ڈسٹرکٹ اٹک میں لینڈ مافیاء کا راج ، وزیر اعلیٰ پنجاب آپ کہاں ہو؟

(Malik Arshad Jafferi, )

کرپشن اور لو ٹ مار نے پاکستان کو معاشی طور پر تباہی اور بربادی سے دو چار کر رکھا ہے ملک کے ہر سو سیاسی جماعتوں میں لینڈ مافیاء کے سر غنے برجمان ہیں اگر یہ کہا جائے کہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں پر لینڈ مافیاء کا قبضہ ہے تو غلط نہ ہوگا۔ دیگر اضلاع کی طرح اٹک میں بھی اہم سیاسی جماعتوں میں لینڈ مافیاء کے ایسے ایسے گروہ گھس آئے ہیں کہ ان سیاسی جماعتوں کی ساکھ بری مجروع ہو کر رہ گئی ہے خود کو تحفظ دینے کیلئے ایسے ایسے ظالم بد کردار ، مفاد پرست ہوئے ہیں اب تما م سیاسی جماعتوں کا حق بنتا ہے کہ وہ ایسے ناسور لوگوں کو فوری طور پر اپنی صفوں سے باہر نکالیں جو سیاسی جماعتوں کی چھتری تلے لوگوں کی زمینوں پلاٹوں دکانات پر جعلسازی سے قبضہ جمائے ہوئے ہیں اور اپنی حرام کی کمائی سے سیاسی جماعتوں کی آبیاری کررہے ہیں یہی وجہ ہے کہ بعض سیاسی جماعتیں ان افراد کو اپنے ساتھ ملا کر مالی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کرکے پارٹی فنڈ کو مضبوط کر نے کیلئے ان کا سہارالیے ہوئے ہیں اٹک میں گزشتہ تین سال سے مختلف ہاؤسنگ سو سائیٹیوں کے نام سے پراپرٹی کا کاروبار عروج پر ہے اٹک شہرکے ہر چوراہے پر بڑے بڑے سائین بورڈ آویزاں جو لوگوں کو پر کشش پلاٹوں اور گھروں کے خواب دکھا کر دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں ان ہاؤسنگ سوسائیٹیوں میں ایک ہاؤسنگ سکیم ایسی بھی ہے جس کی سر پرستی ایک وفاقی وزیر کر رہے ہیں اور اس سوسائٹی کو فائدہ پہنچانے کیلئے کروڑوں روپے کے سرکاری ترقیاتی فنڈ ان سکیموں پر لگا کر اربوں روپے کے سیاسی فوائد حاصل کیے جارہے ہیں مذکورہ وفاقی وزیر کے بیٹوں سے لے کر اس کے ڈرائیورتک کو ان ہاؤسنگ میں پلاٹوں سے نوازا گیا ہے ایف آئی اے اور نیب خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی ہے اٹک میں شروع ایک ہاؤسنگ سکیم کی اگر غیر جانبداری سے انکوائری کی جائے تو کروڑوں روپے کی کرپشن سامنے آسکتی ہے مخصوص ہاؤسنگ سکیم کو نواز نے کیلئے مخصوص سٹرکوں کو کشادہ کر کے اربوں روپے سرکاری خزانے سے صرف کیے جارہے ہیں جہاں اپنے مخصوص افراد کو فوائد پہنچائے کیلئے ہر حربہ استعمال کیا جا رہا ہے اٹک میں لینڈ مافیاء کا مکمل راج قائم ہو چکا ہے حکمران سیاسی جماعت میں ایسے ایسے بد نام زمانہ افراد شامل ہو چکے ہیں جن پر کئی کئی ایف آئی آر درج ہیں اور وہ پارٹی میں قلیدی عہدوں پر تعینات ہیں وزیر اعلیٰ پنجاب سے درخواست ہے کہ وہ پنجاب ہاؤس سے اپنی خفیہ ٹیم بھیج کر نوٹس لیں اور ایسے افراد کو مسلم لیگ (ن) سے