کشمیربھارت کے گلے کی ہڈی

(Sami Ullah Malik, )

سابق بھارتی وزیراورکانگرس کے سنیئررہنماء چدم برم نے ایک مرتبہ پھر مودی سرکارکوخبردار کیاہے کہ مقبوضہ کشمیر بھارت کے ہاتھوں سے نکلنے کے قریب پہنچ چکاہے اگربھارتی حکمرانوں نے مقبوضہ کشمیرکے حوالے سے درست اقدام نہ کیے تووہاں صورتحال مزیدابترہوجائے گی۔ بھارت سرکارنے دنیا کودھوکے میں رکھنے کی کوشش کی ہے کہ جنت نظیروادیٔ کشمیرمیں سب معمول کے مطابق ہے،بس چندسرپھرے ہیں جو پاکستان کے کہنے پرریاست میں امن مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں اورانہی سرپھروں کوقابوکرنے کیلئے آٹھ لاکھ فوج وہاں موجودہے ۔اس لگاتارجھوٹ کی کثرت اورتسلسل نے ایک حدتک دنیاکوبھی بھارت کاہمنوابنادیاتھالیکن اب حالات بالکل بدل گئے ہیں۔تحریک آزادیٔ کشمیرمیں اب شامل ہونے والے تعلیم یافتہ اورپڑھے لکھے نوجوانوں نے اس نظریے کی کمرتوڑکررکھ دی ہے کہ ہتھیارصرف وہ اٹھاتے ہیں جوپیسوں کی لالچ میں آتے ہیں بلکہ اس وقت کشمیری یونیورسٹیوں کے طلباء کی طرف سے تحریک کا ہراول دستہ بننے سے نہ صرف بھارت سرکاربلکہ بھارت کے بہت سے پڑھے لکھے شہریوں کوبھی یہ بات سمجھ میں آنے لگی ہے کہ بھارت سرکارایک عرصۂ درازسے کشمیریوں کے ساتھ کیاانسانیت سوزسلوک روارکھے ہوئی ہے۔ چنانچہ اسی بنیادپربھارت میں بھی بہت سے نوجوان اب تحریک آزادیٔ کشمیرکی حمائت کررہے ہیں۔

گزشتہ سال جواہرلعل نہرویونیورسٹی میں افضل گوروکے عدالتی قتل کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں یہی بات کھل کرسامنے آئی ہے اگرچہ بھارت سرکاراورمیڈیانے اس بات کیلئے ایڑی چوٹی کازورلگایاکہ یہ نعرے بازی اورہنگامہ کچھ بیرونی طاقتوں کے اشارے پرہوا،حتیٰ کہ نوجوان طلباء پرجہادی تنظیموں سے تعلق کاالزام بھی لگا،انہیں ڈرانے کیلئے غداری کے مقدمات بھی قائم ہوئے اوران کامیڈیاٹرائل بھی ہوالیکن یہ طلباء شعورکی کھلی آنکھ سے بھارت سرکارکا کشمیریوں کے ساتھ کیساانسانیت سوزسلوک دیکھ رہے ہیں چنانچہ ان کے احتجاج میں دن بدن شدت پیداہوتی چلی جا رہی ہے اورمحض جواہرلعل نہرویونیورسٹی سے شروع ہونے والااحتجاج اب بھارت کی بیس یونیورسٹیوں تک پھیل گیاہے اورملک بھرمیں ان طلباء نے کشمیریوں کیلئے آواز بلندکرکے اظہاریکجہتی کیا ہے۔

