اللہ کی فرمان برداری کیسے کریں

(محمد فاروق حسن, ڈسکہ)
ان باتوں کے بارے میں جو حساب ہوگا اس میں کامیابی کے لیے روز آخرت اللہ کے سامنے سرخروئی کے لیے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہر انسان پراور خاص طور پر مسلمان پر فرض اور لازم ہے خواہ وہ کوئی بادشاہ ہو یا عوام جن ہو یا انسان بوڑھا ہو یا جوان سب پر لازم اورفرض ہے ان سب باتوں کے جواب میں یہ بہانہ نہیں چلے گا کہ میں ان سب چیزوں سے معاملات سے بے خبر اور جاہل تھا کیوں کہ کہا جائے گا کہ اللہ نے تعلیم حاصل کرنا فرض نہیں کر رکھاّ تھا ؟

برادران اسلام آپ یہ تو جانتے ہی ہوں گے کہ اسلام اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا نام ہے اور آدمی مسلمان بن ہی نہیں سکتا جب تک وہ اپنی خواہشات کی رسم ورواج کی دنیا کے لوگوں کی غرض ہر ایک کی اطاعت چھوڑ کر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت نا کرے-
آج میں آپ کے سامنے یہ بیان کرنا چاہوں گا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت پر اس قدر زور آخر کیوں دیا جاتا ہے ایک شخص پوچھ سکتا ہے کہ
کیا اللہ کو ہماری اطاعت کی ضرورت ہے ؟ نعوذ باللہ
کہ وہ ہم سے اس طرح اپنی اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا مطالبہ کرتا ہے جس طرح دنیا کے حکمران مطالبہ کرتے ہیں -
کیا نعوذباللہ اللہ کو بھی دنیا کے حاکموں کی طرح اپنی اور اپنے رسول کی حکومت کی ضرورت ہے؟
کہ جیسے دنیا کے بادشاہ کہتے ہیں کہ ہماری اطاعت کرو اللہ بھی کہتا ہے کہ ہماری اطاعت کرو؟
نہیں بلکہ اللہ تعالٰی پاک بے نیاز ہے غنی ہے اور ہم اللہ کے محتاج ہیں اس نے تمام طرح کی نعمتیں ہمیں عطا فرمائی ہیں اور اللہ نے اپنی نعمتوں کے صحیح استعمال کا حکم دیا ہے
کہ کسی جان پر کوئِی ظلم نا کرے لیکن ایک مدّت تک مہلت دی ہے اللہ نے کہ چاہے برائی کا رستہ اپنالو چاہے نیکی اور پارسائی کا اور مرنے کے بعد اللہ پاک حساب لے گا کہ
ظلم کیوں کیا لوگوں کا مال ناحق کیوں کھایا لوگوں کی جان اور عزّت کو نقصان کیوں پہنچایا ؟
لوگوں کے اہل و عیال بیوی بچوں کو گمراہ کیوں کیا ؟
بے گناہوں کا قتل کیوں کیا یعنی موقع دیکھا کہ کوئی دیکھ نہیں رہا تو قتل کر دیا کہ نا پکڑا جاوں گا نا سزا ملے گی ؟
اور گناہ گاروں اور مجرموں کو اپنے مفاد کی خاطر قتل کیوں نہیں کیا کہ وہ دولت و اثرو رسوخ والا تھا کام آئے گا
کسی کی چیز چوری کیوں کی کہ کون سا کوئی دیکھ رہا ہے اس بات کی پرواہ نہ کی کہ اللہ کے حکم کو ٹھکرا رہا ہوں ؟
کسی سے بدکاری یا زنا کیوں کیا کہ کون سا کوئی دیکھ رہا ہے یا ہم دونوں راضی تھے تو کسی کو کیا لینا دینا ؟
شیطان کو خوش کرکے اس سے جادوئی طاقتیں حاصل کریں گے اور عیش و عشرت کریں گے-
اللہ کے نیک بندوں کی مخالفت کیوں کی کہ یہ ہمیں من مانیاں کرنے سے برائیوں اور ظلم سے منع کرتے ہیں اور نیکی کا حکم دیتے ہیں ؟
اللہ کی نازل کردہ شریعت کی پیروی کیوں نہیں کی شریعتوں میں ردّ وبدل کیوں کیا انبیا اولیا کی حفاظت کیوں نہیں کی ان سے وفاداری کیوں نا کی ؟
نیکی اور ایمان داری کو کیوں نہیں اپنایا شیطان کی مخالفت کیوں نہیں کی ؟
اس کی چالوں کو ناکام کیوں نہیں بنایا برے لوگوں اور کافروں ظالموں کا ساتھ کیوں دیا ؟
ان کو کفر ظلم اور برائیوں سے روکا کیوں نہیں ؟
اللہ نے حکومت دی تو اللہ کا احسان کیوں نا مانا اور اس کے دین کو ملک میں کیوں نافذ نا کیا شرک ظلم کفر جرائم اور بے غیرتی اور جہالت کبیرہ گناہوں کا خاتمہ کیوں نا کیا ؟
ان باتوں کے بارے میں جو حساب ہوگا اس میں کامیابی کے لیے روز آخرت اللہ کے سامنے سرخروئی کے لیے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہر انسان پراور خاص طور پر مسلمان پر فرض اور لازم ہے خواہ وہ کوئی بادشاہ ہو یا عوام جن ہو یا انسان بوڑھا ہو یا جوان سب پر لازم اورفرض ہے ان سب باتوں کے جواب میں یہ بہانہ نہیں چلے گا کہ میں ان سب چیزوں سے معاملات سے بے خبر اور جاہل تھا کیوں کہ کہا جائے گا کہ اللہ نے تعلیم حاصل کرنا فرض نہیں کر رکھاّ تھا ؟