باہر نکالیں جو لینڈ مافیاء کے سرغنے ہیں اور پارٹی کی ساکھ کو بُری طرح خراب کر رہے ہیں حالانکہ اٹک مسلم لیگ (ن) کا ایک مضبوط گڑھ ہے لیکن آج لینڈ مافیاء کے سرغنوں نے ایسے عوام میں غیر مقبول بنا دیا ہے ظلم و بر بریت کی انتہا ہے کہ اٹک میں لینڈ مافیاء اور محکمہ مال کے کرپٹ افراد نے مساجد کی جگہوں کو بھی نہ بخشا قانون کی گرفت میں آنے کے باوجود سیاسی اثر اسوخ سے یہ افراد اسی طرح آزادنہ گھوم پھر رہے ہیں وزیر اعلیٰ پنجاب اٹک میں تمام ہاؤسنگ سو سائیٹیوں کی فوری انکوائری کرائیں اور اگر ان میں مسلم لیگ (ن) کو قدآوار شخصیت بھی ملوث ہے تو اس کے خلاف قانونی کاروائی کرکے اٹک کو لینڈ مافیاء کے نرغے سے نجات دلائیں سیاسی اثررسوخ سے محکمہ مال میں تعیناتیوں کا بھی فوری نوٹس لیا جائے اور کرپٹ اور بڑی شہرت کے حامل افراد کو بر طرف کر کے اٹک میں کرپشن کے ناسور کا بروقت علاج کریا جائے خلق خدا چیخ و پکار کرر ہی ہے اٹک کی عدالتوں میں پلاٹوں اور زمینوں کے کیسوں کے انبار لگے ہوئے ہیں جعلسازی سے کسی کی زمین پلاٹ گھر ہتھیانہ اٹک میں لینڈ مافیاء کا معمول بن چکا ہے اور ہر کسی شخص کی زمین و جائیداد اٹک میں محفوظ نہیں ہے بعض جگہوں پر تو ایسا ہے جو شخص اپنے گھر میں رہ رہا ہے اس کو یہ بھی معلوم نہیں کہ اس کے گھر کے نیچے پلاٹ کئی جگہوں پر کاغذات میں فروخت ہو چکا ہے اٹک میں لینڈ مافیاء تجاوزات مافیاء نے اٹک کے باسیوں کا جینا دشوار کر رکھا ہے کرپٹ اور بد کردار افراد کا حکمران سیاسی جماعت پر قبضہ ہے کل تک جس کے پاس سائیکل نہ تھی آج لاکھوں روپے کی گاڑیاں ان کے پاس کیسے آئیں کرائے کے گھروں میں رہنے والے آج کروڑوں روپے کی پراپرٹی کے مالک کیسے بن گئے اٹک میں نیب اور ایف آئی اے کے ذریعے احتساب کا عمل شروع کیا جائے کئی کرپٹ "نو دوستی "پکڑے جاسکتے ہیں جنہوں نے تین چارسالوں کے اندر کالے دھن سے کروڑوں کی جائیداد یں بنائیں جبکہ بظاہران افراد کا کوئی کاروبار نظر نہیں آتا "مٹی کا تیل "بیچنے والوں سے لے کر لینڈ مافیاء کے سرغنوں کا اگر احتساب کیا جائے تو اٹک میں اربوں روپے کا کالا دھن پکڑا جاسکتا ہے بشرطیہ کہ وزیر اعلیٰ پنجاب اٹک میں ہونے والی کرپشن پر ایک کمیٹی بنا کر ذاتی طور پر انکوائری کرائیں راقم الحروف ایسے افراد کی نشاندہی کر سکتا ہے جو کل تک دو وقت کی روٹی کے محتاج تھے اور آج اربوں روپے کے ان کے رسالہ جات ہر سو نظر آرہے ہیں ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Malik Arshad Jafferi

Read More Articles by Malik Arshad Jafferi: 28 Articles with 11577 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Apr, 2017 Views: 265

Comments

آپ کی رائے