ان سب حالات کے بعد ایک عرصۂ درازتک افضل گوروکے عدالتی قتل کے متعلق دبی رہنے والی بحث پھرسے زندہ ہوگئی۔اگرچہ طاقت کے استعمال سے ان نظریات کودبانے کی پوری کوشش ہورہی ہے لیکن بھارت میں تحریک آزادیٔ کشمیرکیلئے حمائت بڑھتی ہی جارہی ہے اورمودی سرکار اس معاملے پر شدید پریشان ہے۔ماضی میں بھی ایسے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں کہ جب بھارت سرکار کی کشمیرپالیسی پرنہ صرف تنقیدکی گئی بلکہ بارہااس بات کابھی برملا اظہارکیاگیاکہ اب بھارت کواب کشمیرچھوڑدیناچاہئے۔٢٠١٠ء میں کشمیرمیں چلنے والی تحریک میں جب تعلیم یافتہ اورامیرگھرانوں کے بچوں نے شمولیت اختیارکی تواس پربھارت بھرسے ان کشمیریوں کے حق میں آوازیں بلندہوئیں، اگرچہ بھارت نے ان آوازوں کوریاستی طاقت سے دبادیالیکن پھربھی یہ آوازیں بیرونی دنیاتک سنی گئیں۔ان آوازوں میں بھارتی معروف قلم کارارون دھتی رائے کی آوازبڑی نمایاں ہے۔وہ اپنی اس رائے پرقائم ہیں کہ بھارتی سرکاراوربھارتی فوج نہتے اور مظلوم کشمیریوں پربے تحاشہ ظلم ڈھارہی ہیں اور کشمیرمیں کالے قوانین انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی ہیں اوراس کے علاوہ ان کایہ بیان بھی بھارت میں کافی متنازعہ رہاکہ دہلی کی عورتوں کے ریپ پرتوبہت شور مچایاجاتاہے لیکن جوکشمیری عورتیں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں ریپ ہوئی ہیں ان کے حق میں آوازکیوں بلندنہیں ہوتی۔ارون دھتی رائے پرہی الزام ہے کہ انہوں نے سیدعلی گیلانی کواپنے ایک سیمینارمیں بلا کران کوکشمیرکے موضوع پر تقریرکرنے کاموقع فراہم کرکے ملک دشمنی کاثبوت دیاہے۔

اس جیسی آوازیں تواگرچہ ماضی میں بھی اٹھتی رہی ہیں لیکن جواہرلعل نہرو یونیورسٹی کے طلباء کی طرف سے سرعام کشمیریوں کی حمائت کرنے پر بہت ہی دبی دبی آوازیں اورخدشات کھل کرسامنے آرہے ہیں۔یہ خدشات عوام میں تو موجودہیں،ساتھ ہی ساتھ خواص بھی اس کاشکارنظرآتے ہیں۔کشمیریوں کے ساتھ بہیمانہ سلوک سے بھارتی سیاستدان بھی متفق نہیںہیں۔ان کی جانب سے اب برملا کشمیریوں کے حق میں آوازبلندکی جارہی ہے۔آندھراپردیش کے ممبر پارلیمنٹ نے اپنی تقریرکے دوران پارلیمنٹ میں کہاکہ متواترمرکزی حکومتوں نے رائے شماری کاوعدہ پورانہ کرکے جموں وکشمیرکے عوام کے ساتھ دھوکہ کیاہے۔وائی آرایس کانگریس پارٹی کے ممبرپارلیمنٹ برائے پارلیمانی حلقہ پتروپتی واراپرساد راویلا کاپلائی نے پارلیمنٹ میں تقریرکرتے ہوئے کہاکہ تاریخ کامطالعہ کریں،ہم نے باربارجموں وکشمیرکے عوام کودھوکہ دیاہے۔جہاں کہیں بھی مسلمانوں کی اکثریت ہے ہمیں اسے دوسری طرف(پاکستان)کودیناہے لیکن ہم نے ایسانہیں کیا۔اس کے بعدہم نے رائے شماری کاوعدہ کیا،وہ بھی پورانہیں کیا۔اس کے علاوہ دیگرممبرپارلیمنٹ نے بھی اس موضوع پر اظہارِ خیال کیا۔

