پاناما فیصلہ، کنفیوژن کا احتمال

(Mujahid Shah, Karachi)

بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ کسی بھی ریاست کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے ۔ سماجی انصاف کی فراہمی سے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری اور اولین ترجیح ہے تاکہ ایسا نظام وضع کیا جاسکے جس کے ذریعے فوری اور سستے انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے میں حائل رکاوٹوں کا خاتمہ ممکن ہو۔ انصاف ، تحمل ، برداشت اور بامقصد رابطے کا فروغ اور ثالثی نظام کو موثر بنانے کیلئے ریاست جہاں دیگر شعبوں اور اداروں پر توجہ دیتی ہے وہیں اس کی خصوصی توجہ عدالتی نظام کی بہتری ہر بھی مرکوز رہنی چاہئے، اس طرح سے معاشرے میں تصادم کی فضا کو پنپنے کا موقع دستیاب ہونے میں مشکلات پیش آسکتی ہیں جو ایک مساوی معاشرے کی بنیاد رکھنے میں اہم کرادار ادا کرسکتا ہے ۔ آئین ِ پاکستان عدلیہ کو مکمل اور موثر انداز میں انصاف کی فراہمی کا اختیار دیتا ہے ۔ پاکستانی عدلیہ انتظامیہ کے احکامات اور اختیارات کے غلط استعمال پر نظر رکھتی ہے اور اختیارات کے غلط کی نشاندہی پر انتظامیہ کے فیصلوں کا جائزہ لیکر نظرثانی کرسکتی ہے ، پاکستان میں عدلیہ کو اداروں کے چیک اینڈ بیلنس پر نظر رکھنے کا بھی مکمل اختیا ر حاصل ہے ۔ اچھی طرز حکمرانی اور سماجی انصاف کی فراہمی کیلئے ضروری ہے کہ عدلیہ کو دباؤ کے بغیر فیصلے کا اختیار دینا ناگزیر ہے ۔ البتہ یہ بات بھی طے ہے کہ جج اپنی من مرضی دینے پر قادر نہیں ہوتا کیونکہ عدلیہ کا کرپٹ یا بدعنوان ہونا سماج میں مساوی حقوق کی فراہمی میں بہت بڑی رکاوٹ اور قد غن تسلیم کیا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آئین ِ پاکستان میں ججز کو غیر جانبدار رہنے کا پابند کیا گیا ہے ، ملکی بقا اور سا لمییت کیلئے غیر جانبداری اولین شرط ہے جس سے رو گردانی کا مطلب معاشرے کو تنزلی کی جانب لے جانے کے مترادف سمجھا جاتا ہے ۔ چنانچہ یہ اٹل حقیقت ہے کہ جہاں جس معاشرے میں انصاف ہو گا وہاں کسی کی جراء ت نہیں کوسکتی کہ وہکسی سازش کے تحت معاشرے یا اس کی معاشرت کو نقصان پہنچا سکے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جب عوام کا اعتماد اداروں سے اٹھ جاتا ہے تو ان کی نظریں عدلیہ کی جانب دیکھنے لگتے ہیں ، ان کے مطابق یہ واحد سہار ا ہے جو ان کی دادرسی کرسکتا ہے ۔ جب ہم عدلیہ پر اعتماد کی بات کرتے ہیں اور اس پر بھروسہ کرتے ہیں تو ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم ججز کی عزت ِ نفس کے تحفظ اور اس کے احترام کو بھی ملحوظ ِ خاطر رکھیں ۔

انسان کا وجود اور انصاف کی طلب ایک دوسرے سے جدا نہیں یہ ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم تصور کئے جاتے ہیں ۔ آپ چھوٹے سے چھوٹے معاشرے کا مشاہدہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ جب کسی انسان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو اس پر اختلافات کا پیدا ہونا فطری عمل ہے لہٰذا وہ اس کیلئے ایسے افراد کی کھوج میں لگ جاتا ہے جس پر پورا معاشرہ اعتماد کا اظہار کرتا ہو۔

