ماحولیاتی آلودگی کا شکار بچے

(Dr. Muhammad Javed, Karachi)
عالمی ادارہ صحت کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے ایک اعشاریہ سات ملین بچے ہر سال موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں بچوں کا مستقبل ان کی صحت کے حوالے سے انتہائی خطرے سے دو چار ہے،اس کی وجہ ماحولیاتی آلودگی بتائی گئی ہے۔ اس آلودگی کی وجہ سے ایک اعشاریہ سات ملین بچے ہر سال دنیا بھر میں موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔

بچوں کی ہر چار اموات میں سے ایک یا اس سے زیادہ غیر صحتمندانہ ماحول کی وجہ سے ہوتی ہے۔ہر سال ماحولیاتی خطرات جن کا تعلق اندرون یا بیرون سے ہوتا ہے جن میں فضائی آلودگی،دھوئیں کی وجہ سے آلودگی،مضر صحت پانی،غیر مناسب سیوریج کا نظام یا سیوریج کے نظام کی عدم دستیابی اور حفظان صحت کے نظام کی خرابی کی وجہ ہر سال سے ایک اعشاریہ سات ملین بچے جن کی عمریں پانچ سال سے کم ہوتی ہے لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کی دو مزید نئی رپورٹیں بھی منظر عام پہ آئیں جن میں ایک رپورٹ:Inheriting a Sustainable World: کے مطابق ایک ماہ سے پانچ سال کے بچوں کی موت کی وجہ ہیضہ،نلیریا اور نمونہ ہیں،جن کا تدارک ماحولیاتی خطرات کو کم کر کے کیا جا سکتا ہے۔جیسا کہ صاف پانی کا حصول،پکانے کے لئے صاف ایندھن کی دستیابی،

عالمی ادارہ صحت کی ڈائرکٹر جنرل Dr Margaret Chan, کا کہنا ہے“آلودہ ماحول خاص طور پہ بچوں کے لئے مہلک ثابت ہوتا ہے۔ان کے بڑھتے ہوئے اعضاء، کمزور مدافعانہ نظام اور ان کی چھوٹے جسم اور ہوا کے راستے انہیں گندے پانی آلودہ ہوا سے غیر محفوظ بناتے ہیں،ان خطرات کا آغاز ماں کے پیٹ سے شروع ہوتا ہےاور قبل از وقت پیدائش کے خطرات کو بڑھاتا ہے۔مزید یہ کہ جب اندرون خانہ یا بیرون جب شیر خوار اور سکول جانے سے پہلے کی عمر کے بچے ہوائی آلودگی اور سگریٹ کے دھوائیں سے متاثر ہوتے ہیں تو ان میں نمونیہ کے خطرات بڑھ جاتے ہیں اور سانس کی متعدی بیماری جیسا کہ دمہ وغیرہ کا شکار ہونے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔اس کے علاوہ ہوائی آلودگی میں رہنے کی وجہ سے دل کی بیماریوں، کینسر کا بھی خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ پانچ بڑی وجوہات جن کا تعلق بچوں کی اموات سے ہے ان کا تعلق ماحولیات سے ہے۔

ایک اور رپورٹ:A companion report, Don't pollute my future! The impact of the environment on children's health نے جامع جائزہ پیش کیا ہے جس کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں:
٥٧٠٠٠٠ پانچ لاکھ ستر ہزار بچے جن کی عمریں پانچ سال سے کم ہوتی ہیں ہر سال سانس کی بیماریوں کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں جو کہ فضائی آلودگی اور سگریٹ کے دھوئیں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔
٣٦١٠٠٠ تین لاکھ اکسٹھ ہزار بچے جن کی عمریں پانچ سال سے کم ہوتی ہیں صاف پانی تک عدم رسائی،سینی ٹیشن کے نظام کی خرابی اور حفظان صحت کے اصولوں پہ عمل نہ کرنے کی وجہ سے ہیضہ کا شکار ہوتے ہیں جس کی وجہ ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

٢٧٠٠٠ دو لاکھ ستر ہزار وہ بچے ہیں جو اپنی عمر کے اپتدائی مہینہ میں حفظان صحت کے فقدان، گندے پانی اور فضائی آلودگی کی بدولت اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ بیٹھتے ہیں۔

