صنم(دوسری قسظ)

(Kanwal Naveed, Karachi)

صنم سکول جانے کے لیے تیار کھڑی تھی ۔ اپنی وین والے کے فون کا انتظار کر رہی تھی کہ فون آ گیا۔ اس نے جلدی جلدی پرس میں موبائل ڈالا اور امی ابو کو اللہ حافظ کہہ کر گھر سے نکل گئی ۔ صنم نے وین میں بیٹھتے ہی وین کا دروازہ بند کیا تو اسے شک گزرہ کہ وین کے کچھ دور نعیم اپنی موٹر سائیکل پر کھڑا تھا۔ صنم نے پھر دیکھا تو وہاں کوئی نہیں تھا۔ وین سکول کے دروازے کے آگے جا رُکی۔ صنم سٹاف روم میں پہنچی تو تمام ٹیچرز نے اس کی بھابھی کی موت کا افسوس کیا۔ کچھ باتیں جنگل کی آگ کی طرح پھیلتی ہیں ۔صنم کو عجیب سی شرمندگی محسوس ہو رہی تھی۔ انسان اپنے رشتوں سے کس قدر بندھا ہوتا ہے۔ اس نے گہرائی سے محسوس کیا۔ مریم سٹاف روم میں داخل ہوئی ۔اس نے افسوس کے بعد صنم سے اس کے رشتے سے متعلق پوچھا تو صنم نے اسے بتایا کہ نجیب کے گھر والے تو تیار ہیں لیکن ابو نے وقت لیا ہے تا کہ لڑکے کے بارے میں معلوم کر سکیں۔مریم نے مسکراتے ہوئے کہا۔ اس کا مطلب ہے کہ تم اب پیا دیس سدھار جاو گی۔ اسمبلی کے لیے لائنیں بن چکی تھی ۔ تمام ٹیچرز یکے بعد دیگرےسٹاف روم سے جا چکی تھیں ۔ صنم نے مریم کو اشارہ کرتے ہوئے بولا ۔ میڈم ۔ پھر دونوں سٹاف روم سے نکل کر ہال میں جا پہنچی ۔
زندگی ہر پل بدل رہی ہے۔ تبدیلی ترقی کا لازمی جز ہے۔ ہم وقت کو روک نہیں سکتے ۔لیکن واقعات میں اپنی مرضی سے تبدیلی کر سکتے ہیں ۔ کوشش ،سوچ ہر چیز کو بدل کر رکھ دیتی ہے۔ صنم ۔کلاس کو محنت کی عظمت سبق کا خلاصہ سمجھا رہی تھی۔ کہ ایک لڑکے نے ہاتھ کھڑا کیا ۔ میم
خرم:میم کچھ لوگ محنت کرتے ہیں تو سب کچھ پا لیتے ہیں اور کچھ لوگ تمام عمر محنت کرتے ہیں اور کچھ بھی نہیں پاتے۔ محنت سے ذیادہ قسمت اہم نہیں ہے کیا؟
صنم :قسمت کوئی شئے نہیں ۔ قسمت ہم خود بناتے ہیں ۔ آپ نے دیکھا نہیں کیسے کسی مزدور کا بیٹا فسٹ آ جاتا ہے ۔جبکہ امیر لوگ ہزاروں روپے لگا کر بھی اپنے بچوں کو تعلیم کے لیے راغب نہیں کر پاتے۔
خرم: میم یہ بھی تو قسمت ہی ہے۔ ورنہ ہزاروں غریب تو غریب ہی مر جاتے ہیں اور کوئی ایک دو ہی لائق فائق نکل آتے ہیں ۔
صنم : یہ قسمت نہیں ، محنت ہے۔ محنت ۔ محنت سے ہی سب حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ہم قسمت کو بھی محنت کے زریعے بدل سکتے ہیں۔
خرم: میم
صنم : اب آپ بیٹھ سکتے ہیں ۔ آپ لوگ کل کاپی پر اس کا خلاصہ اپنے الفاظ میں لکھ کر لائیں گئے۔ او ۔ کے۔