معاشرے میں انصاف کی فراہمی مساوات قائم رکھنے میں اہم کرادار اداکرتی ہے ضروری ہے کہ معاشرے میں اس اہم منصب کیلئے ایسے افراد متعین کئے جائیں جو قابل اور دیانت دار ہوں ،لوگ ان پر بھروسہ کریں اور اب کی بات پر لبیک کہیں ۔ یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہوتی ہے جس پر پورا اترنا کسی بھی منصف کیلئے پل ِ سراط پر سے گذرنے سے کم نہیں ہوتا ، اگر معاشرے میں انصاف کے تقاضے پورے نہ ہوں تو بہت بڑی کنفیوژن پیدا ہونے کا احتمال ہے ۔ عدالت ظلم کا شکار ہونے والوں کیلئے ایک آس اور امید ہوتی ہے ۔ یہ وہ آخری امید ہوتی ہے جو اسے بے یقینی اور گمراہی کے اندھیروں سے دور کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے ، اسے معاشرے ، ریاست اور قوم سے جوڑے رکھنے کا ذریعہ ہوتی ہے ۔ انصاف ملنے کا یقین ہی اسے مجرمانہ سوچ اور گمراہی کے راستوں سے چلنے سے روکتا ہے ، البتہ انصاف کی عدم فراہمی اور جانبدارانہ فیصلے سے مایوسی اندھیرے انسان کی سوچ پر حاوی ہوجاتے ہیں اور اس کا سب کچھ ٹوٹ جاتا ہے اور وہ منفی سوچ اسے تخریب کاری کی طرف مائل کرتی ہے ۔

ہمارے معاشرے میں مسائل کے اضافے کی بڑی وجہ انصاف کا عدم حصول ہے یا پھر تاخیری حربوں کے باعث بروقت انصاف نہیں مل پاتا۔ 4فروری کو لاہور ہائیکورٹ نے ایک قیدی کی رہائی کا پروانہ اس وقت دیا جب وہ ڈھائی سال قبل اپنی زندگی کی قید سے آزاد ہوچکا تھا۔ قیدی سید رسول پر 2009ء میں تھانہ بھیرہ میں ایک شہری کے قتل کا مقدمہ تھا، 2013میں اس کے شریک چھ ساتھیوں کو ناقص شہادتوں کی بنا پر کورٹ نے بری کردیا تھا البتہ اس کی باری 2017میں آئی جب وہ 2014میں دل کا دورہ پڑنے سے اس جہان ِ فانی سے کوچ کرچکا تھا۔ یہ ایک مثال ہے ، اس جیسی لاتعداد مثالیں آپ کو باآسانی مل سکتی ہیں جو عدالت میں طوالت کا شکار ہیں جو لوگوں کی زندگیاں کھا گئی ہیں ۔ جائیداد کے مقدامات ہوں ، قتل کے کیس ہوں یا دیگر تنازعات ، فریقین عدالتوں کے چکر لگا لگا کر مقدمے اپنی اگلی نسلوں کو وراثت میں دیکر یا تو چلنے پھرنے سے قاصر ہونے کے باعث گھر بیٹھ جاتے ہیں یا جہان ِ آخر کے سفر پر روانہ ہوجاتے ہیں ۔

تاریخ میں جھانکیں تو آپ پر حیرت انگیز انکشافات ہوتے چلے جائیں گے کہ بہت سی قومیں صرف اس وجہ سے تباہ ہوئی کیونکہ ان کے ہاں انصاف کے ادارے بھرپور انداز میں انصاف کی فراہمی سے قاصر تھے۔ پاکستان میں بھی انصاف کی فراہمی سے متعلق صورتحال تسلی بخش نہیں رہی ہے جس کی وجہ سے اس کی خود مختاری ہمشہ دباؤ کا شکار رہی ہے ۔ اشرافیہ نے اسے اپنے تانع کرکے اپنی من مرضی کے فیصلے کرنے پر مجبور کیا ۔ قابل اور دیانت دار ججز ہمیشہ زیر عتاب اور جی حضور ی کرنے والے ان کی آنکھوں کا تارہ بنے رہے ۔ اس غلط روش نے جہاں معاشرے میں عدم مساوات کو فروغ دیا وہیں عدلیہ کو بھی اس اندر بے حساب نقصانات پہنچائے ، اس کے اندر خامیوں نے ایسی خرابیاں پیدا کیں جو اب ایک آزاد اور خود مختار عدلیہ ہونے کے باوجود بھی اس میں موجود ہیں۔ تحقیقات کرنے کا تمام تر نظام مقتدر افراد کے زیر اثر اور ان کے اشارے کے بغیر کوئی اقدام کرنے سے معزور ہے ۔