٢٠٠٠٠٠ دو لاکھ بچے جن کی عمریں پانچ سال سے کم ہوتی ہے ملیریا کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں ان کی زندگی کو بچایا جا سکتا ہے اگر ماحول کی صفائی کی جائے اور مچھروں کا تدارک کیا
جائے۔

٢٠٠٠٠٠ دولاکھ بچے جن کی عمریں پانچ سال سے کم ہوتی ہٰں وہ انجانے میں زخمی ہوتے ہیں مثلا زہر خورانی، گرنا اور پانی میں ڈوبنا وغیرہ۔

اوپر دئیے گئے اعداد وشمار اگرچہ کہ پوری دنیا سے لئے گئے لیکن اس تناظر میں آج ہم اپنے حالات کا جائزہ لے سکتے ہیں،کہ ہم ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے کس قدر احتیاط برت رہے ہیں، فضائی آلودگی کے حوالے سے عالمی روپورٹٰیں ہمارے ملک کے بڑے شہروں کے بارے جاری ہوتی رہتی ہیں کہ کس قدر آ؛ودگی بڑھ رہی ہے،ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق کراچی کی فضا میں اوزون کی تہہ کو سخت نقصان پہنچ رہا ہے، اس کے علاوہ کراچی ہی کی میڈیا رپورٹس موجود ہیں کہ اکثریتی آبادی آلودہ پانی پینے پہ مجبور ہے۔یہ صورتحال پاکستان کے تمام بڑے اور چھوٹے شہروں کی ہے،بڑی بڑی آبادیاں گٹر وں سے آلودہ پانی پیتی ہیں،فضائی آلودگی کا حال یہ ہے کہ نہ ٹریفک کا نظام فعال ہے جو کہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کا تدارک کرے اور نہ ہی فیکٹریوں اور ملوں کے دھوئیں اور دیگر ویسٹ کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے کا کوئی عملی اور فعال نظام موجود ہے،اور مزید یہ کہ سب سے بری حالت سالڈ ویسٹ کے نظام کی ہے یا یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ملک کے کسی بھی حصے میں قابل ستائش سالڈ ویست سسٹم موجود نہیں ہے اس کا نتیجہ یہ ہو رہا ہے کہ ہسپتال سانس،معدے،کینسر، گردے،دل کی بیماریوں کے مریضوں سے اٹے پڑے ہیں۔اور خاص طور پہ بچوں کی اموات ہو رہی ہیں۔

اس کے لئے ضروری ہے کہ حکومتی سطح پہ ہنگامی بنیادوں پہ کام ہونا چاہئے،خاص طور پہ بلدیاتی نظام کو فعال اور منظم کرنے کی ضرورت ہے اور اس نظام سے کرپٹ اور کالی بھیڑوں کو نکالنے کی ضرورت ہے تاکہ بہتر لوگ آگے آئیں اور ایک منظم سینی ٹیشن،پینے کے صاف پانی، سالڈ ویست میجمنٹ، ٹائون پلاننگ کے ذریعے ماحولیاتی آلودگی سے ملک کو پاک کر نے میں کردار ادا کریں اور اس کے علاوہ ہر فرد معاشرہ پہ انفرادی سطح پہ بھی یہ اولین ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بھی ماحول کو صاف کرنے میں اپنا کردار ادا کرے مثلا سگریٹ نوشی، سے اجتناب گلی و محلے میں کھلی جگہوں پہ کوڑا کرکٹ پھیکنے کی عادت کو ختم کرنا،، اپنے گلی اور گھر کی سیوریج کےنظام کو بہتر بنانا، کھلی نالیوں کو بند کرنا اور حفظان صحت کے اصولوں پہ نہ صرف خود عمل کرنا بلکہ خاص طور پہ بچوں کی تربیت کرنا۔اس حوالے سے خاص طور سکولوں اور کالجوں کی سطح پہ تربیت کا نصاب ترتیب دینا نیز پبلک کی آگاہی کے لئے مہمات اور اس سلسلے میں حکومتی اداروں کے شانہ بشانہ اپنا حصہ ڈالیں ،۔یقینااجتماعی کوششوں سے ہی اپنے بچوں کے مستبقل کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr. Muhammad Javed

Read More Articles by Dr. Muhammad Javed: 104 Articles with 70263 views »
I Received my PhD degree in Political Science in 2010 from University of Karachi. Research studies, Research Articles, columns writing on social scien.. View More
30 Mar, 2017 Views: 652

Comments

آپ کی رائے