امریکی سامراجی حکمت عملی کو سمجھنے کی ضرورت ہے

(Dr. Muhammad Javed, Karachi)

عراق تباہی و بربادی کا شکار ہو کر عبرت کا نشان بنا دیا گیا، لیبیا کے معاشی و سیاسی نظام کو نیست ونابود کر کے پوری قوم کو ذلت میں دھکیل دیا گیا،افغانستانی قوم پہ انسانیت سوزمظالم کی تو سلور جوبلی ہونے والی ہے۔قتل و غارت گری کا یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔

اب ملک شام جنگ کی آگ میں جل رہا ہے، اانسانیت سوز مظالم ڈھائے جا رہے ہیں،معصوم بچے، خواتین کی آہ و بکا چار سوسنائی دے رہی ہے،اپنی جانوں کو بچا کے پوری دنیا میں در بدر ہونے والے لاکھوں انسان کس طرح کی اذیتوں، مصیبتوں اور موت سے ہمکنار ہو رہے ہیں ان کی روداد ہر روز میڈیا کی زینت ہوتی ہے۔انسان اس قدر ظالم بھی ہو سکتا ہے؟شاید قدرت بھی حیران و ششدر ہو۔

موت کے اس کھیل میں کئی حصہ دار ہیں،کوئی باغیوں کا روپ دھارے انسانیت کا خون بہا رہا ہے، تو کوئی اپنے اقتدار کو بچانے کے لئے انسانیت سوزی پہ اتر آیا ہے اور کوئی اپنی درندہ صفتی کو مذہب کا نام دے کر اپنی سفاکیت کے جھنڈے گاڑنا چاہتا ہے۔اس سارے خون خرابے میں خون بہانے والے اور جن کا خون بہہ رہا ہے دونوں ایک ہی سر زمین سے تعلق رکھتے ہیں،ان میں سے اکثریت کا ایک ہی مذہب ہے،بس فرق یہ ہے کہ انہیں اپنے مفادات کے لئے اپنے آپ ہی کو تباہ و برباد کرنے کا جنون سوار ہے۔لیکن اس جنون کے پیچھے سیاسی اور معاشی مفادات کی ایسی خونخوار سوچ بھی کام کر رہی ہے جس کے تانے بانے عالمی سامراجی قوتوں سے ملے ہوئے ہیں۔سامراجی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی اس نے اپنے توسیع پسندانہ اور مفاد پرستانہ حکمت عملی کو آگے بڑھایا ہے تو اس کے لئے اسے ہمیشہ ساز گار ماحول بنانا پڑتا ہے۔یعنی سب سے پہلے اسے مختلف افراد اسی معاشرے سے اپنے آلہ کار کے طور پہ استعمال میں لانے پڑتے ہیں،کبھی کبھار تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ جس ریاست کو سامراج اپنے مفادات کے لئے تباہی کے دھانے پہ پہنچانا چاہتا ہے خود اس ریاست کے اپنے باسی اس کا کام آسان کر دیتے ہیں،یعنی وہ آپس میں دست وگریبان ہوتے ہیں، ایسے ایسے نظریات و عقائد گھڑتے ہیں جن سے نفرتوں،کدورتوں اور دوریوں کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔انتہا پسندی عروج پہ پہنچ جاتی ہے،بے انصافی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی حکومتوں کا وطیرہ بن جاتی ہے،حکمران طبقہ چور بن جاتا ہے اور عوام پہ لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کئے رکھتا ہے۔اس سارے عمل کے لئے جس سرمائے اور سہولت کی ضرورت ہوتی ہے،وہ سامراجی قوتیں کسی نہ کسی طرح انہیں مہیا کرتی رہتی ہیں، اس کی سب سے عمدہ تاریخی مثال سوویت یونین کے خلاف سرد جنگ کے زمانے میں امریکی سامراج نے کس طرح سیاسی، معاشی، سماجی، مذہبی اور فوجی حربوں کو اختیار کرتے ہوئے اپنے مقاصد کے لئے ایک پوری ریاست کو استعمال کیا۔