کراچی سیاسی جنگ و جدل میں ۔۔

(جاوید صدیقی‎, Karachi)

پاکستان کی سیاست میں وقت کے ساتھ ساتھ جہاں گہما گہمی نظر آرہی ہے وہیں کرپٹ، ناسور، جھوٹے اور بد دیانت سیاست دانوں کے خلاف دائرہ کار تنگ سے تنگ ہونے جارہا ہے، کراچی جو پاکستان کا صنعتی حب ہے جسے معاشی و اقتصادی حیثیت حاصل ہے ایک بار پھر بد نظمی کا شدید شکار ہونے جارہا ہے ، کراچی کے حالات کی بات کرنے سے قبل اس کے اسباب کی طرف دیکھا جائے تو ہمیں ایک بڑی فہرست نظر آتی ہے،ملکی جمہوریت کا نظام تمام تر عدم توازن کا شکار ہوچکا ہے ،تمام ادارے سیاسی و زرا کے زیر تابع ہوکر رہ گئے ہیں، اداروں میں عدم تحفظ اور عدم استحکام پایا جاتا ہے، افسران سے لیکر چھوٹے ملازمین کو گویا ٹاکس ملا ہوا ہے کہ عوام سے جس طرح جس قدر ممکن ہوسکے لوٹو، کرپشن کھلے عام کرو، رشوت دھرنے سے کرو!! حیرت و تعجب اب نہیں رہا کہ اینٹی کرپشن خود ہی سب سے زیادہ کرپشن کرنے والا ادارہ بن چکا ہے ، محکمہ تعلیمات سے لیکر تمام تر محکموں کے کرپشن پر اپنی حصہ داری بانٹ لی ہے یہی وجہ ہے کہ گزشتہ آٹھ سالوں کے درمیان ہونے والے تمام کرپشن کے کیسس پر بھاری رشوت طلب کرکے کلین چٹ دیدی گئی ہے، سابقہ ڈائریکٹر وہاب عباسی اور ان کے ماتحتوں کے کیسس کو بھی نرمی کیساتھ دیکھا گیا اور ان کے وہ ماتحت جو ریٹائرڈ ہوچکے ہیں بھاری رشوت کے سبب کلین کردیا گیا ہے ، میری تحقیق میں ایک کیس ایسا بھی ہے جو محکمہ تعلیم سے وابسطہ رہا پوری عمر جعلی ڈگری پر رہا ۔جعلی ڈگری پر ہی نوکری حاصل کی اور اینٹی کرپشن میں دو لاکھ رشوت دیکر اپنے کیس کوختم کروادیا اور اب پیشن حاصل کررہا ہے اس طرح کے کئی کیس کی جانچ پڑتال کرکے مکمل تحقیق کیساتھ لکھ رہا ہوں مگر مجھے حیرت اس بات کی ہے کہ ہمارے ادارے سندھ کے سیاستدانوں کے اس قدر تابع ہیں کہ وہ کرپشن و بدعنوانی کی روک تھام کیلئے کچھ کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں ، جماعت اسلامی، پی ٹی آئی، پی ایس پی نے حالیہ دنوں میں اس بابت اپنے احتجاج کا سلسلہ شروع کردیا ہے اور اب تو پی ایس پی نے کراچی کے مختلف دس علاقوں میں احتجاج کا دائرہ بڑھادیا ہے، ماہرین سیاسیات اور سینئر صحافی حضرات نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں نے کرپشن، لوٹ مار اور بدعنوانی کے خلاف ہونے والے احتجاج وقت کے ساتھ ساتھ پورے ملک میں پھیل سکتے ہیں، ان کے مطابق اگر حکومتی ایوانوں اور ذمہ داروں نے فی الفور اس بابت عوامی مسائل کا تدارک نہ کیا تو ان کی سیاسی موت بھی ہوسکتی ہے، ان کے مطابق یہ ان کی خام خیالی ہے کہ وہ اپنے منفی اقدامات کے با وجود عوامی حلقوں میں پزیرائی حاصل کرلیں گے، مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ گزشتہ صدر آصف علی زرداری کی حکومت اور موجودہ میاں نواز شریف کی نام نہاد جمہوریت نے عوام کو سیاسی لیڈران سے بد دل کرکے رکھ دیا ہے جبکہ اس دورانیہ میں پاک افواج کے کردار کی وجہ سے عوام میں پاک افواج کا مورل بہت زیادہ بلند ہوگیا ہے کیونکہ آپریشن ضرب عضب ہو یا آپریشن رد الفساد عوامی حلقوں کے مطابق پاک افواج نے دہشتگردوں، فتنہ و فسادیوں اور کرپٹ لوگوں کے خلاف کامیاب آپریشن جاری کیا ہوا ہے جس کی وجہ سے ملک بھر میں امن و سکون کا ماحول پیدا ہوا ہے، عوام کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر افواج پاکستان دہشتگردی کے خلاف از خود اقدام نہ کرتی تو آج پاکستان بھر میں بم بلاسٹ،خود کش حملوں میں مزید تیزی جاری رہتی، عوام کا کہنا ہے کہ پاک افواج کو پاکستان کی سلامتی و بقا کیلئے بلا تفریق معاون و سہولت کاروں کے خلاف فی الفور اقدامات کرنے چاہیئے کیونکہ یہی وہ عناصر ہیں جو دہشتگردی، بم بلاسٹ، کرپشن و لوٹ مار کا باعث بنے ہوئے ہیں ، کراچی کی عوام کا کہنا ہے کہ وہ ملک بھر کے تمام صوبوں اور شہروں سے کئی سو گناہ یوٹیلیٹی بلز بلخصوص بجلی میں ٹیکس ادا کرتے چلے آرہے ہیں لیکن سہولت نا ہونے کے برابر اداروں کی جانب سے دی جارہی ہے، کراچی کے عوام نے حکومت سے سوال کیا کہ سندھ اسمبلی میں بیٹھے ہوئے کرپٹ ،رشوت خورنمائندگان کا احتساب کیوں نہیں کیا جاتا ؟؟؟؟ کراچی کے عوام کو اس بات پر بہت زیادہ تعجب ہے کہ چور وزیروں کو با اختیار کردیا گیا ہے ان کے مطابق سندھ اسمبلی کے تمام منتخب نمائندگان جرائم میں ملوث ہیں اور مل جل کر کراچی کو متواتر مصنوعی مسائل میں گھیرا ہوا ہے ، کراچی میں اگر پانی نہیں تو ٹینکر مافیا کے پاس پانی کیونکر ممکن ہے؟؟؟کراچی کے عوام کا صبر لبریز مت ہونے دیں اگر برداشت سے باہر ہوگیا تو پی پی پی حکمران کراچی میں ٹھہر نہیں سکیں گے ، ان کے مطابق اگر یہ نظام نہیں چلاسکتے تو اہل لوگوں کے حوالے کردیں ورنہ نظام ریاست کبھی بھی درست راہ پر نہیں چل سکے گا،اسی لیئے نواز حکومت بھی پی پی پی کے پیدا کیئے گئے کرپٹ دلدل میں دھنسی ہوئی ہے ،ماہرین سیاسیات کے مطابق پاکستان کو اندرونی و بیرونی سطح پر برباد کرنے والے عناصر کرپٹ اور نا اہل لوگ ہیں جب تک پاکستان بھر میں اور بلخصوص صوبہ سندھ میں نا اہلوں کے خاتمہ کیلئے مثبت اقدامات نہیں کیئے جاتے آئے روز شہری مسائل جنم لیتے رہیں گے ،ان کے مطابق پاکستان بنیادی وسائل سے محروم ہوکر رہ گیا ہے جبکہ وسائل کے ڈھیر ہیں مگر حکمراں جماعتوں کے ذہنی میںناپیدگی بسی ہوئی ہے ان کی ناپیدگی اور اقتدار کا نشہ بہت جلد اترنے والا ہے کیونکہ سندھ بھر بلخصوص کراچی کے عوام نے سوچ لیا ہے کہ اب وہ اپنے حقوق کیلئے یکجا ہوکر بھرپور کوششیں کریں گے اور اپنے احتجاج کو اس قدر طاقت بخشیں گے کہ سندھ اسمبلی کی دیواریں ہل کر رہ جائیں گی اور غافل وزرا ہوش کے ناخن لینے پر مجبور ہوجائیں گے۔ سندھ کے گورنر کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے جماعت اپ ایم ایل این کی تعریف سے باہر نکلتے ہی نہیں ان کے نزدیک سب ٹھیک ہے، سب اچھا ہے اور سب اچھا ان کے رہنما نے کیا ہے، انہیں کوئی غرض نہیں کہ صوبہ کس حالت سے دوچار ہے انہیں تو بس اپنے وزیر اعظم میا ں نوازشریف کے قصیدے گانے ہیں، ان کے نزدیک لوگوں کے بنیادی مسائل کا حل کرنا یا شہر بھر میں دہشتگردی کا خاتمہ ممکن بنانا گویا ان کی قطعی ذمہ داری نہیں !! سندھ اور بلخصوص کراچی کے عوام کا کہنا ہے کہ گورنر اور صدر صرف دیوار پرلٹکانےوالی تصویر بن کر رہ گئے ہیں گویا بے جان اشیا کی طرح!! معزز قائرین ! مبصرین ، ماہرین سیاسیات اور سینئر صحافیوں کے مطابق اپریل کے درمیان سے ہی عوامی احتجاج کا مرحلہ تیز ہوتا نظر آرہا ہے اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے احتجاج میں جوش و ولولہ پیدا کرنے کیلئے اپنے اپنے لائحہ عمل کی تیاریوں میں مصروف ہیں ، اب حالات کے کنٹرول کی ذمہ داری صوبہ سندھ میں پی پی پی حکومت کی ہے اگر پی پی پی حکومت نے کوئی بھی غلطی کی تو اس کاخمیادہ برسراقتدار جماعت پی پی پی کو نا تلافی نقصان سے ادا کرنا پڑیگا اب وقت ہی بتائے گا کہ آیا کہ پی پی پی میں سنجیدہ سوچ ابھی باقی ہیں کہ نہیں۔۔۔ !! پاکستان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: جاوید صدیقی‎

Read More Articles by جاوید صدیقی‎: 308 Articles with 157234 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Apr, 2017 Views: 330

Comments

آپ کی رائے