جب بحث بھارت کے میڈیامیں چھڑگئی ہے توایسے موقع پرسابق ہوم منسٹراور سنیئرکانگرس چدم برم نے بھی اس بات کااظہارکردیاکہ افضل گورو کے کیس کودرست اندازمیں نہیں لیا گیااوراس بات کے قوی امکانات ہیں کہ اس کاعدالتی قتل ہواہے۔الغرض اس وقت کشمیریوں سے توجو خطرات ہیں سوہیں اس وقت اپنے ہی گھرمیں ایک خوفناک آگ بھڑک اٹھی ہے۔بھارت سرکارکواپنی عوام اور سیاستدانوں کوجواب دیناپڑرہاہے کہ وہ اتنے عرصے سے کشمیرمیں کیا کر رہے ہیں اورکشمیری بھارت کے اس قدرمعاشی پیکجزکے باوجود بھارت اوراس کی فوج کے اس قدرخلاف کیوں ہیں اور ان کی دن بدن نفرت بڑھنے کی وجہ کیا ہے ؟؟

اگرچہ بھارت میں اس وقت بی جے پی جیسی ہندوانتہاء پسندحکومت ہے اوروہ اپنے ہندوتواایجنڈے کوپوری طرح سے آگے بڑھارہی ہے۔اسی مقصد کیلئے آر ایس ایس کے غنڈوں کونہ صرف مسلح کیاجارہاہے بلکہ ان کی مددسے کشمیریوں کے حق میں اٹھنے والی آوازوں کودبانے کی بھی پوری توقع کی جا رہی ہے لیکن بھارت سرکارکے اس رویے نے نہ صرف کشمیریوں بلکہ بھارت میں بسنے والی دوسری اقلیتوںجن میں سرفہرست مسلمان اوردیگرشامل ہیں، کو بھی خبردارکردیا ہے۔آرایس ایس کے اس کردارسے پیشگی خبردارکرتے ہوئے ان اقلیتوں نے بھارت سرکارکے اس متعصبانہ رویے کے خلاف شکایات بلند کرنا شروع کردی ہیں۔چنانچہ منی پور،ناگالینڈ اوراسی طرح کی دیگرریاستوں میں بھارت مخالف سرگرمیوں میں نہ صرف تیزی آئی ہے بلکہ علیحدگی پسندنکسل باڑی تحریک مزیدمضبوط بن کرابھررہی ہے۔ان ریاستوں کے عوام نے بھی کثیر تعدادمیں احتجاجی مظاہرے کئے ہیںجن میں نہ صرف کشمیریوں کوآزادی دینے کی بات کی گئی ہے بلکہ ان ریاستوں کے عوام نے بھی اپنے دیرینہ مطالبات پورا کرنے کی مانگ ظاہرکی ہے۔اس کے علاوہ دیگر اقلیتیں جیساکہ سکھ برادری، جاٹ اوردلت بھی اپنے حقوق کیلئے کھڑے ہورہے ہیں۔

ایسے حالات میں بھارت سرکارکوکشمیریوں کے ساتھ عرصۂ درازسے کی جانے والی ناانصافیوں کاخمیازہ بھگتناپڑررہا ہے۔ اگربھارت ابتداء میں مسئلہ کشمیرسے دستبردارہو جاتا اور کشمیریوں کوان کاحق دے دیتاتوشائدنوبت یہاں تک نہ پہنچتی لیکن کشمیریوں کی تحریک آزادی میں ہمت اوران کی کامیابیوں نے بھارت کے اندردودرجن سے زائدعلیحدگی کی تحریکوں کومہمیزدی ہے۔اس سے وہ بھی نہ صرف اپنے حقوق مانگ رہے ہیں بلکہ بہت سے باقاعدہ مسلح گروہ اپنی علیحدگی کی جنگ لڑرہے ہیں جس میں آئے دن بھارتی سیکورٹی فورسزکوکافی جانی اورمالی نقصان بھی اٹھاناپڑرہاہے۔ ان حالات میں کشمیر بھارت کے گلے کی ہڈی بن چکاہے ۔اگر بھارت کشمیر سے دستبردارہوتاہے تو اسے منی پور، ناگا لینڈ ، آسام اورخالصتان سے بھی ہاتھ دھونا پڑیں گے جبکہ دوسری صورت میں نہ صرف بھارتی فوج بدنام ہورہی ہے بلکہ دنیابھرمیں جگ ہنسائی ہورہی ہے۔بھارت کی نوجوان نسل کی طرف سے سامنے آنے والے کشمیریوں کیلئے ہمدردی کے جذبات بھارت سرکارکے واسطے ایک نیادردِ سرہیں۔ان حالات میں مودی سرکار کیا رخ اختیارکرتی ہے اورحالات مزیدکس نہج پرآگے بڑھتے ہیں ،یہ تووقت ہی بتائے گا لیکن اشارے یہ بتاتے ہیں کہ بھارت سرکارصرف کشمیریوں کوآزادی نہ دیکرایک بڑی مشکل میں گرفتارہونے والی ہے اوریہ مشکل شائدبھارت کےوجود کونگلنے پربھی قادرہے۔