خرم بیٹھ چکا تھا لیکن بات ابھی ختم نہیں ہوئی تھی ۔ مریم کے دماغ اور خرم کے دماغ میں جاری تھی ۔
صنم کو پڑھانا اور پڑھنا اس قدر پسند تھے کہ اس کو اپنا کام ، کام نہیں لگتا تھا۔ وہ کبھی نہیں تھکتی تھی۔ وہ سٹاف روم میں آ چکی تھی ۔ مریم اور اس میں بات جیت جاری تھی ۔صنم نے خرم کا تذکرہ کیا۔ مریم نے مسکراتے ہوئے کہا۔ بچہ بڑا ذہین ہے ،لیکن پکاتا بہت ہے ہے ناں۔ صنم مسکرائی ۔ ہاں ،کبھی کبھی تو بہت ہی بے تکی باتیں کرتا ہے ۔ ہر کو ئی جو بات جانتا ہے کہ سچ ہے کبھی کبھی اس سے ہی انکار کر دیتا ہے۔ اس کی خواہش ہوتی ہے کہ دوسرے بھی اس کی بے تکی دلیلوں کو نہ صرف مان لیں بلکہ وہ بھی کچھ نہ کچھ ان میں شامل کریں۔ مریم سچ کہہ رہی ہو۔ چھٹی ہو چکی تھی۔ صنم کی وین والے نے کال کی ۔وہ اپنے پرس سے چادر نکال کر لینے لگی۔ مریم کو اللہ حافظ کہا اور سکول سے نکل گئی ۔ لیکن جیسے ہی وہ سکول کے دروازے کے پاس پہنچی وہاں نعیم کھڑا تھا۔ اس نے صنم کے پاس آتے ہوئے کہا۔ مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔ صنم نے جلدی جلدی قدم لیے اور وین کی طرف بڑھنے لگی اس نے فوراً سے پسٹل نکالی او ر صنم کی طرف نشانہ باندھتے ہوئے بولا ۔ سیدھے طریقے سے میرے ساتھ چلو ۔ ورنہ یہیں گولی مار دوں گا۔ صنم نے اس کی طرف دیکھا تو خوف دل میں اُترتے ہوئے محسوس کیا ۔ دیکھیں بھائی دیکھیں وہ اِتنا ہی کہہ پائی تھی کہ کسی نے اس کے منہ پر کوئی سپرے کر دیا ۔ پھر اسے ہوش نہیں رہا۔
صنم کو جب ہوش آیا تو وہ ایک ایٹیچی میں تھی۔ اس کے گھٹنے اس کے منہ کو چھو رہے تھے ۔ اس نے بڑی کوشش کی کہ کسی طرح سےکچھ ہل جل سے مگر اسے اس طرح سے پیک کیا گیا تھا کہ وہ بلکل ہل جل نہیں پا رہی تھی۔ میرے اللہ ۔وہ در د اور تکلیف سے کرائی ۔ اسے زلزلہ سا محسوس ہوا ۔شاہد کوئی ایٹیچی کو اُٹھا کر چل رہا تھا۔ اس نے چلانے کی کوشش کی اس کے منہ پر ٹیپ لگا تھا ۔ اگرچہ ہاتھ کھلے تھے ۔لیکن ہاتھ منہ تک لے کر جانا ناممکن تھا۔ اس نے اپنی ہر ممکن کوشش کر لی لیکن کچھ بھی نہ کر سکی ۔ اسے گھٹن محسوس ہر رہی تھی ۔ اسے اپنا سانس بند ہوتا محسوس ہوا ۔ اس نے کلمہ پڑھنا شروع کیا ۔ اسے لگا اس کی موت کا وقت قریب آ گیا ہے۔ بس اس کی جان نکلنے والی ہے۔ اس نے بہتے ہوئے آنسووں میں اپنے تمام گھر والوں کو یاد کیا۔ ایٹیچی کو رکھا جا چکا تھا۔ اس نے باتوں کی آواز سنی۔ کتنے کی ، مفت کی۔ بس واپس کبھی نہیں آنی چاہیے۔کبھی بھی نہیں ۔ یہ نعیم کی آواز تھی۔صنم کو لگا جیسے اس کی روح نکلنے ہی والی ہے۔تھوڑی دیر بعد پھر کسی نے ایٹیجی کو گھسیٹنا شروع کیا۔ جبکہ صنم بے ہوش ہو چکی تھی۔