اب سامراج کو سارا الزام دینا بھی ٹھیک نہیں ہے کیونکہ اس کے مقاصد کی تکمیل کے لئے سارے لوازم ہمارے معاشرے نے خود مہیا کئے، مذہب کا چونکہ خصوصی استعمال ہمیشہ سامراجی قوتوں کی ترجیح رہی ہے کیونکہ مذہب انسانوں کے لئے ہمیشہ سے حساس رہا ہے،لوگ اپنے عقائد اور نظریات کے حوالے سے جذباتی ہوتے ہیں،لہذا وہ بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔لہذا مذہبی ذہن کو استعمال میں لانے کا جو طریقہ کار امریکی سامراج نے سوویت یونین کے خلاف استعمال کیا،یقیناً وہ بہت موثر رہا، اس زمانے کی تاریخ یہ بتاتی ہے،کہ باقاعدہ مدارس بنائے گئے، کتب خانوں کے اخراجات اور مالی ٹرسٹ بنائے گئے،عالمی سطح پہ مذہبی سکالرز کو اکٹھا کیا گیا،اور اس طرح مذہب کے نام پہ سوشلزم کے خلاف ایک عالمی فضا بنائی گئی جیسا کہ آج کل "دہشت گردی" کے خلاف بنائی گئی ہے۔سوشلزم کو مذہب اور "خدا کا دشمن" قرار دیا گیا،اور تحریر وتقریر،مجالس و جلسوں کو اسی عنوان کے تحت خوب فروغ دیا گیا۔ڈالرز کو پانی کی طرح بہایا گیا۔جہاد کے کلچر کو اس قدر فروغ دیا گیا کہ سکول یا کالج ہوں یا مذہبی مدارس ،بچے نوجوانی ہی میں اپنے آپ کو مجاہد تصور کرنے لگتے،لٹریچر کی اس قدر بھرمار تھی کہ سب سے زیادہ بزنس کرنے والے رسائل اور کتب"جہاد"کے موضوع پہ ہوتے تھے۔ خوب مال بنایا گیا، کمایا گیا، جائدادیں بنائی گئیں، امریکی ویزے اور شہریتِیں دلائیں گئیں، بیرون ملک کے دورے اور عالمی کانفرنسیں منعقد کروائی گئیں،بڑے بڑے" صاحب کمال" مجاہد رہنما اور مبلغ پیدا کئے گئے۔معاشرے کا عام آدمی چونکہ مذہب سے محبت اور عقیدت رکھتا تھا اور ہے،وہ ان قائدین کے ان نظریات اور تبلیغ کے دھارے مِں بہتا چلا گیا، اپنے جگر گوشوں کو ""سعادت"سمجھ کے سامراجی مفادات کی بھینٹ چڑھاتا رہا۔یوں "جہادی کلچر"کو سامراجی قوتوں کے سیاسی اور معاشی مفادات کی تکمیل کا ذریعہ بنایا گیا۔اس میں مقامی کرداروں نے کما حقہ بھرپور کردار ادا کرتے ہوئے عالمی ایجنڈے کا تکمیل تک پہنچایا۔اب اس تفصیل میں نہیں جاتے کہ کس قدر انسانوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی،کس قدر معاشرے کی نظریاتی بنیادوں کو تہہ و بالا کیا گیا،کس طرح افغانستان کی کئی نسلوں کو تباہ و برباد کر دیا گیا۔وہی افغانی جو امریکی چھتری تلےجہاد کر کے سوویت یونین کو توڑ رہے تھے، تاریخ نے وہ منظر بھی محفوظ کیا کہ امریکی سفیر اور عہدیدار "مجاہدین کے ساتھ اللہ اکبر" کے نعرے لگاتے نظر آتے تھے۔اور آج وہی امریکی ہیں جن کے جدید ترین مہلک ہتھیاروں سے اس تباہ حال قوم کی درگت بن رہی ہے۔وہی مجاہدین آج امریکی سامراج کی نظر میں راندہ درگاہ قرار دے دئے گئے۔امریکی سامراج کی چالیں وقت کے تقاضوں کے مطابق بدلتی ہیں ۔ آج نئے مہروں کے ساتھ نئی بساط بچھا دی گئی ہے۔اپنے تخلیق کئے گئے"مجاہدین"کو اب"دہشت گرد"قرار دیا گیا،اور ان کی آڑ میں عالمی توسیع پسندی کی طرف انتہائی ظالمانہ اور منافقانہ انداز سے بڑھ رہا ہے۔

