مسلمان تاریخ سے سبق حاصل کریں

(Hur Saqlain, )

مسلمان آج کے دورمیں جس تکلیف ، مصیبت اوردہشت کاشکارہیں شایدہی 1400سالہ تاریخ میں ایسے مصائب میں گرفتارہوئے ہوں۔ ہرقوم تاریخ سے سبق سیکھتی ہے مگرمسلمانوں نے تاریخ سے کبھی سبق نہیں سیکھا۔اسلامی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ مسلمان جب بھی آپس میں بھی دست و گریباں ہوئے تباہی اوربربادی ان کا مقدر بنی۔کاش ہم اس تباہی سے سبق سیکھتے اوراس منفی روایت کو ختم کرتے مگر افسوس آج بھی ہم اسی روش کاشکارہیں۔سقوطِ بغدادکاشورتوتاریخ میں بہت سناہے جب غیر وہاں قتال کے لیے آیا تو اس وقت کے مسلمان آپس میں دست وگریباں تھے۔آج کامسلمان بھی آپس میں دست وگریباں ہے آپس کی اس ناچاقی اورچپقلش نے غیروں کو ہمیں مارنے کابھرپورموقع فراہم کیاہے۔ 1980 کی دہائی میں ایران عراق جنگ دومسلمان ملکوں کے درمیان ہی لڑی گئی کون حق پرتھااورکون باطل پرمگرلاشیں مسلمانوں ہی کی گرتی رہیں زخمی اورمعذورمسلمان ہی ہوئے کون کس کے اشارے پرجنگ کررہاتھامگرمسلمان عورتیں ہی بیوہ ہوئیں دکھ اورمصیبتیں انہیں کے حصے میں آئے ۔عراق نے کویت پرحملہ کرکے ایک مسلمان ملک کوفتح کرنے کاعزم کیااپنے ہی خداکے ماننے والوں کوقتل کیاگیا۔ یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ مسلمان مسلمانوں کے خلاف لڑنے کے لیے اغیارکی مددمانگتے رہے ۔ افغانستان میں روس کوشکست دینے کے لیے دُنیابھرسے مجاہدین اکٹھے کیے گئے اورپھرانہیں طالبان کانام دیاگیا۔روس کوشکست ہوئی مگرحق وباطل کے اس معرکے میں مسلمانوں کی بھرپورامدادکرنے والاامریکہ ہی تھا۔ 9/11کے بعد ا مریکہ نے جوحشرمسلمانوں کاعراق میں کیاکسی بھی اسلامی ملک نے اس کے خلاف آوازنہیں اُٹھائی اورنہ ہی کسی نے اس امریکی جارحیت کی مذمت کی سب نے اسے اقوامِ متحدہ کی قراردادکے مطابق جائزقراردیا۔ایران جیسااسلامی ملک بھی عراق پرامریکی حملے پرآگے نکل کرمزاحمت کرنے سے بازرہاشایداسے صدام سے عداوت تھی اوراس کاتختہ اُلٹنے جارہاتھا۔ مگراس کے نتیجے میں عراق میں ہزاروں بے گناہ مسلمان مارے گئے اس کے بعدافغانستان کی باری آئی۔ القائدہ اورطالبان کوختم کرنے کے لیے امریکہ نے یہاں پراپنی فوج بھیجی اسلام کے نام پرقائم ہونے والے ملک پاکستان نے اپنے مسلمان بھائیوں کوقتل وغارت سے بچانے کی بجائے امریکہ کاساتھ دیا۔دوسری طرف پاکستان کے اندرہزاروں افراد انہیں طالبان کے ہاتھوں مارے گئے یہاں ایک بارپھرمسلمانوں نے مسلمانوں کاخون پیا۔ مصر اور لیبیا میں جو کچھ ہوا وہ اب تاریخ کا حصہ ہے۔ عرب سپرنگ کے نام پر مصر میں ہزاروں مسلمان لقمہ اجل بنے ۔ لیبیامیں کرنل قذافی کے خلاف جدوجہد کے دوران مسلمان ہی موت کے منہ میں داخل ہوئے اورکرنل قذافی بھی مارے گئے افسوس کی بات یہ ہے کہ ان دونوں ملکوں میں مسلمان امریکہ اورنیٹوکی امدادکے ساتھ اپنے ہی مسلمان بھائیوں کاخون کرتے رہے۔ ہم ہمیشہ اپنی کوہتائیوں اورنالائقیوں کواغیارکی سازش قراردیتے رہے مسلمانوں کی مسلمانوں پربرتری کی ہوس نے انہیں تباہ وبربادکرکے رکھ دیاہم اسے صیہونی سازش کہتے ہیں۔تمام مسلم اُمت اسی خلفشارکاشکارہے۔