صنم کو جب ہوش آیا تو وہ ایک کمرے میں بستر پر تھی۔ اس نے اپنے جسم میں شدید درد محسوس کیا ۔ اسے اپنا جسم اکڑا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ اس نے بستر سے اُٹھنے کی کوشش کی دھیرے دھیرے سے کمرے کے دروازے کی طرف جانے لگی۔ جب جا کر دروازے کو کھولنے کی کوشش کی تو وہ باہر سے بند تھا۔ اس نے دروازہ بجایا۔ اسے خوف اور بھوک ایک ساتھ شدید محسوس ہو رہی تھی ۔ بھوک ،خوف پرغالب آگئی ۔ اس نے ذور سے آواز دی ،کیا کوئی ہے؟ اس کی آواز اس تک پلٹ آئی ۔ اس نے تمام کمرہ غور سے دیکھا ۔جو صاف ستھرا اورخالی خالی تھا ۔ بس ایک بیڈ اور ایک آرام کرسی کے سوا کمرے میں کچھ نہ تھا۔ صنم واپس بیڈ پر آ کر بیٹھ گئی۔
وہ نڈھال ہو کر بیڈ پر لیٹی تھی کہ کمرے میں ایک موٹی سی عورت داخل ہوئی ۔ اس کی وضع سے اسے اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ کیا تھی ،کون تھی ۔ صنم نے گھبراتے ہوئے اس سے کہا۔ مجھے یہاں کیوں لایا گیا ہے۔ وہ ہنسی اور بولی بندر کو چڑیا گھر میں کیوں لایا جاتا ہے ۔ صنم نے روتے ہوئے اسے آزاد کرنے کی درخواست کی۔ موٹی عورت نے ہنستے ہوئے کہا۔ بھوک لگی ہے۔ صنم رونا بھول گئی ۔ اسے اس قدر شدید بھوک لگی ہوئی تھی کہ بھوک کا نام سن کر وہ ہر دوسری چیز کو فراموش کر بیٹھی ۔اس نے ہاں میں سر ہلایا۔ وہ عورت باہر جا چکی تھی مگر دروازہ کھلا تھا ۔ صنم حیران تھی کہ وہ موٹی دروازہ کھلا کیسے چھوڑ گئی ۔ اس نے اپنے جسم کی تمام طاقت کو سمیٹا اور دروازے کے قریب جا پہنچی ۔ یہ بہت بڑا گھر تھا۔ دروازہ کھول کر اس نے دیکھا تو سیڑی نیچے کو جاتی تھی۔ جہاں بہت بڑی کھلی جگہ تھی ۔ کافی ذیادہ کمرے تھے ۔ کمروں کے دروازے بند تھے جب کہ کھلی جگہ پر کچھ بچے کھیل رہے تھے۔ وہ سیڑھی اُتر کر نیچے آگئی تو ایک چھوٹا سا سال ،سوا سال کا بچہ اس کے پاس آ کر اس کی ٹانگوں سے لپٹنے لگا ۔ اس کی ناک بہہ رہی تھی اور آنکھوں سے آنسو جاری تھے ۔ شاہد وہ اسے اپنی ماں سمجھ کر فریاد کر رہا تھا۔ صنم اپنی بھوک بھول گی ۔وہ بچہ اس قدر رو رہا تھا کہ صنم نے اسے اپنی گود میں اُٹھا لیا۔