پاناما لیکس کو ہی لے لیجئے ، اس کی 120روزہ سماعت کے دوران ہم نے تحقیقاتی اداروں کی کارکردگی دیکھ لی ۔ کوئی بھی ادارہ حکومت کے خلاف تحقیقات کرنے کو تیار نہیں ، نیب کے چیئرمین نے دوران سماعت سپریم کورٹ کے بینچ سے معذرت کر کے اس کا واضح ثبوت فراہم کردیا کہ حکومت کی نمک حرامی کرنے کی جراء ٹ ہی نہیں کرسکتے۔ 57دن تک فیصلہ محفوظ رہا اور 20 اپریل کو فاضل بینچ نے اپنے فیصلے میں ثبوتوں کی کمی اور اداروں کے عدم تعاون کا اظہار کیا اور مزید حقائق سے پردہ کشائی کرنے کیلئے ًجے آئی ٹی ً تشکیل دینے کا فیصلہ صادر فرمادیا ۔ انصاف کے تقاضے پوراکرنے کے لئے شواہد کا مکمل ہو نا بہت ضرور ی ہے ، یہ فیصلہ اس تناظر میں بلکل درست ہے ، التبہ یہ تعین ہوگیا کہ وزیر اعظم بھی اس کیس کا حصہ ہے جسے ابتداء سے حکومتی اراکین رد کررہے تھے ، اس فیصلے سے مقدمے کے حریف سمیت اپوزیشن کی جیت ہوئی لیکن یہیں سے ایک کنفیوژن کا آغاز بھی ہوچکا ہے ۔رائج ضابطے کے مطابق ملزمان سے جب پوچھ گچھ کی جاتی ہے تو تمام مراعات ، اثرورسوخ اور اختیارات اس سے لے لئے جاتے ہیں ، اس کیس میں معاملہ مختلف ہے ،فیصلہ میں حسن نواز، حسین نواز کے ساتھ اس کے والد گرامی میاں نواز شریف بھی تحقیقاتی کیمٹی کو جوابدہ ہوں گے جبکہ وہ چیف ایگزیکٹو ہیں۔ ملک کا ہر ادارہ ان کے ماتحت ہے ۔ ضابطہ اور قانون کہتا ہے کہ جب کسی سرکاری افسر پر الزام عائد ہوجاتا ہے اور وہ تفتیش کے مراحل سے گزرنے لگتا ہے تو سب سے اسے اپنے منصب سے دستبردار ہو نا پڑتا ہے ، تمام اختیارات اور مراعات اس سے لے لی جاتی ہیں تاکہ وہ تفتیشی مراحل پر اثر انداز نہ ہو ۔ اپوزیشن کی تمام جماعتوں کا موقف بھی اس کی تائید میں ہے البتہ حکومتی حلقے اس سے انحراف کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔ یہ ضابطہ اور قانون عام دنیا میں بھی رائج ہے اور اسلام کی تاریخ بھی اسی قانون پر عمل کرتے ہوئے دکھائی دیتی ہے ۔

ہم کہہ سکتے ہیں کہ پاناما کا فیصلہ ابھی آیا ہی نہیں بلکہ اس نے ایک نیا موڑ لے لیا ہے ، اس سے ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے ، حکومت میں نہ مانوں کی پالیسی پر اور اپوزیشن منصب سے اتر جانے کی ضد پر اڑ گئی ہے ۔ یہ بہت بڑی کنفیوژن ہے جس نے ملکی سیاست میں ہل چل پیدا کردی ہے ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mujahid Shah

Read More Articles by Mujahid Shah: 60 Articles with 28322 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Apr, 2017 Views: 229

Comments

آپ کی رائے