ملک ریاض کے ہاتھوں کراچی کی صفائی ۔ویل ڈن ملک ریاض

(Mian Muhammad Ashraf Asmi, Lahore)

ایسے معاشرئے جہاں معاشی سماجی انصاف کے قاتل خود حکمران ہوں۔ جہاں عوام کے لٹیرئے وہی ہوں جنہوں نے راہبر کا روپ دھار رکھا ہو۔ جن معاشروں میں باغبان ہی راہزن ہوں۔جہاں سماجی اونچ نیچ اتنی زیادہ ہو کہ حکمران اشرافیہ اور عوام کے رہن سہن میں زمین اور آسمان کا فرق ہو۔ایسے معاشروں میں پھر دہشت گردی پروان چڑھتے دیر نہیں لگتی۔ میر جعفر اور میر صادق حسین حقانی کے روپ میں نئے بھیس میں حکمرانوں کے اندر گھسے ہوتے ہیں۔پھر پانامہ زدہ شریف وزیر اعظم ہی مملکت خداد ِ پاکستان کی تقدیر کے رکھوالے بن جاتے ہیں۔ ایسے معاشروں میں پھر امن و امان خواب بن جاتا ہے۔ بنیادی ضروریات کو چھوڑ کر عوام بھی اپنے نام نہاد حکمرانوں کے انداز اپنانے لگ جاتی ہے اور تعیشات زندگی کے لیے حلال و حرام کی تمیز ختم ہو جاتی ہے۔کہاں کا سچ کہاں کا جھوٹ سب کچھ کتابی باتیں دیکھائی دینے لگتی ہیں۔حد تو پھر یہ ہوجاتی ہے کہ حکمران اور عوام اپنے ہی پھیلائے ہوئے ظاہری اور باطنی گندگی کے ڈھیر میں اٹے ہوتے ہیں۔ کراچی کے نومنتخب میئر نے پورے سو دن کا ہدف کوڑا کرکٹ اُٹھانے کے لیے رکھا لیکن چونکہ صوبائی حکومت یہ سمجھتی ہے کہ کراچی کے عوام کوصاف ستھر ا ماحول نہ دیا جائے اور سارا نزلہ نومنتخب میئر صاحب پر گرایا جائے تو اسِ لیے نو منتخب مئیر وسائل کی کمی کا رونا رو رہے ہیں۔ یہ ہی وہ کراچی ہے جہاں جناب نومنتخب مئیر صاحب کی پارٹی بلاشرکت غیرئے گزشتہ تین دہائیوں سے اقتدار پر بھی قابض رہی ہے اور لوگوں کی جان بھی قبض کرتی رہی ہے وہ تو بھلا ہو جناب راحیل شریف صاحب کا کہ اُنھوں نے کراچی میں امن کی خاطر اُس طوطے کی گردن ہی مروڑ دی جس طوطے میں اِن سب کی جان تھی۔ تو صاحبو اب حالت یہ ہے کہ کراچی کی حالت گندگی نے خراب کرکے رکھ دی ہے۔ پاکستان کو سب سے زیادہ ریونیو دینے والا شہر کراچی گندگی کا ڈھیر بنا ہوا ہے۔ کراچی کے شہریوں کو یر غمال بنانے والوں نے کراچی سے سب کچھ چھین لیا تھا حتی کہ اِن نام نہاد خدمت گزاروں اور حق پرستوں کے اپنے ہی انتخابی شہر میں گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ میرئے قائد جناب محمد علی جناحؒ کے شہر کو اِن ظالموں نے لہو لہو کیے رکھا اور اِس میں طرح طرح کے مسائل پیدا کیے۔ رینجر کی موجودگی اور پاک فوج کی اعلی کمان کی خصوصی دلچسپی سے کراچی میں امن قائم ہوا ہے ۔ کراچی میں جہاں جناب عبدالستار ایدھی جیسے عظیم خدائی خدمتگار نے انسانیت کی خدمت کا عظیم باب رقم کیا وہیں جناب ملک ریاض جو ہیں تو بزنس مین اُنھوں نے کراچی کا گند اُٹھانے کا عندیہ دیا ہے اور وہ سب کچھ صرف عوام کی بھلائی کے لیے کر رہے ہیں۔ اﷲ پاک کا شکر ہے کہ اس معاشرئے میں ایسے مخیر حضرات موجود ہیں جو کہ اِس طرح کے کاموں کے لیے خود کو تیار کیے ہوئے ہیں۔اِس طرح جناب ملک ریاض کی جانب سے مفت کھانے کے دستر خوان، ہسپتالوں میں مفت کھانا ،وسائل سے محروم طبقے کی امداد جیسے عظیم پراجیکٹ بڑی کامیابی سے چلائے جارہے ہیں۔ جس طرح کے گھٹن کے ماحول میں ہمارا معاشرئے اِس وقت جن حالات سے نبرد آزما ہے اس حوالے سے کوئی دو آراء نہیں ہیں۔