وہ دودھ کے لیے اسے کاٹنے لگا۔ صنم کو یہاں کا کی خاموشی چیخ چیخ کر بتا رہی تھی کہ وہ کہاں ہے۔ بچہ ماں کے بغیر بھوک سے بلک کر تھا ،ماں پتہ نہیں کس کی بھوک مٹا رہی تھی۔ صنم کو اپنے پیروں سے زمین نکلتی ہوئی محسوس ہوئی۔ موٹی عورت واپس آ چکی تھی اس کے ہاتھ میں کھانے کی ٹرے تھی۔ بچہ صنم کے دوپٹہ کا کونہ چوسنے میں مصروف تھا۔ موٹی عورت مسکرائی ۔ شرماو نہیں کھاو کھاو ۔ اسے اپنا ہی گھر سمجھو۔ صنم نے خاموشی سے ٹرے میں پڑے ہوئے کھانے کو دیکھا۔ بھوک اور پیاس کی شدت نے اسے کچھ اور سوچنے کی اجازت نہ دی ۔اس نے بچے کو نیچے اُتارا تو وہ پھر سے رونے لگا ۔ موٹی عورت نے جا کر ایک کمرے کا دروازہ بجایا۔ نازی بس بھی کر ۔ بابو کو دیکھ آ کر ۔ اس نے ذور سے بولا۔
کمرے کا دروازہ بددستور بند تھا۔صنم کھانا کھانے لگی ۔ اس نے روٹی توڑ کر بچے کے ہاتھ میں دی تو وہ اسے کھانے لگا۔ بچہ نے پانی کی طرف ہاتھ کیا۔ صنم نے اسے پانی پلایا تو موٹی بولی ۔ اچھا ہے ۔ جتنی جلدی یہاں کی ہو جائے گی تیرے لیے بھی اچھا۔ میرے لیے بھی اچھا۔ صنم نے کچھ نوالہ ہی کھائے تھے ۔ اس نے ہاتھ روک لیا۔ وہ سوچنے لگی۔ اس منحوس جگہ رہنے سے اچھا ہے کہ وہ مر جائے۔ وہ یہاں کسی صورت نہیں رہے گی۔
ایک کمرے کا دروازہ کھل چکا تھا ۔ ایک تیرہ چودہ سال کی لڑکی کمرے سے باہر آئی ۔ اس نے بالوں کا جوڑا بنا کر کیچر لگایا ۔ اماں کچھ کھانے کو دے بہت بھوک لگی ہے۔ اس نے موٹی عورت کو کہا۔ اماں نے کھانے کی ٹرے کی طرف اشارہ کیا۔ وہ ہے نا ۔ کھا لے۔ بچہ اب بڑے بچوں میں جا چکا تھا۔ لڑکی آ کر صنم کے پاس ہی بیٹھ گئی ۔ اس نے صنم کی طرف دیکھا اور بولی ۔ اماں یہ کون ہے۔ موٹی عورت ہنس کر بولی ۔بہن ہی سمجھ ۔ اب ہیں رہے گی۔ بابر چھوڑ گیا ہے ۔ دس ہزار لیے ہیں کم بخت نے۔ صنم کو اپنی قیمت بہت کم محسوس ہوئی۔ صرف دس ہزار ۔ اس نے اب موٹی عورت سے کہا۔ اماں اگر آپ مجھے چھوڑ دیں تو میں آپ کو بیس ہزار دے دوں گی۔ مجھے جانے دو۔ اماں نے اس کی طر ف دیکھا اور ذور سے ہنسی ۔ کہاں سے دے گی بیس ہزار ۔ صنم نے فوراْ سے کہا ۔ میں ٹیچر ہوں ۔ میرے پاس کافی پیسے ہیں ۔ مجھے جانے دو تو میں تمہیں تمہاری رقم سے زیادہ دے دوں گی ۔ اس نے منت کرنے والے انداز میں اماں سے کہا۔