ایک وقت تھا دنیا کو سوشلزم سے ڈرا کر"جہاد""کا سبق دینے والا سامراجی آج دنیا کو ""دہشت گردی""سے ڈرا کر نئے نئے اتحادوں کی طرف لا رہا ہے۔اور ان دہشت گردوں کو بنیاد بنا کر اقوام اور ممالک پہ چڑھائی کر رہا ہے۔لیکن جنہیں تاریخ کا شعور ہے،وہ یہ جانتے ہیں کہ جس طرح امریکی سامراج کے خفیہ اور ظاہر ادارے اس کے مفادات کی تکمیل کے لئے قوموں کو نیست ونابود کر رہے ہیں ویسے ہی "دہشت گرودوں کے یہ ٹولے" جن کا خالق خود امریکی سامراج ہے ایک ایسے ہراول دستے کا کردار ادا کر رہے ہیں جیسا کہ انہوں نے سوویت یونین کے خلاف کارنامے سر انجام کر کیا۔

اب عراق،لیبیا، شام کی صورتحال بھی اسی تسلسل کا حصہ ہے،لیکن اب نئی حکمت عملی کے تحت اس سے بھی زیادہ گھناونا کھیل شروع کیا گیا ہے،یعنی اب تو مد مقابل کوئی "سوشلزم" یا "کافر "نہیں،لہذا انہیں مسلکی جنگ میں اس قدر ملوث کر دو کہ ایک دوسرے کی گردنیں کاٹیں،لہذا پہلے چونکہ بنی ہوئی فضا موجود تھی لہذا انتہائی آسانی سے سب سے پہلے تو بہانہ بنا کر عراق پہ چڑھائی کی گئی،اس کے بعد تیل کی تنصیبات کو مکمل طور پہ اپنے کنٹرول میں کیا گیا اور پھر وہاں مسلک کی بنیاد پہ باہمی قتل وغارت کا ایسا بازار گرم کیا گیا کہ انسانیت شرماتی ہے،افسوس کا پہلو یہ ہے کہ سب سے پہلے تو امریکی فوجیوں نے عراقی قوم کو نیست ونابود کیا،اور ہر وہ طاقت جو ان کے مقابل آ سکتی تھی اس کو بے دردی سے ختم کیا ،پھر ان ہی کے اندر سے اس قوم کے غداروں کو اقتدار عطا کیا جیسا کہ ہمیشہ سے تاریخ میں ہوتا رہا ہے،اب اس طرح ایک طرف اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے کٹھ پتلی حکومت بنا لی اور دوسری طرف معاشرے کو ایسے حالات سے دوچار کر دیا کہ وہ ایک دوسرے کے گلے کاٹ رہے ہیں، اس سارے عمل میں ""دہشت گردوں""کا ہراول دستہ ان کے خوب کام آ رہا ہے،خاص طور پہ مسلکی جنگ میں تو اس کا کردار انتہائی اہم ہے۔سو اس نئی سامراجی حکمت عملی ہی کے تحت لیبیا کو تباہ کیا گیا،اور اس کے وسائل پہ قبضہ کیا گیا اور اپنے ایجنٹوں کو نواز ا گیا اور اسی طرح شام کو بھی اسی جنگ میں ملوث کر دیا گیا اور باغیوں اور دہشت گرد گروپوں کو شامی حکومت کے خلاف مضبوط کیا گیا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ شام سامراجی مفادات کے خلاف کھڑا ہے،لہذا اس کے خلاف امریکی سامرا ج اپنی تمام "جہادی"ہراول دستے کے ساتھ حملہ آور ہے۔اور اب تو براہ راست حملے بھی شروع کر دئیے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ براہ راست میزائل حملے شام کے دفاعی نظام کو کمزور کرنے کے لئے کئے گئے،کمیائی گیس حملے کے حوالے سے پیش کئے گئے امریکی اینٹیلیجنس کے ثبوتوں کو بھی عالمی سطح کے ماہرین نے جھوٹا قرار دیا ہے،اس حوالے سےایک
" A Quick Turnaround Assessment of the White House Intelligence ReportIssued on April 11, 2017 About the Nerve Agent Attack in Khan Shaykhun, Syria.
Theodore A. PostolProfessor Emeritus of Science, Technology, and National Security Policy Massachusetts Institute of Technology
کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔

اس حوالے سے امریکی این جی او "وائیٹ ہیلمٹ" نے جو بھی ویڈیو مواد پیش کیا ہے اسے عالمی سطح پہ مشکوک قرار دیا گیا ہے۔یہ بھی حقیقت سامنے آئی ہے کہ سویلین کی مدد کے نام پہ لاکھوں ڈالرز کی مدد سے چلنے والی این جی او وائیٹ ہیلمٹ در اصل شامی فوجوںکے خلاف لڑنے والے دہشت گرد گروپوں کو ریسکیو کرنے اور ان کی مدد کرنے کے لئے بنائی گئی ہے۔اس حوالے سے کافی رپورٹیں سامنے آ چکی ہیں۔خلاصہ کلام یہ کہ امریکی میزائل حملے کا مقصد شام کی دفاعی قوت کو نقصان پہنچا کر دہشت گرد گروپوں کی مدد کرنا اور طاقتور کرنا ہے۔اسی طرح کی اندرونی اور بیرونی جارحیت یہ سامراج کی پرانی حکمت عملی ہے،جسے وہ کئی ممالک میں آزماتا رہا ہے۔

اسی طرح برصغیر میں بھی امریکی سامراج نے اپنی حکمت عملی تبدیل کر دی ہے،اس نے تاریخ کے اسی واقعے کو دھرانا شروع کیا جب اس نے سوویت یونین کے خلاف پاکستان کو استعمال کیا،اب وہ چین کے خلاف انڈیا کو استعمال میں لانے کا منصوبہ بنا چکا ہے، اسے افغانستان میں بھی ایک کردار سونپ چکا ہے،اب ایک نئی گیم شروع ہونے والی ہے، پاکستان کو انہوں نے اپنے پرانی فصل کاٹنے پہ لگا دیا ہے،جسے انہوں نے سوویت یونین کے خلاف بویا تھا،انڈین اور امریکی انٹیلی ایجنسیاں مل کر دشہت گردوں کو پاکستان کے خلاف استعمال میں لا کر پاکستان کو نہ صرف مزید کمزور کر رہے ہیں،اس کے لئےانہیں شاید زیادہ محنت نہ کرنی پڑے کیونکہ اسے نقصان پہنچانے اور دیوالیہ کرنے کے لئے ہمارے اپنے ارباب اختیار ہی کافی ہیں۔لیکن پاکستان کی ان کے سامنے کوئی اہمیت نہیں ہے اصل اہمیت چین کی ہے جسے روکنے کے لئے انڈیا کو قربانی کا بکرا بنایا جائے گا،اسے استعمال کیا جائے گا،اس کے اندر سی آئی اے کے اڈے بنائیں جائیں گے،اور جب اس کا استعمال ختم ہو جائے گا تو اسے بھی،ہندوانتہا پسندی،ہندو خود کش بمبار،اور ہندو بنیاد پرستی کا گڑھ بنا کر، سڑسٹھ ٹکڑوں میں بانٹنے کے عمل پہ گامزن کر کےاپنے انجام کی طرف چھوڑ دیا جائے گا۔آلہ کاری کے دنوں میں بوئی گئی فصل کو اس کی آئندہ نسلیں کاٹیں گی جیسا کہ ہم کاٹ رہے ہیں۔
تاریخ کا سبق ہے سامراجی ہتھکنڈو ں کو نہ سمجھنے یا اس کی آلہ کاری کرنے والی اقوام کا انجام عبرت ناک ہوا ہے۔اس سبق کو ہمارے سیاستدانوں،اور ریاستی اداروں کو سمجھ لینا چاہئے۔اور ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر قوم اور ملک کو خود کفالت کی طرف لانے کے لئے انقلابی بنیادوں پہ کام کیا جانا چاہئے۔ایک آزاد اور مستحکم عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق تعلیمی، معاشی اور سیاسی نظام ہی قوموں کو سامراجیت کے چنگل میں پھنسنے سے بچا سکتا ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr. Muhammad Javed

Read More Articles by Dr. Muhammad Javed: 104 Articles with 70167 views »
I Received my PhD degree in Political Science in 2010 from University of Karachi. Research studies, Research Articles, columns writing on social scien.. View More
17 Apr, 2017 Views: 366

Comments

آپ کی رائے