میں آج کچھ سوالات اپنے آپ سے کرنا چاہتا ہوں پہلی بات تو یہ ہے کہ کیا پاکستان بنانے کے مقاصد پر ایک دن بھی عمل پیرا ہو سکا۔اگر ہندووں کی غلامی سے نجات کے بعد وڈیروں سرمایہ داروں کی غلامی میں آنا مقصود تھا تو پھر آگ اور خون کی ہو لی کھیلنے کا المناک کھیل کیوں کھیلا گیا۔ پاکستان کو اﷲ کے نام پر بنانے والے کیا صرف ایک محمد علی جناحؒ کی وفات کے بعد اپنے نظریاتی مقاصد سے کیو ں ہٹ گئے؟۔اگر زمین کا ٹکرا لینا ہی حاصلِ منزل تھا تو پھر اِس زمین کو لینے کے بعدآباد کیوں نہ ہونے دیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ بھارت روس اسرائیل شروع سے ہی ہمارئے ملک کے درپے ہیں تو پھر لاکھوں عصمتوں کو لٹانے والوں، لاکھوں جانیں قربان کرنے والوں کے وارثوں نے اپنی ذمہ داریاں حصول پاکستان کے بعد فراموش کیوں کر دیں۔ جب 1857سے لے کر 1947 تک کہ نوئے سالہ دور میں مسلمانوں نے اتنی سخت جدوجہد اور سخت ترین حالات میں پاکستان کے حصول کی جنگ لڑی تو پھر اُس جنگ کو جیتنے کے بعد ہی شام غر یباں کیوں بپا کر دی گئی اور سانحہ مشرقی پاکستان کا وقوع پذیر ہونا اِس بات کی دلالت ہے کہ پاکستان کے بیٹوں نے دھرتی ماں کی حفاظت کا قرض ادا نہیں کیا۔پاکستان کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے عام آدمی کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔پاکستان کے مسائل کی بڑی وجہ عام آدمی کا معاشرتی ترقی میں اپنا کردار ادا نہ کرنا ہے، جس کی وجہ سے قبضہ گروپوں، رسہ گیروں کو مملکت خداداد ِ پاکستان کا ان داتا بننے کا موقعہ مل گیا۔ہمارئے ملک کی تاریخ کے تانے بانے بھی عجیب نشیب وفراز میں ہچکولے کھاتے نظر آرہے ہیں۔ 1956کا آئین،1962 کا آئین بعد ازاں بھٹو صاحب کا دیا ہوا 1973 کا آئین۔موجودہ آئین بھی ہر فوجی حکمران کے سامنے تر نوالہ ثابت ہوتا رہا ہے اور وہ اِس میں من پسند تبدیلیاں کرتے اور نظریہ ضرورت کو اگلی نسلوں تک پہنچانے کا فریضہ انجام دیتے رہے۔حیرت ہوتی ہے کہ اتنے دانشوروں اور رہنماؤں کے ہوتے ہوئے کس ناقدری والا سلوک پاکستان سے کیا جاتا رہا ہے اور اب بھی ایسی صورتحال ہے۔اِس سرزمین کی حُرمت کی پامالی میں ہمارئے قومی رہنماؤں کی مجرمانہ غفلت کا بڑا بھیانک کردار ہے۔ اقتدار کی غلام گردشوں میں یہ ہی نام نہاد قومی قد آور شخصیات اپنی حرکات و سکنات اور اعمال کی وجہ سے بونے بنتے چلے گئے۔قوم کو اتنا مایوس کیا گیا کہ قوم پاکستان کی تخلیق پر ہی سوال اُٹھانے لگی۔قوم کا مورال انتہائی پست حالت میں لانے کی ذمہ دار قیادتیں اپنے پیٹ کی آگ کو پاکستانی عوام کی دولت کو لوٹ کر بھرتے رہے اور بھر رہے ہیں۔ کہاں رہی ہیں اب تک انسانی آزادیوں کی لیے جنگ لڑنے والی قوتیں، کہاں و ہ مذہبی رہنماء ہیں جن کی ایک کال پر پورا ملک جام ہو سکتا ہے لیکن پستی ہوئی سرمایہ دارنہ نظام کے ہاتھوں عوام کی فلاح کے لیے اُن کے جارحانہ انداز سوئے ہوئے ہیں۔پاکستانی معاشرئے میں جہاں تعلیم کے ساتھ ساتھ کردار کی تربیت کا بھی فقدان ہے یہ سرزمین، کرپٹ حکمرانوں، طالع آزماء آمروں، سرمایہ داروں، وڈیروں جعلی ڈبہ پیروں، اور مذہب کے نام پر لوگوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے والوں پر کھلی ہے وہ جو مرضی کرتے رہیں۔ لیکن عوام کو ان طبقہ جات نے ایسی افیون کھلا دی ہے کہ عوام کے اندر اُٹھنے کی سکت ہی نہیں۔ عوام کے شعور کو قید کر لیا گیا ہے جب بھی عوام کے جذبات میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے اِن طبقہ جات میں سے کوئی نہ کوئی آگے بڑھتا ہے اور عوام کومختلف حیلے بہانوں ڈراتا ہے تاکہ کہیں واقعی یہ عوام بیدار نہ ہوجائیں۔ اس طرح لوٹ کھسوٹ کرنے والوں نے عوام کو ایک ایسے منحوس چکر میں پھانس رکھا ہے کہ جہاں سے عوام کو آزادی نہیں مل رہی ہے۔ عمر ساری تو اندھیرئے میں کٹ نہیں سکتی اُجالوں کے حصول کے لیے عوام کو اپنے آپ کو پہچاننا ہوگا۔اِس مقصد کے لیے نوجوان نسل ہی قیادت کر سکتی ہے۔ نوجوان کسی کے آلہ کار بنے بغیر معاشرئے میں ناانصافیوں کے خلاف اپنا موثر کردا ر ادا کر سکتے ہیں۔حکومت تو اپنے نام نہاد خوشامدیوں کے نرغے میں ہے اور حکومت کوا سب اچھا دیکھانے والے ٹولے نے تو ہر دور میں اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ شریف حکومت کو جو موجودہ طوفان کا سامنا کرنا پڑا جس کے لیے پوری دنیا عمران اور طاہر القادری نے اپنا پورا زور لگایا اگر شریف برادران اب بھی اپنی سیاست کا رُخ عوام کی فلاح کی طرف نہ موڑ سکے تو موجود میڈیا کی آزادی اور عمران اور قادری کی کو ششوں کے سبب آنے والے انتخابات میں دونوں بھائی اپنے سیاست کو دفن اپنے ہاتھوں سے کر دیں گے۔یہ بات میں پورئے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ شریف برادران قوم کی ترقی چاہتے ہیں لیکن وہ پھر بھی ایم این ایم پی ائے کے لیے امیدوار اُس کو ہی نامزد کرتے ہیں جن کا وطیرہ کرپشن، قبضہ ،لوٹ مار ہے اور جو تھانے کچہری کی سیا ست کرتے ہیں اِس میں کوئی شک نہیں کہ چند اچھے لوگ بھی اِس اِس حکومت کا حصہ ہیں۔ اﷲ پاک کا اپنے بندے سے یہ وعدہ ہے کہ اگر وہ راہِ مستقیم کا راہی بن جائے گا تو پھر اﷲ پاک اُسکے ہاتھ بن جاتا ہے جس سے وہ کوئی کام کرتا ہے ، اﷲ پاک اُس کی آنکھ بن جاتا ہے جس سے یہ دیکھتا ہے۔ اِس دنیا اور آخرت میں فلاح کے لیے ضروری ہے کہ بندہِ مومن اپنے آپ کو اپنے رب کے تابع کرلے تو سب کچھ مسخر کیا جاسکتا ہے۔ اگر ہم دنیا داری اور خواہشات کے نہ ختم ہونے والے سلسلے کے مسافر بن جاتے ہیں تو پھر اپنے رب کی بجائے اپنی خواہشات کے غلام بن جاتے ہیں رب کی چاہت بندئے کو ہر شے سے ماورا کر دیتی ہے۔ بہرحال امید کی ایک کرن جو اِ س گئے گزرئے دور میں عبد الستار ایدھی فاونڈیشن کی سورت میں انصار برنی ویلفیر ٹرسٹ کی شکل میں، سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کے نام سے ، المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی کے انداز میں معاشرئے کی خدمت کی جارہی ہے۔اب جناب ملک ریاض نے کراچی کی صفائی کا بیڑا اُٹھایا ہے ویل ڈن ملک ریاض صاحب۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MIAN ASHRAF ASMI ADVOCTE

Read More Articles by MIAN ASHRAF ASMI ADVOCTE: 445 Articles with 225393 views »
MIAN MUHAMMAD ASHRAF ASMI
ADVOCATE HIGH COURT
Suit No.1, Shah Chiragh Chamber, Aiwan–e-Auqaf, Lahore
Ph: 92-42-37355171, Cell: 03224482940
E.Mail:
.. View More
21 Mar, 2017 Views: 294

Comments

آپ کی رائے