اس ماہ کے آخر میں سندھ طاس واٹر کمشن کے اجلاس میں شرکت کی حامی بھری ہے۔ بھارت کے وزارت آبی وسائل اور سنٹرل الیکٹرسٹی اتھارٹی کے دو عہدیداروں نے بتایا کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران مقبوضہ کشمیر میں 6 مجوزہ ہائیڈرو پروجیکٹس یا تو زیست پذیری کی جانچ میں کلیئر ہوچکے ہیں یا پھر انہیں ماحولیات اور جنگلات کے ماہرین کی جانب سے منظوری دی جاچکی ہے۔ دریائے سندھ اور دریائے چناب پر بننے والے ان چھ ہائیڈرو پروجیکٹس سے جموں و کشمیر میں بجلی کی پیداوار موجودہ 3 ہزار میگاواٹ کی سطح سے تین گنا تک بڑھ جائے گی۔ بھارت نے گزشتہ 50 برس میں مشکل سے ہائیڈرو پاور کی استعداد میں تھوڑا ہی اضافہ کیا ہے اور اب تین ماہ کے عرصے میں چھ سات منصوبوں کی منظوری دے دی گئی ۔ حالیہ مہینوں کے دوران جن پراجیکٹس کی تکنیکی منظوریاں دی گئیں، ان میں سوالکوٹ، کوار، پاکل دل، برسار اور کیرتھائی ون اور ٹو شامل ہیں۔ تاہم ساؤتھ ایشیا نیٹ ورک آن ڈیمز، ریورز اینڈ پیپل کے کوآرڈی نیٹر ہیمانشو ٹھکر کا کہنا ہے کہ بعض پروجیکٹس کو عوامی مشاورت اور ان کے اثرات کا جائزہ لئے بغیر کلیئر کیا گیا۔اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے جنیوا میں ہونے والے 34 ویں اجلاس میں پاکستان نے بھارتی مداخلت کا معاملہ اٹھاتے ہوئے بھارت کو کرارا جواب دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو پاکستان میں بھارتی مداخلت کے ثبوت دیئے گئے ہیں اور مزید ثبوت بھی دیئے جائیں گے، بھارتی قومی سلامتی مشیر کا بیان اور کلبھوشن یادیو کی گرفتاری بھارتی مداخلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پاکستانی مندوب کا کہنا تھا بھارت کبھی پاکستان پر جاسوس کبوتر بھیجنے کے الزامات لگاتا ہے اور کبھی پاکستان پر دراندازی کے الزام لگاتا ہے تاہم پاکستان کے پاس ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے۔ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری ہو یا بھارتی قومی سلامتی مشیر کے بیانات یہ سب پاکستان کے موقف کی تائید کرتے ہیں۔ پاکستان اس سے قبل بھی بھارتی مداخلت کے ثبوت اقوام متحدہ کو دے چکا ہے اور آئندہ مزید ثبوت بھی فراہم کیے جائیں گے۔ بھارتی مداخلت عالمی قوانین کے منافی ہے۔سمجھوتہ ایکسپریس دہشت گردی میں اسیم آنند کا بیان اہم ہے۔ واقعہ میں کرنل پروہت کی سہولت کاری کو بھارت مسترد نہیں کر سکتا۔بھارت میں مغربی اترپردیش کے بلند شہر میں ہندوانتہاپسندوں کی جانب سے بی جے پی کی کامیابی کا جشن مناتے ہوئے ایک مسجد پر اپنی پارٹی کا بھگواجھنڈ ا لہرانے کی کوشش کی گئی ہے جس پر مقامی مسلمانوں میں سخت اشتعال پھیل گیا اور حالات سخت کشیدہ ہو گئے ہیں۔ مسجد پر بی جے پی کا جھنڈا لہرانے کی کوشش بلند شہر کے چچرائی گاؤ ں میں کی گئی ہے ۔ اس واقعہ کے بعد حالات سنگین ہونے پر ریاستی انتظامیہ کی جانب سے مقامی پولیس کی بھاری نفری کو تعینات کر دیا گیا ہے۔مقامی مسلمان محسن احمد کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز رات ساڑھے نو بجے پیشانی پر تلک لگائے ہندو انتہاپسندوں کا ایک جلوس علاقہ سے نکلا جن میں سے کچھ مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو گئے اور پھر چھت پر بی جے پی کا جھنڈا لگانے کی کوشش کرنے لگے جس پر مقامی مسلمانوں نے اس کیخلاف احتجاج کیا تو مسلمانوں اور ہندوؤں میں جھڑپ ہو گئی۔ تقریبا 2 ہزار کی آبادی والے اس گاؤں میں مسلمان اور ہندو ایک جیسی تعدادمیں ہیں۔اس افسوسناک واقعہ کے بعد مسلمانوں نے احتجاج کیا تو پولیس موقع پر پہنچ گئی ۔مقامی مسلمان فرقان علی نے کہا کہ پولیس کے آنے پر وہ نوجوان وہاں سے بھاگ تو گئے ، لیکن اس سے پہلے اگلی مرتبہ تلوار لے کر لوٹنے کی دھمکی بھی دے گئے۔ پی اے سی اور پولیس کی موجودگی سے امن تو ہے لیکن خوف کا ماحول بنا ہوا ہے۔جہانگیر آباد پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او شیام ویر سنگھ کے مطابق معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔پاکستان میں بھارتی مداخلت کی متعدد بارتصدیق ہوچکی ہے۔جولائی 2016 سے لے کراب تک 20 ہزارسے زائد نہتے کشمیریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ پاکستان نے کشمیر میں بچوں، خواتین اوربزرگوں پر پیلٹ گن کے بے دریغ استعمال کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ کھلی بربریت ہے۔ بھارت مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرے اور اپنی بربریت کادنیا کو جواب دے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا سلسلہ جاری ہے‘ 7کشمیری نوجوانوں کو جعلی مقابلے میں شہید کیا گیا ہے‘ حریت قیادت کو گرفتار کیا جارہا ہے اور جمعہ کی نماز پر پابندی لگائی جارہی ہے‘ بی جے پی کی جانب سے انتخابات میں پاکستان خلاف مہم افسوس ناک ہے۔ بھارتی افواج نے آئی ای ڈیز سے مقبوضہ کشمیر میں کئی گھروں کو تباہ کیا‘ مسجد کے امام کو بھی شہید کیا گیا اور بھارتی افواج نے کئی مساجد میں جمعہ کی آذان نہیں ہونے دی۔پاکستان بھارت کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کا حامی ہے اور مسئلہ کشمیر سمیت دیگر مسائل کا حل چاہتا ہے۔ پاکستان نے اس حوالے سے خیر سگالی کے حوالے سے کئی اقدامات کئے لیکن بھارت کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ ا قوام متحدہ کی مذہبی آزادی کے حوالے سے کمشن کی رپورٹ نے بھارت میں مذہبی اقلیتوں کی حقوق کی پامالی اور مظالم پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عالمی برادری کو اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہئے۔ بھارتی انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر مظالم کئے جارہے ہیں۔ بھارت کی جانب سے مذہبی اقلیتوں پر مظالم بھارت کے نام نہاد جمہوری چہرے پر دھبہ ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Asif Jah

Read More Articles by Syed Asif Jah: 2 Articles with 603 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Mar, 2017 Views: 266

Comments

آپ کی رائے