بھارت میں کشمیریوں کی حمائت میں بھرپورمظاہروں کے نتیجہ میں مودی سرکاربوکھلاہٹ کاشکار ہو گئی اورجواہرلعل نہرویونیورسٹی میں طلباء کے احتجاج کوبھی پاکستان کے کھاتے میں ڈال دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جواہرلعل نہرو یونیورسٹی کے طلباء کے بعداساتذہ بھی کشمیریوں کی حمائت میں نئی دہلی کی سڑکوں پرنکل آئے اورانساانی ہاتھوں کی زنجیربناکربھارتی حکومت کے خلاف احتجاج ریکارڈکروایا۔دریں اثناء بھارتی وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیاکہ جواہرلعل نہرویونیورسٹی میں ہونے والے بھارت مخالف احتجاج کے پیچھے جماعت الدعوة کے سربراہ حافظ سعیدکاہاتھ ہے۔طلباء کااحتجاج قومی خود مختاری کامسئلہ ہے اس لئے ملوث افراد کے خلاف سخت کاروائی کی ہدائت کردی ہے۔ علاوہ ازیں نئی دہلی پولیس نے مظاہروں کوملک دشمن قراردیکر باقاعدہ الرٹ جاری کردیا۔مقبوضہ کشمیرمیں برہان وانی کے خون سے جنم لینے والی حالیہ تحریک کوکچلنے کیلئے بھارتی پیلٹ گنوں کے بہیمانہ استعمال میں تیزی کے باوجودتحریک میں کوئی کمی واقع نہیں ہوسکی۔اس کے برعکس بھارتی مظالم کے خلاف بین الاقوامی سطح پرمسئلہ کشمیرکی زوردارگونج سنائی دینے لگی ہے۔امریکی ایوانوں،اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی،اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن،اوآئی سی کشمیررابطہ گروپ اوراسلامی وزرائے خارجہ کے اجلاسوں میں مسئلہ کشمیرغالب دکھائی دے رہا ہے۔

بھارت کی ایک طالبہ گر مہرکورکاوالدکارگل کی جنگ میں ماراگیا،مہرنامی اس معصوم بچی پربھی مودی سرکارکاقہرنازل ہورہاہے۔اس مظلوم بچی کاکہنا ہے کہ ''میرے باپ کوپاکستان نے نہیں بلکہ جنگ نے ماراہے''۔اس دوران بھارتی فوج میں فاقہ کشی کے ایک اورشکارفوجی تیج بہادرکی ویڈیوبھی منظر عام پرآگئی ہے جس میں اس نے بھارتی فوجیوں کی حالت زاربے نقاب کرنے پربھارت سرکارکے تشددکاذکرکرتے ہوئے پوچھاہے کہ ''سرکار مجھے اتناتوبتادے میرا قصورکیاہے؟"

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 531 Articles with 231663 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Mar, 2017 Views: 303

Comments

آپ کی رائے