اماں نے گھورتے ہوئے کہا۔ میں تم سے پتہ نہیں کتنے بیس ہزار کماوں گی ۔ تم اپنے بیس اپنے پاس ہی رکھوں ۔ وہ وہاں سے اُٹھ کر چلی گئی۔وہ لڑکی کھانا کھا چکی تھی۔ اس نے صنم کی طرف افسردگی سے دیکھااور پوچھا تم کہاں سے آئی ہو۔ صنم نے اسے بتایا ۔تو وہ افسردگی سے بولی۔ اماں تمہیں نہیں جانے دے گی۔ اسے تو بس حرام کے پیسے چاہیں ۔ صنم نے اس کو دیکھتے ہوے پوچھا تم کہاں سے آئی ہو ۔ تو وہ ہنس پڑی ۔ میں تو اسی کی بیٹی ہوں ۔ بہت منت کی تھی اماں کی ۔ مجھے یہ سب نہیں کرنا ۔ لیکن بہت مارا اماں نے ۔ آخروہ جیتی اور میں ہاری۔ صنم کو اپنا دل بیٹھتا ہوا محسوس ہوا۔ اس نے دھیرے سے کہا۔ کیا تم میری کچھ مدد کر سکتی ہو۔ میں باہر نکل کر تمہاری مدد کروں گی۔ وہ ذور سے ہنس پڑی اور بولی۔ جس کی قسمت خراب ہو اس کی مدد کوئی نہیں کر سکتا۔ اماں کے پاس اس علاقے کے سارے افسر آتے ہیں ۔ جب میری اماں نے میری مدد نہیں کی تو کوئی اور کیا کرئے گا۔ صنم نے روتے ہوئے کہا۔ اللہ کے لیے میری مدد کرو ۔ مجھے یہاں نہیں رہنا۔ اس نے کچھ دیر صنم کو دیکھا اور پھر بولی کسی اللہ کے لیے مدد کروں ۔ اس نے مجھے دیا ہی کیا ہے ۔ ایک لالچی ماں ، ایک کھلے دروازے والا گھر ،جس کے کمرے بند رہتے ہیں ۔ جس سے باہر میں نکل نہیں سکتی۔ مجھے لگتا ہے اللہ اس گھر کے باہر ہی کہیں رہتا ہے۔ صنم نے روتے ہوئے کہا۔ اللہ ہر جگہ رہتا ہے۔ اس نے تمہیں شاہد میری مدد کے لیے ہی یہاں رکھا ہے۔ میری مدد کرو پلیز۔اس لڑکی کی انکھوں میں بھی آنسو آ گئے اور وہ بے چارگی سے بولی ۔ میں اپنی مدد نہیں کر سکی تمہاری کیا کروں گی۔ تم اماں کی مرضی کے بغیر کہیں نہیں جا سکتی۔ وہ تمہیں نہیں جانے دے گی ۔ اس کے پاس ہم تین ہی لڑکیاں ہیں ۔ اسے اور کام کرنے والی چاہیے۔ صنم نے روتے ہوئے کہا۔ میں کسی صورت وہ کام نہیں کروں گی جو تمہاری اماں تم سے کرواتیں ہیں ۔ اس لڑکی نے اپنے آنسو پونجھ کر کہا ۔ میں تمہاری ایک مدد کر سکتی ہوں ۔ صنم نے اپنے دل کی دھڑکن تیز ہوتے ہوئے محسوس کی۔ جلدی سے بولی مدد ۔ وہ لڑکی اس سے پہلے کہ کچھ بولتی اماں واپس آ چکی تھی۔ شیلا کھا چکی ہے تو اُٹھ ادھر آ وہ کمال آیا ہے۔ وہ لڑکی اُٹھ کر چلی گئی۔ صنم نے اسے جاتے ہوئے دیکھا وہ ایک کمرے میں چلی گئی ۔ اسے کمرے میں چھوڑ کر اماں باہر آ چکی تھی ۔ شیلا نے دروازہ بندہ کر دیا۔ صنم کو سمجھ نہیں آئی کہ کمال جس کے آنے کا ذکر اماں نے کیا تھا وہ کہاں سے آیا تھا۔ باہر جانے کا راستہ کس طرف ہے۔ بھاگنے کے لیے آخر وہ کس طرف کا رُخ کرے۔ اماں نے صنم کو اگے پیچھے دیکھتے ہوئے پایا توبولی ۔ اوپر جا ۔ بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ دو چار دن لگا لے ۔پھر بھاگے گی بھی نہیں۔
