نوجوانوں سے مکالمہ

(Abdul Razzaq Choudhri, lahore)

میں اکثر سوچتا ہوں کہ ہمارے نوجوان عام موضوعات پر کس قدر فضول بحث مباحثہ کرتے ہیں اور جو موضوعات بحث کرنے کے ہیں ان کی طرف توجہ ہی نہیں دیتے۔ آرٹ،سائنس اور فلسفہ جن کی تعلیمات نے عظیم انسان تخلیق کیے ان کی طرف توہمارے نوجوان ایک قدم بھی اٹھانا نہیں چاہتے ۔ ہمارے نوجوانوں کو اس بات کی سمجھ ہونی چاہیے کہ جب تک وہ آرٹ،سائنس اور فلسفہ کو اپنی تعلیمات کی بنیاد نہیں بناتے تب تک ان کے ذہن کے کینوس پر نئے خیالات کی برسات کا ہونا ناممکن ہے ۔

یاد رہے نئے نئے خیالات دماغ کا حصہ تبھی بنتے ہیں جب ہم ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کرتے ہیں جو سوال اٹھاتے ہیں اور سوال کا جواب تلاش کرتے ہیں ۔یہی ذہین لوگ ہوتے ہیں فطین ہوتے ہیں قوموں کا سرمایہ ہوتے ہیں ۔کبھی بھی جاہل شخص قوم کا سرمایہ نہیں ہوتا یہ تو قوم پر بوجھ ہوتا ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے یہ بوجھ کم ہونے کی بجائے ہماری قوم پر بڑھ رہا ہے ۔

ہمارے نوجوانوں کو اس بات کا بھی ادراک ہونا چاہیے کی عظیم تر خیالات کی پھوار اور جامع منصوبہ بندی کی مہارت آپ کی ذات کا حصہ تبھی بن سکتی ہے جب آپ کا دماغ زرخیز ہو نے کے علاوہ تخلیقی صلاحیتوں سے بھی بھرپور ہو گا۔تبھی آپ کسی خاص کام کا بیڑہ اپنے کندھوں پر اٹھانے کے قابل ہو سکتے ہیں اور کامیابی کے کسی نئے جزیرے کی سیر کو نکل سکتے ہیں ۔

نوجوانوں کو اس بات کا بھی احساس ہونا چاہیے کہ ان کا کردار ہی قوم کی سمت متعین کرتا ہے ۔ اگر آپ کا کردار بے مثال ہو گا تو قوم کی قدرومنزلت لاجواب ہو گی۔ اگر آپ کا کردار داغدار ہو گا تو قوم بھی پست درجہ ہی شمار کی جائے گی ۔ اس سوچ کو بیدار کرو کہ پوٹینشل کے میدان میں پوری دنیا میں آپ کا کوئی مقابلہ نہیں لیکن سست روی کی وجہ سے آپ اپنے پوٹینشل کو حقیقی معنوں میں استعما ل کرنے سے قاصر ہو ۔
اگر آپ اپنے خواب کو زندہ رکھنے میں کامیاب رہے اور اس پر ڈٹے رہے اور دل کے کسی کونے میں یقین کی رمق موجود ہوئی تو آپ اپنے خواب کو پورا کر جاو گے ۔ ماضی کے تجربات انسان کے حال میں اہم کردار ادا کرتے ہیں جو عقائد آپ کے بچپن میں پختہ ہو گئے وہی جوانی کی عمارت تعمیر کریں گے ۔ اگرچہ ماضی ،حال اور مستقبل سے قطعی جدا ہے مگر یہ ہمارے غموں اور خوشیوں کی بنیاد بن جاتا ہے۔زندگی اپنے طور کچھ بھی نہیں اس کا کوئی معنی نہیں اس کا وہی معنی بن جائے گا جو آپ اس کو دے دو گے ۔تجربات کی روشنی میں غم کشید کر کے اس کوغمگین بنا دو یا ماضی کے حالات و واقعات سے خوشی سینچ کر اس کو مسرت کا نام دے دو یہ سب آپ پر منحصر ہے زندگی تو بے نام ہوتی ہے اس کا نام وہی ہو جائے گا جو آپ اس کو دینا چاہو گے ۔زندگی تو پتنگ کی طرح ہے آپ اس کو اپنی مرضی کا رنگ دے سکتے ہو جتنا اونچا اڑانا چاہو اڑا سکتے ہو ۔ اس کی ڈور آپ کے ہاتھ میں ہے چاہو تو اسے قابو میں رکھ سکتے ہو۔ بس اس پتنگ کو کاٹنے کا اختیار قدرت نے اپنے پاس رکھا ہے ۔