اللہ کی اطاعت میں ہی انسان کی فلاح ہے

اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جو انسان سے اطاعت کا مطالبہ کرتا ہے وہ انسان ہی کی فلاح اور بہتری کے لیے کرتا ہے وہ دنیا کے حاکموں کی طرح نہیں ہے دنیا کے حکمران اپنے فائدے کے لیے لوگوں کو اپنی مرضی کا غلام بنانا چاہتے ہیں مگر اللہ تمام فائدوں سے بے نیاز ہے اس کو آپ سے ٹیکس لینے کی ضرورت نہیں ہے مگر بطور سزا کہ اسلام قبول کیوں نہیں کیا اسے کوٹھیاں بنانے اور موٹریں خریدنے اور آپ کی کمائی سے اپنے عیش کے سامان جمع کرنے کی ضرورت نہیں ہے وہ پاک ہے کسی کا محتاج نہیں دنیا میں سب کچھ اسی کا ہے اور سارے خزانوں کا وہی مالک ہے وہ آپ سے اس لیے اطاعت کا مطالبہ کرتا ہے کہ اسے آپ ہی کی بھلائی منظور ہے وہ نہیں چاہتا کہ جس مخلوق کو اس نے اشرف المخلوقات بنایا ہے وہ شیطان کی غلام بن کر رہے یا کسی انسان کی غلام ہو یا ذلیل ہستیوں کے سامنے سر جھکائے وہ نہیں چاہتا کہ جس مخلوق کو اس نے خلافت دی ہے وہ جہالت کی تاریکیوں میں بھٹکتی پھرے اور جانوروں کی طرح اپنی خواہشات کی بندگی کرکے اسفل السافلین { جہنم کی گہری کھائی} میں جاگرے اس لیے وہ فرماتا ہے تم ہماری اطاعت کرو ہم نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے جو روشنی بھیجی ہے اس کو لے کر چلو پھر تم کو سیدھا راستہ مل جائے گا اور تم اس راستے پر چل کر دنیا میں بھی عزّت اور آخرت میں بھی کامیابی حاصل کر سکو گے -
اس بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے -
ترجمہ : دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے - ہدایت کا راستہ جہالت کے ٹیڑھے راستوں سے الگ کر کے صاف دکھا دیا گیا ہے - اب تم میں سے جو کوئی جھوٹے خداوں اورگمراہ کرنے والے راہنماوں کو چھوڑ کر ایک اللہ پر ایمان لے آیا اس نے ایسی مضبوط رسیّ کو تھام لیا جو ٹوٹنے والی نہیں ہے اور اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے جو لوگ ایمان لائیں ان کا اللہ نگہبان ہے وہ ان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے آتا ہے اور جو لوگ کفر کا طریقہ اختیار کرتے ہیں ان کے نگہبان ان کے جھوٹے خدا اور گمراہ کرنے والے راہنما ہیں وہ ان کو روشنی سے نکال کر اندھیروں میں لے جاتے ہیں ایسے لوگ دوزخیوں میں سے ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے -

غیر اللہ کی اطاعت _________ گمراہی

اب دیکھیے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا جھوٹے خداوں اور گمراہ کرنے والے راہنماوں کی اطاعت سے آدمی جہالت کےاندھیروں میں کیوں چلا جاتا ہے اس میں کیا وجہ ہے کہ روشنی صرف اللہ اور اللہ والوں کی اطاعت سے ہی مل سکتی ہے -
اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے وہ خالق و مالک حاجت روا مشکل کشا ہے بگڑیاں بنانے والا ہے رزق اور اولاد عطا فرمانے والا ہے اور نیک وکار ، متقی پیزگار لوگوں کو پسند فرمانے والا ہے اس لیے وہ اپنے نیک اور متّقی بندوں کو جہالت اور گمراہی کفر اور بے انصافی کے اندھیروں سے نکال کر علم و دانش اور انصاف و ہدایت کے راستے پر لے آتا ہے اس لیے سب مسلمانوں کواللہ کی اطاعت سے بے شمار نفع جات ملتے ہیں اور اللہ والے لوگ اللہ کی خوش نودی حاصل کرنے کے لیے انسان کی خیر خواہی کرتے ہیں ان کو نیکی کی ترغیب دلاتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں پر اس کی شکر گزاری کا درس دیتے ہیں اس لیے اللہ نے فرمایا کہ میری بھی اطاعت کرو اور میرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی اطاعت کرو اور مسلمانوں کے امیر کی بھی اطاعت کرو اس کیا ہو گا کہ اللہ تمھارے گناہ معاف کرے گا اور تمھارے معاملات سنوارے گا دنیا و آخرت کی ذلّتوں سے بچا کر اور عذاب جہنم سے بچا کر کامیابیوں اور عزّتوں سے نوازے گا اور جنّت میں داخل کرے گا اور باطل مذاہب کے پیروکار برے مذہبی راہنما انسان کو اللہ تعالی سے بدگمان کر دیتے ہیں اور بری عادتوں میں مبتلا کر کے اور اللہ کا ناشکرا اور برا انسان بنا کر ہدایت سے دور کر دیتے ہیں اور جہالت اور برائی کے گھٹّا ٹوپ اندھیروں میں لے جاتے ہیں اس لیے اللہ نے ان کی اطاعت سے منع فرمایا ہے کیوں کہ انسان ایسے لوگوں میں شامل ہوجاتا ہے جو ہوتے تو گمراہ ہیں لیکن اپنے آپ کو سمجھتے ہیں کہ ہم ہدایت والے ہیں اللہ ہمارے اعمال قبول کرے گا مگر یہ ان کا محظ گمان ہوتا ہے یوں انسان ہمیشہ جہنم کا ایندھن بن جاتا ہے -

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد فاروق حسن

Read More Articles by محمد فاروق حسن: 108 Articles with 82665 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Apr, 2017 Views: 410

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