اب ملک شام چھ سال سے خانہ جنگی کا شکار ہے۔وہاں صدر بشار الاسد کو عہدے سے ہٹانے کی ایک تحریک چل رہی ہے۔ ایران اور لبنانی حزب اﷲ روس کی مدد کے ساتھ اسد حکومت کی حمایت کرتے ہیں۔سعودی عرب امریکہ کے تعاون کے ساتھ شامی صدر کو عہدے سے الگ کرنے کا حامی ہے۔دنیا اس بات کو بھی تسلیم کرتی ہے کہ شامی حکومت نے ISISکو وہاں سے نہ صرف بھگایا ہے بلکہ کہ اس کی قوت کو بھی کمزور کیا ہے۔اگر بشار الاسد شدت پسندوں کا صفایا نہ کرتا تو یہ پورا ملک ان کے قبضے میں چلا جاتا۔شدت پسندوں کا ایک ملک پر قبضہ پوری دنیا کے امن کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا تھا۔یہ بات بھی روزِ روشن کی طرح واضح ہو چکی ہے کہ امریکہ شدت پسندوں کی حمایت کرتا ہے۔سعودی عرب کو بھی یہ بات اب سمجھ جانی چاہیے کہ شدت پسندی اس کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔اسے امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظرِثانی کرنی چاہیے۔امریکہ ایک بار پھر مسلم ممالک کو ایک بڑے میدانِ جنگ میں تبدیل کرنے جا رہا ہے اور وہ مسلمانوں کے ہاتھوں ان کا قتلِ عام کروانا چاہتا ہے۔امریکہ کے شام پر فضائی حملوں کے بعد سے وہاں کی صورتِ حال میں تیزی سے تبدیلی رونما ء ہو رہی ہے۔ایرانی صدر نے روسی صدر کے ساتھ ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے ۔یہ دونوں ملک صدر اسد کی حمایت پر قائم ہیں۔جبکہ سعودی عرب نے امریکی فضائی حملوں کی خوشی کے ساتھ حمایت کی ہے۔شام کے معاملے پر سعودی عرب اور ایران کھل کر سامنے آرہے ہیں۔تصادم کی یہ راہ مسلم امہ کے لیے انتہائی خطرناک ہو گی۔امریکہ اور روس دونوں کا مقصد مسلمانوں کی تباہی ہے۔مسلم قیادت کو انھیں اپنا دوست بنانے کی بجائے آپس میں اختلافات ختم کر کے دوستیاں قائم کرنی چاہیے۔روس اور امریکہ کی مدد حاصل کرکے مسلمان ملکوں کا آپس میں نبرد آزما ہونا خود ان کے لیے بربادی کا سبب بنے گا۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان ممالک تاریخ سے سبق سیکھتے ہوئے اپنے مسائل مذاکرات کے ذریعے خود حل کریں۔مسلمان ممالک کی یہ سوچ غلط ہے کہ کسی بڑی طاقت کے ساتھ اتحاد انھیں تباہی سے بچا سکے گابلکہ یہی بڑی طاقتیں دراصل ان کی تباہی کا سبب ہیں۔مسلم ممالک کو تصادم کی بجائے افہام و تفہیم کی راہ اختیار کرنا ہو گی بصورتِ دیگر ایک بڑی تباہی ایک بار پھر ان کا مقدر بننے جا رہی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: hur saqlain

Read More Articles by hur saqlain: 77 Articles with 36924 views »
i am columnist and write on national and international issues... View More
13 Apr, 2017 Views: 234

Comments

آپ کی رائے