اپنے ماضی کی جانب دیکھو وہ کیا واقعات تھے جنہوں نے آپ کی قوت فیصلہ چھین لی ہے جس نے آپ کو بزدل بنا دیا ہے جس نے آپ کو خود غرض بنا دیا ہے ، جس نے آپ کا اپنی ہی ذات پر اعتماد مجروع کر دیا ہے۔ میں کسی کام کے قابل نہیں سب مجھ سے اچھے ہیں جیسی سوچ آ پ کے دماغ میں بٹھا دی ہے ۔ سوچو، غور کرو ۔ایسا سوچنا آپ کے حال اور مستقبل کی بہتر تعمیر کے لیے ضروری ہے۔

اپنی ترجیحات کا نئے سرے سے جائزہ لو جو آپ کو چاہیے جس کی آپ کو طلب ہے صرف اس پر ہی توجہ مرکوز کرو جو آپ کو پسند نہیں اس جانب سوچنا ہی چھوڑ دو اور اپنی خواہشات کی طرف توجہ مذید بڑھا دو۔لمحہ موجود میں رہ کر مستقبل کے سفر کی تیاری کرو ۔ ماضی کی راکھ اڑانا ختم کر دو ۔ مستقبل پر نظر رکھو اور قدرت کی طرف سے جو مواقع پیدا ہوں گے ان سے بھر پور فائدہ اٹھانے کا عزم کرو۔ صبح اٹھتے ہی سوچو ۔ آپ کیا ہو ؟ آپ کا مقصد کیا ہے ؟ آپ کہاں ہو ؟کہاں جانا چاہتے ہو ؟زندگی سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہو ؟سوال کرو اپنے آپ سے اور جواب تلاش کرو ۔دانشمندی اور دیدہ وری کی نئی دنیا تسخیر کر جاو گے ۔اپنے اندر اک نیا انسان بیدار کرو اور تخلیقات کی نئی راہیں ہموار کر دو ۔ اس بات پہ غور کرو جو کچھ آپ کو قدرت کی طرف سے حسب منشا عطا نہیں کیا گیا ہو سکتا ہے وہ آپ کے لیے بہتر ہی نہ ہو یا ابھی وقت ہی مناسب نہ ہو کہ آپ کو وہ سب دے دیا جائے ۔ممکن ہے جو آپ چاہتے تھے قدرت آپ کو اس سے بھی بہتر کوئی چیز دینا چاہتی ہے ۔ پورے انہماک سے اپنے اندر جھانک کر اس بارے گہرا غورو فکر کرو ۔

اپنے آپ کو کچھ وقت دو ۔ اور پھر اٹھو کاغذ قلم پکڑو اور لکھ ڈالو آپ کیا چاہتے ہو ؟ جو پہاڑ فتح کرنا چاہتے ہو وہ بھی لکھو، جو صحرا عبور کرنا چاہتے وہ بھی لکھو ، جس سمندر میں اترنا چاہتے ہو وہ بھی لکھو ۔ جو جو زندگی سے حاصل کرنا چاہتے ہو لکھ ڈالو۔ سب کچھ ممکن ہے سب ملے گا اگر یقین کی طاقت، جذبات کی روانی اور خود اعتمادی جیسے وصف آپ کے ساتھی رہے ۔بے خوف ہو کر اپنی منزل کی طرف بڑھو ۔ سورج کے چڑھنے اور ڈوبنے کے منظر کو دیکھو یہ منظر انسانی زندگی کی حقیقت کو اجاگر کرتا ہے آپ اس سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہو ۔ایک دفعہ آپ منزل کی طرف بڑھ گئے تو کوئی آپ کو روک نہیں پائے گا کر جاوگے سب کچھ جو سوچ رکھا ہے ۔ذہن میں رکھو زندگی ڈرامہ بھی ہے شاعری بھی ہے خوشی بھی ہے غمی بھی ہے اس کے سکرپٹ کا اختیا ر آپ کے ہاتھ میں ہے جو اسے نام دے دو گے یہ اسی نام سے پکاری جائے گی-

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul Razzaq Choudhri

Read More Articles by Abdul Razzaq Choudhri: 96 Articles with 38329 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Mar, 2017 Views: 307

Comments

آپ کی رائے