صنم نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ سمجھ چکی تھی کہ جس عورت نے اپنی سگی بیٹی کو کتوں کی ہڈی بنا دیا وہ اس کے رونے کی پروا کیوں کرئے گی ۔ وہ چپ چاپ اُٹھی اور اُوپر کی سیڑھی چڑھنے لگی ۔ اسے تم گھر گول گول سا لگ رہا تھا۔ باہر جانے کا راستہ کون سا تھا ۔اسے سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ کہانیوں کی حد تک چیزیں مختلف ہوتی ہیں ۔جب اپنی ذات پربن آتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ دنیا کس قدد سفاک ہو سکتی ہے۔ انسان کس قدر بے بس ۔ صنم نماز کی پابند تھی ۔ کمرے میں موجود اٹیچ باتھ میں وہ گئی ۔ اس نے وضو کیا ۔ اسے کچھ خبر نہ تھی کہ یہ کون سا وقت تھا۔ یہ گھر مکمل بند بند تھا۔ دن تھی یا رات اسے اندازہ نہ تھا۔ وہ بس زمین پر بیٹھ کر دُعا مانگنے لگی۔ اے اللہ تو میری جان لے لینا پر مجھے عزت کی موت دینا۔ اے میرے مولا ۔ میرے پرور دگار تو بندے کی شہ رگ سے بھی ذیادہ قریب ہے ۔ میری مدد کرنا۔ میری عزت کی حفاظت کرنا ۔وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔ اسے اپنی بات یاد آئی ۔ مریم اور وہ ایک میلاد میں شرکت کے لیےصبا کے گھر پہنچے تھے ۔ جب میلاد میں نعت پڑھنے کے لیے صبا بیٹھی تو اس کی پلکیں بھیگ گئی ۔ اسے روتے دیکھ کر مریم نے کہا صبا کو دیکھو ۔ اس کی آواز کیسے بھرآئی ہے۔
گناہوں کی عادت چھڑا میرے مولا
اس سے آگے پڑھا نہیں جا رہا تھا ۔وہ رو رہی تھی تو صنم نے کہا تھا۔ یار پتہ نہیں لوگ دُعا مانگتے ہوئے رو کیسے لیتے ہیں ۔ مریم بولی ۔بس جسے اللہ توفیق دے۔صنم میرا تو ایک آنسو نہیں نکلتا ۔ کاش کہ میرے بھی آنسو نکلیں دُعا مانگتے ہوئے۔میں بھی ایسا درد محسوس کر سکوں۔ مریم نے مسکرا کر کہا۔ میلاد کی محفل میں بیٹھ کر دل کا درد نہ مانگوں ۔ خوشیاں مانگو ۔ صنم ہچکیوں سے رو نے لگی۔ اللہ تو سننے والا جاننے والا ہے۔ مجھ پر رحم کر ۔ مجھے معاف کر دے ۔ دروازے پرعجیب سی آواز سنائی دی ۔ اماں کے ساتھ ایک بدصورت سا اڈھیر عمر کا آدمی تھا۔ صنم نے مڑ کر دیکھا اور اُٹھ کر کھڑی ہو گی۔ اس نے دل ہی دل میں کہا ۔ یہ نہیں ہو سکتا۔ اماں نے اس آدمی کو کمرے کے اندر جانے کا کہا۔ جو نشے میں سیدھا کھڑا نہیں ہو پا رہا تھا۔ اس نے صنم کو اپنی بند ہوتی ہوی انکھوں سے دیکھا۔ ارے واہ نیا مال ہے۔ اس نے اماں سے جھوم کر کہا ۔ اماں نے بھی فخریہ انداز میں کہا۔ ہاں ہاں ۔ تو ہی بسم اللہ کر۔ صنم کو شدید غصہ آیا ۔ یہ عورت کسی گندگی کی شروعات کے لیے بسم اللہ کا لفظ استعمال کر رہی ہے۔ اس نے کمرے کو غور سے دیکھا ۔ اس میں کوئی ایسی چیز نہ تھی کہ وہ اسے اُٹھا کر مار دے ۔ آدمی اندر آ چکا تھا اماں باہر جا چکی تھی۔ صنم نے اپنا دل بند ہوتا ہوا محسوس کیا۔ اے اللہ میں کیا کروں گی۔ وہ پرانی گاڑی کی طرح آہستہ آہستہ صنم کی طرف آ رہا تھا۔ دروازہ بند ہو چکا تھا۔ صنم کے پاس آتے ہی اس نے اپنا رُخ بیڈ کی طرف موڑ لیا۔ اشارے سے صنم کو اپنے پاس بلایا۔ جیسے وہ اس کا پرانا شناسا ہو ۔ صنم نے اپنے پیر زمین کے اندر دھنستے ہوئے محسوس کیے۔اس آدمی نے پھر با آواز بلند کہا۔ اب آ بھی جا کیا نخرے دیکھا رہی ہے بیوی جیسے۔ پیسے دیے ہیں ۔ جلدی آ۔ صنم کو اپنے کانوں کی سماعت کے ہونے کا افسوس ہوا ۔ کاش ایسے الفاظ سننے سے پہلے میں مر گئی ہوتی اس نے سوچا ۔ وہ وہیں کی وہیں کھڑی رہی ۔ آدمی نے کچھ دیر تو اس کی طرف دیکھا پھر اس کی آدھی کھلی آنکھیں پوری بند ہو چکی تھی۔ کافی دیر اپنی جگہ بت کی طرح کھڑے رہنے کے بعد وہ دھیرے دھیرے بیڈ کے پاس گئی وہ آدمی خراٹے لے رہا تھا۔ صنم نے دھیرے سے دروازہ کھولا ۔نیچے لگے صوفوں پر ایک عورت بیٹھی اپنے بچے کو سلا رہی تھی۔ غالباً یہ وہی بچہ تھا ۔جو اسے اپنی ماں سمجھ کر اس کے دوپٹہ کو چوستا رہا تھا۔ صنم کو اپنا آپ لرزتا ہوا محسوس ہوا ۔ اگر یہ آدمی نہیں سوتا تو کیا ہوتا۔ وہ پورے گھر کو بغور دیکھ رہی تھی ۔ اسے باہر جانے والا کوئی دروازہ نظر نہیں آ رہا تھا۔
وہ دھیرے دھیرے نیچے آئی تو بیٹھی ہوئی لڑکی نے اسے دیکھ۔ اس کی انکھیں سوجی سوجی تھیں ۔ وہ اس کی ہم عمر ہی لگ رہی تھی۔ صنم سوچ رہی تھی کہ اماں کی وہ بیٹی کہاں ہے ۔جس نے کہا تھا کہ وہ اس کی مدد کر سکتی ہے۔

(جاری ہے)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: kanwalnaveed

Read More Articles by kanwalnaveed: 124 Articles with 182547 views »
Most important thing in life is respect. According to human being we should chose good words even in unhappy situations of life. I like those people w.. View More
22 Apr, 2017 Views: 2677

Comments

آپ کی رائے